مظہر کلیم اپنے انٹرویو میں ابن صفی سے اپنا تقابل کرتے ہیں


مظہر کلیم صاحب کا یہ انٹرویو روزنامہ ایکسپریس میں اتوار 20 دسمبر 2015 کو شائع ہوا تھا۔ انٹرویو جناب احمد رضوان نے لیا تھا۔

النگ پاک گیٹ ملتان میں جاسوسی ادب کے پبلشر کے شو روم کا ایک منظر ملتان کے بیشتر شہریوں کی یاداشت میں محفوظ ہے جہاں ایک قدآور اور وجیہہ آدمی سگریٹ سلگائے، اپنے سامنے کورے کاغذوں کی تہہ جمائے، حیران کن روانی سے لکھے چلا جا رہا ہے یہاں سے گذرنے والا ہر فرد انہیں حیرت سے دیکھتا ہے اور وہ لوگ جو اس وجیہہ آدمی کے نام اور کام سے آگاہ ہیں۔
ان کی حیرانی میں ایک طرح کی سرشاری، تفاخر اور عقیدت بھی دکھائی دیتی ہے کیونکہ یہ وجیہہ آدمی جاسوسی ادب کی دنیا میں افسانوی شہرت رکھنے والے ادیب مظہر کلیم ایم اے ہیں جو اپنے پبلشر کے شو روم میں بیٹھے جاسوسی ادب کی تاریخ مرتب کر رہے ہیں۔

22 جولائی 1942ء میں ملتان کے ایک پولیس آفیسر حامد یار خاں کے ہاں پیدا ہونے والے مظہر کلیم ایم اے نے ابتدائی تعلیم اسی شہر میں حاصل کی۔

1965ء میں ان کی زندگی میں دو اہم موڑ آئے، ایک تو اس سال ان کی شادی برصغیر کے معروف شاعر علامہ اسد ملتانی کے ہاں ہوئی، دوسرا یہ کہ انہوں نے ایک دوست کی فرمائش پر اپنی زندگی کا پہلا جاسوسی ناول ”ماکازونگا“ لکھا (اس انٹرویو میں مظہر کلیم صاحب بتاتے ہیں کہ یہ ناول جناب ابن صفی کے انتقال کے بعد شائع ہوا تھا، اس لئے 1965 میں ناول شائع ہونے والی بات سہو نظر آتی ہے۔ یہ 1980 کی دہائی کا واقعہ دکھائی دیتا ہے: مدیم ہم سب)۔ ان کے پہلے ناول نے جہاں مقبولیت کے ریکارڈ قائم کیے وہیں مستقبل میں جاسوسی ادب کے ایک بڑے ادیب کی راہ بھی متعین کر گیا۔ اس کے بعد ان کا ہر ناول ایک معیار قائم کرتا چلا گیا اور ان کے قارئین کی تعداد روز بروز بڑھتی ہی رہی۔

جاسوسی ادب میں ابن صفی کے بعد مظہر کلیم ایم اے کو جو شہرت اور مقبولیت حاصل ہوئی دوسرا کوئی بھی اس مقام تک نہیں آ سکا گو انہوں نے اپنے ناولوں میں ابن صفی کے معروف کردار ”عمران“ کو بھی زندہ رکھا لیکن اس کردار میں رنگ انہوں نے اپنے بھرے اور ایسے بھرے کہ اب ابن صفی کا کردار عمران منظر سے غائب ہو چکا ہے۔ دنیا بھر میں موجود ان کے قاری، ان کی ذاتی زندگی کے بارے میں جاننے کے لئے بے چین رہتے ہیں۔ ہماری آج کی اس نشست کا مقصد بھی یہی ہے کہ قارئین سے ان کی ملاقات کرائی جائے، آئیے مظہر کلیم ایم اے سے ملتے ہیں۔


ایکسپریس:۔ سب سے پہلے اپنے خاندانی اور تعلیمی پس منظر کے حوالہ سے بتائیں؟

مظہر کلیم:۔ میرے آباؤ اجداد کا تعلق افغانستان سے تھا، ہم محمد زئی درانی پٹھان ہیں، افغانستان سے پہلے ہم شورکوٹ آئے، وہاں کچھ عرصہ رہنے کے بعد ملتان میں آباد ہو گئے۔ میرے خاندان کے زیادہ تر لوگ فوج اور پولیس میں ملازم تھے، میرے دادا، والد صاحب اور چچا سبھی پولیس آفیسر تھے لیکن میں اور میرا چھوٹا بھائی ہم دونوں پولیس کی ملازمت میں نہیں گئے، میرا بھائی انجینئر ہے اور میں ایک لکھاری اور وکیل ہوں۔

میں ملتان میں ہی پیدا ہوا، ابتدائی تعلیم اسلامیہ ہائی سکول دولت گیٹ سے حاصل کی۔ 1957ء میں یہاں سے میٹرک کیا اور اس کے ایک سال بعد تک میں اسی سکول میں پڑھاتا رہا بعدازاں میں نے ایمرسن کالج ملتان سے ایف اے اور بی اے کیا، اس دوران ملتان میں پنجاب یونیورسٹی کا کیمپس شروع ہوا تو اس کے پہلے ہی سیشن میں ایم اے اردو کیا۔

ایم اے اردو کے بعد میں مختلف انشورنس کمپنیوں میں کام کرتا رہا، پھر صحافت کی طرف آ گیا جس کا مجھے بہت شوق تھا۔ ان دنوں ملتان سے ایک روزنامہ ”آفتاب“ شائع ہوتا تھا جو یہاں کا بڑا مقبول اخبار تھا، اس اخبار میں، میں نے سوائے کاتب کے تمام عہدوں پر کام کیا، اس دوران میں نے ریسرچ فیچرز لکھے، مضامین لکھے اور 3 سال تک میرا کالم ”تماشا میرے آگے“ بھی روزنامہ ”آفتاب“ کے ادارتی صفحہ پر چھپتا رہا۔ صحافت کے دوران ہی میں نے ایل ایل بی کر لیا تھا، 78ء کے قریب اخبار کی ملازمت چھوڑ کر کل وقتی وکالت شروع کر دی۔

ایکسپریس:۔ اخبار کے لیے لکھتے لکھتے آپ اچانک جاسوسی ادب کی طرف کیسے آگئے؟

مظہر کلیم:۔ جہاں تک لکھنے کی بات ہے تو اس میں میرے والد صاحب کا بہت اہم کردار ہے، میرے والد صاحب حامد یار خان پولیس آفیسر تھے لیکن انہیں مطالعہ کا بہت شوق تھا، وہ دنیا کے ہر موضوع پر کتاب پڑھتے تھے اور اسے اپنی لائبریری میں محفوظ بھی رکھتے تھے۔

والد صاحب ملازمت سے جب بھی گھر آتے تو ہم بھائیوں کے لئے ہمیشہ کتابیں اور رسائل لے کر آتے تھے۔ جب کبھی ان کا تبادلہ ہوتا تھا تو گھریلو سامان کی منتقلی کے لئے جو ٹرک منگوایا جاتا اس میں گھریلو سامان کم اور کتابیں زیادہ ہوا کرتی تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ میں بھی دنیا کے ہر موضوع پر کتاب پڑھنے کے لئے تیار ہوتا ہوں۔ جہاں تک جاسوسی ادب کی طرف آنے کی بات ہے تو یہ کسی باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت نہیں ہوا۔

میرے ایک دوست بی اے جمال ہیں، انہوں نے بوہڑ گیٹ میں اپنی ایک لائبریری اور ایک پبلشنگ ہاؤس بنا رکھا تھا، وہ اپنے ادارے کی طرف سے جاسوسی ادب شائع کرتے رہتے تھے لیکن ان کے پاس اچھے لکھاری نہیں تھے جن کی کتابیں ہاتھوں ہاتھ بک جائیں۔

سو وہ کبھی کہیں سے مسودہ منگواتے، کبھی کسی سے کہانی لیتے، کبھی کوئی انڈیا کا مسودہ چھاپ دیتے لیکن ان کی کتاب بک نہیں رہی تھی، اس دوران ابن صفی صاحب کا انتقال ہو گیا تو مختلف لوگ جعلی ناموں سے ابن صفی بننے کی کوشش کر رہے تھے، کوئی این صفی تھا، کوئی نجمہ صفی تو کوئی کسی اور نام سے سامنے آ گیا، میرے یہ دوست بھی ان دنوں ایسی ہی کہانیاں چھاپ رہے تھے۔ ایک دن وہ پریشانی کے عالم میں میرے پاس آئے اور اپنے مسائل کا اظہار کیا تو میں نے کہا میں آپ کو ناول لکھ دیتا ہوں شرط صرف اتنی ہے کہ آپ میرے نام سے شائع کریں (ناول ماکازونگا کے پیش لفظ میں مظہر کلیم صاحب یہ لکھتے ہیں کہ یہ ناول انہوں نے این صفی کے نام سے لکھا تھا: مدیر ہم سب)۔

انہوں نے فوراً حامی بھر لی تو میں نے اپنا پہلا جاسوسی ناول ”ماکا زونگا“ لکھا جو افریقی قبائل کے پس منظر میں تھا، وہ پہلا ناول چھپا تو اسے اتنی پذیرائی ملی کہ وہ دن ہے اور آج کا دن میری مقبولیت اسی طرح برقرار ہے۔ اس دوران میں نے جتنی بھی کوشش کی کہ میں جاسوسی ادب سے بھاگ جاؤں لیکن پبلشرز اور قاری مجھے نہیں چھوڑتے۔

ایکسپریس:۔ اب تک آپ کتنے ناول تحریر کر چکے ہیں یہ بھی بتائیں کہ آپ کی مقبولیت میں سب سے اہم کردار کس بات کا ہے؟

مظہر کلیم:۔ میرے اب تک شائع ہونیوالے نالوں کی تعداد 600 سے زائد ہے۔ یہ تعداد تو عمران سیریز کے ناولوں کی ہے، اس کے علاوہ بچوں کے لئے میں نے جو چھوٹی کہانیاں لکھیں ان کی تعداد بھی 5 ہزار سے زائد ہے اور اللہ تعالیٰ کا مجھ پر خاص کرم ہے کہ میری ساری کہانیاں ہی مقبول ہیں۔

میرے ناولوں میں سب سے اہم بات سسپنس ہے۔ جاسوسی ادب کا قاری سوچتا ہے کہ جب کہانی آگے بڑھے گی تو کیا ہو گا اس حوالے سے میں جو دلچسپ بات آپ کو بتانا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ عام طور پر جاسوسی ادب کے قاری بہت تیز ہوتے ہیں، خاص طور پر وہ لوگ جو مسلسل جاسوسی ادب پڑھ رہے ہوں ان کی حسیات بہت تیز ہو جاتی ہیں اور وہ کہانی کے آغاز میں ہی بھانپ لیتے ہیں کہ آگے کیا ہو گا لیکن میرے ساتھ معاملہ یہ ہے کہ میں کبھی بھی اپنے ذہن میں پورا ناول نہیں سوچتا نہ ہی میں اپنے ذہن میں پورے ناول کا کوئی خاکہ بناتا ہوں جیسے دیگر لوگ کرتے ہیں، میں تو صرف کہانی شروع کرتا ہوں اور پھر میرے ذہن میں ہی کہانی آگے بڑھتی رہتی ہے۔

جب مجھے خود ہی یہ پتہ نہیں ہوتا کہ کہانی میں آگے کیا ہو گا تو قاری کو کیسے پتہ چلے گا لہٰذا قاری نے اپنے ذہن میں جو کچھ سوچا ہوتا ہے وہ کہیں پیچھے رہ جاتا ہے اور کہانی اپنے انداز میں آگے بڑھتی رہتی ہے۔ یہی خوبی اور انفرادیت میری غیرمعمولی کامیابی اور شہرت کی وجہ ہے۔

ایکسپریس:۔ جاسوسی ادب لکھنے کے لئے آپ کی نظر میں مطالعہ، مشاہدہ اور دیگر کیا چیزیں اہم ہیں جو آپ کے تخلیقی کام میں معاون ثابت ہوئیں؟

مظہر کلیم:۔ جاسوسی ادب لکھنے کے لئے سب سے اہم چیز مطالعہ اور مشاہدہ ہے لیکن یہ جو جاسوسی ادب لکھنے کی صلاحیت ہے، یہ جو ایک خاص طرح کا مائنڈ سیٹ ہے یہ میرے خیال میں قدرتی ہے یہ مجھ پر ایک عطاء ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ میں جب مطالعہ کرتا ہوں، سائنسی ایجادات یا جاسوسی ادب پڑھتا ہوں تو پھر میں اپنے اس مطالعہ کو ایک خاص انداز سے اپنے موضوعات کے قریب لاتا ہوں، یہ سب ایڈجسٹمنٹ میرا ذہن کرتا ہے۔

میں سائنس کو اس انداز سے اپنی کہانیوں میں لاتا ہوں کہ وہ کہانی کا حصہ بن جاتی ہے، میں ایسا کیسے کر لیتا ہوں یہ خداداد صلاحیت ہے۔ آپ یہ دیکھیں کہ میں نے 600 سے زائد ناول لکھے ہیں اور ہر ناول کا موضوع اور پس منظر بھی الگ رکھا ہے اور یہ سب قاری کو پسند بھی آئے ہیں وگرنہ تو دو تین ناولوں کے بعد لکھاریوں کی تحریر میں یکسانیت آ جاتی ہے۔ لوگ آج بھی مجھے پسند کرتے ہیں، یہاں کی تین نسلیں میرے ناول پڑھ کر پروان چڑھی ہیں۔

ایکسپریس:۔ آپ کے ناول نوجوان طبقہ میں بہت زیادہ مقبول ہیں، آپ شعوری طور پر اپنے ناولوں میں نوجوانوں کو کیا پیغام دینے کی کوشش کرتے ہیں؟

مظہر کلیم:۔ پہلی بات یہ ہے کہ میری تحریر فحاشی سے بالکل پاک ہوتی ہے، حتیٰ کہ کوئی ذومعنی جملہ اور لفظ بھی میں اپنی کہانی میں نہیں لکھتا۔ میں نے اپنے سماج کے لئے لکھا ہے، میرے ناولوں میں عمران اوراس کے ساتھیوں کا جو کردار ہے وہ نوجوان نسل کے لئے مشعل راہ ہے۔ عمران میرے ناولوں میں اپنے عمل کے ذریعے بتاتا ہے کہ کامیابی صرف اچھے کردار سے ملتی ہے، اگر کردار مضبوط ہے تو کامیابی ضرور ملے گی۔

میرا پیغام یہ ہے کہ انسان کسی بھی صورتحال میں گھبرائے نہ، خطرہ دیکھ کر پیچھے قدم نہ ہٹائے بلکہ ڈٹ جائے۔ ناکامیاں کامیابی میں بدل جاتی ہیں۔ مجھے ایسے والدین کے خطوط بھی ملتے رہتے ہیں جو کہتے ہیں کہ آپ کی تحریریں پڑھ کر ہمارے بچوں کے کردار اچھے ہو گئے ہیں۔

ایکسپریس:۔ آپ کے جاسوسی ناول ہر ماہ شائع ہوتے ہیں اور طویل عرصہ سے آپ کا یہی معمول ہے، کیا آپ نے لکھنے کے لئے کوئی خاص شیڈول مرتب کر رکھا ہے؟

مظہر کلیم:۔ دیکھیں! میں ایک وکیل ہوں اور وکالت بھی کل وقتی کام ہے، اس کے علاوہ مجھے لکھنا بھی ہوتا ہے اور میں ریڈیو پاکستان ملتان پر بھی پروگرام کرتا ہوں، بس یہ دو تین کام کرنے کے بعد میرے پاس وقت ہی نہیں بچتا کہ میں کوئی اور کام کر سکوں۔

ناول لکھنے کا میرا معمول یہ ہے کہ جب میں کچہری سے فراغت کے بعد گھر آتا ہوں تو روزانہ 15 سے 20 صفحات ضرور لکھتا ہوں، پہلے میرا یہ معمول تھا کہ پاک گیٹ میں جہاں میرے پبلشر کا شو روم تھا میں روزانہ وہیں بیٹھ کر لکھتا تھا، اکثر ادیب خاموشی اور تنہائی میں لکھتے ہیں لیکن میرا معاملہ اُلٹ ہے، میں بازار کے شوروغل میں بیٹھ کرلکھتا رہتا تھا، اس دوران آنے جانیوالوں سے علیک سلیک بھی ہوتی رہتی تھی، میرے ساتھ معاملہ یہ ہے کہ میں اگر تنہائی میں بیٹھ کر لکھوں تو تھوڑی دیر کے بعد ہی بور ہو جاتا ہوں۔

بس میرا یہی شیڈول ہے کہ میں روزانہ لکھتا ہوں، یہی وجہ ہے کہ میرا اپنے شہر کی سماجی زندگی میں کوئی کردار نہیں ہے میں اپنی مصروفیات کی وجہ سے کہیں بھی آ جا نہیں سکتا، مجھے ہر ماہ ایک ناول دینا ہوتا ہے بلکہ میرا قاری تو یہ چاہتا ہے کہ میں مہینے میں دو ناول لکھوں کیونکہ قاری ایک دن میں ناول پڑھ لیتا ہے اور پھر مہینہ بھر نئے ناول کا بے چینی سے انتظار کرتا ہے۔
ایکسپریس:۔ جاسوسی ادب لکھتے لکھتے آپ ریڈیو کمپیئرنگ کی طرف کیسے چلے گئے؟

اسی بارے میں: ۔  نو اکتوبر سن ننانوے - اختر حمید خان صاحب

مظہر کلیم:۔ مجھے ریڈیو والوں نے دراصل زرعی فیچرز لکھنے کے لئے بلایا تھا بعدازاں میں نے ریڈیو کے لئے سرائیکی ڈرامہ بھی لکھا۔ فیچر اور ڈرامہ لکھتے لکھتے ہی مجھے آفر کی گئی کہ آپ کمپیئرنگ بھی کریں تو میں نے کمپیئرنگ بھی شروع کر دی۔

شمشیر حیدر ہاشمی جو ریڈیو ملتان کے پروگرام ”جمہور دی آواز“ کے کمپیئر تھے، میں نے ان کے ساتھ طویل عرصہ کام کیا، ان کی وفات کے بعد دوسرے لوگوں کے ساتھ کام کیا۔ ریڈیو پر جو میں نے ڈرامے لکھے ان میں سے ایک سرائیکی ڈرامہ ”آدھی رات کا سورج“ بہت زیادہ مقبول ہوا تھا لیکن آہستہ آہستہ میری مصروفیات زیادہ ہو گئیں تو میں نے ریڈیو ڈرامہ لکھنا چھوڑ دیا، اپنے سرائیکی ڈرامے چھپوانے کا نہ تو مجھے کبھی خیال آیا نہ ہی میں نے کبھی کسی سے کہا، میری اب بھی خواہش ہے کہ میں اخبار کے لئے کالم لکھوں، مسئلہ صرف یہ ہے اگر کالم لکھنے لگا تو مجھے ناول چھوڑنا پڑے گا جو میں نہیں کر سکتا۔

ایکسپریس:۔ ابن صفی نے اردو جاسوسی ادب کی روایت کو ایک مقام پر پہنچایا آپ ان کی جاسوسی ادب میں شہرت اور ان کے مقام کے بارے میں کیا کہیں گے؟

مظہر کلیم:۔ میں ابن صفی صاحب کو پڑھتا رہتا تھا ان کے ناول مجھے پسند بھی تھے یہ بات بھی کسی حد تک کہی جا سکتی ہے کہ ابتداء میں، میں ان کی تحریروں سے متاثر بھی تھا لیکن میری ان سے ملاقات نہیں ہو سکی۔ ابن صفی شاعر بھی تھے اور بہت اچھے ادیب بھی اور ان کی جاسوسی ادب میں مقبولیت بھی بہت زیادہ تھی۔

ان کی کہانیوں میں کردار سازی بھی شاندار ہوتی تھی اور زبان و بیان بھی، وہ کہانی میں سسپنس بھی برقرار رکھتے تھے اس لئے لوگ انہیں پسند کرتے تھے لیکن یہ بات بھی اہم ہے کہ اردو میں ان سے بھی پہلے جاسوسی ادب لکھا جا رہا تھا۔

انڈیا کے اکرم الہ آبادی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ عمران سیریز بھی پہلے پہل انہوں نے ہی شروع کی تھی لیکن جو مقبولیت ابن صفی کو حاصل ہوئی وہ اکرم الہ آبادی کو نہیں مل سکی بلکہ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ کرنل فریدی اور کیپٹن حمید کے کردار بھی اکرم الہ آبادی کے کرداروں سپرنٹنڈنٹ خان اور بیلہ کا چربہ ہیں ایسا میں نے سنا ہے باقی خدا بہتر جانتا ہے کیونکہ اکرم الہ آبادی کے ناول میں نے نہیں پڑھے۔

ایکسپریس:۔ آپ کے ہاں عمران کا کردار ابن صفی کے ناولوں سے آیا یہ بتائیے کہ آپ کے اور ابن صفی کے ہاں عمران کا جو کردار ہے وہ کس حد تک مختلف ہے۔ ؟

مظہر کلیم:۔ دیکھیں! جب میں نے عمران سیریز لکھنا شروع کی تو ابن صفی صاحب کا انتقال ہو چکا تھا اور عمران کا کردار ان دنوں نقلی ابن صفیوں کے ہاتھ میں تھا لیکن اس کو میں نے لکھنا شروع کیا تو یہ کردار آہستہ آہستہ ڈویلپ ہوتا ہوا آگے بڑھنے لگا۔ عمران کا کردار ابن صفی کے ہاں اور میرے ہاں بالکل مختلف ہے بلکہ میں نے پہلی کہانی سے ہی عمران کی انفرادیت قائم کر دی تھی۔
ابن صفی کے ہاں عمران کا کردار ایک مسخرے کا تھا جو اپنی الٹی سیدھی حرکتوں سے مزاح پیدا کرتا ہے لیکن میں نے ایسا نہیں کیا، میں نے عمران کے کردار کو اس کے ایک معیار تک پہنچایا اور معیار بھی ایسا جو لوگوں نے پسند کیا، یوں میں لکھتا چلا گیا۔

ایکسپریس:۔ عمران سیریز میں آپ نے اپنی طرف سے بھی نئے کردار تخلیقکیے، کیا اپ کے کردار آج تک اسی طرح چل رہے ہیں، آپ کا اپنا پسندیدہ کردار کون سا ہے۔ ؟

مظہر کلیم:۔ جی ہاں جب میں نے عمران سیریز لکھنا شروع کی تو میں نے اپنے کچھ کردار بھی متعارف کرائے۔ جیسے ٹائیگر، جوزف، جولیانہ، کیپٹن شکیل، صالح اور تنویر وغیرہ میرے 600 سے زائد ناولوں میں میرے بیشتر کردار ساتھ ساتھ چل رہے ہیں جیسے عمران اور ٹائیگر اکثر ناولوں میں یہی دونوں مشن مکمل کر لیتے ہیں باقی ٹیم کو حرکت میں لانا ہی نہیں پڑتا۔

بعض ناولوں میں پوری ٹیم بھی کام کرتی ہے، مظہر کلیم ایم اے اگر میرے کسی کردار میں آ شکار ہوتا ہے تو وہ عمران کا کردار ہی ہے ویسے مجھے ذاتی طور پر عمران کی ٹیم میں شامل تنویر کا کردار زیادہ اچھا لگتا ہے کیونکہ تنویر ایک صاف دل اور صاف گو آدمی ہے جو دل میں آتا ہے کہہ دیتا ہے یہ نہیں دیکھتا کہ سامنے کون ہے۔

دوسری اہم بات یہ ہے کہ میں اپنے کرداروں کی جو خصوصیات اپنی کہانیوں میں پیش کر چکا ہوں اب انہیں میں تبدیل نہیں کر سکتا، جو کردا جس خصوصیت اور جس افتاد طبع کا مالک ہے وہ میرے سارے ناولوں میں ویسا ہی دکھائی دے گا، میرے نزدیک یہی میری کامیابی ہے اگر میں اپنے کرداروں کی خصوصیات تبدیل کر دوں تو یہ قاری کو اچھا نہیں لگے گا، وہ بدمزہ ہو جائے گا۔

ایکسپریس:۔ عمران کا کردار ابن صفی نے تخلیق کیا اور ایک طویل عرصے سے وہ لوگوں کا ہیرو چلا آ رہا ہے، آپ نے اپنے قاری کے لئے عمران کے کردار کو ہی کیوں آگے بڑھایا کوئی نیا کردار کیوں نہیں تخلیق کیا۔ ؟

مظہر کلیم:۔ نیا کردار تو میں بنا سکتا تھا، اب بھی بنا سکتا ہوں لیکن عمران جاسوسی ادب کا اتنا مقبول کردار ہے کہ لوگ اس کا منظر سے غائب ہونا برداشت نہیں کرتے۔ عمران ایک مقبول ترین کردار ہے لوگ اسے پڑھنا چاہتے ہیں۔

میرے خیال میں عمران پر لکھنا سب سے زیادہ مشکل ہے کیونکہ عمران لوگوں کے دلوں میں گھر کر چکا ہے۔ کچھ اور لوگوں نے بھی نئے کردار بنائے، میں نے بھی بنائے وہ کچھ عرصہ کامیاب بھی رہے لیکن جہاں عمران آ جاتا ہے وہاں یہ سارے کردار زیرو ہوجاتے ہیں، جیسے میں نے کچھ کہانیوں میں ٹائیگر کے کردار کو عمران سے اہم مشن سونپے اور عمران کا کردار کم کر دیا تو اس پر مجھے قارئین کے رد عمل کا سامنا کرنا پڑا، سبھی نے یہ کہا کہ عمران کا کردار زیادہ رکھیں۔ عمران کے کردار کی ڈیمانڈ ہی اتنی ہے کہ اس سے ہٹ کر قاری اور کچھ چاہتا ہی نہیں۔

عمران مجموعی طور پر ایک پسندیدہ کردار ہے اس کی خصوصیات اور اس کا کردار لوگوں میں آئیڈیلائز ہو چکا ہے۔ مجھے اکثر قارئین کے ایسے خطوط ملتے ہیں جن میں یہ کہا جاتا ہے کہ ہم عمران کی جگہ خود کو رکھ کر آپ کا ناول پڑھتے ہیں اب دیکھیں قاری تو خود کو عمران سمجھ رہا ہے میں قاری کو عمران سے الگ تو نہیں کر سکتا۔

ایکسپریس:۔ آپ کے اور ابن صفی کے موضوعات میں کیا فرق ہے آپ کیا سمجھتے ہیں کہ ابن صفی کے بعد آپ جاسوسی ادب کو کس مقام تک لے گئے ہیں۔ ؟

مظہر کلیم:۔ میرے خیال میں، میں نے ابن صفی کے بعد جاسوسی ا دب کو مزید ترفع اور تنوع دیا ہے۔ ابن صفی صاحب کے موضوعات جو تھے انہیں آپ نچلی سطح کے جرائم کہہ سکتے ہیں لیکن میرے ناولوں کے موضوعات بین الاقوامی سطح کے ہیں وہ لوگوں میں زیادہ پسندکیے جاتے ہیں ابن صفی صاحب نے جس دور میں لکھا بہت اچھا لکھا لیکن ان کے موضوعات اس سطح کو نہیں چھوتے جہاں تک میرے موضوعات کا پھیلاؤ ہے۔

جاسوسی ادب کی دنیا میں ابن صفی کے بعد بہت سے لوگ آئے، عمران سیریز بھی بہت سے لوگوں نے لکھنا شروع کی تھی لیکن سب چھوڑ کر بھاگ گئے کیونکہ یہ ایک مشکل موضوع ہے۔ میرے اکثر ناولوں میں دنیا بھر کی خفیہ ایجنسیوں، ان کی دوسرے ممالک کے خلاف کارروائیاں، سازشیں اور ان کے تدارک کے عمل کو موضوع بنایا جاتا ہے۔ بظاہر یہ آسان نظر آتا ہے لیکن جب کوئی جاسوسی ادب لکھنے بیٹھتا ہے تو پتہ چلتا ہے کہ یہ دنیا کا مشکل ترین موضوع ہے جس میں بین الاقوامی سطح کی سازشیں، جرائم اور مسائل ڈسکس ہوتے ہیں اور اس انداز سے ڈسکس ہوتے ہیں کہ پڑھنے والے کی دلچسپی بھی قائم رہے یہ بڑا مشکل مرحلہ ہوتا ہے، جاسوسی ادب کی یہ خصوصیت ہے کہ اگر یہ اچھا لکھا ہوا ہو گا تو پسند آئے گا وگرنہ کوئی پڑھے گا بھی نہیں۔ میں 50 سال سے جاسوسی ادب لکھ رہا ہوں اور میرا معیار بھی 50 سال سے ایک ہی چل رہا ہے۔

اسی لئے مجھے پسند بھی کیا جاتا ہے میں نے زندگی بھر اچھا ادب لکھنے کوشش کی۔ جاسوسی ادب میں نے جن موضوعات پر لکھا ہے ایسے موضوعات پر پہلے کبھی نہیں لکھا گیا۔ میں نے اپنی تحریروں میں سائنس کے ارتقاء، لوگوں کی کردار سازی اور ان کی ذہنی ترقی کے لئے آگے بڑھنے کا جو ماحول پیدا کیا ہے میرے خیال میں وہ اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا، ہوا ہو گا تو بہت ہی کم ہوا ہو گا۔

ایکسپریس:۔ آپ کے خیال میں جاسوسی ادب کا معیار کیا ہے کیونکہ ہمارے ہاں ایک طویل عرصہ جاسوسی ادب کو ادب ہی نہیں گردانا گیا؟

مظہر کلیم:۔ میرے خیال میں جاسوسی ادب دنیا کے بہترین ادب میں شمار ہوتا ہے جو ہماری زندگیوں کو بہتر انداز میں سنوارتا ہے، رہنمائی کرتا ہے ہمیں اپنے ملک اور اپنے لوگوں سے جوڑتا ہے یہ ایسا ادب ہے جو ہمیں بتاتا ہے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں۔

بین الاقوامی سطح پر ہمارے خلاف کیا کیا سازشیں ہو رہی ہیں اور ہم ان سے کیسے نبرد آزما ہو سکتے ہیں۔ میرے خیال میں یہ زندگی کی وہ جدوجہد ہے جو عام طور پر دکھائی نہیں دیتی، گو ہمارے ثقہ نقاد جاسوسی ادب کو ادب ہی نہیں گردانتے، وہ کہتے تھے کہ یہ ادب ہی نہیں ہے لیکن اب اللہ کا شکر ہے کہ جاسوسی ادب کو بھی ادب سمجھا جاتا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ آج جاسوسی ادب کی تفہیم بھی بہتر ہو رہی ہے اور اس میدان میں کچھ اچھے لوگ بھی آ گئے ہیں۔

ایکسپریس:۔ پاکستانی سماج میں کمپیوٹر اور انٹر نیٹ آنے کے بعد کیا آپ کی تفہیم آج کے قاری پر زیادہ بہتر انداز میں ہو رہی ہے؟

مظہر کلیم:۔ انٹرنیٹ اور کمپیوٹر نے قاری کو جو معلومات فراہم کی ہیں پہلے کا قاری دنیا بھر کی ان معلومات سے بے بہرہ تھا اب دنیا بھر کی معلومات رکھنے والا قاری جب میرے ناول پڑھتا ہے تو اس کو وہ بھی عالمی معیار پر نظر آتا ہے۔ یہ بات واقعی ٹھیک ہے کہ آج میری تفہیم زیادہ بہتر انداز میں ہو رہی ہے۔

60 اور 70 کی دہائی کا قاری بھی مجھے اپنے ذہنی تناظر میں بہتر انداز میں سمجھ رہا تھا اور اس عہد کے لوگ جن کا ذہنی تناظر معلومات کی وجہ سے وسیع ہو چکا ہے وہ بھی مجھے زیادہ بہتر انداز میں سمجھ رہے ہیں۔ انٹر نیٹ کے عہد میں آج ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو کمپیوٹر استعمال نہیں کرتے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا ذہن زیادہ آگے تک نہیں جاتا، جاسوسی ادب پڑھنے والوں کے اپنے اپنے ذہنی معیارات ہیں ہر کوئی اپنی ذہنی وسعت کے مطابق تفہیم کرتا ہے۔

میں نے شعوری طور پر کبھی کوئی ایسا اہتمام نہیں کیا کہ میں کمپیوٹر ایج کے لوگوں کے لئے لکھ رہا ہوں۔ میں دراصل سب کے لئے لکھ رہا ہوں، شاید آنے والے دور کا قاری مجھے اس سے بھی بہتر انداز میں سمجھے گا وہ اس لیے کہ قاری کے پاس جتنی معلومات زیادہ ہوتی چلی جائیں گی میری تفہیم زیادہ بہتر ہوتی چلی جائے گی کیونکہ میں جو کچھ لکھ رہا ہوں اس میں بات آگے ہی بڑھتی چلی جائے گی۔

ایکسپریس:۔ کچھ عرصہ پہلے ابن صفی کے حوالے سے پی ایچ ڈی سطح کے تحقیقی کام ہوئے، انڈیا میں ان کے ناولوں کو انگریزی میں ترجمہ بھی کیا گیا، کیا آپ پر بھی پاکستان کی کسی جامعہ میں کوئی تحقیقی کام ہوا۔ ؟

مظہر کلیم:۔ ابن صفی صاحب پر ہونے والے تحقیقی کام کے بارے میں مجھے کوئی علم نہیں ہے، ہاں انڈیا کے حوالے سے تو میں نے بھی سنا تھا وہاں کی تین جامعات میں مجھ پر بھی پی ایچ ڈی ہو رہی ہے لیکن یہ صرف سنی سنائی بات نکلی، ہوا ایسا کچھ بھی نہیں۔ باقی پاکستان کی کسی بھی یونیورسٹی نے آج تک مجھ پر کوئی تحقیقی کام نہیں کیا۔

اسی بارے میں: ۔  اشتیاق احمد، ابن صفی اور نسیم حجازی

ایکسپریس:۔ اپنی ذاتی زندگی کے حوالے سے کچھ بتائیں، آپ کی شادی کب ہوئی، بچے کتنے ہیں یہ بھی بتائیں کہ اتنی مصروفیات کے باوجود آپ نے اپنی فیملی کو کیسے وقت دیا؟

مظہر کلیم:۔ 1965ء میں میری شادی برصغیر کے معروف شاعر علامہ اسد ملتانی کے ہاں ہوئی، علامہ اسد ملتانی علامہ اقبال کے پیروکار اور شاگرد تھے بلکہ علامہ صاحب نے ایک موقع پر کہا بھی تھا کہ اسد ملتانی اور ایم ڈی تاثیر میرے جانشین ہیں۔

میری اہلیہ جو اسد ملتانی کی بڑی صاحبزادی تھیں ان کا گزشتہ سال مارچ میں انتقال ہو گیا۔ میری اہلیہ میری خالہ زاد بھی تھیں ان کے گھر میں شاعری اور گفتگو کے آداب کی ایک روایت تھی لہٰذا مجھے گھر میں علمی و ادبی ماحول ملا اور میرے بچوں کو بھی ایسا ہی ماحول ملا۔ میرے علمی و ادبی کاموں میں میری اہلیہ نے ہمیشہ میری مدد ہی کی۔

میں نے بھی اپنی مصروفیات کے باوجود اپنے بچوں کو پورا وقت دیا کیونکہ جب تک یہ پورا سسٹم ٹھیک نہ ہو آدمی تخلیقی کام نہیں کر سکتا۔ میرے دو بیٹے اور چار بیٹیاں ہیں، بڑا بیٹا فیصل جان بھی 27 سال کی عمر میں انتقال کر گیا اس نے ایم ایس سی میتھ کیا تھا اور ایل ایل بی کے تیسرے سال میں تھا، اب میرا ایک ہی بیٹا ہے فہد عثمان خان جس نے کمپیوٹر سائنس میں ایم ایس سی کیا ہے اور ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں ملازم ہے، میری چاروں بیٹیاں ماسٹرز ہیں، سب بچوں والی ہیں اور اپنے اپنے گھروں میں آباد ہیں۔

ایکسپریس:۔ آپ نے اپنی کہانیوں میں بہت سی سائنسی ایجادات، آلات جاسوسی اور سائنسی اصطلاحات کا ذکر پاکستانی سماج کے تناظر میں وقت سے بہت پہلے کر دیا تھا جو لفظ اور چیزیں لوگ اب جان رہے ہیں وہ آپ کے ہاں بہت پہلے استعمال ہوئے، ایسا کیسے ممکن ہو سکا۔ ؟

مظہر کلیم:۔ میں نے پہلے بھی عرض کیا کہ میں نے کبھی بھی ایک موضوع پر مطالعہ نہیں کیا میں متنوع موضوعات پر کتابیں پڑھتا ہوں، سائنسی مضامین اور سائنسی کتابیں پڑھنا بھی میرا معمول رہا ہے ان میں سے مجھے جو معلومات ملتی ہیں میں انہیں ایک خاص انداز سے اپنی کہانیوں میں پھیلا لیتا ہوں، یہ سب ایک تخلیقی انداز سے ہوتا ہے مثلاً مجھے ایک ہتھیار کے بارے میں پتہ چلا کہ اس سے ریڈی ایشن نکلتی ہے اب وہ ہتھیار چوری ہو جاتا ہے اور اس ہتھیار تک پہنچنے کے لئے میں اپنے ذہن میں چند آلات بناتا ہوں کہ اس طرح کرنے سے ایسا ہو جائے گا یہ اور بات ہے کہ ایسا ہی دس پندرہ سال بعد کوئی ہتھیار دنیا میں آ جاتا ہے اور اس کا تدارک بھی ویسے ہی کیا جاتا ہے جیسے آپ ایک بیج کو زمین میں ڈالتے ہیں اس کو پانی دیتے ہیں تو زمین کے اندر ایک کیمیائی عمل شروع ہو جاتا ہے، یہی کیمیائی عمل اس بیج کو ایک پودا بنا کر زمین سے باہر نکال لاتا ہے۔

اسی طرح میرا ذہن بھی زرخیز زمین کی طرح ہے جو میرے مطالعہ میں آئی چیزوں کو ڈویلپ کرتا رہتا ہے میں نے کسی سائنسی ایجاد کے بارے میں پڑھا تو میرا ذہن اس کے ارتقا کی شکلیں بنانے لگتا ہے کہ یہ آگے کہاں تک جا سکتی ہے، اس کی انتہاء کیا ہے۔ اس لئے میں اپنی کہانیوں میں جن ایجادات کے بات کرتا ہوں تو اس انداز سے کرتا ہوں کہ وہ وقت سے پہلے بھی غیر منطقی اور ناقابل وجود نہ ہوں قاری یہ سمجھے کہ ایسا دنیا میں ممکن ہو سکتا ہے اور ایسا ہو بھی جاتا ہے۔ میرے ناولوں میں ایسی بے شمار ایجادات اور سائنسی اصطلاحات استعمال کی گئی ہیں جو شاید ابھی تک پاکستانی سماج میں متعارف یا رائج بھی نہ ہوئی ہوں۔

میرے اکثر دوست مجھ سے پوچھتے ہیں کہ آپ 10 سال پہلے کیسے معلوم کر لیتے ہیں کہ دنیا میں ایسی ایجادات ہونے جا رہی ہیں یا یہ سازش ہونے والی ہے یا یہ ہتھیار یا آلہ ایجاد ہونے والا ہے، جیسے ماسٹر کمپیوٹر کا لفظ میری کہانیوں میں بہت پہلے ہی آگیا تھا اور ایسی بے شمار چیزیں ہیں جو میں نے 10، 8 سال پہلے اپنی کہانیوں میں لکھیں جس پر قاری حیران بھی ہوئے کہ یہ کیسے ممکن ہے لیکن پھر 10 سال بعد انہی قارئین کے خط آئے کہ ایسا ممکن ہو گیا ہے اور ہم باقاعدہ اس ایجاد کو دیکھ چکے ہیں۔

دیکھیں یہ آگہی قدرت کی دین ہے میرا اس میں کوئی کمال نہیں نہ میں سائنس دان ہوں نہ میرا ایسا کوئی دعویٰ ہے بس یہ وقت سے پہلے سوچنے والا ذہن قدرت کی دین ہے۔ میرے ذہن میں اللہ تعالیٰ نے کوئی ایسی صلاحیت رکھ دی ہے جو چیزوں کو وقت سے بہت پہلے ان کی ارتقائی شکل میں دیکھ لیتی ہے، دیکھیں! میں نے اپنے قاری کے لئے جو بہتر سمجھا وہ اسے بتایا بے شمار ایسی چیزیں ہیں جو میں نے اپنے ناولوں کی ضرورت کے لئے اپنے ذہن میں ایجاد کیں لیکن بعد میں وہ دنیا میں ایجاد ہو گئیں۔ ایسا کرتے ہوئے میں نے بس ایک بات کا خیال رکھا کہ اس کو پڑھ کر کوئی یہ نہ کہے کہ ایسا نہیں ہوسکتا بلکہ کہے ایسا ہو سکتا ہے۔

اب میں یہ تو نہیں کہہ سکتا کہ جن خطوط پر میں سوچ رہا تھا دنیا کے سائنس دان بھی ایسا ہی سوچ رہے تھے لیکن ایک بات طے ہے کہ میں جیسے سوچ رہا تھا ویسے ہی دنیا سوچ رہی تھی یا قدرت اس کا اہتمام کر رہی تھی بس اس نے مجھے یہ صلاحیت دے دی ہے کہ دنیا میں آئندہ ایسے ہونے جا رہا ہے میں نے لکھ دیا اور پھر ویسا ہو بھی گیا۔

ایکسپریس:۔ کیا کوئی اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ آپ نے اپنے ناولوں میں کتنے علوم کو ڈسکس کیا، یہ بھی بتائیں کہ اتنی بڑی تعداد میں جاسوسی ادب کیا محض تخیل کی بنیاد پر لکھا گیا یا اس میں معلومات اور دیگر عوامل کا بھی کوئی کردار ہے؟

مظہر کلیم:۔ میرے خیال میں اس کا کوئی اندازہ نہیں کیا جا سکتا کہ میں اپنے ناولوں میں اب تک کتنے علوم پر بات کر چکا ہوں لیکن بہت سے علوم ایسے تھے کہ جن پر میرے قارئین بھی حیران ہوتے تھے اور عمران جو میرا مرکزی کردار ہے وہ دراصل دنیا کے ہر موضوع پر گفتگو کرتا ہے اور ماہرانہ انداز میں کرتا ہے۔

آثار قدیمہ، سائنس، تاریخ، آرٹ اور دنیا کا کوئی بھی موضوع ہو عمران اس پر بات کرتا ہے اور بات کرنے کا طریقہ کار یہ ہے جیسے میرے ایک ناول میں مصر کے کسی قدیم مخطوطہ کے چوری ہونے کا معاملہ تھا، اب اس کی واپسی کے لئے عمران کو ٹاسک دیا گیا عمران جب مصر کے لوگوں کے ساتھ مل کر گفتگو کرتا تھا تو وہ بھی حیران ہوتے تھے مثلاً اس نے بتایا کہ یہ مخطوطہ خط کوفی میں لکھا ہوا ہے اس کے بعد خط کوفی کی ایجاد اس کی روایت اور بڑے بڑے اساتذہ کا بھی ذکر کیا گیا۔

سو میری پڑھی ہوئی چیزیں اور باتیں میرے ذہن میں کہیں محفوظ رہتی ہیں اور وقت آنے پر میں انہیں سامنے لے آتا ہوں۔ میں نے اتنی بڑی تعداد میں ناول اپنی قوت خیال کے زور پر لکھے ہیں کیونکہ جب خیال کو قوت مل جاتی ہے تو جیسے آپ کو پر لگ جاتے ہیں اب یہ آپ پر ہے کہ آپ کہاں تک اُڑ سکتے ہیں۔ قوت خدا کی دین ہے تھوڑی بھی ہو سکتی ہے اور زیادہ بھی اس میں مطالعہ لازمی جزو ہے مطالعہ اور مشاہدہ تخیل کو پر لگا دیتے ہیں جتنا عمیق مطالعہ ہو گا جتنا مشاہدہ تیز ہوگا جب ان ساری قوتوں میں تخیل بھی شامل ہو جائے تو پھر کوئی ایسی چیز ہی بنے گی جو لوگوں کے لئے حیران کن ہوگی۔

ایکسپریس:۔ اگر کوئی فلم ڈائریکٹر عمران سیریز پر فلم بنانا چاہے تو آپ کے خیال میں کس اداکار کو عمران کا کردار ادا کرنا چاہیے؟

مظہر کلیم:۔ یہ تو فلم بنانے والے ڈائریکٹر پر ہے کہ وہ کس اداکار کو اس فریم میں دیکھتا ہے لیکن میرے خیال میں شاہ رخ خان عمران کے کردار کے لئے پرفیکٹ ہے۔

آئی ایس پی آر والوں نے کہا ”فوج کے خلاف کچھ نہیں لکھنا“

میرے ناولوں کے موضوعات اکثر بین الاقوامی سازشوں اور ملکوں کے مفادات کے خلاف اقدامات کے حوالے سے ہوتے ہیں لیکن میں اپنے ناولوں میں کسی بھی ملک کا اصل نام نہیں لکھتا بلکہ کوڈ نام لکھتا ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ میرے ناول فوج میں بھی بہت پسندکیے جاتے ہیں، ایک بار ڈائریکٹر آئی ایس پی آر نے مجھ سے رابطہ کیا کہ میں ملنا چاہتا ہوں، میں نے کہا میں خود حاضر ہو جاتا ہوں، جب ان سے ملاقات ہوئی تو کہنے لگے آپ سے ایک درخواست ہے کہ آپ پاکستانی فوج کے خلاف کچھ نہیں لکھیں گے، میں نے کہا میرے ناولوں میں مقامی فوج کا کبھی کوئی معاملہ ڈسکس نہیں ہوا لیکن اگر کبھی کوئی حوالہ آ بھی جائے تو وہ اچھے انداز میں آئے گا۔

کالونی کے لوگ بھی نہیں جانتے کہ میں مظہر کلیم ایم اے ہوں

میرے قارئین اکثر مجھ سے فرمائش کرتے ہیں کہ میں اپنے بارے میں انہیں کچھ بتاؤں۔ میں اکثر قارئین سے وعدہ بھی کر لیتا ہوں لیکن جان بوجھ کر اپنے بارے میں کچھ نہیں لکھتا، میں جہاں رہتا ہوں اگر اس کالونی کے لوگوں کو ہی یہ پتہ چل جائے کہ میں مظہر کلیم ایم اے ہوں جو جاسوسی ناول لکھتا ہے تو میرا گھر سے نکلنا ہی مشکل ہو جائے۔ میرے پڑھنے والوں کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ اگر ان میں سے دس فیصد بھی مجھے روک لیں تو میرا سارا دن انہی کے سوالوں کے جواب دینے میں گذر جائے گا۔

جج بچوں کے ادب کا رسیا نکلا

میں ایک کیس کے سلسلہ میں ہائی کورٹ میں پیش ہوا، جب میں نے عدالت میں اپنے دلائل مکمل کر لئے تو جج صاحب کہنے لگے خان صاحب! آپ بچوں کے لئے چھوٹی کہانیاں اب بھی لکھ رہے ہیں؟ میں نے کہا ”جی لکھ رہا ہوں“ تو وہ کہنے لگے آپ کی تحریر کردہ ایک کہانی تھی ”چوہوں کی بارات“ جو آج بھی میرے سرہانے رکھی رہتی ہے میں جب رات کو سونے کے لئے جاتا ہوں تو پہلے وہ کہانی پڑھتا ہوں تو مجھے بڑی خوبصورت نیند آتی ہے کیونکہ آپ کی اس تحریر میں مزاح کا جو انداز ہے وہ بہت ہی شاندار ہے۔

ہر مہینے نیا ناول، بھارت میں پائیریسی ہوتی ہے

ہر مہینے میرا 400 یا 500 صفحات پر مشتمل ایک ناول شائع ہو جاتا ہے اور مہینے میں ایک ناول لکھا بھی جاتا ہے، یہ سلسلہ یوں ہوتا ہے کہ میرے دو ناول اشاعت کے مرحلے میں ہوتے ہیںجبکہ تیسرا چھپ جاتا ہے اس طرح ایک ترتیب چلتی رہتی ہے اور میرے ناول باقاعدگی سے قارئین تک پہنچتے رہتے ہیں۔ شروع میں اپنے ناول میں خود ہی چھاپتا رہا لیکن اب ایک پبلشر کو میں نے سارے حقوق دے دیے ہیں وہی چھاپتے رہتے ہیں، میرا ہر ناول 50 سے 60 ہزار کی تعداد میں شائع ہوتا ہے اگر ایک ناول دس افراد بھی پڑھیں تو پڑھنے والوں کی تعداد کا اندازہ آپ خود لگا لیں۔ مجھے وہ خطوط بھی آتے رہے کہ دس پندرہ لوگ باقاعدہ چوپال لگا کر میرا ناول ایک آدمی سے سنا کرتے تھے۔

پاکستان کے بڑے شہروں میں میرے ناول کی فروخت زیادہ ہوتی ہے، انڈیا میں میرے ناول اس طرح جاتے ہیں کہ وہاں کے پبلشر یہاں سے دو تین ناول منگوا کر انہیں اپنے اداروں کی طرف سے چھاپ لیتے ہیں میں اس لئے خاموش رہتا ہوں کہ وہ مصنف کا نام ٹھیک لکھتے ہیں انڈیا میں موجود میرے قارئین کے خطوط سے ہی مجھے پتہ چلتا ہے کہ میرا فلاں ناول وہاں چھپ گیا ہے، میرے خیال میں میرے تقریباً سارے ناول ہی انڈیا میں چھپ چکے ہیں ویسے بھی دنیا میں جہاں جہاں اردو پڑھی جاتی ہے وہاں میرے قاری موجود ہیں۔

بشکریہ روزنامہ ایکسپریس


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔