احساس کو گونگا بہرہ ہونے سے بچانا چاہیے


دہشت گردی کی حالیہ لہر کے بعد ردالفساد کا اعلان ہوا، نئے ناکے ، نئی چیک پوسٹس اور پی ایس ایل فائنل کے شور میں بہت سی خبریں کہیں پیچھے رہ گئیں، دو روز پہلے یہ خبر دو ویب سائیٹس پر دیکھی مگر کسی ٹی وی چینل پر دیکھا نہیں کہ کسی نے بات کی ہو کہ مردان میں پولیس فائرنگ سے ہلاک ہونے والا شخص ولاس میر سماعت سے عاری تھا۔ ڈی ایس صاحب نے بتایا کہ سائیکل سوار عدالت کے سامنے والی سڑک پہ داخل ہوا،یہ سڑک گزشتہ دو ہفتے سے ٹریفک کے لیے بند ہے، پولیس نے رکنے کی ہدایات جاری کیں مگر اس نے سڑک پر اپنا سفر جاری رکھا جس کے باعث طاقت کا استعمال کرنا پڑا، مقتول کے بہنوئی کے مطابق لوگوں نے چلا کر پولیس اہلکاروں کو فائرنگ کرنے سے روکا ، پولیس نے انہیں گاڑی سے ٹکر ماری پھر سینے میں چھ گولیاں ماری۔ ولاس میر دس بچوں کے باپ تھے اور دس سال سے زائد عرصے سے اس علاقے میں سائیکل پر کپڑا فروخت کرتے تھے۔

یہ خبر بہت سے لوگوں کی نظر سے نہیں گزری ہو گی، ان کے لیے عام سی ہو گی یا شاید ایک لمحہ رک کر آگے بڑھ گئے ہوں گے۔ کچھ عرصہ پہلے نابینا افراد کے احتجاج کے دوران ان پر لاٹھی چارج کیا گیا تھا،اس خبر پر بھی شاید بہت سے لوگ ایک لمحہ رک کر آگے بڑھ گئے مگر جن کے گھروں میں کوئی ایک فرد بھی ایسا ہوتا ہے وہ ان خبروں پر آگے نہیں بڑھ سکتے۔ ان کے لئے ایسی خبریں عام نہیں ہوتی، وہ اسے نظرانداز نہیں کر سکتے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ ایسی کسی محرومی پر شکوہ کناں ہیں مگر وہ اس سے جڑے احساس کو سمجھ سکتے ہیں اور ایسے لوگوں کے مسائل انہیں اپنے ہی لگتے ہیں۔مجھے اس خبر پر بہت سے واقعات یاد آ گئے، ایک عرصہ گزر گیا مگر مجھے یاد ہے گزرے ستائیس سال میں کتنی بار کتنی جگہوں پر میری پہچان گونگے کی بیٹی ہی رہی۔ جب چھوٹے تھے تب شاید کبھی روئے ہوں کہ لوگ ایسے کیوں بولتے ہیں اب ہم بہن بھائی اس پر ہنستے ہیں ۔

ایک بار ہم او پی ڈی میں بیٹھے تھے، ایک لڑکی اور اس کی اماں داخل ہوئے، کافی رش تھا، ڈاکٹر صاحب نے دو بار اس لڑکی سے پوچھا کیا مسئلہ ہے؟ وہ خاموش رہی تو آخر اس کی ماں نے بتایا یہ گونگی بہری ہے یہ نہیں بتا سکتی، سر نے جواب دیا تو پھر اب مجھے کیسے پتہ چلے گا کیا مسئلہ ہے؟خیر میں نے دوسرے مریض کی پرچی سر کو پکڑائی، اس لڑکی سے اشاروں میں مسئلہ پوچھا اور دوا لکھ دی، پہلے اس لڑکی کی اماں اور پھر سر نے سوال کیا یہ آپ کو اشاروں کی زبان کیسے آتی ہے؟ مجھے اپنا بچپن کا تعارف “گونگے کی بیٹی” یاد آ گیا اور میں مسکرا دی۔ پچھلے سال ہم نرسری میں ڈیوٹی پر تھے، ایک بچی کی طبیعت کافی بگڑی پھر دو روز میں کچھ سنبھل گئی، سینئر ڈاکٹرز کا خیال تھا یہ ایک روز اور یہاں رہے تو پھر اسے گھر لے جانا بہتر ہو گا، راؤنڈ کے بعد اُس بچی کی ایک خاتون رشتے دار اس بات پر بحث کرنے لگ گئیں جب انہیں بتایا کہ آج نہیں کل چھٹی ملے گی۔ تھوڑی دیر ان سے بحث کرنے کے بعد میں نے کہا آپ پلیز اس کے والد کو بلائیں میں انہیں سمجھاتی ہوں کہ اس کی صحت کے لیے بہتر بھی ہے اور ضروری بھی کہ ایک روز اور یہاں ہی رکے، ابھی ابھی تو طبیعت سنبھلنا شروع ہوئی ہے۔ خاتون نے جواب دیا آپ ان سے بات نہیں کر سکتیں، میں نے پوچھا کیوں؟ وہ کہاں ہیں جو ان سے بات نہیں ہو سکتی؟ خاتون نے کہا میرا بھائی گونگا بہرا ہے اسے آپ کی بات سمجھ نہیں آئے گی، میں نے انہیں کہا آپ بلائیں ذرا میں انہیں سمجھا لوں گی۔ جب اس بچی کے ابا کو میں نے بات سمجھائی تو پاس کھڑی نرس اور ڈاکٹر کے چہرے پر زیادہ حیرانی تھی یا اس خاتون کے چہرے پر میں یہ فیصلہ نہیں کر سکی مگر ان سب نے بعد میں مجھ سے یہی سوال کیا یہ آپ کو اشارے کس نے سکھائے۔ اور مجھے پھر سے ہنسی آ گئی کہ یہ مجھے کس نے سکھائے۔۔

پچھلے سال ہمیں ایک چیک پوسٹ پر روکا، میں اماں اور ابا تھے گاڑی میں، پولیس والوں کے سوال شروع ہوئے اور اماں جواب دے رہی تھیں، تین چار سوالات کے بعد انہوں نے کہا یہ بھائی جواب کیوں نہیں بول رہے؟ اماں نے کہا کیونکہ یہ بول نہیں سکتے۔ اگلا سوال تھا پھر آپ کی شادی کیسے ہوئی؟ خیر انہیں ہم نے کہا آج تو ہمیں جلدی ہے پھر کسی دن آ کر سنائیں گے شادی کیسے ہوئی، ابھی جانے دیں۔ مردان کی اس خبر کے بعد مجھے سب ایسے ہی واقعات یاد آ رہے ہیں جو ہمارے ساتھ کہیں نہ کہیں ہوئے، اندر کہیں بہت خوف بھی ہے کہ ایسے کوئی انسان اچانک سے خبر بھی بن سکتا ہے اور لوگوں کے لیے وہ خبر کتنی عام سی ہوتی ہے مگر آپ کے لیے نہیں ہوتی۔ میں مارچ سے پہلے ولاس میر کو نہیں جانتی تھی، مجھے علم نہیں کہ ان کی دس بچے ہیں کیا ان کی بھی کوئی بیٹی ہے؟ ان بچوں کی زندگی کیسی ہو گی؟ وہ اب کیا سوچتے ہوں گے؟ مجھے میری اماں نے بہت عرصہ پہلے ایک واقعہ سنایا تھا، ہو سکتا ہے یہ آپ کے لیے “خاموشی” فلم کا ایک سین ہو مگر کچھ لوگوں کی زندگی میں واقعی ایسا ہوتا بھی ہے، میں اپنے بہن بھائیوں میں سب سے بڑی ہوں، جب میں پانچ چھ دن کی تھی لاؤنج میں پڑے جھولے میں سو رہی تھی دادی پاس ہی بیٹھی تھیں، میرے ابا نے پلاس اٹھایا اور تین چار بار بہت زور سے دروازے پر مارا ، میں رونے لگی تو وہ خوش ہو گئے کہ یہ سن سکتی ہے، شاید وہ پہلی اور آخری بار ہوا کہ میں روئی تو وہ خوش ہوئے۔ خیر آپ میچ کھیلیں، سیکیورٹی بہتر کریں، ناکوں پر روکیں، تلاشی لیں، کاغذ چیک کریں، مگر یوں کسی کو خبر نہ بنائیں ۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔