میاں صاحب بھی اتنے غریب ہیں اتنے غریب ہیں کہ بس


پاکستان ایک غریب ملک ہے۔ اس کے عوام کے علاوہ اس کے لیڈر بھی نہایت غریب ہیں۔ حالت یہ ہوئی ہے کہ بیس بیس سال ہمارے مقبول لیڈروں کو نیا جوڑا نصیب نہیں ہوتا ہے اور وہ اپنی غربت کا بیان اب پبلک میں کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ ان لیڈروں کی غربت آج کل زیر بحث ہے تو چلیں آپ کو آج وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف صاحب کی غربت کا کچھ حال بھی بتاتے چلیں۔

میاں صاحب کا کوئی ذریعہ روزگار نہیں ہے۔ ان کی درویشانہ طبیعت کو دیکھتے ہوئے ان کے والد مرحوم نے ان کو کاروبار میں ملوث کرنا مناسب نہیں سمجھا۔ اب ان کے دونوں بیٹے گھر سے دور پردیس میں جا کر محنت مزدوری کر کے پیسے بھیجتے ہیں تو بمشکل ملازمین کے لئے دو وقت کی روٹی کا بندوبست ہو پاتا ہے۔

میاں صاحب کے اپنے کچن میں تو بس درویشی کا نور ہی جلتا ہے چولہا بجھا رہتا ہے۔ میاں بی بی توکل کرتے ہیں۔ بہت ہی بھوک لگے تو ملازمین سے ہی کہتے ہیں کہ بھائی تم نے کچھ پکایا ہو تو ہمیں بھی دے دو۔ اچھے آدمی کو خدا اچھے آدمیوں سے ملاتا ہے۔ میاں صاحب کو ملازم بھی ایسے اچھے نصیب ہوئے ہیں کہ حکم سن کر دوڑ پڑتے ہیں۔ نہ جانے کیسی مشقت کرتے ہیں کیسی کیسی بھاگ دوڑ کرتے ہیں مگر جب اپنے اپنے غریب خانے سے پلٹتے ہیں تو کسی کے سر پر نہاری کی قاب ہوتی ہے تو کوئی ہرن کے کباب اٹھائے لا رہا ہوتا ہے، کسی کے گھر کابلی پلاؤ پکی ہوتی ہے تو کوئی فرائی مچھلی کی پلیٹ تھامے ہوتا ہے۔ یوں بس غیب سے ہی ڈیڑھ دو درجن کھانے دسترخوان پر آ جاتے ہیں۔

میاں صاحب کے اوڑھنے پہننے کا بھی ایسا ہی سا معاملہ ہے۔ میاں صاحب نے تیس برس قبل ایک ملازم رکھا تھا۔ ان کے اپنے پاس تو غربت کے باعث کوئی کپڑا لتا ہے نہیں۔ کسی سے ملنا ملانا ہو تو اسی ملازم کو کہہ دیتے ہیں کہ بھائی تمہارے پاس کوئی کپڑا لتا ہو تو لا دو۔ استعمال کر کے واپس کر دوں گا۔ وہ بیچارا نہ جانے کہاں سے کپڑے لے کر آتا ہے اور یوں میاں صاحب کی سفید پوشی کا بھرم قائم رہ پاتا ہے۔

میاں صاحب کے ملازمین بھی ان ہی کی مانند نہایت سادہ ہیں۔ پچھلے دنوں امریکہ کا سفیر ان کے گھر کھانے پر آیا ہوا تھا۔ میاں صاحب نے ملازم کو کہا کہ کچھ کھانے کے لئے ہے تو لے آؤ۔ وہ حضرت حکم سن کر گئے اور کچھ دیر بعد واپس پلٹے تو ایک ہاتھ میں بکرے کا کان پکڑ کر اسے کھینچتے لا رہے تھے، دوسرے میں چاول، دھنیا پیاز اور مصالحے کے تھیلے اٹھائے ہوئے تھے، سر پر دیگچی رکھی تھی اور کاندھے سے سیلنڈر والا چولہا لٹکائے ہوئے تھے۔ سب سامان وہیں سفیر صاحب کے سامنے دھر دیا کہ صاحب آپ خود ہی زحمت کر لیں۔ سفیر میاں صاحب کی سادگی پر مسکرایا اورچوکی بچھا کر چولہے کے سامنے بیٹھ گیا۔

میاں صاحب کی غربت ایسی کہ کھانا بھی نوکروں سے مانگتے ہیں اور اوڑھنا پہننا بھی، مگر دل ایسا بڑا کہ عوام کی خدمت کے لیے ادھر کالے کوسوں دور پردیس میں مارگلہ کی پہاڑیوں میں رہتے ہیں۔ ہر ہفتے گھر واپس آتے ہیں۔ اب ان کے کوئی دریا دل دوست تو ہیں نہیں جو میاں صاحب ان کا جہاز اڑائے پھریں، بس مخیر عوام کے دیے ہوئے پیسوں سے چلنے والی گورنمنٹ ٹرانسپورٹ سروس کی سرکاری گاڑیوں میں گھومنے پر مجبور ہیں اور عوام کی طرح سرکاری جہاز استعمال کرتے ہیں۔

آبائی شہر لاہور میں میاں صاحب کا گھر بھی اپنا نہیں ہے۔ وہ اپنی والدہ کے گھر میں رہتے ہیں۔ غربت ایسی ہے کہ شہر میں گھر لینا بھی مشکل ہے۔ لاہور کے نواحی قصبے رائے ونڈ کے نواح میں ایک گاؤں میں کئی سو ایکڑ کا جنگل بیابان ہے۔ وہاں کٹیا ڈال لی ہے۔ دور دور تک کوئی ہمسایہ نہیں ہے اور اکیلے رہنے پر مجبور ہیں۔ بس چند جانور ہی ہیں جو ہیں تو جنگلی لیکن میاں صاحب کی شخصیت کے سحر میں مبتلا ہیں اور ان کے گرد پھرا کرتے ہیں۔

اس پر بدقسمتی ایسی کہ میاں صاحب پنجاب پولیس کی حدود میں رہتے ہیں۔ فوجی آمر جنرل مشرف نے ان کو دق کرنے کی خاطر ان کے جنگل کے گرد بلند و بالا چار دیواری کھڑی کر دی ہے اور اس پر برج بنا کر پہرے دار مقرر کر دیے ہیں کہ میاں صاحب قید رہیں اور کوئی عزیز اور دوست ان سے میل ملاقات نہ کر پائے۔ مشرف تو چلا گیا مگر پولیس ابھی بھی ان اوچھے ہتھکنڈوں پر اتری ہوئی ہے اور میاں صاحب کو قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے۔

ہمارے سارے مقبول لیڈر ایسی ہی غربت میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ اسی سبب سے ہر سال ان کی تنخواہ میں اراکین اسمبلی کی جانب سے خاص توجہ دینے کے سبب اتنا زیادہ اضافہ کیا جاتا ہے کہ وہ اپنا بھرم تو قائم رکھ سکیں۔ شکر ہے کہ اسمبلی کو وہ لوگ چلاتے ہیں جن کی آنکھ میں شرم حیا باقی ہے۔ اسی لیے خواہ کوئی لیڈر اپنی غربت کے سبب تین سال میں تین دن ہی اسمبلی جا پائے، اسے تنخواہ پوری ہی ملتی ہے۔ یاد رہے کہ اسلام کا اصول یہ ہے کہ حالت اضطرار میں حرام بھی حلال ہو جاتا ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 635 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar