پی ایس ایل فائنل اور جذبہ حب الوطنی


(چوہدری ذوالقرنین ہندل)۔

آج شب لاہور قذافی اسٹیڈیم میں پاکستان سپر لیگ کے فائنل میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز اور پشاور زلمی کی ٹیمیں مد مقابل ہوں گی۔ جس میں ملکی و غیر ملکی کھلاڑی بھی شرکت کریں گے۔ زمبابوے کے پاکستان دورے کے بعد یہ پہلے بین الاقوامی سطح کے کرکٹ میچ کا پہلا میلا سجا ہے۔ جس میں شائقین بڑھ چڑھ کر شرکت کر رہے ہیں۔ پی ایس ایل ٹورنامنٹ کے باقی تمام میچز دبئی میں کھیلے گئے۔ فائنل لاہور کرانے کا فیصلہ بہت پہلے کا تھا مگر لاہور اور ملک بھر میں گزشتہ دنوں دہشت گردی کی لہر نے جہاں پاکستانی اداروں پر سوالیہ نشان اٹھائے وہیں پی ایس ایل فائنل پر بھی سوال بننے لگے۔ مگر پاکستان آرمی چیف اور حکومت نے یک طرفہ فیصلہ جاری کیا کہ پی ایس ایل کا فائنل ہر حال میں پاکستان میں ہی کھیلا جائے گا۔ ریاست کے اس فیصلے سے غمزدہ لوگوں میں ایک خوشی کی لہر اٹھی ایک نیا ولولہ اٹھا۔ یہ ولولہ یہ جذبہ حب الوطنی کا ہے۔ پاکستانی قوم نے اپنی تاریخ میں بڑے دلسوز اور خوفناک واقعات و حالات دیکھے اور ایسے حالات سے دو چار اس قوم میں صبر اور برداشت کا بھی عنصر شامل ہوگیا۔ اس قوم نے ہر مشکل میں دوبارہ چلنا سیکھ لیا۔

گزستہ دنوں دہشتگردی نے لوگوں کے دلوں میں طرح طرح کے وسوسے چھوڑے لوگوں کے دل و دماغ پر خوف کی چھاپ نے جمنے کی کوشش کی۔ مگر یہ قوم غم و خوف کی اس منزل پر ہے کہ دشمن کی مزید کارروائی اس قوم کو دھکیلنے کی بجائے اچھالے گی۔ خیبر سے پنجاب سندھ بلوچستان کشمیر اور بلتستان پورا وطن پوری قوم گزشتہ دنوں غم کی لپیٹ میں تھی۔ پھر اس قوم نے دشمن کی مات کے لئے ایک راستہ چنا اور پی ایس ایل فائنل کی کامیابی کی صورت میں دشمن کو اس کیناکامی کا پیغام پہنچانے کی تیاریوں میں مصروف ہے۔ اس قوم میں حب الوطنی کا جو جذبہ ہے اسے شاید دشمن کبھی کم نہیں کرسکتا۔ آج لاہور قذافی اسٹیڈیم میں پورا وطن ہر صوبے کے نمائندگان جن میں بزرگ معصوم بچے اور نوجوان جذبہ حب الوطنی کے تحت پوری دنیا تک پر امن پاکستان کا پیغام پہنچا رہے ہیں۔ دشمنوں کی دہشتگردی کے واقعات نے جہاں اس قوم کو صبر اور برداشت کی طرف گامزن کیا ہے وہیں ثابت قدمی بھی ان میں بڑھتی جا رہی ہے۔ ثابت قدمی کسی بھی قوم کی ترقی کی ضمانت ہے۔ پاکستان نے آپریشن ردالفساد اور پی ایس ایل فائنل کی شکل میں اپنی ثابت قدمی کے ثبوت پیش کیے ہیں۔ دشمن اگر طویل عرصے تک ہمارے خلاف پرپیگنڈہ کر سکتا ہے تو ہم بھی ان کی سازشوں سے نمٹنے کے لئے ثابت قدم ہیں۔ مجھ سمیت بہت سے لکھاری متعدد بار ثابت قدمی کی افادیت پر لکھ چکے ہیں۔ امید ہے کہ پاکستان نے جس ثابت قدمی کی ابتداء کی ہے اس پر گامزن رہے گا۔

گزشتہ دنوں ملک کے نامور سیاستدان اور اور نامور کرکٹرز نے پی ایس ایل فائنل لاہور کروانے کو پاگل پن قرار دے دیا۔ میں انہیں بس یہ ہی جواب دینا چاہتا ہوں کہ اگر خوف اور دشمن کے خلاف لڑنا پاگل پن ہے تو ہاں ہم پاکستانی پاگل پن کا شکار ہیں اور ہم اسی طرح دشمنوں کی سازشوں کے خلاف ثابت قدم رہیں گے۔ قومیں کبھی اس وقت تک دشمنوں کا مقابلہ نہیں کرسکتیں جب تک وہ اپنے اندر موجود خوف کا مقابلہ نہ کرلیں۔ الحمداللہ پاکستانی قوم خوف کو اور دشمن کو ہمیشہ کے لئے شکست دے گی۔ دوسری بات جو بیرون ممالک کھلاڑی پاکستان نہیں آئے ان کے لئے، پاکستان میں سی پیک کے لئے نو ممالک کے صدور آسکتے ہیں غیر ملکی فوجیں امن مشقیں کر سکتی ہیں مختلف ممالک تجارت کے لئے ہمارا راستہ استعمال کرنا چاہتے ہیں اور تم کچھ گھنٹوں کے لئے میچ نہیں کھیل سکتے بزدل ہو گھر سے باہر نہ نکلا کرو۔

دہشتگردی کے واقعات تو بھارت فرانس اور جرمنی وغیرہ میں بھی ہوتے ہیں۔ کیا وہاں لوگ کھیلنا چھوڑ دیتے ہیں؟ نہیں ہر گز نہیں۔ ہم بھی کھیلنا نہیں چھوڑیں گے۔ چاہے کوئی غیر ملکی آئے یا نا آئے۔ جو غیر ملکی پاکستان آئے ہیں انہیں تہہ دل سے خوش آمدید۔ انشاء اللہ یہ کھلاڑی پاکستان سے امن کا پیغام لے کر جائیں گے۔ قارئین دیکھیں آج بلوچستان کی ٹیم کوئٹہ گلیڈی ایٹر اور خیبر پختونخواہ کی ٹیم پشاور زلمی قذافی اسٹیڈیم لاہور میں ایک دوسرے کے خلاف نہیں بلکہ دشمن کے خلاف کھیلیں گی اور دشمن کے مقدر میں ہی شکست ہوگی اور درحقیقت صبح اخبارات پر دشمن کی شکست کی خبریں ہوں گی۔ یاد رہے کے بلوچستان اور خیبر پی کے میں دشمن نے نفرت پھیلانے کے لئے بڑی سازشیں کیں مگر اس غیور قوم نے ڈٹ کر مقابلہ کیا اور آج بھی دشمن کا مقابلہ کرنے لوگ خیبرپی کے بلوچستان سندھ اور پنجاب کے مختلف مقامات سے آئے ہیں۔ میرے نزدیک پی ایس ایل کا فائنل کروانا ایک اچھا اور مثبت قدم ہے چاہے لاہور کے کچھ حصے بند ہیں۔ کیوں کہ نہ تو کبھی سکول پر حملوں کی وجہ سے ہم نے تعلیم حاصل کرنا چھوڑی نہ ہی مسجدوں پر حملوں کی وجہ سے نماز پڑھنا۔ دشمن کی کارویوں پر ہم جھک نہیں سکتے نہ ہی گھروں میں بیٹھ کر خوف کی کیفیت میں رہ سکتے ہیں۔ ہمیں آگے بڑھنا ہے مقابلہ کرنا ہے۔ پاکستان زندہ باد۔ پائندہ آباد۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔