سندھ کو صرف شراب خانوں سے خطرہ ہے


سندھ جوصدیوں سے صوفیوں کی سرزمین رہی ہے،لیکن آج کے سندھ میں قلندرکے مزار تک محفوظ نہیں اوربے پرواہ سکیورٹی اہلکاروں کے بیچ سے نکلا خودکش ایک پل میں سینکڑوں دھمالیوں کے پرخچے اڑا دیتا ہے۔امن کے داعی صوبے میں اب بروہی نیٹ ورک اتنا مضبوط ہو چکا ہے کہ وہ جب اور جہاں سے چاہے خودکش بمباروں کی امپورٹ اور ایکسپورٹ کرسکتا ہے، انہیں خرید اور بیچ کر ان کوسندھ میں کسی بھی جگہ سہولیتیں دے کردھماکے کروا سکتا ہے۔
دہشت گردوں کی لین دین کرنے والا یہ بروہی گروپ ان درجنوں گروہوں جیسا ہے جن کے نام تو سب نے سن رکھے ہیں، لیکن ان کے سلیمانی ٹوپی پہنے سرغنہ کبھی بھی کسی کے ہاتھ نہیں آتے۔ بروہی گروپ گویا سندھ کے سینکڑوں گھوسٹ اساتذہ جیسا ہے، جن کے نام پر تنخواہ آتی ہے، جی پی فنڈ کٹتا ہے، پنشن بنتی ہے، ان کی پوری فائل بنتی ہے، وہ ریٹائرڈ بھی ہوتے ہیں لیکن وہ بھرتی سے لے کر ریٹائرمنٹ تک ایک دن کے لیے بھی ظاہر نہیں ہوتے۔ خودکش بمباروں کے کاروبار میں ملوث اکثر گروہ یا افراد اسی طرح گھوسٹ ہی ہیں۔ ان میں سے اکثر دھماکوں کے بعد ذمہ داری قبول کرنے کی مہربانی کرکے خود کو ظاہر کرتے ہیں۔
اب ایسا لگتا ہے کہ صوفیوں کی سرزمین شاید اپنا تعارف ہی تبدیل کر رہی ہے۔جہاں چپے چپے پر مدارس اس اندازمیں بنائے جا رہے ہیں جیسے آنے والے کل میں ان مدارس کے مالکوں اور طالبوں کو کسی کا گھیراو¿ ڈالنے کا کام سونپا جانا ہے۔کراچی سے کاسبو تک یہ مدارس کون بنا رہے ہیں، کس کی زمین ہے،کس مول پر خریدی گئی، ان کی فنڈنگ سے لے کر ریونیو ریکارڈ تک کسی کو کچھ پتا نہیں۔سندھ حکومت مدارس کی چھان بین کی جرات نہیں کر سکتی۔ سرکاری زمینوں پرکئی مدارس بن چکے ہیں لیکن حکومت یہ پتا نہیں لگا سکی کہ ان کو این او سی کس نے جاری کیا؟ حکومت کے پاس ان مدارس کی پراسرار سرگرمیوں کو جانچنے، پرکھنے کا کوئی میکنزم موجود نہیں، نہ ہی حکومت کو اس کی ضرورت پیش آئی ہے۔
مجھے صوبائی حکمران پارٹی کے ایک رکن اسمبلی بتا رہے تھے کہ سندھ کی سب بڑی شاہراہوں پر مشکوک انداز میں جس تیزی سے مدارس بن رہے ہیںاس سے ہمیں خطرہ تو محسوس ہوتا ہے لیکن ہم کچھ نہیں کر سکتے۔ انہوں نے رازداری سے مجھے بتایا کہ ان مدارس کے اندر پتا نہیں کیا بن رہا ہے، حالت یہ ہے کہ ایک مخصوص پوائنٹ کے بعد ٹرک ڈرائیور کو بھی مدرسے کے اندر جانے کی اجازت نہیں، وہاں سے ڈرائیور کو ٹرک سے اتار کر مدرسے کے منتظم خود ٹرک چلا کر اندر جاتے ہیں۔ پھر ریت، بجری اینٹیں جو بھی ہوں اتارکر واپس خالی ٹرک ڈرائیور کو دیا جاتا ہے۔ گویا یہ مدارس تعمیر سے پہلے ہی نو گو ایریا بنے ہوئے ہیں۔ جب ان کی تعمیر مکمل ہو جائے گی تو کیا ہوگا اس کا اندازہ کسے نہیں۔
کچھ عینی شاہدین کا یہ کہنا ہے کہ مدارس نہیں کئی ایکڑوں پر مشتمل یہ بنکرز ہیں ان میں جو بھی تعلیم دی جائے گی اسے بھگتنا بھی سندھ کو ہی پڑے گا۔سندھ میں اب تو اینٹ، سیمنٹ، پتھر، ریت اور بجری سے بننے والے ان مدارس کے خلاف بات کرنے کو بھی اسلام کے لیے خطرہ سمجھا جاتا ہے۔
سندھ تصوف کا مرکز کیسے کہلائے جہاں ملائیت اور شدت پسندی کی سوچ کا گھیرا اتنا تنگ ہو چکا ہے کہ ایک منتخب صوبائی اسمبلی کو اقلیتوں کے حقوق پر اپنا منظور کیا ہوا قانون واپس کرنے پر مجبور کردیا جاتا ہے۔ساری دنیا کو مطلوب اور اقوام متحدہ کی سفارشات پر زیر حراست حافظ سعید نے کشمیر کے بعد اپنا مسکن تھرپارکر کو بنا لیا ہے۔ حراست میں لینے سے کچھ عرصہ پہلے پرامن تھر میں حافظ سعید ہزاروں کے مجمع سے خطاب کیا کرتے تھے۔حافظ سعید جو امن کا پیغام دیا کرتے ہیں وہ سب کو معلوم ہے۔
اب تو تھرپارکر میں حافظ سعید کا اثرورسوخ اتنا بڑھ چکا ہے کہ اس پسماندہ علاقے میں بھی اس کی رہائی کے لیے احتجاجی جلوس نکالے جا رہے ہیں۔ بین المذاہب ہم آہنگی کا مرکز اور فرقہ اریت سے پاک سندھ میں سامارو کے سرہندی پیروں سے لے کر ڈھرکی کے بھرچونڈی پیروں تک ملائیت کے کئی پیروکار ہندوو¿ں کو مسلمان بنانے کے لیے ٹھیکیدار بن کر دکانداری چلا رہے ہیں۔
ابھی کل کی بات ہے کراچی میں داعش کی حمایت میں وال چاکنگ کی گئی لیکن سندھ حکومت نے داعش کی موجودگی سے انکار کیا، آج بھی ہر آئے دن پچاس ساٹھ کالعدم تنظیموں میں سے کسی نہ کسی کا دہشت گرد پولیس سے مقابلے میں مارا جاتا ہے اور اس کے ساتھی فرار ہو جاتے ہیں۔
سندھ جہاں ٹنڈوباگو کے مولوی عیسیٰ سموں اپنی جاہلیت کا چورن پورے سندھ میں بیچتا پھررہا ہے۔ ہر جمعے کے خطبے میں خواتین کی تعلیم، پولیو مہم، کرکٹ میچ کے خلاف فتوے بانٹنا اس کا پسندیدہ مشغلہ ہے۔سندھ جہاں لاﺅڈ سپیکر سے منافرت کے پرچار پر کوئی بندش نہیں،جہاں قانون کی دھجیاں اڑانے کی ابتدا حکمرانوں کے گھروں سے ہو، جہاں صوبے کے چیف سیکرٹری اور اعلیٰ افسران کے خلاف آئے دن سپریم کورٹ میں توہین عدالت کے مقدمے چل رہے ہوں لیکن ان تمام خطرات سے آنکھیں بند کرکے صوبے کی عدالت کو خطرہ ہے تو شراب خانوں سے ۔سندھ ہائیکورٹ نے شراب خانوں کو ایک ماہ کے لیے بند کرنے کا نہ صرف حکم دیا ہے بلکہ یہ بھی کہا ہے کہ بائیومیٹرک نظام وضع کیا جائے کہ شراب خانوں سے صرف غیرمسلم ہی شراب حاصل کرسکیں۔ ملک کے بٹوارے میں لاکھوں ہندوو¿ں کی ہجرت کے باوجود سندھ صوبہ ہندو مسلم تضاد سے بچ گیا لیکن اب شراب خانوں پر راشن کارڈ بنانے کی تجویز دے کر شاید سندھ میں رہنے والے مسلم اور غیر مسلم کے بیچ بٹوارے کی ایک دیوار کھڑی کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

ابراہیم کنبھر

ابراھیم کنبھرموئن جو دڑو کی وارث سندھ دھرتی کے مٹی جیسے مانھو ہیں۔ کل وقتی صحافی ہیں۔ پیشہ ورانہ فرائض کے ضمن میں اسلام آباد میں مقیم ہیں۔ سندھی ٹی وی چینل کے ٹی این نیوز کے لئے کام کرتے ہیں اور سندھی روزنامے کاوش میں کالم لکھتے ہیں۔

abrahim-kimbhar has 31 posts and counting.See all posts by abrahim-kimbhar