ہم سب کی پی ایس ایل ٹیمیں میدان میں آتی ہیں


مشہور صحافی نجم سیٹھی کے کرکٹ ٹورنامنٹ پی ایس ایل کا میچ دیکھنے ’ہم سب‘ کے مدبرین اکٹھے ہوئے۔ سب مدبر اس ٹورنامنٹ کی بے مثال کامیابی سے نہایت متاثر تھے۔ وصی بابا نے نشاندہی کی کہ ’ہم سب‘ والے بھی صحافی ہیں۔ پہلے پہل تو ’ہم سب‘ والوں کو یقین نہیں آیا کہ ان کا شمار صحافیوں میں ہوتا ہے مگر جب وصی بابا نے فیس بک پر کئی کمنٹ نکال کر دکھائے جن میں ’ہم سب‘ والوں کو لفافہ خور صحافی اور دجالی میڈیا کہا گیا تھا تو سب کو بابا جی کی بات تسلیم کرنا پڑی۔ وصی بابا نے بتایا کہ ان کے اکثر مداح اس بات پر شاکی ہیں کہ ’ہم سب‘ والے سیمینار کیوں نہیں کرتے جہاں ریڈر اور رائٹر مل بیٹھیں تو کیوں نہ کرکٹ ٹورنامنٹ کر لیا جائے۔ آج کل ویسے بھی پی ایس ایل کا چلن ہے۔ تو ’ہم سب‘ بھی یہی کر لیتے ہیں۔

ہم نے معذرت کی کہ ہمیں گیند سے ڈر لگتا ہے اور میدان سے بھاگنا ہم اپنی شان کے خلاف سمجھتے ہیں کیونکہ ہم مرد میدان ہیں۔ اکثر مدبرین نے ہم سے اتفاق کیا کہ وہ بھی شجاعت و دلیری کے نشان ہیں اور میدان میں دوڑنے والے نہیں ہیں۔ اس پر یہ فیصلہ کیا گیا کہ ’ہم سب‘ والے جدت کا ثبوت دیتے ہوئے ایک ایسا کرکٹ ٹورنامنٹ کرائیں گے جس میں صرف افتتاحی تقریب ہو گی اور ساری ٹیمیں اپنی اپنی کٹ پہن کر میدان میں پہنچیں گیں اور پھر کھانا کھا کر واپس چلی جائیں گی اور اسی پرفارمنس کی بنا پر فاتح کا اعلان کیا جائے گا۔

فائنل کا دن آیا۔ کوئٹہ گلیڈی ایٹر سب سے پہلے نمودار ہوئے۔ آگے آگے ان کے کپتان ظفر اللہ خان تھے۔ تن و توش ایسا کہ دیکھنے والوں کو لندھور پہلوان کی یاد آئی۔ مست ہاتھی کی طرح جھومتے آئے۔ رومی پہلوانوں کی طرف سر پر خود رکھا ہوا تھا۔ ہاتھ میں بیٹ کو گرز کی طرح تھامے ہوئے تھے۔ پنڈلیوں پر پیڈ بندھے ہوئے تھے۔ سینے پر چار آئینہ تھا۔ دشمنوں پر ہیبت طاری ہوئی۔ دوستوں کے دل بڑھ گئے۔ سب پکار اٹھے کہ کوئٹہ گلیڈی ایٹر فائنل میں پہنچیں گے اور بعید نہیں کہ تمغہ یہی لے جائیں۔

اس کے بعد گھنٹیاں اور باجے بجنے کی صدا بلند ہوئی۔ اس مرتبہ آنے والی ٹیم کو دیکھ کر انجان بے ساختہ ہنس پڑے اور جو واقفانِ حال تھے انہوں نے خوف سے آنکھیں بند کر لیں۔ سرخ اور پیلی قبائیں زیب تن کیے، اونچی پھندنے دار ٹوپیاں پہنے، کاندھے سے سامان کے جھولے لٹکائے دبلے پتلے پھرتیلے آدمیوں کا ایک ٹولہ چھلانگیں لگاتا ہوا نمودار ہوا۔ ایک تماشائی نے دوسرے سے ہنستے ہوئے پوچھا کہ یہ کون مسخرے ہیں؟ دوسرے نے خوفزدہ آواز میں جواب دیا کہ یہ وہ لشکر ہے جس کا نام سن کر نامی گرامی پہلوان اور بادشاہ خوف سے پیلے پڑ جاتے ہیں۔ یہ عیاروں کا لشکر ہے اور آگے آگے شہنشاہ عیاراں وقار ملک اپنی شہرہ آفاق زنبیل لٹکائے ہوئے اس کی قیادت کر رہے ہیں۔ اگر تمغہ کسی دوسرے نے بھی جیتا تو دیکھنا اسے ملے گا نہیں اور ان کی زنبیل سے برآمد ہو گا۔ نام انہوں نے اسلام آباد یونائیٹڈ رکھ چھوڑا ہے۔ پہلا تماشائی یہ سن کر پیلا پڑ گیا۔

اگلا دستہ دیکھنے میں دبلا پتلا تھا۔ آگے آگے ان میں سب سے نحیف شخص دکھائی دے رہا تھا کہ ہوا چلے تو اڑ جائے، مینہ پڑے تو بہہ جائے۔ مگر اس گروہ کا نظم و ضبط مثالی تھا۔ اپنے قائد کے ایک اشارے پر وہ جم کر پتھر کے بت بن جاتے۔ دوسرا اشارہ ہوتا تو ان میں بجلیاں بھر جاتیں اور ایک ہنگامہ برپا ہو جاتا۔ میدان میں اعلان ہوا کہ کہ ظفر عمران بھائی اپنی رابطہ ٹیم کے ساتھ آ گئے ہیں اور اب ان کے سامنے کسی کا چراغ نہیں جلنے کا۔ ان میں سے ہر شخص ہی بادشاہ ہے اور بھائی کی رابطہ ٹیم خود کو کراچی کنگز کہلاتی ہے۔ یہ سنتے ہی اس گروہ سے نعرے بلند ہوئے ’ہمیں کپ نہیں کپتان چاہیے۔ بھائی کے اشارے پر کپ بھی قربان ہے‘۔

وہ اپنی جگہ پر جمے تو نقارے پیٹے جانے کی آوازیں آئیں۔ غل مچا۔ اعلان ہوا کہ پشاور زلمی کی ٹیم اپنے نامی کپتان کی قیادت میں تشریف لا رہی ہے۔ دھول کے بادل اٹھے اور پھر ان سے ایک گروہ نمودار ہوا۔ آگے آگے ایسا لحیم شحیم پہلوان تھا کہ عادی پہلوان اسے دیکھ کر شرمائے۔ تن و توش اس کا ایسا تھا کہ چار پہلوانوں کے برابر وہ اکیلا تھا۔ برابر میں اس کے سامان رسد کا ٹھیلا تھا۔ ایک ہاتھ بڑھا کر اس نے ٹھیلے سے ایک بھنا ہوا سالم بکرا اٹھایا، چار مرتبہ منہ چلایا اور بکرے کا وجود مٹایا، پھر چلایا، کہاں ہے وہ کھانے کا ٹورنامنٹ، میری تیاری پوری ہے۔ سامنے لاؤ جو دعوی رکھتا ہو کہ ہم سے بڑھ کر پرفارمنس دکھا سکتا ہے۔ سب تماشائیوں کا دل دہل گیا۔ سب کے دل نے کہا کہ وصی بابا کی پشاور زلمی سب ٹیموں پر ظلم ڈھائے گی۔ کسی کو نہ چھوڑے گی اور سب غنیموں کو دھول چٹائے گی۔

ابھی یہ غل جاری تھا کہ اچانک ڈھول تاشوں کا شور اس پر بھاری ہوا۔ ملنگوں کا ایک ہجوم دھمال ڈالتا ہوا بضد خواری ہوا۔ سر پر دھول، گلے میں مالائیں، آنکھوں میں خواب، گلے میں ڈھول، ہاتھوں میں چمٹے، اپنے اپنے راگ گاتے ہوئے اور حالت مستی و جذب میں رقص کرتے ہوئے یہ لوگ نمودار ہوئے۔ آگے آگے ایک درویش سبز پوش تھا۔ آنکھوں پر اس کی دبیز چشمہ اور غائب اس کا پاپوش تھا۔ کرکٹ کا سامان ان کے پاس نایاب تھا۔ سر پر چھایا بس ایک روشن خیال تھا۔ ایک تماشائی نے دوسرے سے پوچھا کہ یہ کون سی ٹیم ہے، کیا اس کا حال ہے؟ دوسرے نے جواب دیا کہ یہ لاہور قلندر ہیں۔ آگے آگے ان کے ایک درویش نامی وجاہت مسعود ہیں۔ ان کا کیا پوچھتے ہو حال، یہ آئے ہیں صرف ڈالنے دھمال۔ میچ جیتنا ان کا مطمع نہیں۔ کپ کی ان کو طمع نہیں۔ بس اپنے نغمے کہتے ہیں۔ امن و خوشحالی چاہتے ہیں۔

اب صاحبو، فائنل پتہ نہیں کون جیتا۔ پہلوانوں نے تمغہ پایا یا عیاروں نے اڑایا۔ ہم نہیں جانتے کیونکہ وصی بابا کھانے کی دیگوں سمیت غائب ہیں اور مقابلہ نہ ہونے کے سبب کسی ٹیم کو تمغہ نہیں مل پایا۔ ہم تو بس یہ جانتے ہیں کہ باقی ٹیمیں جو بھی کریں لاہور قلندر صرف دھمال ڈالنے ہی آتے ہیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 635 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar