نیب کا عیب: اپنے بھی خفا…. بیگانے بھی ناخوش


adnan karimi’سمندر میں ایک ٹوٹے پھوٹے بغیر پتوارکے جہاز کی طرح پاکستان بھی کسی منزل کے بغیر ادھر اُدھر ہورہا تھا جس کے ناخدا سوائے لوٹ مار میں مہارت رکھنے کے مکمل طور پر نااہل تھے۔ اس قسم کی صورتحال کی وجہ سے عوام مایوس ہوگئے تھے۔ پاکستانیوں کا اپنے ملک سے اعتماد اٹھ رہا تھا، خصوصاً نوجوان بددل ہورہے تھے۔ میرے کام کا تعین ہوچکا تھا۔ حکومت کی کشتی کو ڈوبنے سے بچانا ، صحیح سمت کی طرف موڑنا اور اُ سے چلانے کے لیے عملے کا انتخاب کرنا۔ میں نے تہیہ کرلیا تھا کہ پاکستان کو پوری رفتار سے آگے لے جانا ہے ۔ اس ضمن میں میں نے اپنے لیے سات نکاتی ایجنڈا بنایا ، جس میں قومی اعتماد اور حوصلے کی ازسر نو تعمیر ۔ وفاق کی مضبوطی کے ساتھ بین الصوبائی رابطوںکا فروغ اور قومی یکجہتی کی بحالی ، معیشت کی بہتری، قانون کی حکمرانی اور فوری وسستے انصاف کی ترسیل، ریاستی اداروں سے سیاست کا خاتمہ، اقتدار کی عوامی سطح تک منتقلی اور فوری وغیرجانبدارانہ احتساب۔ میں نے عہد کیا کہ قومی دولت کی واپسی کے لیے انتہائی سختی سے نمٹا جائے گا جس کے لیے میں نے قومی احتساب بیورو (NAB ) تشکیل دیا تاکہ طاقتور لوگ قوم کا پیسہ نہ لوٹیںاور خوفِ خدا کریں۔‘

مذکورہ اقتباس نیب کے بانی مبانی سابق صدر پرویز مشرف کی خود نوشت آپ بیتی In The Line Of Fire سے لیا گیا ہے ۔ مکا لہرا کر قوم کا دل دہلادینے والی شخصیت کی یاد یوںآئی کہ گزشتہ روز وزیر اعظم نوز شریف نے مشرف کے سات نکاتی ایجنڈے کو ناکام پالیسی قرار دے کر ان کی تشکیل کردہ قومی احتساب بیورو کو اپنے حدود میں رہنے کا مشورہ دیا ۔ سابق ڈکٹیٹر اپنے سات نکاتی ایجنڈے میں کلی طور پر کامیاب ہوئے یا نہیں یہ ایک طویل بحث ہے تاہم ان کے ساتویں نکتہ کی ابتدائی دنوں میں کامیابی نہایت حیران کن اور حوصلہ افزا تھی۔ جنرل امجد نے نیب کو گود لیا ، جونہی وہ مشرف کے عزائم سے آگاہ ہوئے تو مستعفی ہونے میں ہی عافیت جانی ۔شاہد عزیز نیب کی کرسی پر براجمان ہوئے تو راوی چین ہی چین لکھ رہا تھا ۔ یکایک مشرف کی پالیسیوں نے پلٹاکھایا لیکن انہوں نے شروع سے ہی ”مشرفی “ تفردات وپالیسیوں سے سمجھوتا کرنے کا ڈھنگ سیکھ لیا تھا ۔ نیب کو سیاست میں غتر بود کرکے مخالفین سے انتقامی کارروائی کا ایسا انوکھا فارمولا تیار ہوا جس کے چند نمونے اعترافِ جرم کے طور پر جنرل شاہد عزیز کی کتاب ” یہ خاموشی کہاں تک“ میں باآسانی دستیاب ہیں ۔اس دور میں شریف فیملی معتوبِ روزگار اور مغضوبِ کردگار تھی ۔ مقدمہ بنا ، تحقیقات شروع ہوئیں، رائے ونڈ سے جاتی امرا کو ملانے والی سڑک کی تعمیر کے معاملے میں اختیارات کا ناجائز استعمال اور ایف آئی اے میں غیر قانونی بھرتیوں کا الزام تھا۔ انکوائری کو سولہ سال گزر گئے مگر نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات رہا ۔31 مارچ 2016 ءکو حتمی فیصلہ آنا باقی ہے کہ آیا مقدمات کو ٹھوس شواہد کی بنیاد پر ریفرنس بنا کر داخل دفتر کیا جائے گا یا پھر عدم ثبوت کی بنا پر تحقیقات کا سلسلہ ختم کرکے کیس کو خارج کیا جائے گا ۔

میاں صاحب 16 فروری2016 ءکو جب خلافِ طبع نیب کو سرزنش کررہے تھے تو مجھے 16 جولائی2015 ءکا وہ خطاب یاد آگیاجس کو سقوط پیپلز پارٹی کا عنوان ملا۔ جس میں زرداری صاحب نے ریاستی ادارہ کو اسی لب ولہجہ میں تنبیہ کی تھی اور پھر اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی۔وزیر اعظم صاحب کی برہمی بجا ،تاہم موقع ومحل بے جا تھا۔ سولہ سال سے زائد عرصہ گزرجانے کے باوجود بھی قمر زمان چودھری کی فعال ومتحرک نیب نے وزیر اعظم جیسی شخصیت کے کیس کو نہیں نمٹایااور تاریخ پر تاریخ دے کر ”انتظار کیجئے“ کا لالی پوپ تھمایا جارہا ہے ۔ یہی شکوہ اگر پارلیمنٹ میں کرتے اور یہی شکایت کابینہ کے روبرو دہراتے تب تو کوئی جواز بھی تھا ۔ نوزائیدہ بلدیاتی نمائندوں کے سامنے صدائے حق بلند کرنے کے نتائج وعواقب سود مند ثابت نہیں ہوں گے۔

وطنِ عزیز کے سیاسی منظر نامہ کا بغور جائزہ لیا جائے تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ بلا تفریق تمام جماعتیں احتساب کی لاٹھی سے خائف ایک ہی دلیل کو مختلف زاویے سے پیش کر کے اپنے آپ کو بچانے میں مصروف ہیں۔ گزشتہ ہفتہ کے پی کے کی انصاف پسند حکومت سے احتساب کمیشن کے سربراہ حامد خان احتساب کمیشن ایکٹ میں ترامیم ، محدود اختیارات اور کارروائیوں میں رخنہ اندازی کے سبب برگشتہ ہوکر چلے گئے۔ مسلم لیگ نون بھی نیب کو مشرف کی باقیات ہونے کی بنا پر اچھے نظروں سے نہیں دیکھتی۔ اب میاں صاحب شریف فیملی کے زیر التوا مختلف مقدمات اور قمر زمان چودھری کے بلاامتیاز احتساب کے ببانگ دہل اعلان کے بعد کھل کر میدان میں آگئے اور نیب کو دھمکی نما تھپکی دے کر حدود میں رہنے کا مشورہ دیا ۔ پیپلز پارٹی تو روز اوّل سے ہی نیب اور ایف آئی اے پر برافروختہ ہے ۔ ان حالات میں حکومت کی جانب سے نیب کو عیب دار بناکر اس پر کمیشن مسلط کرنا کتے کھلے چھوڑ کر پتھر باندھنے کے مصداق احتساب کو روکنے اور بدعنوانی کو فروغ دینے کے مترادف ہے۔

اس میں کوئی دورائے نہیں کہ دم پر پاو¿ں ہو یا پاو¿ں پر دم، دونوں ہی الجھن کا باعث ہوتے ہیں ۔ یہ الگ بات ہے کہ پہلے سے تکلیف اور دوسرے سے چبھن ہوتی ہے۔ پیپلز پارٹی کی دم پر پاو¿ں آتا رہا تو وہ سیخ پا ہوتی رہی اب جب حکمران جماعت کے پاو¿ں کے قریب نیب نے دم ہلانا شروع کی تو وہ الجھن کا شکار ہوگئی۔ اس تاثر کوعمل سے یکسر زائل کیا جانا چاہیے کہ حکومت احتساب کے خوف اور پنجاب میں ممکنہ رینجرز آپریشن کے ڈر سے کھسیانی ہوگئی ہے ۔اگر اس تاثر کا ازالہ نیب کو قابلِ اصلاح ادارہ قرار دے کر کیا جارہا ہے تو پھر ایک سوال جنم لیتا ہے کہ تین سال گزرنے کے باوجود بھی اصلاح کیونکر ممکن نہ ہوسکی۔ حکومت اور اپوزیشن کے اتفاق سے موجودہ چیئرمین نیب کی تقرری اور ’سب اچھا ہے‘ کے نعرہ کے بعد اچانک مارچ سے ایک مہینا پیشتر نیب میں ایسی کون سی خامی در آئی کہ جس پر بڑوں کو ایکشن لینا پڑا ۔ رہا قضیہ نیب کا لوگوں کے گھروں میں بلاجواز گھسنے اور بے محابا چھاپوں کا ، تواس ضمن میں زرداری صاحب کی یہ بات سولہ آنے درست ہے کہ نیب کی طرح کا نیک کام تو ایف آئی اے اور رینجرز بھی رات گئے اور دن چڑھے سر انجام دیتی ہے ۔رینجرز، ایف آئی اے اور نیب کو محدود اور گرفتاریوں سے پہلے اجازت کا پابند بنانے کی بات سندھ کی جانب سے ہوئی تو اس پر کان نہیں دھرا گیا۔ دیوانے کی بڑ کی مانند اسے درخور اعتنا نہیں سمجھا گیا اور اب ’اصلاح‘ کے نام پر نیب کو کمیشن کے ماتحت کرنے اور گرفتاریوں سے قبل اجازت کا مالا جھپنے کی نصیحت کی جارہی ہے۔

زرداری نے جب ہوشیار ، ہوشیار، ہوشیار کی بے معنیٰ لفاظی کی تھی تو چوطرفہ تنقید کا انہیں سامنا کرنا پڑا تھا ۔ اب جب ایک ذمہ دار منصب کی حامل شخصیت نیب سے خفا ہوکراس کے حدود وقیود متعین کرنے میں جتی ہے تو ان کے لیے بھی پندونصائح ہونے چاہییں۔سیاسی جوڑ توڑ اور معاصرانہ چشمک کو قوانین اور اصولوں پر اثر انداز نہیں ہونے دینا چاہیے۔ کرپشن اور دہشت گردی کے شیطانی گٹھ جوڑ توڑنے کے فوجی عزائم کو گزند پہنچانے کے بجائے اسے پایہ تکمیل تک پہنچانا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ وگرنہ کہیں آئندہ پندرہ روزہ احتیاط برتنے کایک جماعتی اعلان حقیقت کا روپ دھار کر ہمارے لیے افسوس کا باعث نہ بنے اور پھر ہم یہ کہتے ہی رہ جائیں ’حکومتیں عوام کے ووٹوں سے بنتی ہیں اور توڑتا کوئی اور ہے۔‘


Comments

FB Login Required - comments