خلق مروت کی ضرورت 


rana aijaz hussainاخلاق بہتر کرنے کے لئے نبی کریم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات نہایت جامع ہیں، جن پر عمل کرنے میں دنیا و آخرت دونوں جہانوں کی کامیابی کا راز پنہاں ہے۔ بہت سی احادیث مبارکہ میں پاک پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے بتلایاہے کہ حسن اخلاق کے ساتھ اچھی زندگی کس طرح گزاری جا سکتی ہے۔ نبی کریم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد پاک ہے ”تم میں سب سے زیادہ کامل ایمان اس شخص کا ہے جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں اور جو اپنے گھر والوں کے ساتھ اچھے سلوک میں سب سے بڑھا ہوا ہو۔“ ایک بارنبی کریم محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام سے پوچھا ”جانتے ہو تم میں مفلس کون ہے؟، صحابہ نے جواب دیا ”مفلس وہ شخص ہے جس کے پاس نہ تو درہم ہوں نہ کوئی اور سامان۔“ نبی کریم محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میری امت کا مفلس وہ شخص ہے جو قیامت میں اپنی نماز روزہ اور زکوٰة کے ساتھ اللہ کے سامنے حاضر ہوگا مگر اس کے ساتھ اس نے دنیا میں کسی کو گالی دی ہو گی، کسی پر تہمت لگائی ہو گی، کسی کا مال دبایا ہو گا، کسی کو ناحق مارا ہو گا، ان تمام مظلوموں میں اس کی نیکیاں بانٹ دی جائیں گی، پھر اگر اس کی نیکیاں ختم ہو گئیں اور مظلوموں کے حقوق باقی رہے تو ان مظلوموں کی غلطیاں اس کے حساب میں ڈال دی جائیں گی۔ اور پھر اسے جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔“

آج اخلاقی انحطاط اور انتشار میں مبتلا ہمارا معاشرہ ایک عجیب بحرانی کیفیت سے دوچار ہے، افراتفری کے اس دور میں عدم برداشت اور عدم رواءداری کے باعث بہت سے مسائل جنم لے رہے ہیں۔ آج اپنے حقوق تو ہر کوئی مانگ رہا ہے مگر اکثریت اپنے فرائض اور حسن اخلاق سے غفلت برتے ہوئے ہے۔ اس صورتحال کے باعث معاشرے میں آئے دن طرح طرح کے مسائل جنم لے رہے ہیں۔ ایک مسئلہ حل ہونے نہیں پاتا کہ دوسرے مسائل پیدا ہوجاتے ہیں۔ بلکہ بعض وقت تو کسی مسئلے کا حل ہی نئے مسائل کی وجہ بن جاتا ہے۔ بلاشبہ یہ صورت اس وقت تک رہے گی جب تک معاشرے کی بنیاد اور اخلاقیات کی اقداروں کو مستحکم اور استوار نہیں کیا جاتا۔ خاندان معاشرے کی پہلی اکائی ہے، جبکہ بہت سے خاندانوں کا مجموعہ معاشرہ کہلاتا ہے۔ ایک شہر یا ایک ملک کے لوگ مل کر ایک معاشرہ بناتے ہیں، کسی شہر کے لوگوں کی عادتیں، اخلاق، طور طریقے، مزاج، رسمیں، رہنے سہنے اور کھانے پینے کے طریقے آپس میں ملنے جلنے کے انداز اس شہر کی زندگی کو آسان یا مشکل بناتے ہیں، اس شہر میں رہنے والا ہر شخص معاشرے پر اثر ڈالتا ہے اور اثر لیتا بھی ہے۔ جس گھر کے لوگ آپس میں میل محبت سے رہتے ہوں، ایک دوسرے کے کام بڑھ چڑھ کر کرتے ہوں اور تکلیف میں ایک دوسرے کا ساتھ دیتے ہوں تو اس خاندان کے لوگ آرام سے زندگی گزارتے ہیں، ایسے مثالی خاندان مثالی معاشرے کی بنیاد بن سکتے ہیں۔ دنیا میں انسان کے سکون اور خوشی کا انحصار اچھے تعلقات پر ہے۔ کوئی آدمی اپنے قریب کے لوگوں سے بگاڑ کر خوش نہیں رہ سکتا۔ رشتے دار آپس میں سب سے قریب ہوتے ہیں۔ پڑوسی بھی بہت قریب ہوتے ہیں۔ بعض دوست اور ساتھی بھی عزیزوں کی طرح ہوتے ہیں۔ پھر رشتے داروں میں بھی کئی درجے ہوتے ہیں، ماں، باپ، میاں، بیوی، بیٹا، بیٹی، بھائی، بہن اور دوسرے رشتے دار اپنی اپنی جگہ محبت اور تعلق رکھتے ہیں۔ ان سب کا حق ایک دوسرے پر ہوتا ہے اس حق کو ادا کرنے کا مثالی جذبہ اور رشتوں کا احترام لازم ہونا چاہیے۔ جو عزیز، رشتے دار جس سلوک کا مستحق ہے اس کے ساتھ وہی سلوک رواءرکھا جانا چاہیے۔

جس طرح آپس میں لوگوں سے اچھے تعلقات رکھنااخلاقی خوبی ہے اسی طرح لوگوں سے لڑنا جھگڑنا ان کو برا بھلا کہنا اخلاقی عیب ہے لیکن جو لوگ دوسرے لوگوں کے آپس کے تعلقات خراب کرتے یا کرواتے ہیں ، لوگوںکے دلوں میں رنجش پیدا کرتے ہیں وہ تو اپنی عبادتوں کا ثواب بھی ضائع کر دیتے ہیں۔نبی کریم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے ”میں تمھیں بتاﺅں کہ روزے، صدقے اور نماز سے بھی افضل کیا چیز ہے؟ وہ ہے بگڑے ہوئے تعلقات میں صلح کرانا۔ اور لوگوں کے باہمی تعلقات میں فساد ڈالناوہ فعل ہے جو آدمی کی ساری نیکیوں پر پانی پھیر دیتا ہے۔“ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک اور فرمان ہے ”اپنے بھائی سے جھگڑا نہ کرو، نہ اس کے ساتھ ایسا مذاق کرو جس سے اسے تکلیف ہو اور نہ ایسا وعدہ کرو جسے پورا نہ کر سکو“ نبی کریم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ ارشاد بھی ملاحظہ ہوکہ ”تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ اپنے بھائی کے لیے وہی بات پسند نہ کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔“

حضور اکرم محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے جو ہدایات دی ہیں اور خود اپنی زندگی میں اپنے عمل سے جو نمونہ یا معیار ہمیں عطا کیا ہے اس پر عمل کیا جائے تو خاندان اور معاشرے کے سب لوگوں کو سکون اور خوشی میسر آ سکتی ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی اپنے خاندان اور رشتوں کا بہت خیال رکھتے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”غریب، مسکین کو صدقہ دینے سے صرف صدقے کا ثواب ملتا ہے اور غریب رشتے دار کو دینے سے دہرا ثواب ملتا ہے۔“ ایک صاحب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور سوال کیا کہ ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے اچھے سلوک کا سب سے زیادہ حق دار کون ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔” تیری ماں۔“پوچھا پھر کون؟ فرمایا ”تیری ماں۔“ ان صاحب نے پھر پوچھا،پھر کون؟ فرمایا ”تیری ماں“ تین بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ماں ہی کو حسن سلوک کا سب سے زیادہ مستحق بتایا۔ چوتھی بار پوچھنے پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تیرا باپ“حقیقت یہ ہے کہ دنیا کی زندگی میں ہم پر سب سے زیادہ احسان ماں کا ہی ہوتا ہے ہمیں پالنے اور ہماری حفاظت کرنے کے لیے جو محنت ماں کرتی ہے اور اپنے آرام کی قربانی دیتی ہے، وہ کوئی اور نہیں دے سکتا۔ ماں کے بعد باپ کا درجہ بھی اپنی اولاد کے لیے جو قربانی دیتا ہے وہ ماں کے بعد کسی سے کم نہیں۔

مہمان کی خاطر مدارات بھی اچھی زندگی کا ضروری حصہ ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مہمان کے آرام اور عزت کی تاکید فرمائی ہے۔ ارشاد ہے ”جو شخص اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہو اسے اپنے مہمان کی عزت کرنی چاہیے، اپنے پڑوسی کو تکلیف نہیں دینی چاہیے“ جو لوگ قریب رہتے ہیں چاہے وہ رشتے دار نہ ہوں لیکن رشتے داروں سے زیادہ ان سے واسطہ پڑتا ہے ان سے اچھے تعلقات انسان کی شرافت کا ثبوت ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اعلان ہے ” مومن نہیں ہے، اللہ کی قسم وہ مومن نہیں، اللہ کی قسم وہ مومن نہیں ہے، جس کی بدی سے اس کا پڑوسی امن میں نہ ہو۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا ”جو شخص پیٹ بھر کر کھا لے اور اس کے بازو میں اس کا پڑوسی بھوکا رہ جائے وہ ایمان نہیں رکھتا۔“ قرابت داروں یا رشتے داروں کا حق ادا کرنے سے معاشرے میں خوشی اور خوشحالی آتی ہے۔ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے رشتوں کا خیال رکھنے حکم فرمایا ہے ”اس اللہ سے ڈرو جس کا واسطہ دے کر تم ایک دوسرے سے اپنے حق مانگتے ہو اور رشتے و قرابت کے تعلقات کو بگاڑنے سے پرہیز کرو“ (سورة نسائ) نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ”جس کو یہ پسند ہو کہ اس کی روزی میں وسعت ہو اور اس کی عمر میں برکت ہو تو اس کو چاہیے کہ صلہ رحمی کرے (یعنی رشتے کا حق ادا کرے)“رشتوں کا حق ادا کرنے سے زندگی میں آسانی پیدا ہوتی ہے، اور محبت کے چشمے افرا تفری ختم کر کے معاشرے کو پر سکون، مستحکم اور شاداب بناتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے اہل خانہ اور رشتے داروں سے صلہ رحمی کریں ، اور ہمسایوں کی خبر گیری کریں ۔ غیبت ، چغلی ، کینہ و حسد کی بجائے اپنی تمام تر توانائیاں معاشرے کو پرسکون ، راحت بخش، قانون پسند اور شاداب بنانے میں صرف کریں، تاکہ معاشرے میں حسن اخلاق کا جو فقدان ہے وہ دور ہوسکے ۔ہماری تھوڑی سی کاوش ، خلق مروت اور طرز عمل سے معاشرے کے افراد کو راحت میسر آسکتی ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

One thought on “ خلق مروت کی ضرورت 

  • 21-02-2016 at 1:26 am
    Permalink

    بہت عمدہ۔ دین کے اس پہلو کی طرف توجہ دلانا آج کے مسلمانوں کے لئے بہت ضروری ہے۔ آپ نے گویا علماءاور خطبا کی جگہ فرضِ کفایہ ادا کیا ہے۔ سلامتی ہو آپ پر۔

Comments are closed.