چودھری نیاز علی خان: فراموش شدہ محسن پاکستان


 khizer hayatچودھری نیاز علی خان قائد اعظم صاحب کے انتہائی قریبی ساتھی اور تحریک پاکستان کے ایک فعال لیڈر تھے – چودھری صاحب بنیادی طور پر ایک سول انجنیئر تھے اور انہوں نے مائنز ڈیپارٹمنٹ میں کام کرتے ہوے دنیا کی دوسری بڑی سالٹ مائن کھیوڑا ڈیزائن کی تھی. مگر ایک زمیندار کی حیثیت سے وہ فصلوں اور پھلوں میں نت نئے تجربات کرتے تھے اور پاکستان میں آموں کی مختلف قلمیں متعارف کرائیں.چودھری صاحب کا بڑا کام ان کا خیراتی کام تھا انہوں نے بلاامتیاز کسی مذھب کے غریبوں کی مدد کی – خاص کر تعلیم کی مد میں نہ صرف رقم بلکہ زمین بھی مختص کی-

چودھری صاحب نارتھ ویسٹ فرنٹیر صوبہ کے اریگیشن ڈیپارٹمنٹ میں قبائلی علاقہ میں پوسٹ تھے جہاں انہیں ایک ٹوٹے ہوے ڈیم کی مرمت کا کام سونپا گیا – اس پروجیکٹ کے دوران وہاں قبائلیوں کے ایک گروہ نے اس کام کو رکوانے کے لئے حملہ کر دیا – چودھری صاحب نے خود بندوق اٹھائی اور چند مزدوروں کو ساتھ لے کر ان حملہ آوروں سے بات چیت کرنے پہنچ گئے۔ ان کو سمجھایا کہ اس ڈیم سے یہ علاقے کے کیا کیا فوائد حاصل ہوں گی اور حملہ آوروں نے اپنا ارادہ بدل دیا -اس کارنامے پر برٹش گورنمنٹ نے انہیں تمغہ شجاعت دیا جو کہ ایک ملٹری ایوارڈ تھا اور اس سے پہلے کسی سویلین کو نہیں دیا گیا تھا

چودھری صاحب کی خدمت خلق کی شہرت جب علامہ اقبال صاحب تک پہنچی تو انہوں نے چودھری صاحب کو ایک اسلامی تحقیقی سنٹر کھولنے کی تجویز دی – جس کے ذریے مسلمانوں میں دینی اور دنیاوی تعلم و تربیت کا انتظام کیا جائے- چودھری صاحب کو علامہ صاحب کی یہ تجویز بہت اچھی لگی اور انہوں نے 1936ءمیں 12765724_1217402548288373_1480468450_oدارالسلام ٹرسٹ کا اجرا کیا- اور اس ادارے کیلئے چودھری صاحب نے جمال پور میں اپنی بڑی جائداد ‘جمال پور فروٹ فارم ‘ کا بڑا حصہ مختص کیا- اس عظیم ادارے میں مولانا امین اصلاحی، مولانا صدر الدین اصلاحی اور علامہ اسد جیسے جید مسلم سکالرز نے اپنی خدمات پیش کیں – 1940ءمیں اس ادارے نے ایک ماہانہ رسالہ ‘دارالسلام ‘ پٹھان کوٹ سے جاری کیا

چودھری صاحب نے علامہ اقبال صاحب کو اس ادارے کیلئے کسی مسلم سکالر کو سربراہ منتخب کرنے کیلئے کہا تو انہوں نے علامہ غلام احمد پرویز صاحب کا نام تجویز کیا-اس وقت تک قائداعظم صاحب پرویز صاحب کو انڈیا میں ایک الگ ریاست قائم کرنے کیلئے اسلامی اور قرانی حوالوں سے مسلمانوں کو قائل کرنے کیلئے ایک تعلیمی رسالے ‘طلوع اسلام ‘ کی ذمہ داری سونپ چکے تھے- اس لیے قائداعظم صاحب نے پرویز صاحب کو دار السلام رسالے کے لئے کسی اور سکالر کو منتخب کرنے کیلئے کہا. پرویز صاحب حیدر آباد دکن میں نوجوان اور پرجوش مولانا مودودی کو جانتے تھے انہوں نے مودودی صاحب کو یہ آفر دی جنہوں نے اسے قبول کرنے میں ذرا دیر نہ کی اور پٹھان کوٹ آ گے دار السلام کی ذمہ داری سنبھلنے کے لئے۔ دارالسلام ٹرسٹ (پٹھان کوٹ ) نے جماعت اسلامی کی بنیاد رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔

 

 

 

 


Comments

FB Login Required - comments