کیا کرکٹ اور جمہوریت گوروں کے تحفے ہیں؟


آپ کرکٹ کھیلتے ہیں؟

یا شیخ نہیں کھیلتا

آپ نے جارج کوکر کی وہ فلم دیکھی ہے؟

نہیں دیکھی سید

آپ کرکٹ دیکھتے بھی ہیں؟

نہیں دیکھتا مرشد

آپ کیا کرتے ہیں پھر؟

سرکار، نوکری پیشہ ہوں۔ جب بیچنے کا سامان ختم ہو جاتا ہے تو گھر آ کر کتاب کھول لیتا ہوں۔ اس سے دل اکتا گیا تو چند پودے ہیں، کیکٹس وغیرہ، ان سے بات کر لی۔ پھر بیوی بچوں کا وقت شروع ہو گیا۔ درمیان میں فیس بک استعمال کر لی۔ گھوم پھر کر پھر کتاب پر واپس۔

کرکٹ اور فلم سے کیوں دور رہتے ہیں؟

 کرکٹ کھیلنا کبھی آیا ہی نہیں۔ نجف خان کہتا تھا، تو بھاگتا ہے تو کسی مہنگی گاڑی کی طرح لگتا ہے۔ میں خوش ہو جاتا تھا۔ ایک دن پوچھا تو ایسا کیوں کہتا ہے نجف خانا۔ کہنے لگا، جیسے ایک اعلیٰ گاڑی رفتار بڑھنے پر روڈ گرپ حاصل کرنے کے لیے سڑک پر بچھ جاتی ہے، ویسے ہی تیز بھاگتے ہوئے تیری ٹانگیں کھل جاتی ہیں، نہ بھاگا کر ایسے۔ حضور، کرکٹ اس دن چھوڑ دی۔

فلم کے لیے اتنی دیر بیٹھنا پڑتا ہے، وہ بہت مشکل کام ہے، پھر یکسوئی بھی نہیں ہو پاتی۔ دماغ آوارہ ہے، گھومتا رہتا ہے۔ کافی چیزیں نکل جاتی ہیں۔ فلم تو دور کی بات، کتاب کا پڑھا یاد نہیں رہتا۔ میرا جی کی نظم پڑھتا ہوں۔ اس کا استعمال ایک تحریر میں کرنے کے خیال پر ایک مہربان کو داد دیتا ہوں۔ جب وہ تحریر سامنے آتی ہے تو نظر سے ہی نہیں گزرتا وہ مصرع۔ مہربانوں کے آگے پانی بھرا کرتا تھا، اب پانی پانی ہوا جاتا ہوں، ایسے میں فلم کون کم بخت دیکھے۔

کرکٹ بھی نہیں دیکھتے؟

یا شیخ، وقت کا ضیاع جانتا ہوں۔

درویش مایوس ہو جاتا ہے۔ تفکر کی گہری پرچھائیں اس کے چہرے پر ہیں۔ مورکھ کو کیا سمجھائے۔ سگریٹ سلگایا، کمرے کی کھڑکی کھولی اور گویا ہوا۔

وقت کبھی ضائع نہیں ہوتا۔ ہر لمحہ آپ کو ایک نئی بات سکھا جاتا ہے۔ اپنا ریسیور طاقت ور رکھیے بس۔ یاد رکھیں، کرکٹ ایک خوب صورت کھیل ہے۔ زندگی کا حسن اس کے اندر موجود ہے۔ کاروبار زیست کی تمثیل آپ کرکٹ میں پائیں گے۔ میری اس بات کا مطلب آپ جائیں اور تلاش کریں۔

درویش کو چائے اور سگریٹ کی صحبت میں چھوڑ کر نیاز مند الٹے قدموں بارگاہ سے پلٹا اور لکھنے کا قصد کیا۔ اب جو بھی ہو، چل میرے خامے بسم اللہ!

کرکٹ کی تاریخ 1787 میں میریلیبون کرکٹ کلب کے قیام سے شروع ہوتی ہے۔ وہ کھیل جو لندن کے شرفا کا کھیل ہے۔ طبقہ امرا اسے کھیل کر خوشی محسوس کرتا ہے۔ اگلے سال اس کھیل کے تاریخ ساز اصول طے کیے جاتےہیں۔ مثلاً پچ پر دونوں جانب وکٹوں کا فاصلہ 22 گز ہو گا، یا ایک بلے باز کیسے آوٹ مانا جائے گا۔

وقت آگے سفر کرتا ہے۔ کھیل دن بہ دن مقبول ہوتا جا رہا ہے۔ گھوڑوں کے ساتھ ساتھ کھلاڑیوں اور ٹیموں پر شرطیں لگنا شروع ہو گئیں ہیں۔ ہزاروں پاونڈز کی ہار جیت، جی ہاں ابھی وہی صدی ہے، تو ہزاروں پاونڈز اور بیسیوں شرطوں کی وجہ سے عوام میں بھی کھیل سے لگاؤ بڑھتا جا رہا ہے۔

اسی بارے میں: ۔  اداکارہ و اسٹیج ایکٹرس نرگس نے توبہ توڑ دی

پھر آہستہ آہستہ کھیل کا مزاج بھی عوامی ہوتا چلا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ اپنے ہی مقبوضہ ملک آسٹریلیا سے

کرکٹ کی تاریخ کا پہلا ٹیسٹ 1877، ملبورن میں کھیلا جاتا ہے۔

پھر آسٹریلیا 1882 میں ایک دورہ کرتا ہے اور اوول کے میدان میں انگلینڈ کو سات وکٹ سے شکست دے دیتا ہے۔ “دی سپورٹنگ ٹائمز” لندن میں ایک سرخی لگتی ہے، “اس انگلش کرکٹ کی یاد میں جو اوول کے میدان میں 29 اگست 1882 کو وفات پا چکی ہے اور جس کی لاش کو جلا کر اس کی راکھ آسٹریلیا بھجوائی جائے گی۔ غم و افسوس کے ان لمحات میں ہم آپ کے ساتھ برابر کے شریک ہیں۔”

اور اس کے بعد پھر وہ ہوتا ہے جسے ہم ایشز سیریز کے نام سے جانتے ہیں۔ 83۔1882 میں تین میچوں کی ایک سیریز آسٹریلیا میں شروع ہوتی ہے، انگلینڈ اس سیریز میں آسٹریلیا سے ایک کے مقابلے میں دو ٹیسٹ جیت کر فاتح قرار پاتا ہے اور ٹرافی کا حق دار بنتا ہے۔ ایشیز دراصل پانچ انچ کی ایک گلدان نما ٹرافی ہے جس میں کرکٹ کی گیند یا وکٹوں پر رکھی جانے والی ’بیلز‘ کی راکھ ہے۔ یہ بات کس قدر سچ ہے اسے گوروں پر چھوڑیں، بس یہ جاننا کافی ہے کہ جیتنے والے کو جو ٹرافی دی جاتی ہے وہ اسی نمونے پر ہوتی ہے۔

غور کیجیے کس طرح سے امرا کا ایک کھیل ہر دل عزیز ہوتا جا رہا ہے۔ آقا اپنے زیر نگیں لوگوں سے کھیل رہے ہیں، تاریخ پر لگا نسلی تفاخر اور غلامی کا داغ دھلتا جا رہا ہے۔

1915 میں پہلی عالمی جنگ کے دوران ایک حملہ ایسا بھی ہوتا ہے جس کی وجہ سے برطانوی کرکٹ کے سرمایہ افتخار ڈبلیو جی گریس بے چین ہو جاتے ہیں۔ دل کا دورہ پڑتا ہے اور سوئے عدم روانہ ہو جاتے ہیں۔ لوگ انہیں ڈاکٹر، دی چیمپین یا صرف ڈبلیو جی کے نام سے بلایا کرتے تھے۔ انتہائی شاندار آل راؤنڈر تھے، ایک ڈیشنگ بیٹسمین اور تباہ کن سلو میڈیم بولر۔ ان کے ایک داڑھی بھی تھی، وہ بھی بڑی تباہ کن تھی۔ گریس پہلے کرکٹر تھے جنہوں نے فرسٹ کلاس کرکٹ میں دو ٹرپل سنچریاں اسکور کیں اور بہت سے دوسرے اعزازات اپنے نام کیے۔ تو جنگ جیسی ہول ناک چیز نے ایسے انسان بھی چھین لیے۔

اب چشم فلک ایک اور دن دیکھتا ہے۔ گورا، کالوں سے بھی کھیلتا ہے۔ یعنی دماغ میں کہیں دور پرے یہ احساس جاگنا شروع ہو گیا ہے کہ بھئی اس نسلی فخر کے دھندے سے نکلو اور کچھ نیا کرو۔ تو انگلینڈ اور ویسٹ انڈیز کے درمیان پہلا ٹیسٹ 26 جون 1928 کو لارڈز کرکٹ گراؤنڈ میں کھیلا جاتا ہے۔ انگلینڈ یہ ٹیسٹ میچ 58 رنز سے جیت جاتا ہے۔ اور تاریخ پڑھنے والے طالب علموں کے دل بھی جیت لیتا ہے کہ بھئی کیسے لوگ تھے۔ گورے اور کالے میں کوئی فرق روا نہ رکھا۔ ہم تو مخالف فرقے والے سے بات نہ کریں۔ گئے وقتوں کے لوگ تھے۔ اب ملکوں ملکوں یہ نایاب جنس ڈھونڈتے پھرئیے۔

اسی بارے میں: ۔  ہم بار بار مرنا پسند کرتے ہیں

دوسری جنگ عظیم کے خاتمے کے بعد انگلینڈ میں کرکٹ سرگرمیاں کی بحالی شروع ہوتی ہے۔ پانچ برس کے وقفے کے بعد فرسٹ کلاس میچز شروع ہوتے ہیں۔ کھلاڑیوں اور جنگ سے دہشت زدہ لوگ ان مقابلوں میں جوش وخروش سے حصہ لیتے ہیں۔ کاروبار زندگی کچھ معمول پر آتا ہے۔

بر صغیر میں کرکٹ پارسی اپنے ساتھ لے کر آتے ہیں۔ پارسی بے ضرر اور کاروباری لوگ تھے۔ حکومتی اہلکاروں کے لیے قابل بھروسہ تھے۔ تو ایران سے آنے کے بعد یہاں کرکٹ کی شروعات کر دی۔ وقت گزرتا ہے، برصغیر سے انگریز دو ملک بنا کر نکل جاتا ہے۔ لکیر پٹتی ہے۔ خون بہتا ہے۔ زخم بھرتے ہیں مگر اندر سے ہرے رہتے ہیں۔

1952 میں پاکستان کو ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے کا درجہ ملتا ہے۔ نیلی آنکھوں والے فضل محمود اگست 1954ء میں لندن کے تاریخی میدان اوول میں پاکستان کو شاندار فتح سے ہم کنار کرواتے ہیں۔ فضل محمود پر کبھی ایک الگ تحریر ہو گی۔ یہاں حق ادا نہیں ہو سکتا۔ ان کے بعد بھی کرکٹ پاکستان میں اپنے عروج پر رہتی ہے۔

کرکٹ قدر مشترک ہے جو برطانیہ کی تمام نوآبادیات میں پائی جاتی ہے۔ نشان اس چیز کا ہے کہ کھیل کے میدان میں سب برابر ہیں۔

اسی طرح زندگی سے بھی کس قدر مشابہت ہے۔ ایک پل کا بھروسہ نہیں۔ لاکھ تیاری کر لیجیے، اگلے پل آپ آوٹ ہو سکتے ہیں۔ ہر اگلی گیند ہر اگلی سانس ہے۔ کوئی بارہواں کھلاڑی رہ کر عمر تمام کر جاتا ہے۔ کوئی اوپنر جاتا ہے اور کسی کو کھیلنے کا موقع ہی نہیں دیتا۔ آپ چھکا لگائیں گے، ادھر کیچ ہو جائے گا۔ آپ کھیل جائیں گے ‘شریکے’ ایل بی ڈبلیو کر دیں گے۔ آپ رن لیں گے، لیکن کوئی اور وکٹ پر گیند مار دے گا۔ امپائر کبھی نیوٹرل مل گیا تو اچھی بات، نہیں تو کوئی روند بھی ماری جا سکتی ہے۔ جذبات کا ادھر بھی کوئی کام نہیں۔ غصہ ادھر بھی آپ کی شکست بن سکتا ہے۔ سپورٹس مین سپرٹ کھیل کے میدان میں اور باہر، دونوں جگہ زندگی کا تقاضا ہوتا ہے۔

درویش سے پوچھا۔

یا شیخ۔ زندگی اور کرکٹ کا یہ موازنہ ٹھیک ہے؟

درویش نے کہا۔ جائیں اور زندگی کے خوب صورت پہلو تلاش کریں۔ امن ڈھونڈیں، سکون تلاش کریں۔ ہر وہ چیز جس میں آپ کو خوب صورتی نظر آئے اسے اپنا لیں۔ انسان سے محبت کریں۔ انسانیت سے محبت کریں۔ اور کرکٹ اگر انسانوں کو جوڑتی ہے تو اس سے بھی محبت کریں۔ اور کچھ نہیں کرتے تو فی الحال پی ایس ایل کا فائنل دیکھیں!


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

حسنین جمال

حسنین جمال کسی شعبے کی مہارت کا دعویٰ نہیں رکھتے۔ بس ویسے ہی لکھتے رہتے ہیں۔ ان سے رابطے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں۔ آپ جب چاہے رابطہ کیجیے۔

husnain has 335 posts and counting.See all posts by husnain