بچوں کو متنفر کر کے رونا نہ روئیں


ایک خاندان کیا ہوتا ہے؟ کیسے بنتا ہے؟ گھر اور مکان میں کیا فرق ہوتا ہے؟ مکان صرف بجری ، اینٹوں اور سیمنٹ کا بنا ہوا ایک ڈھانچہ ہوتا ہے، جس کو گھر کی شکل، اس میں رہنے والے لوگ دیتے ہیں، مکان کو گھر بنانے کیلئے مکان میں رہنے والے افراد کا ایک دوسرے کے ساتھ دوستانہ رویہ مکان کو گھر کی شکل دیا کرتا ہے، تعلقات یک طرفہ نہیں ہوا کرتے، ایک فرد کو دوسرے فرد سے رشتہ قائم کرنے کے لئے، زبان کا استعمال، وقت کی فراہمی، سوچنے کا عمل، ذہنی اور جسمانی سرگرمی کی ضرورت درپیش ہوتی ہے جو ایک چھت کے نیچے رہنے والے افراد کو ایک دوسرے سے مانوس کرکے محبت اور قربانی کا جذبہ پیدا کرتے ہیں، جس سے ذہنی ہم آہنگی پروان چڑھتی ہے۔
ہمارے تعلقات کا انحصار ہمارے ایک دوسرے کے ساتھ پیش آنے والے رویوں پر ہوتا ہے جو ہمارے رشتے کی نوعیت کے آلہ کار ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کے درمیان موجود تعلقات کے معیار کا تعین کرتے ہیں۔
رویہ کیا ہوتا، کس چیز پر انحصار کرتا ہے، رویوں میں تبدیلی کیوں آجاتی، یاد رکھئے، رویئے تبدیل کئے نہیں جاتے ،ہو جاتے ہیں اور ان کی تبدیلی میں آپ کی، کسی شخص کے بارے میں حاصل کی گئی معلومات، اس کا ماضی اور حال دونوں بہت اہمیت کے حامل ہوتے ہیں اور اس شخصیت کی سوچ اور خیالات سے آپ کا رشتہ، یعنی آپ اس کی شخص کی سوچ کو صحیح سمجھتے ہیں یا غلط، سب کا سب آپ کے اس شخص کے ساتھ روئیے کی نوعیت اختیار کرنے میں مدد دیتا ہے اور پھر آپ اپنی سوچ اور معیار کے مطابق اس شخص کے ساتھ اپنے رشتے اور روئیے کا تعین کرتے ہیں۔
ہمارے ہاں جوائنٹ فیملی سسٹم کا رجحان بتدریج کم ہو گیا ہے، بچے والدین کے ساتھ اپنی نئی شریک حیات کے سفر کے آغاز کو اپنے اور شریک سفر کے مابین رکاوٹ تسلیم کرتے ہیں، جس کی وجہ سے ذیادہ تر جوائنٹ فیملی سسٹم کا نظام ختم ہوتا جارہا ہے، بچے الگ اور ماں باپ الگ الگ گھروں میں مقیم ہو جاتے ہیں۔
بات ہے کیا، شروعات کہاں سے ہوتی ہے؟ بچے کی شخصیت کی تکمیل کے لئے کیا کیا اہم عناصر ہوا کرتے ہیں جو اس کی ذہنی اور جسمانی نشوونما کرکے ایک صحت مند سوچ اور فکر کو وجود میں لاتے ہیں جس کے بعد بچہ یا بچی خود ذہنی و جسمانی طور پر فیصلہ کرنے اور صحیح غلط کی پہچان کرنے کے قابل ہوجاتا ہے۔
بچے کی تربیت اس دن سے شروع ہوجاتی ہیں جس دن وہ اپنی ماں کی گود میں آتا ہے، ہم یہ سمجھتے ہیں کہ بچہ کچھ سوچنے سمجھنے کے قابل نہیں ہوتا جب کہ معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے۔
بچہ پیدائش کے بعد لرننگ فیز سے گزر رہا ہوتا ہے جس میں وہ مختلف آوازوں ،چہرے کے تاثرات اور مختلف رنگوں سے اپنا رابطہ قائم کرنے کے مرحلے سے گزرتا ہے، اس دوران گھر میں ماں باپ کے مابین تعلقات اور گھر میں پرسکون ماحول بچے کی ذہنی کیفیت اور شخصیت کی تکمیل میں اہم کردار ادا کر رہا ہوتا ہے، آپ بچے سے جیسے پیش آئیں گے وہ ویسے ہی آپ کو جواب دے گا، یہ سب ایک دم سے نہیں ہوجاتا، نومولود بچے سب سے پہلے ماں گی گود سے رشتہ قائم کرتے ہیں، اس دوران ماں کا خوش رہنا، پرسکون نیند لینا ، بچے کو وقت دینا اور اپنا دودھ پلانا اس کو تحفظ اور خوشی دیتا ہے۔
گھر میں آئے دن کے ہنگامے، شور شرابہ بچے کی ذہنی نشوونما پر بہت بری طرح اثر انداز ہوتا ہے خاص کر جو زبان گھر میں استعمال کی جاتی ہے، بچے کے لاشعور میں الفاظوں کے ذخیرے کے طور پر جمع ہورہی ہوتی ہے اور ہم یہی سمجھتے رہتے ہیں کہ بچہ بہت چھوٹا ہے، کچھ سمجھنے کے قابل نہیں،بچے کا چھوٹا سا ذہن آپ کی ساری سرگرمیوں اور باہمی رویوں کو اپنے اندر سمیٹ رہا ہوتا ہے جو اس کے لاشعور میں مختلف شکلوں رنگوں اور آوازوں میں ڈھل کر اس کے چہرے کے تا ثرات کو جنم دیتے ہیں۔ آپ خود بھی دیکھتے ہیں کہ بچہ اپنی شکل مستقل تبدیل کر رہا ہوتا ہے، ایک جیسی شکل نہیں رہتی، پیدائش اور اس کے بعد مختلف مراحل میں بچہ مسلسل چہرہ تبدیل کرتا ہے اور ایک وقت ایسا آتا ہے جب بچے کی شکل کے ساتھ ساتھ اس کی عادتیں، رویہ اور انداز سب پر واضح ہوجاتا ہے اور ماں باپ بچے کی فطرت سے آشنا ہوجاتے ہیں۔
بچے کی شخصیت آپ کے گھر اورآپ کے گھر کے ماحول سے بنتی ہے اور گھر میاں بیوی مل کر بناتے ہیں ۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ میاں بیوی کا اپنا رویہ بچوں کی شخصیت میں پیدا ہونے والے صحیح یا غلط رویے کی نوعیت کا تعین کرتے ہیں۔
بچے کو الزام دینا، اس کو بدتمیز کہنا ،سب کے سامنے بے عزت کرنا ہر گز اس کی شخصیت کو نکھارنے کا سبب نہیں بنتا، بچہ وقت ،پیار اور توجہ مانگتا ہے، وہ ماں باپ کے باہمی رشتے سے اپنا رشتہ قائم کرتا ہے، اگر ماں باپ میں ناچاقی ہوگی تو بچہ یا بچی کبھی پرسکون اور مستحکم شخصیت کی مالک نہیں بن سکتی، چھوٹے بچوں کو تمیز سکھانے کیلئے ہمیں پہلے خود تمیز سیکھنی ہوتی ہے کیونکہ جو ہم کرتے ہیں وہی وہ سیکھتا ہے۔
میاں بیوی کو بچوں کے سامنے لڑائی جھگڑوں سے اجتناب کرنا چاہیے، اپنے معاملات اپنے کمرے میں سکون سے سلجھائیں، نہ بیوی کو تماشا بنائیں نہ ہی خود تماشا بنیں، بعض مرد حضرات کی عادت ہوتی ہے کہ وہ سب کو تماشا دکھاتے ہیں، نہ بیوی کی عزت رکھتے ہیں نہ ہی اپنی۔
بیوی کے ساتھ دوستانہ رویہ آپ کو بہت سی الجھنوں سے نکال سکتا ہے، ایک دوسرے کو انسان سمجھنا چاہئے، ہمارے اندر سب سے بری بات یہی پائی جاتی ہے کہ ہم خود کو مظلوم اور دوسرے کو ظالم قرار دیتے ہیں جب کہ یہ بہت غلط عمل ہے، ہمیشہ ایک دوسرے سے بات کرنی چاہئے، ایک دوسرے کی عزت کرنی چاہئے اور عزت رکھنی چاہئے، اسی لئے اسلام میں بھی عورت اور مرد کو ایک دوسرے کا لباس قرار دیا گیا ہے، بچوں کو پرسکون رکھنا ماں باپ اور گھر والوں سب کی ذمے داری ہوتی ہے، جوائنٹ فیملی میں بڑوں کی سرپرستی ہوتی ہے وہ سمجھاتے ہیں اور معاملات سلجھ جاتے ہیں اور بعض اوقات اس کے بالکل بر عکس ہوتا ہے اور اولاد ماں باپ کے آئے روز کے جھگڑوں سے راہ فرار اختیار کرنے کیلئے انڈی پینڈنٹ ہونا زیادہ صحیح سمجھتی ہے۔
بچے کو خود سے قریب کریں، اسے وقت دیں، بات سنیں، بات کرنے دیں، اس کی پسند نا پسند کی پہچان کریں پھر مزاج دیکھ کر اس سے اس کے مزاج کے مطابق پیش آئیں، اگر آپ اس کو سمجھانا چاہتے بھی ہیں کسی اعتبار سے تو آپ کیلئے یہ بہت مثبت اقدام ہوگا۔ کبھی بھی باپ کو بچے کے آگے برا نہ کہیں، نہ ہی دادا، دادی، پھپھو، اور ددھیال کو، نہ ہی شوہر کو بیوی کے میکے اور گھر والوں کی برائی بچوں سے کرنی چاہئے، اپنے ذاتی اختلافات سے بچوں کے ذہن آلودہ نہ کیجئے، اس طرح آپ بچے سے اس کے خاندان کی شفقت اور پیار چھین لیتے ہیں، بچے کے دل میں برائی آجاتی ہے اور نہ وہ خاندان کا ہوتا ہے نہ ہی آپ کا، جو مزاج آپ اس کے ذہن میں خود بوتے ہیں اس کا ذمے دار اولاد کو کہنا کہیں کا انصاف نہیں ہے، آپ بچے کو خود متنفر کرتے ہیں اپنے غلط رویوں سے، بچہ پیدائشی متنفر نہیں ہوتا!

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں