1910ء میں قائد اعظم کے خیالات —


Dr Sachchid Anand Sinha

ڈاکٹر سچد آنند سنہا (10 نومبر 1871- 6 مارچ 1950) ہندوستان کے نامور ترین قانون دان، ماہر تعلیم، صحافی اور سیاست دان تھے۔ صوبہ بہار میں پیدا ہونے والے ڈاکٹر سنہا نے لندن سے بیرسٹری کا امتحان پاس کرنے کے بعد چھوٹی عمر ہی میں سیاست میں حصہ لینا شروع کر دیا تھا۔ انہوں نے کامیابی سے بہار اور اوڑیسہ کی بنگال سے علیحدگی کی تحریک چلائی۔ ڈاکٹر سنہا 1899 سے 1920 تک آل انڈیا کانگرس کے رکن رہے اور ایک موقع پر کانگرس کے سیکرٹری بھی منتخب ہوئے۔ ڈاکٹر سچد آنند سنہا ہوم رول لیگ میں قائد اعظم محمد علی جناح کے رفیق رہے۔ ڈاکٹر سنہا 1936 سے 1944 تک پٹنہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر رہے۔ ڈاکٹر سنہا 1910 سے 1920 تک انڈین امپیرئل لیجسلیٹو کونسل اور انڈین لیجسلیٹو اسمبلی کے رکن رہے۔ ڈاکٹر سنہا کسی صوبے میں وزیر خزانہ کے منصب پر فائز ہو نے والے پہلے ہندوستانی تھے۔ 1946 میں ہمدوستان کی دستور ساز اسمبلی قائم ہوئی تو ڈاکٹر سنہا کو اس اسمبلی کا عبوری صدر مقرر کیا گیا۔

ڈاکٹر سچد آنند سنہا قیام یورپ (1890-1892) کے دوران قائد اعظم محمد علی جناح کے قریبی دوست تھے۔ بعد ازاں وہ دونوں ایک ہی وقت میں قانون ساز اسمبلی کے رکن رہے۔ قائد اعظم محمد علی جناح 1910ء میں بمبئی سے انڈین امپیرئل لیجسلیٹو کونسل کے رکن منتخب ہوئے تھے۔ قائد اعظم نے اس عہدے کے لئے سر رفیع الدین احمد کو شکست دی تھی جو بعد ازاں بمبئی حکومت کے وزیر بھی رہے۔ کلکتہ میں انڈین امپریئل لیجسلیٹو کونسل کے پہلے اجلاس کے موقع پر رفیع الدین احمد خاص طور پر پونے سے سفر کر کے کلکتہ پہنچے تا کہ سیاسی رہنماؤں کو قائل کیا جا سکے کہ (قائد اعظم) محمد علی جناح بمبئی بشمول سندھ سے واحد مسلمان نمائندہ ہونے کے معیار پر پورے نہیں اترتے۔ رفیع الدین احمد کو اس مقصد میں کامیابی حاصل نہ ہوئی۔ اس موقع پر قائد اعظم اور رفیع الدین احمد میں ہونے والی والی گفتگو کو ڈاکٹر سنہا نے اپنی ڈائری میں نوٹ کیا۔ یہ ریکارڈ داکٹر سنہا کی کتاب “میرے ممتاز ہندوستانی ہم عصر” میں شامل ہے۔ یہ کتاب 1944 میں شائع ہوئی تھی۔ خدا بخش اورینٹل پبلک لائبریری پٹنہ نے 1998 میں اس کتاب کا قائد اعظم سے متعلقہ حصہ اردو میں “قائد اعظم جنہیں میں جانتا ہوں” کے عنوان سے شائع کیا۔ مترجم احمد یوسف ہیں۔ 

ذیل میں ڈاکٹر سچد آنند سنہا کی تحریر سے ایک اقتباس دیا جا رہا ہے جس سے قائد اعظم محمد علی جناح کی سیاسی زندگی کے ابتدائی حصے میں ان کے خیالات پر روشنی پڑتی ہے۔

رفیع الدین احمد: مسٹر جناح، آپ اس بات کا دعویٰ کرتے ہیں کہ آپ بمبئی پریسڈنسی کے مسلمانوں کی نمائندگی کرتے ہیں؟

محمد علی جناح: کون اس پر شک کرتا ہے؟ آپ کرتے ہیں؟

رفیع الدین احمد: مجھے افسوس ہے کہ آپ جیسے لوگ ان کی نمائندگی کریں گے جو اسلام اور پیغمبر اسلامؐ کے متعلق کچھ بھی نہیں جانتے اور نہ اسلامی احکامات کی پیروی کرتے ہیں۔

محمد علی جناح: یہ آپ کس طرح کہہ سکتے ہیں۔ میں اچھی طرح جانتا ہوں، آپ سے کہیں زیادہ

رفیع الدین احمد: آپ کے کہنے کے مطابق آپ جانتے ہیں۔ تو یہ بتائیں کہ آپ عربی یا فارسی جانتے ہیں؟

محمد علی جناح: مجھے کیا ضرورت ہے عربی یا فارسی جاننے کی۔ میں نہ تو عرب ہوں اور نہ ایرانی۔ میں تو ہندوستانی ہوں اور یون مجھے کوئی ضرورت نہیں کہ عربی یا فارسی جانوں۔

رفیع الدین احمد: لیکن کیا آپ اردو جانتے ہیں؟

محمد علی جناح: اس حد تک ضرور جانتا ہوں کہ ملازموں اور حمالوں سے بات کر سکوں۔ مجھے عدالتوں میں اور ارکان جیوری سے اردو میں بات نہین کرنی ہوتی۔ اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ مجھے زیادہ زبان جاننے کی چنداں ضرورت نہیں ہے۔ ویسے میں گجراتی اچھی طرح جانتا ہوں۔

رفیع الدین احمد: لیکن اگر آپ عربی نہیں جانتے ہیں تو آپ عبادتیں کس طرح کر سکتے ہیں؟

محمد علی جناح: عربی میں عبادت میں کیوں کروں۔ میں کوئی ایسا زبردست گناہ گار تو نہیں ہوں کہ اپنے گناہوں کی معافی کے لئے برابر عبادت کرتا رہوں۔ قطع نظر اس سے ، یقینی طور پر میں جس زبان میں بھی اپنی التجا کروں گا، خدا اسے سمجھ لے گا۔

رفیع الدین احمد: اور آپ اپنے ملبوسات، کھانے پینے اور مشروبات کے سلسلے میں کیا کہتے ہیں؟ کیا یہ سب شریعت کے مطابق ہیں؟

محمد علی جناح: لباس کا شریعت سے کیا تعلق؟ یقینی طور پر مختلف مسلم ممالک کے لوگوں کا پہناوا مختلف ہے۔ حتی کہ مسلمانوں میں بھی سبھی مسلمان ایک طرح کا لباس استعمال نہیں کرتے۔ جہاں تک کھانے پینے کا معاملہ ہے، اس کا تعلق بیشتر ذاتی پسند ناپسند، اشتہا اور ہاضمے سے ہے نہ کہ مذہبی رسم و رواج سے۔

رفیع الدین احمد: (فتح مندی کے عالم میں جناح کی طرف دیکھتے ہوئے) دیکھیے، دیکھیے مہاراجہ بہادر (مہاراجہ بردوان کی طرف مڑتے ہوئے) اپنے بمبئی کے رفیق کو ملاحظہ فرمائیے اور دیکھیئے کہ یہ کیا کہتے ہیں۔۔۔ یہ عربی فارسی ، حد تو یہ ہے کہ اردو بھی نہین جانتے۔ یہ کبھی عبادت نہیں کرتے ہیں اور حرام و حلال کھانے پہینے میں شریعت کا احترام نہیں کرتے ہیں۔ اور آپ اس بات پر غور کیجئے مسٹر سنہا (میری طرف مڑتے ہوئے)۔۔۔۔

 میں نہیں جانتا کہ مولوی رفیع الدین (وہ اس زمانے میں خود کو مولوی ہی کہلاتے تھے) مجھ سے کیا نوٹ کرنے کے لئے کہہ رہے تھے۔ کیونکہ اس دوران معزز ارکان کونسل چیمبر میں جمع ہو گئے۔ وائسرائے کے نقیب کی آواز سنائی دیتے ہی رفیع الدین اچانک غائب ہو گئے۔

رفیع الدین سے گفتگو میں جناح کی کشادہ ذہنی اور کردار کی پختگی نے مجھے اس قدر متاثر کیا تھا کہ لیجسلیٹو کونسل کے اجلاس سے واپسی پر میں نے اس گفتگو کو لفط بلفظ درج کر لیا۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔