طالب علموں کے ساتھ انصاف کی ضرورت


adeel raoعدیل راﺅ

کچھ روز قبل خبر آئی کہ سائنس دانوں کی جس ٹیم نے gravitational waves دریافت کی ہیں اس میں ایک پاکستانی خاتون نرگس ماول والا بھی شامل ہیں ۔ ان کی تعلیم کا ایک بڑا اور اہم حصہ امریکا میں مکمل ہو اور وہیں انھیں یہ موقع نصیب ہوا کہ اتنی عظیم دریافت کا حصہ بنیں ۔ دل کو خوشی ہوئی لیکن اگلے ہی روز ایک اور خبر موصول ہوئی کہ کوئٹہ میں بارہویں جماعت کی ایک طالبہ نے کالج سے سالانہ داخلہ نہ جانے پر خودکشی کر لی۔ دکھ ہوا اور ایک لمحے کے لئے خیال بھی آیا کہ اگر نرگس بھی کسی پاکستانی سرکاری ادارے میں تعلیم حاصل کر رہی ہوتیں تو شاید….کوئٹہ سے تعلق رکھنے والی بچی کا داخلہ اس لئے نہیں بھیجا گیا کہ اس نے کچھ عرصہ قبل کالج انتظامیہ کے خلاف احتجاج کیا تھا کہ وہاں پڑھنے والی بچیوں کو اساتذہ فراہم کئے جائیں۔ اس’جرم‘ پر کالج کی پرنسپل نے داخلہ نہیں بھیجا ۔ میں سوچتا ہوں کہ خود کشی ایک انتہائی قدم ہے جو کوئی بھی شخص اس وقت اٹھاتا ہے جب کہیں شنوائی نہ ہو ، کوئی مدد گار نہ ہو ، یا جب کوئی رستہ دکھائی نہ دیتا ہو،۔ اس بچی نے بھی پرنسپل کی اس زیادتی کے خلاف آواز اٹھائی ہو گی ، کسی در پر دستک دی ہو گی ؟ مگر کوئی کیوں سنتا؟ وہ کسی زردار، سرمایہ دار کی بیٹی تھوڑی تھی ، اور سب سے بڑھ کر یہ مسائل تو پاکستان کے عام لوگوں کے ہیں ، غریب اور متوسط طبقے کے طلبہ و طالبات کے ہیں ، ان پر کان کون دھرے ….

اس میں کوئی دوسری را ئے نہیں ہے کہ پاکستان کے سرکاری اداروں میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ و طالبات کے مسائل اپنی انتہا کو پہنچ چکے ہیں، خصوصاً یونیورسٹیز میں …. ایک طرف طلبہ و طالبات کو وسائل ور دیگر انتظامی مسائل کا سامنا ہے تو دوسری طرف یونیورسٹیز اور کالجز میں پڑھانے والے اساتذہ کا نامناسب رویہ ہے۔ سمسٹر سسٹم میں ٹیچر سیاہ و سفید کا مالک ہوتا ہے . طلبہ و طالبات آنکھوں میں خواب اور دماغ میں بلند خیالات لئے اداروں میں داخل ہوتے ہیں اور کس طرح ان کی آنکھوں سے خواب نوچ لئے جاتے ہیں اور دماغ میں غلاظت بھر دی جاتی ہے ، اس پر نظر ڈالنے والا کوئی نہیں ، کس طرح ’ استاد‘ کا عظیم منصب ایسے لوگوں کے ہاتھوں میں ا گیا جو شاید رکشہ چلانے کے بھی قابل نہیں تھے…. (معذرت کہ یقیناً سب اساتذہ ایسے نہیں ہیں) ۔ کس طرح طلبہ و طالبات کا استحصال ہوتا ہے ۔ کس طرح ’ سی۔ جی۔ پی۔ اے ‘ میں ایک پوانٹ اضافے کے لئے سٹوڈنٹس کا استحصال ہوتا ہے ،خصوصا ’ طالبات‘ کا ۔ اس پر ایکشن لینے والا کوئی نہیں ۔ تعلیمی اداروں میں کس طرح ایک محنتی طالب علم کے نمبروں میں جان بوجھ کر کمی کر کے اس کے مستقبل کو تاریک کر دیا جاتا ہے اس کی خبر کون لے گا ؟ کون انکوائری بٹھائے گا؟ ماسٹر ، ایم-فل اور پی-ایچ-ڈی کے سٹوڈنٹس کے ساتھ کیا ہوتا ہے، کیا یہ کسی کو نہیں پتا ؟

کیا تعلیمی اداروں میں بیٹھے معلم نما فرعونوں کا احتساب کرنے والا کوئی نہیں ؟ کیا انہیں یونہی قوم کے مستقبل کو برباد کرنے کا اختیار رہے گا ؟ کیا یہ لوگ تعلیمی اداروں میں خدا بنے رہیں گے؟ کیا طلبہ و طالبات یونہی خود کشی کرتے رہیں گے ؟ یا پھر پاکستان میں ’ طلبہ کورٹس‘ کا قیام عمل میں آءے گا جہاں طلبہ و طالبات اپنے مسائل لے کر جا سکیں جہاں سرکار طلبہ و طالبات کو وکیل فراہم کرے یا پھر طلبہ کو اپنا مقدمہ لڑنے کی اجازت ہو ، اور جیوری میں نہ صرف کوئی سینئر جج ہو بلکہ سوسائٹی کے نمائندے بھی ہوں ….

اگر پاکستان میں طلبہ و طالبات کے لئے انصاف کی فراہمی یقینی نہ بنائی گئی تو نوجوانوں کے دلوں میں ابلنے والا لاوا کسی بھی لمحے پھٹ سکتا ہے اور لاوے کو اس سے کوئی مطلب نہیں ہوتا کہ اس کے راستے میں کون آیا ….


Comments

FB Login Required - comments

One thought on “طالب علموں کے ساتھ انصاف کی ضرورت

  • 21-02-2016 at 1:58 am
    Permalink

    نہایت توجہ طلب ۔ جب سے سمسٹر سسٹم ہماری یونیورسٹیوں میں رائج ہؤا ہے، اس کے اثرات، فوائد اور نقصانات کا کوئی تجزیہ نہیں کیا گیا؛ اگر ہؤا تو عام لوگوں تک اس کے نتائج نہیں پہنچے۔ ہائرایجوکیشن کے حوالے سے بہت سے معاملات توجہ طلب ہیں، جن میں سے ایک ایسے نادر، بظاہر پُر کشش مگر اصلاً بے فیض، کورسز کا اجرا بھی ہے جن سے اساتذہ کو تو اضافی معاشی فوائد حاصل ہو جاتے ہیں لیکن طلبا کے کیرئر (اور شخصیت کی تعمیر) میں کوئی فائدہ حاصل نہیں ہو پاتا۔ ایسی کوالیفیکیشن کی تحصیل میں دن رات ایک کرنے والوں کے سامنے جب عملی نتائج اپنی خوفناک شکل میں ظاہر ہوتے ہیں تو ان کی ذمہ داری لینے کو نہ اساتذہ تیار ہوتے ہیں نہ ریاست۔ بےسمتی اور بےکاری بیچارے نوجوانوں کےلئے ایسی مایوسی لاتی ہے کی خدا کی پناہ۔ کبھی موقع ملا تو قدرے تفصیل سے لکھیں گے۔

Comments are closed.