سعادت حسن منٹو: نفسیات کی روشنی میں


 کہانی کب پیدا ہوئی اور کب تک جاری و ساری رہے گی، اس کا جواب اب تک کوئی نہیں دے سکا ہے، مگر دنیا میں جب تک کہانی موجود رہے گی اس وقت تک سعادت حسن منٹو کا نام زندہ رہے گا، کیوں کہ اس وقت تک منٹو کی کہانی بامعنی رہے گی۔ بلکہ اس میں نیے زاویے پیدا ہو تے رہیں گے۔

سعادت حسن منٹو کی پیدائش 11 مئی 1912ء کو ہوئی تھی اور شاید کسی نے سوچا بھی نہیں تھا کہ یہ دبلا پتلا منحنی سا نوجوان مستقبل کا اتنا بڑا کہانی کار بن کر ابھرے گا۔ لیکن منٹو نے نہ صرف اپنے ہم عصر افسانہ نگاروں کو پیچھے چھوڑ دیا بلکہ اس کے بعد آنے والی نسل بھی اس کی کہانی کا جواب پیدا نہیں کر سکی۔ شاید اسی لیے منٹو نے لکھا تھا ”سعادت حسن مر جائے گا مگر منٹو زندہ رہے گا۔ “

بلا شبہ منٹو نے کرب بھری زندگی گزاری مگر ان کی موت کے بعد جتنا منٹو کے فن اور شخصیت پر لکھا گیا شاید دوسرے کسی کہانی کار پر نہیں لکھا گیا۔ لیکن منٹو پر لکھی گئی ایک بے حد اہم کتاب کے بارے میں کم لوگ جانتے ہیں حالانکہ یہ کئی لحاظ سے بے حد منفرد کتاب ہے کہ اس میں منٹو کی شخصیت اور کہانی کی تحلیل نفسی کی گئی ہے، اور یہ کام وہی کر سکتا تھا جو ماہرِ نفسیات ہونے کے ساتھ ساتھ ادبی صلاحیت بھی رکھتا ہو۔

 تیس سال قبل یہ کارنامہ پٹنہ کے معروف دانش ور پروفیسر محمد محسن نے انجام دیا تھا جو پٹنہ یونیورسٹی کے شعبہ نفسیات کے صدر اور دنیا کے بہترین ماہرِ نفسیات میں سے ایک تھے۔ انہوں نے نفسیات میں پی ایچ ڈی کی ڈگری ایڈنبرا یونیورسٹی سے حاصل کی تھی۔ ان کا ایک ہی افسانہ ”انوکھی مسکراہٹ “ اس قدر مشہور ہوا کہ دنیا کی کئی زبانوں میں اس کے ترجمے ہوئے ۔ سب سے پہلے اسے شاہد احمد دہلوی نے اپنے رسالے ”ساقی“ کے افسانہ نمبر جولائی 1937ءمیں شائع کیا تھا۔ پروفیسر محسن شاعر بھی تھے۔ اس کے علاوہ ان کی نصف درجن کتابیں نفسیات کے موضوع پر انگریزی میں شائع ہوئیں۔ان کی خود نوشت سوانح ”لمحوں کا کارواں“ ان کے انتقال (دو مارچ 1999ء) کے بعد شائع ہوئی۔ نفسیات کے موضوع پر لکھی ان کی کتابیں مختلف یونیورسٹیوں کے نصاب میں شامل ہیں۔ منٹو کی تحلیل نفسی پر انہوں نے اپنی کتاب ” سعادت حسن منٹو اپنی تخلیقات کی روشنی میں “ لکھی تھی۔ اس کتاب کے بارے میں وہ خود لکھتے ہیں

 ”بہ قرینہٴ غالب مشاہیرِ علم و ادب اور ان کے فن کے کارناموں کے تجزیے کی کوشش ان کی تخلیقات کی روشنی میں کسی ہندوستانی زبان میں نہیں کی گئی ہے۔ مغربی زبانوں میں اس کی مثالیں ہیں۔ سائکلو انالیسس یا تحلیل نفسی کے موجد سگمنڈ فرائڈکا لیوناڈو ڈ ا ونچی، مونالیزا کے خالق کا تجزیہ اس کا اولین نمونہ ہے۔ اردو زبان و ادب میں اس کی کوشش پہلی بار راقم نے کی ہے۔ اس ضمن میں سعادت حسن منٹو کے افسانوں، خاکو ں اور دوسری نگارشات کے نفسیاتی تجزیہ قابل توجہ تصور کیے جائیں گے۔

 پروفیسر محسن نے اس کتاب میں منٹو کے زندگی کے ان گوشوں کو جو اس سے پہلے پسِ پردہ تھے، منظرِ عام پرلا کر ان کے نابغہ ہو نے میں کسی شک کی گنجائش باقی نہیں رہنے دی۔ جس انداز سے اس کی تخلیقات صفحہٴ قرطاس پر وجود میں آئی تھیں اس کی مثال مشکل سے ہی مل سکتی ہے۔ اپنے خود نوشت خاکے میں منٹو نے اپنے نشست کے انداز کو ان الفاظ میں بیان کیا ہے۔ ”وہ کرسی پر اکڑوں بیٹھا انڈے دیے جاتا ہے، جو بعد میں چوں چوں کر افسانے بن جاتے ہیں۔“

 پروفیسر محسن لکھتے ہیں ”اس کی تخلیقی صلاحیت کی بے ساختہ اور اضطرابی طور پر رو بکاری کے پیش نظر اسے جینئس کے زمرے سے خارج کرنا بعید ا ز قیاس ہو جاتا ہے۔ وہ اپنی تخلیقات پر کبھی نظرِ ثانی نہیں کرتا تھا۔ اس کے باوجود اس کی تحریر میں کسی طرح کا الجھاؤ یا گنجلگ، جملوں کی ساخت میں بے ربطی یا ثقالت، الفاظ کے انتخاب میں ناموزونیت کا شائبہ تک نہیں ہو تا۔ اس اعتبار سے وہ انگریزی کے نہایت پرولیفک پرکار ناول نگار ایڈگر ویلیس (Edgar Wallace) کے باالمثل تصور کیا جا سکتا ہے وہ بھی اپنے ناول اسی طرح سے ٹائپ کرایا کرتا تھا، بغیر کسی تیاری کے کتاب کا متن اس کی زبان سے برآمد ہو تا جاتا اور ٹائپسٹ اسے ٹائپ کرتا جاتا، چنانچہ دونوں کی تخلیقات کی بہتات میں ویسی ہی یگانگت تھی لیکن ا یڈگر ویلیس کے ناقدوں کے درمیان اس کی زبان کی خامیوں پر انگشت نمائی میں کوئی فرق نہیں پایا جاتا۔ میری دانشت میں کسی نے بھی منٹو کی زبان پر انگلی نہیں اٹھائی ہے۔‘

 منٹو کی شخصیت کی تحلیل نفسی کرتے ہویے پروفیسر محسن لکھتے ہیں:

 ”منٹو کی خانگی زندگی نہایت خوش گوار تھی۔ وہ ایک شریف بیوی کا وفا دار شوہر تھا اور تین بچیوں کا شفیق باپ۔ اس کو بیوی کی رضا مندی کا بہت خیال تھا۔ دوستوں کے یہاں جاتا تو اکثر اپنے ساتھ لے جاتا۔ منٹو کو اپنی بیوی سے محبت ہی نہیں تھی اسے اس کی دلجوئی کا خیال بھی تھا اور اس کی خاطر داری کرنے سے چوکتا نہیں تھا۔ اپنی بیوی کے جذبات کا کافی احترام کرتا تھا۔ اکثر یہ جانتے ہوئے بھی کسی خاص معاملہ میں صفیہ کا خیال درست نہیں تھا، منٹو ا س سے بحث میں نہیں پڑتا تھا حالانکہ وہ بہت نازک مزاج تھا اور بحث میں پڑنا اس کی عادت تھی، ہمیشہ اپنی بات کی پخ رکھنا چاہتا تھا۔“

 منٹو کی شخصیت بالکل سیدھی سادی یاسپاٹ نہیں تھی۔ ایسی صورت میں اس کی شخصیت کا جائزہ لینا آسان کام بھی نہیں لیکن پروفیسر محسن جیسا ماہر نفسیات اس کی شخصیت کی تہہ تک پہنچ جاتا ہے:

 ” موقع بے موقع منٹو اپنی شراب نوشی کا ذکر کرتا ہے ایسا معلوم ہو تا ہے کہ وہ اپنے رند بلا نوش ہونے کاڈنکا پیٹنا چاہتا تھا۔ لیکن باوجود بکثرت شراب نوشی کے منٹو کبھی ہوش سے گزرتا نہیں تھا شراب پی کر بے قابو ہونے کا اس حد تک اقرار کرتا ہے’ جب میں پیے ہو تا ہوں تو مجھے تکلف برتنا نہیں آتا‘۔باوجود اپنی بلا نوشی کے جس کا اظہا رکیے بغیر منٹو کو چین نہیں آتا تھا اور باوجود اس گناہ پرور اوراخلاق سوز ماحول کے جس میں منٹو نے اپنی زندگی کے سالہا سال گزارے تھے اس کی خدا ترسی اوراس کا مذہب کا احترام ہمیں حیرت میں ڈال دیتا ہے۔ ایک روز ہولی کے موقع پراشوک کمار کے ساتھ فلم ایکٹریس پارو دیوی کے یہاں گیا۔ وہاں پہلے شراب کا دور چلااس کے بعد پارو دیوی سے گانے کی فرمائش کی گئی اس نے بھجن کے بعد منٹو کے خیال سے نعت شروع کر دی۔ منٹو نے اسے یہ کہہ کر روک دیا” پارو دیوی، یہ محفلِ نشاط ہے، شراب کے دور چل رہے ہیں، یہاں کملی والے کا ذکر نہ کیا جائے تو اچھا ہے۔“

 پروفیسر محسن منٹو کی شخصیت کا نفسیاتی جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ اس کی تخلیقات کا جائزہ لیتے ہیں اور منٹو پر جنسی بے راہ روی کے جو الزام لگتے رہے ہیں اس کی تردید یوں کرتے ہیں:

 ” عورت کے جسم کے وہ حصے منٹو کو دعوت نظارہ نہیں دیتے تھے جو شہوانی جذبات کو برانگیختہ کرتے ہیں،اس کی کشش ان اعضا سے ہو تی تھی جن کا جنسی کشش کے وسیلوں سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ اس کو مارلی ڈیٹریچ کے پاؤں بہت پسند تھے۔ ”بن کی سندری“ فلم کی ایکٹریس نیلم کو جب اس نے پہلی بار دیکھا تو اس کی نگاہ صرف نیلم کے پاؤں پر پڑی: ’میں پیشہ ور عورتوں کو چوری کی نظر سے دیکھتا ہوں اگر کوئی عورت ایک دم میرے سامنے آجائے تو مجھے کچھ نظر نہیں آتا۔‘ منٹو کو نیلم کی جلد جو بہت صاف اور ہموار تھی، پسندتھی۔ منٹو ایک دوسری ایکٹریس کی شائستگی، ستھرا پن اور صاف دل کا گرویدہ ہو گیا تھا۔ فلم ایکٹریسوں کی عریانی، اعضا کی اشتعال انگیز نمائش ان کا سوقیانہ پن منٹو کے اندر کراہیت پیدا کر دیتا تھا۔ نور جہاں شوٹنگ کے موقع پر جالی کی قمیض اور شلوار پہنے ہوئی تھی، ’نو رجہاں کو اس لباس میں دیکھ کر میں تو واللہ بوکھلا گیا، میں نے اپنی نگاہ ادھر سے ہٹا لی اور شوبھنا سامرتھ کے پاس چلا گیا۔ وہ مستور تھی وہ بھی اسی فلم میں کام کر رہی تھی۔ “ اسی طرح ایک دوسری ایکٹریس ستارہ کا نیم عریاں جسم منٹو کی آنکھوں میں چبھتا تھا۔‘‘

 پروفیسر محسن منٹو کی تمام تخلیقات کا نفسیاتی جائزہ لینے کے بعد اس نتیجے پر پہنچتے ہیں ”عورت کوئی بھی ہو منٹو کے لیے ویسی ہی قابل تکریم اور احترام ہے جیسے ایک بیٹے کے لیے اس کی ماں۔ اپنی بیوی کے ساتھ اس کا رویہ اس کی بین مثال ہے۔پیشہ ور طوائفیں منٹو کی چند کہانیوں کا کلیدی کردار ہیں اس دور کے مرد زن کے نزدیک ان کا طبقہ جس قدر حقارت انگیز اور قابل نفریں سمجھا جاتا تھا۔ معاشرہ کے پست ترین طبقے کی عورتیں بھی اس نگاہ سے نہیں دیکھی جاتی تھی، لیکن منٹو نے اپنی کہانیوں میں ان کی بنیادی شریف النفسی، نیک نیتی، جذبہٴ ہمدردی، عزتِ نفس کے پاس کی نقاب کشائی کر کے ان کی شخصیت کو اس دور کی شریف بہو بیٹیوں کی طرح دل آویز اور پر کشش بنا دیا ہے۔ مرغِ بسمل کی طرح وہ مجبور بےکس اور معاشرے کی قید و بند میں اسیر تھیں آج کی مہذب دنیا میں عورتوں کی آزادی اور مردوں کے استداد و نامنصفانہ اور نابرابری کے برتاؤ سے نجات کا مسئلہ ایک عالمی تحریک کا موضوع بن گیا ہے۔ اس کی تخلیقات کے پیش نظر منٹو کو اس کا پیش رو قرار دینا شاید غلط نہ ہو گا۔ اس کی شخصیت کے اجزائے ترکیبی میں صنف نازک کی بابت اس کے رجحانات کو ایک خاص مقام کا حامل قرار دیاجا سکتا ہے۔ بیوی کے ساتھ منٹو کا صرف جذباتی تعلق نہیں تھا ہر معاملہ میں اس کی رضا مندی سے بہر یا بی، اس کی دلجوئی اور دلداری کے شدید تقاضوں کی منٹو پر فرماں روائی تھی۔ اسے مدر کمپلیکس کی عمل داری کاکرشمہ قرار دے کر نفسیاتی نظریات کی روشنی میں اس کی تفہیم و تشریح کی کوشش میں نے پہلی بار کی ہے۔ دوسرے لفظوں میں منٹو کے نزدیک صنف نازک کو اس کی ماں کی شخصیت کا متبادل ہونے پرمحمول کیا گیا ہے۔ “

 منٹو پر بہت کچھ لکھا گیاہے اور لکھا جاتا رہے گا لیکن حقیقت یہ ہے کہ منٹو نے خود اپنے بارے میں جو کچھ لکھ دیا وہی حرف آخر ہے یہاں تک کہ اس کی قبر کا کتبہ بھی ایک نہ ختم ہونے والی کہانی سے کم نہیں ہے:

  ’یہاں سعادت حسن منٹو دفن ہے

 اس کے سینے میں فن افسانہ نگاری کے سارے اسرار و رموز دفن ہیں۔ وہ اب بھی منوں مٹی کے نیچے سوچ رہا ہے کہ وہ بڑا افسانہ نگار ہے یا خدا۔‘

 سعادت حسن منٹو

( 18 اگست 1954ء)


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔