یہ شقی القلب دہشت گرد کسی کے نہیں


دہشت گردوں کا اگر کوئی مذہب ہوتا تو درس قرآن کے دوران بھری مسجد میں مولانا نور محمد سمیت درجنوں بے گناہ شہید کرتے اور نہ ہی شیخ مولانا حسن جان جیسی ولی اللہ اورعلمی شخصیت کا منارہ زمیں بوس کرتے۔ مذہب کے علاوہ یہ اپنائیت اور قومیت کا لحاظ بھی نہیں کرتے، ورنہ بشیراحمد بلوراور شجاع خانزادہ وغیرہ کو شہید کرتے اور نہ پھر مولانا فضل الرحمن، اسفند یار ولی خان، آفتاب شیر پاؤ اورمولانا شیرانی کی جاں کے درپے ہوتے۔ سو پوری دینی کمیونٹی کو دہشت گردوں کے کرتوتوں کا طعنہ دینا پھر یکسر اسے پختونوں، بلوچوں، سندھیوں یا پنجاب کی پیداوار سمجھنا پرلے درجے کی بے انصافی نہیں توکیا ہے؟

مذہب کی اگر زبان ہوتی تو کب کا نافرمان بیٹوں کی طرح دہشت گردوں کو عاق ہونے کی سند جاری کر چکا ہوتا یا بالفرض کسی قوم میں نطق اور گویائی کا ملکہ ہوتا تو برسوں پہلے ان قاتلوں کو دھتکار دیا ہوتا۔ افسوس کا مقام تویہ ہے کہ پندرہ سال سے ریاست، مذہب اور پاکستانی قوم سے برسرپیکار رہنے کے باوجود دہشت گردی کی ایک جامع و مانع تعریف کرنے اور دہشت پھیلانے والوں کو ایک علیحدہ کیٹگری میں رکھنے میں آج تک ہم ناکام رہے ہیں۔ اسی لئے تو کچھ  مہربانوں کی عقل پر ہم اکثر ماتم کرتے ہیں جو ان حالات میں بھی عصبیت کی عینک لگا کر دہشت گردی کو خواہ مخواہ کسی خاص قومیت سے منسوب کر رہے ہیں یا پھر پوری مذہبی کمیونٹی اورعلمی مراکز سے اس کا ناطہ جوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

دہشت گردوں کو مذہبی برادری یا ایک مخصوص قوم سے نتھی کر کے یہ لوگ کیوں بھول جاتے ہیں کہ پندرہ برسوں سے جاری جنگ میں دہشت گرد وں نے انہی دو (مذکورہ مطعون دینی طبقہ اور مذکورہ مطعون قوم) کا سب سے زیادہ ستیاناس کر دیا ہے۔ بے شک لاہورمیں حالیہ دھماکے کے بعد ’ردُ الفساد‘ کے نام سے آپریشن کا آغاز خوش آئند ہے لیکن وہاں کی پولیس کی جانب سے ایک مخصوص کمیونٹی کو نشانہ بنا کر تعصب کی بو پھیلانا افسوس ہے۔ انہی متعصبانہ اقدامات کا رونا روتے ہوئے قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ جیسے غیر جانبدار سیاستدان بھی فرما چکے ہیں کہ پنجاب میں ایک قوم کو مخصوص انداز میں ہدف بنانا وفاق کے لئے خطرہ اور آپریشن ردُالفساد پر منفی اثرات کاموجب بن سکتا ہے۔ اب جب ایک اور صوبے سے تعلق رکھنے والا غیر پختون اور قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کا سربراہ بھی یہ اعتراف کر رہا ہے تو برادرِ بزرگ کے دیار میں ضرور کچھ ہو رہا ہے۔

اسی بارے میں: ۔  سول ہسپتال کوئٹہ کی ادھ جلی کھڑکی

ہر سلیم العقل پاکستانی جانتاہے کہ مملکت خداداد میں پشاور، چارسدہ، مردان، صوابی، ڈی آئی خان، بنوں، لکی مروت اور کوہاٹ وہ قابل رحم اضلاع ہیں جن کے بازاروں، مساجد، شفاخانوں اور دفاتر میں ملک کے دوسرے اضلاع کی بہ نسبت زیادہ ہدف بنائے گئے۔ خیبر پختونخوا اسمبلی ملک کی وہ واحد اسمبلی ہے جس کے درجنوں وزراء اور ایم پی ایز اس جنگ میں قربان ہوئے، اسی صوبے کے پولیس آفیسرز اور دیگر حکومتی اہلکاروں کو چن چن کرمارا گیا۔ جس فاٹا کے لوگوں سے ہم کشمیر فتح کر رہے تھے، وہ دہشت گرد حملوں کے باعث رستے ہوئے زخم کی مانند ہیں اورجس کے لاکھوں آئی ڈی پیز آج بھی روہنگیاؤں سے بدتر زندگی گزار رہے ہیں۔ ریکارڈ قربانیاں دینے کے باوجود خیبر اور فاٹا کے ان محب وطن پاکستانیوں کی جوانمردی کا معترف ہونے کی بجائے الٹا انہیں مطعون کرنا اور ان کے کردار میں شک کے کیڑے نکالنا بھی کوئی حب الوطنی ہے۔ اسی حساب سے اس جنگ میں اپنی جانوں سے گذرنے والے فوجی جوانوں اور پولیس اہلکاروں کی قربانیوں سے چشم پوشی کرنا یا دہشت گردوں کو مفسدین کے نام سے پکارنے والے مولانا شیرانی جیسے علماء کے بے لاگ موقف کی تائید کرنے کی بجائے اسے مختلف فیہ بنانا بھی زیادتی ہے۔

بخدا پختونوں کا تذکرہ کرکے بات کرنے کا قطعاً مقصد یہ نہیں کہ آگ وخون کے اس کھیل میں اسی قوم کے جوان اور بچے قربانیاں دے چکے ہیں بلکہ بتانا یہ مقصود تھا کہ دہشت گرد حملوں کا ایپی سنٹر Epi centre جب وہی علاقے ہیں تو متاثرین بھی وہاں کے لوگ زیادہ ہوئے ہیں جوکہ الٹا آج مطعون بھی ہو رہے ہیں۔ ورنہ ملک کے معاشی مرکز کراچی کے زخم کون بھلا  سکتا ہے جہاں ہزاروں محب وطن پاکستانی اس آگ کی نذر ہوئے اوراسی سندھ میں لال شہباز قلندر جیسے درباروں میں آج تک لوگ قربان ہو رہے ہیں، ورنہ بلوچستان کی قربانیوں سے کون بے رحم چشم پوشی کرے گا جہاں ہزارہ برادری کو کئی مرتبہ قیامتوں سے گذرنا پڑا، جہاں پولیس کیڈٹس اور وکلا کی پوری کھیپ شہید کر دی گئی اور درگاہ نورانی میں معصوم دھمالیوں کے پرخچے اڑائے گئے۔ بے شک ملک کے دوسرے علاقوں کی طرح پنجاب کے گھائل ہونے میں بھی کسی کو کلام نہیں، لاہور میں حالیہ المناک دھماکے کے علاوہ بھی وہاں کے مزارات اور پارکوں میں بھی کئی مرتبہ خون کی ہولی کھیلی گئی جس میں بے شمار معصوم شہید اور زخمی ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں: ۔  کینیڈا مسجد حملہ: محمد الخادر اور الیگزینڈر بیونسے حراست میں

خاکم بدہن دہشت گردوں کا کام آسان بنانے والوں کے تعصب پرمبنی دلائل کو اگر ہم سنجیدہ لے کرچلنے دیں توکیا پھر کل کسی کی یہ بھونڈی دلیل نہیں چلے گی کہ کراچی اور حیدر آبامیں اردو بولنے والے محب وطن پاکستانیوں کی بجائے ’ را ‘کے ایجنٹ یا برطانوی ’ ایم آئی سیکس‘ کے ہرکارے ہیں کیونکہ وہاں بھی برسوں سے دہشت گردی ہو رہی ہے۔ کیا پھر کسی کی اس بات سے بھی اتفاق کیا جائے گا کہ وہاں بیس برس سے بھتہ لینے والے اور بوری بند لاشیں دینے والے مجرم اور جامعہ دارالعلوم، جامعہ فاروقیہ جیسے علمی مراکز کے شیوخ الحدیث اور طلبا ایک ہی سکے کے دورخ ہے؟ پھر تو ہم اُن لوگوں کی ہاں میں بھی ہاں ملائیں گے جو پنجاب کی دس کروڑ سے زیادہ آبادی کو جیش محمد، لشکر ظل، قاری ظفرگروپ، بنگالی گروپ، مولوی رفیق گروپ، قاری یاسین گروپ یا عصمت اللہ معاویہ اور ملک اسحاق گروپ کوصرف اس لئے طعنہ دیں گے کہ یہ اُسی قومیت سے تعلق رکھتے ہیں؟

پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں اُس وقت کے وزارت داخلہ کی طرف سے ایک دفعہ ’پنجابی طالبان ‘کی اصطلاح استعمال کرنے پر کیا وہاں پنجاب حکومت کے وزراء پھر بھی لب بستہ رہے تھے یا مذکورہ اصطلاح کو سارے پرامن اور محب وطن پنجابیوں پر حملہ تصور کرتے ہوئے ناراضگی کا اظہار کیا تھا؟ یہاں یہ بھی بتاتا چلوں کہ یہاں بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے قوم پرست بھی آج کل پوائنٹ سکورنگ بڑھانے کے لئے پختونوں کے نام پرکس منہ سے لال پیلے ہو رہے ہیں، حالانکہ یہ خود بھی پرامن مذہبی طبقات اورمدارس والوں کے زخموں پر نمک پاشی کرکے انہیں دہشت گردوں کا وارث قرار دے رہے تھے۔ ہاں تو کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ملکی افق پر دہشت گردی کے مزید منڈلاتے چیلنجز کا مقابلہ کرنا واقعی ایک قومی فریضہ ہے تو عصبیت اور لسانیت کے لبادے اوڑھ کراس اہم قومی فریضے کی ادائیگی خام خیالی کے سوااور کچھ نہیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔