پی ایس ایل فائنل کا تھرڈ ایمپائر


ہم پی ایس ایل فائنل کو فالو نہیں کر رہے، لیکن سوشل میڈیا پر کوئٹہ گلڈیٹر کا سلوگن ”کائی کائی“ نظروں سے گزرا، تو چونک اُٹھے۔ یہ محض اتفاق ہی ہو سکتا ہے، کہ پاکستانی فوج کی رجمنٹ بائیس بلوچ کا نعرہ بھی یہی ہے، ”کائی کائی“۔ بس اسی لمحے کسی روحانی بابے کی طرح، (یقینا یہ روحانی بابا، ہمارے وسی بابا نہیں ہیں) پیش گوئی کرنے کی ٹھانی کہ کوئٹہ گلیڈیٹر پی ایس ایل کا فائنل جیت جائے گا۔

پیش گوئی تو کر دی، لیکن اب گھبراہٹ ہو رہی ہے، کہ کہیں پشاور زلمی میلہ لوٹ لے گئی، تو ہماری پیش گوئی کا دفاع کیسے ہوگا! چناں چہ گہری سوچ بچار کے بعد اس نتیجے پر پہنچے، کہ پی ایس ایل فائنل کے ایمپائر خرید لیے جائیں، تا کہ وہ ہمارا من پسند نتیجہ دے سکیں۔ ایسے میں ہر طرف نظر دوڑائی، لیکن کیا ہے کہ پاکستان میں کوئی ایک بھی ایسا بے ایمان شخص نہ دکھائی دیا، جو ہماری پیش کردہ کم قیمت پر اپنا ایمان بیچ سکے۔ ایمان خریدنے کی سکت یا ”بکیا“ رکھتا ہے، یا وہ جن کا نام لینا یہاں ممنوع ہے۔

ایک بات تو طے ہے، جو ٹیم ہارے وہ آسانی سے کہ سکتی ہے، دھاندلی ہوئی ہے۔ اُس ٹیم کے پرستار آنکھیں بند کر کے یقین کر لیں گے، کہ سو فی صد دھاندلی ہی ہوئی ہے۔ ممکنہ طور پہ ہارنے والی ٹیم کا کپتان مطالبہ کر سکتا ہے، کہ یہ فائنل میچ دوبارہ کروایا جائے، کیوں کہ اگلے پی ایس ایل تک انتظار نہیں ہوتا۔ مزید امکان ہے، کہ ہارنے والی ٹیم کا کپتان جب دھرنا دے، تو اس میں تھرڈ ایمپائر سے فیصلہ لینے کی بات کرے۔ یہ ”ایمپائر“ بھی کمال ہے؛ کوئی ”میچ“ اس کے بغیر ”پڑ“ ہی نہیں سکتا۔ جب حتمی فیصلہ ایمپائر ہی نے کرنا ہے، تو کیوں نہ اپنی مرضی کا ایمپائر کر لیا جائے! ایسے میں کسی ”ایمان دار“ ایمپائر کی طرف نگہ اُٹھے تو بلا مبالغہ کہا جا سکتا ہے، وہ نام ہوگا جناب عدنان خان کاکڑ کا، جن کی ذات ہر الزام سے بری ہے؛ ہم انھین مقدس گائے تو نہیں کہتے، لیکن اللہ میاں کی گائے کہ لیں تو یہ معترض نہ ہوں گے۔

اگر آپ نہیں جانتے کہ یہ بین القوامی شہرت کے ایمپائر عدنان خان کاکڑ کون ہیں، ان کی سابق کارکردگی کیا ہے، تو ہم اصرار کریں گے، آپ اب بھی اس کھوج میں مت پڑیں، جب آپ اتنے بے خبر ہیں، تو آپ کرکٹ کو کیا خاک سمجھیں گے! کرکٹ کی جتنی سمجھ اور بوجھ موصوف کو ہے، اتنی شاید ہی کسی کو ہو، اور اگر انیس بیس کوئی ان کا مقابلہ کرتا ہے، تو وہ سرفراز نواز ہیں۔ جب پاکستانی ٹیم ہارتی ہے، تو محترم سرفراز نواز واشگاف الفاظ میں بتا دیتے ہیں، کہ ”بکے ہوئے تھے۔“ بعینہ یہی احوال کپتان خان صاحب کا ہے، کہ جس سیٹ سے ہار جائیں، مخالف امیدوار پر الزام لگا دیں گے، کہ ”خریدا ہوا تھا۔“ ایسی صورت احوال میں ایک عدنان خان کاکڑ ہی ہیں، جو تھرڈ ایمپائر کا کردار ادا کرتے، ”ٹویٹس“ کریں، ”فریقین صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں، اور ملکی مفاد کو ترجیح دیں۔ ضرورت پڑنے پر ”ہم سب“ ثالث کا کردار ادا کرسکتا ہے۔“ ہمیں نہیں معلوم ایسے میں عدنان خان کاکڑ کسے باہر کروالیں گے، اور کسے اندر کر دیں۔ بہ ہر حال اگلے پی ایس ایل کے انعقاد تک ”فریقین“ کو الجھانے، یعنی تسلی دینے کی صلاحیت سے مالا مال ہیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔