پاکستانیوں کے تین معمے


 

کبھی کبھی میں سوچتا ہوں اگر میں قدیم یونان میں پیدا ہوتا تو کیسا ہوتا! شب و روز فلسفیوں میں گزرتے، سقراط کے شاگردوں میں نام ہوتا، افلاطون کی اکادمی میں فیض پاتا، رنگ برنگے فلاسفروں سے ملاقات رہتی، گتھیاں سلجھانے میں دماغ لگاتا، فکر معاش ہوتی نہ نوکری کی حاجت، راوی چین ہی چین لکھتا۔ اور اگر یہ سب کچھ کرنے کے قابل نہ ہوتا تو پھرکسی سوفسطائی کو ہی اتالیق مان کر باقی زندگی اس سے بحث میں گزار دیتا جو ایسا برا سودا نہ ہوتا۔ قدیم یونان کی یاد اس لئے آئی کہ اس زمانے کے فلسفیوں کے معمے بہت مشہور ہیں، ان فلسفیوں کو اور تو کوئی کام ہوتا نہیں تھا اس لئے تمام دن بیٹھے یہی سوچتے رہتے تھے کہ اگر اناج کے ڈھیر سے ایک دانہ نکال لیا جائے تو اس کے باوجود وہ اناج کا ڈھیر ہی دکھائی دے گا لیکن اُس ڈھیر سے اگر یونہی دانے نکالتے جائیں تو وہ کون سا موقع ہو گا جب وہ ڈھیر نہیں رہے گا! لیجئے اب دماغ لڑاتے رہئے۔ ویسے سلطنت بغداد تو یونہی بدنام ہے کہ اس لئے تباہ ہوئی کہ مسلم حکما ایسے ہی کسی مسئلے میں الجھے بحث کر رہے تھے جب ہلاکو خان نے حملہ کرکے اُس کی اینٹ سے اینٹ بجا دی، تاہم ایسی بحث اگر یونانی کریں تو ہم رشک سے کہتے ہیں کہ واہ علم و آگہی کا گڑھ اگر کوئی تھا تو یونان۔ خیر یہ بحث کسی اور دن کے لئے اٹھا رکھتے ہیں، فی الحال موضوع یہ ہے کہ قدیم یونانیوں نے کیامعمے ایجاد کئے ہوں گے جو جدید پاکستانیوں نے ایجاد کر رکھے ہیں۔ آج چونکہ میرے پاس بھی یونانیوں اور بغدادیوں والی فراغت تھی توسوچا کیوں نہ ایسے تین معمے پیش کروں جو ’’الباکستان‘‘ کا خاصا ہیں۔ پہلا معمہ:ہمار ی صبح کا آغاز ایک دوسرے کو اقوال زریں بھیج کے ہوتا ہے، موبائل فون اٹھاتے ہی ہم اِس کام میں جُت جاتے ہیں، اعلیٰ درجے کی موٹیویشنل ویڈیوز اور پیغامات کا آپس میں تبادلہ کرتے ہیں جن کے ذریعے دوسروں کو نیک اعمال کی ترغیب دی جاتی ہے اور بتایا جاتا ہے کہ کیسے ہمیں دوستوں کے کام آنا چاہئے، غریبوں کی مدد کرنی چاہئے، کاروبار ایمانداری سے کرنا چاہئے، چھوٹی چھوٹی نیکیاں کس طرح ہمارے معاشرے کو سنوار سکتی ہیں، روز مرہ کے معاملات مسکراہٹوں کے تبادلے سے کس آسانی کے ساتھ خوشگوار بنائے جا سکتے ہیں، معاف کرنے میں ہی عظمت ہے، سچ کا بول بالا ہوتا ہے، جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے وغیرہ وغیرہ۔ بات صرف موبائل فون تک ہی محدود نہیں رہتی، ایک دوسرے سے ملاقات میں بھی ہم معاشرے میں بگاڑ پر فکر مند رہتے ہیں، کرپشن کو تمام مسائل کی جڑ قرار دیتے ہیں، میرٹ کی خلاف ورزی پر قد آدم گالی بن جاتے ہیں، گلی محلے میں کوڑا کرکٹ کے ڈھیر دیکھ کر آہیں بھر کے یورپ کی مثالیں دیتے ہیں جہاں سگریٹ کی راکھ جھاڑنے پر بھی جرمانہ کیا جاتا ہے (حالانکہ ایسا نہیں ہے) اور پھر سسٹم کی خرابی کا رونا روتے ہوئے گھر روانہ ہو جاتے ہیں۔ معمہ اس میں یہ ہے کہ جب ہم سب ہی آپس میں اس بات پر متفق ہیں کہ ملک کا نظام خراب ہے اور اسے درست ہونا چاہئے، قوانین کی پاسداری ہونی چاہئے، کاروبار میں ایماندار ی ہونی چاہئے، نوکری پیشہ وارانہ انداز میں کرنی چاہئے تو پھر ہم اُن اقوال زریں کا اطلاق اپنی ذات با برکت پر کیوں نہیں کرتے، میرٹ کی خلاف ورزی کا رونا روتے ہوئے میرٹ کی ایک اور خلاف ورزی کرنے کی سفارش کیوں کرتے ہیں، دیانت داری سے متعلق احادیث مبارکہ بھیجنے کے بعد اپنے کاروبار میں بے ایمانی کیوں کرتے ہیں اور خوش اخلاقی سے متعلق حکایات شئیر کرنے کے بعد خود انگارے چبا کر کیوں بیٹھے رہتے ہیں! دوسرا معمہ:اگر ہم سب ٹیلنٹڈ ہیں تو اِس ٹیلنٹ نے سلیمانی ٹوپی کیوں پہن رکھی ہے؟ بچپن سے یہ فقرہ کانوں میں رس گھول رہا ہے کہ ہماری قوم میں بے پناہ ٹیلنٹ ہے، بس ذرا سا موقع ملنے کی دیر ہے یہ قوم امریکہ کو پچھاڑ دے گی، اِس کے ساتھ ہی پی ٹی وی کے سنہری دنوں کا نیلام گھر اور طارق عزیز کا نعرہ مستانہ ’’ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی‘‘۔ ہاکی اور کرکٹ کے ورلڈ کپ ہم نے ضرور جیتے، اسکواش میں برس ہا برس تک حکمرانی کی، موسیقی میں اب بھی ہمارا ڈنکا بجتا ہے، آئی ٹی کے شعبے سے بھی اچھی خبریں ملتی رہتی ہیں کہ دو سال کے بچے نے مائیکرو سافٹ سرٹیفائڈ کورس کرکے ریکارڈ توڑ دیا (یہ آج تک نہیں پتہ چل سکا کہ اس کے بعد کیا ہوتا ہے) اور یہ بھی سننے میں آتا ہے کہ میاں چنوں کے نواحی گاؤں کا ایک ان پڑھ نوجوان آئی فون کھول کے دوبارہ جوڑ لیتا ہے، پس ثابت ہوا کہ ہمارے ملک میں ’’بے پناہ‘‘ ٹیلنٹ ہے۔ اگر ہم میں واقعی بے پناہ ٹیلنٹ تو یہ ٹیلنٹ آخر جاتا کہاں ہے، کیوں ہم اسے کامیابی میں ڈھال نہیں پاتے، کیا وجہ ہے کہ دنیا کی دیگر اقوام یہ دعویٰ کئے بغیر ہی صف اول میں کھڑی ہیں اور ہم آخری صف میں جگہ پانے کے لئے دھکے کھا رہے ہیں۔ ٹیلنٹ ہم میں بہت ہے، گاڑی کے ’’گوڈے‘‘ تبدیل کر لیتے ہیں اور گیس کھینچے کی موٹر ہم نے ایجاد کر رکھی ہے لیکن نجانے کیا وجہ ہےکہ ہمارے ٹیلنٹ کا ہماری ذات کو فائدہ ہو تو ہو ملک کو کچھ خاص فائدہ نہیں ہوتا، عجیب معمہ ہے! تیسرا معمہ:دنیا بھر میں حادثات ہوتے ہیں مگر جس قدر منحوس حادثے ہمارے ہاں ہوتے اُن کی مثال کم ہی ملتی ہے، کہیں ریلوے پھاٹک نہ ہونے کی وجہ سے ریل گاڑی رکشے کو روند ڈالتی ہے جس میں اسکول کے بچے جاں بحق ہو جاتے ہیں تو کہیں باراتیوں سے بھری بس کھائی میں گر جاتی ہے، کبھی سلنڈر پھٹنے سے پورا شہر دہل جاتا ہے تو کبھی پاکستان میں تعینات غیر ملکی سفیر ہیلی کاپٹر حادثے میں اُس وقت جاں بحق ہو جاتے جب انہیں ملک کے خوبصورت شمالی علاقے میں ایک تقریب میں شرکت کے لئے لے جانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اتنی نحوست آخر کیوں؟ معمہ اِس ضمن میں یہ ہے کہ ایک طرف تو ہمیں یہ بتایا جاتا ہے کہ بعض اہل نظر اِس ملک کے لئے دعا کرتے ہیں، اس مملکت خداداد پر اِن اہل نظر کی وجہ سے خاص عنایت ہے…. اگر ایسے ہی اہل نظر یہاں آباد ہیں تو پھر یہ تمام دکھ پھر ہماری قسمت میں کیوں ہیں، بے گناہوں کی لاشیں ہم کیوں اٹھا رہے ہیں! یونانیوں کے معمے تو شاید کبھی حل ہو جائیں، پاکستانیوں کے معمے شاید ناقابل حل ہیں۔

اسی بارے میں: ۔  وطن عزیز کے رنگ نرالے ہیں

 

(بشکریہ جنگ نیوز)


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

یاسر پیرزادہ

بشکریہ: روز نامہ جنگ

yasir-pirzada has 150 posts and counting.See all posts by yasir-pirzada