کھیل، میلے اور علاقائی تہوار کیوں ضروری ہوتے ہیں؟


کبھی آپ نے سوچا ہے کہ مختلف قومیں کیوں اتنی زیادہ رقم خرچ کر کے اولمپک اور مختلف کھیلوں کے ورلڈ کپ وغیرہ اپنے ملک میں کرانے کی کوشش کرتی ہیں؟ مختلف علاقائی میلوں اور تہواروں کی کیا ضرورت ہے؟ کیا یہ فضول خرچی نہیں ہے اور کیا اس رقم کو کسی بہتر مصرف میں نہیں لایا جا سکتا ہے؟  کیا دہشت گردی کی اس فضا میں پی ایس ایل کا فائنل لاہور میں کرانے کا فیصلہ درست ہے؟

سب سے پہلے تو رقم کا معاملہ ہی لے لیتے ہیں حالانکہ کسی میلے یا تہوار وغیرہ میں اس کی اہمیت ثانوی ہوتی ہے۔

جب کسی شہر میں کوئی میلہ ہوتا ہے تو دور دور سے لوگ اس میں شرکت کے لئے آتے ہیں۔ آپ کو لاہور کا بسنت کا میلہ یاد ہو گا۔ دنیا بھر سے لوگ اس میں شریک ہونے کے لئے آیا کرتے تھے۔ یہ لوگ لاہور میں اپنی رہائش پر بھی رقم خرچ کرتے تھے، ادھر کے ہوٹلوں اور ریستورانوں میں دعوتیں بھی اڑاتے تھے، پتنگ سازی کی ایک پوری انڈسٹری ان کی وجہ سے قائم تھی، یہاں سے یہ تحفے تحائف بھی خریدا کرتے تھے۔ سفر اور تفریح کے دوسرے مراکز پر بھی ان کی جیب سے پیسہ نکل کر مقامی تاجروں کی جیب میں منتقل ہوا کرتا تھا۔

ایک طرف ان شرکت کرنے والوں کی سال بھر کی ٹینشن اس دو تین دن کے تہوار میں نکل جاتی تھی اور دوسری طرف لاہور کی مقامی معیشت میں اچھے بھلے پیسوں کا کاروبار ہو جاتا تھا جس سے متمول افراد کی جیب سے رقم نکل کر محنت کشوں کو منتقل ہو جایا کرتی تھی۔

جب پرویز مشرف کے دور میں بسنت کو سرکاری سرپرستی حاصل ہوئی تو یہ کارپوریٹ سیکٹر کی توجہ حاصل کرنے میں بھی کامیاب ہو گیا۔ پاکستان اور دنیا کی بڑی کمپنیاں اس سے متعلق سرگرمیوں پر پیسہ خرچ کرنے لگیں۔ یوں لاہور کے سیاحت کے شعبے میں اور دیگر صنعتوں میں اچھی بھلی رقم آنے لگی۔

اسی چیز کو اب دبئی کے تناظر میں دیکھیں۔ کیا وجہ ہے کہ کبھی ادھر دبئی شاپنگ فیسٹیول چل رہا ہوتا ہے کبھی کوئی دوسرا میلہ۔ وہ ایسی سرگرمیوں کو ترویج دیتے ہیں تاکہ مقامی افراد کے علاوہ دنیا بھر کے سیاح وہاں پہنچیں اور اپنا پیسہ مقامی معیشت میں منتقل کر دیں۔ برازیل میں ریو ڈی جنیرو کا کارنیوال دنیا بھر میں مشہور ہے اور اس کے منعقد ہونے پر دنیا بھر سے سیاح ریو کا رخ کرتے ہیں۔

یعنی مقامی معیشت کے لئے وہ پیسہ اہم ہے جو کہ ان تہواروں اور میلوں کے ذریعے گردش میں لایا جاتا ہے۔

ان میلوں کے انعقاد کے سلسلے میں حکومت، مقامی شہریوں اور مقامی اداروں کا اشتراک بھی چاہیے ہوتا ہے۔ جب یہ تسلسل سے یہ سرگرمی ہونے لگے تو رفتہ رفتہ حکومت اور شہریوں کے درمیان ایک ہم آہنگی اور رفاقت کا احساس پیدا ہونے لگتے ہیں۔ حکومت، تاجر اور شہری مل کر مختلف منصوبوں پر کام کرنے کی طرف مائل ہونے لگتے ہیں۔ یہ معاشرے کے مختلف طبقات کو جوڑنے والا ایک ایسا عنصر ہے جو کہ ترقی اور خوشحالی کے لئے اہم ہوتا ہے۔

لیکن ان میلوں اور تہواروں کا سب سے اہم اثر معاشی نہیں بلکہ معاشرتی ہوتا ہے۔

لوگ رقم خرچتے ہیں اور خوشیاں حاصل کرتے ہیں۔ ایک طویل مدت پہلے سے مقامی شہری اور اس میلے میں دلچسپی رکھنے والے اس کی تیاری شروع کر دیتے ہیں۔ جب یہ منعقد ہوتا ہے تو جوش خروش سے اس میں شرکت کرتے ہیں۔

مقامی میلے اور تہوار یا مختلف تفریحی سرگرمیاں شہریوں میں ایک کمیونٹی ہونے کا احساس پیدا کرتے ہیں۔ جب بسنت کا تہوار ہوا کرتا تھا تو لاہوری پاکستان بھر میں خوب سینہ پھلا کر گھوما کرتے تھے۔ مختلف ملکوں اور شہروں سے لوگ لاہوریوں سے اپنا تعلق نکالتے تھے تاکہ کسی اچھی جگہ پر پتنگ بازی کر سکیں۔ بسنت لاہور کی شناخت تھا۔ اس کا اثر ادھر بھارت تک میں محسوس کیا جانے لگا تھا۔ امرتسری حسرت سے لاہور کا پتنگوں سے رنگین آسمان دیکھا کرتے تھے اور رشک کرتے تھے۔ پھر لاہور کی نقل میں امرتسر اور بھارت کے دوسرے شہروں میں بھی بسنت منائی جانے لگی تھی۔

کھیلوں کے مقابلے خاص طور پر اہم ہوتے ہیں کیونکہ ان میں مقابلے کی فضا بھی نمایاں ہوتی ہے۔ آپ کو یاد ہو گا کہ شارجہ میں جاوید میانداد کا چھکا ایک اساطیری حیثیت اختیار کر گیا ہے۔ اس کے بعد کئی سال تک پاکستانیوں کا مورال بے انتہا بلند تھا۔ خاص طور پر مشرق وسطی میں پاکستانیوں اور بھارتیوں کی مستقل رقابت میں اب پاکستانیوں کا پلڑا بھاری ہو چکا تھا۔

آپ کو فٹ بال کے ورلڈ کپ بھی یاد ہوں گے۔ پاکستان میں فٹ بال ایک مقبول عام کھیل نہیں ہے مگر جب ورلڈ کپ ٹی وی پر ٹیلی کاسٹ ہوتے ہیں تو ہر گلی محلے میں بچے فٹ بال کھیلتے دکھائی دیتے ہیں۔ کوئی میسی بنا ہوتا ہے تو کوئی رونالڈو۔ بچے اپنے محبوب کھلاڑیوں کے انداز میں کھیلنے کی کوشش کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

مقامی شہروں میں ہونے والے کرکٹ مقابلوں کا بھی یہی معاملہ ہے۔ جب نوجوان انہیں دیکھنے جاتے ہیں تو اپنے پسندیدہ کھلاڑیوں کی طرح کھیلنے کی کوشش کرتے ہیں جس سے کرکٹ اور زیادہ ترقی کرتی ہے۔

اہم کرکٹ میچوں کے زمانے میں آپ نے یہ بھی دیکھا ہو گا کہ تمام پاکستانی اپنے باہمی جھگڑے بھلا کر پاکستان زندہ باد کے نعرے بلند کر رہے ہوتے ہیں۔ کرکٹ میچوں کے دوران سب پاکستانی اپنے لسانی اور علاقائی اختلافات بھلا کر پاکستان کی ٹیم کا ساتھ دے رہے ہوتے ہیں۔ مختلف قومی گروہوں میں جیسے کرکٹ کی وجہ سے اتفاق پیدا ہوتا ہے وہ کسی دوسرے موقعے پر آپ کو دکھائی نہیں دے گا۔

کہنے کو تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ پچانوے فیصد پاکستانی مسلمان ہیں اور انہیں مذہب سے زیادہ کچھ دوسرا عنصر نہیں جوڑ سکتا مگر ہمیں یہ بھی دیکھنا ہو گا کہ ہم بطور قوم ایک دن ہی چاند دیکھنے پر بھی متفق نہیں ہوتے ہیں اور ہر مرتبہ ملک بھر میں دو تین مختلف دن عید منائی جاتی ہے۔ ملک بھر میں جو مسلکی اختلاف کی بنیاد پر تفرقہ بازی بلکہ دہشت گردی تک ہو رہی ہے، وہ بھی محل نظر رہنی چاہیے۔

جبکہ کرکٹ کے میچ کے موقعے پر سب شہری اپنے اپنے مسلک اور مذہب سے بالاتر ہو کر صرف اور صرف پاکستان سے محبت کرنے والے جذباتی پاکستانی بنے ہوتے ہیں۔

اس وقت پاکستان دہشت گردی کی شدید لہر کی لپیٹ میں ہے۔ دہشت گردوں کا مقصد کیا ہوتا ہے؟ دہشت گردوں کا مقصد خوف پھیلا کر قوم کا مورال تباہ کرنا ہوتا ہے۔ وہ قوم کو شکست خوردگی کے احساس میں مبتلا کرنا چاہتے ہیں۔ ایسے مواقع پر پی ایس ایل کا فائنل لاہور میں کروانا میاں نواز شریف کا ایک جرات مندانہ اور صائب فیصلہ ہے۔ اس سے قوم میں جوش و جذبے کی ایک نئی لہر پیدا ہوئی ہے۔ خاص طور پر جو پشتون اس بات پر ناراض تھے کہ پنجاب اور سندھ میں ان کی خاص چیکنگ کی جا رہی ہے، اب وہ لاہور کے شہریوں کی طرف سے پشاور اور کوئٹہ کی ٹیموں کی پرجوش حمایت دیکھ کر اپنے لئے اہل لاہور کی محبت بھی محسوس کر رہے ہوں گے۔

بی بی سی کی خبر کے مطابق ’سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر دنیا بھر کے ٹرینڈ میں اولین نمبر پر ”پی ایس ایل فائنل لاہور“ تھا اور ساتویں نمبر پر پی ایس ایل کے چیئرمین نجم سیٹھی ٹرینڈ کر رہے تھے جبکہ اگر صرف پاکستان کے ٹرینڈز پر نظر ڈالی جائے تو پہلے دس میں سے نو ٹرینڈ پی ایس ایل سے متعلق تھے۔ ‘ پاکستان کے گوشے گوشے سے شہری لاہور میں یہ میچ دیکھنے آئے ہیں۔ حالانکہ چند دن قبل ہی لاہور دہشت گردوں کا نشانہ بنا ہے مگر اس میچ کی وجہ سے یکلخت لاہور سے خوف کے بادل چھٹ گئے ہیں اور دہشت گرد اپنے مقصد میں ناکام ہو گئے ہیں۔

یہ درست ہے کہ اس موقعے پر مزید دہشت گردی کا بھی امکان تھا۔ مگر یہ میچ نہ بھی کرایا جاتا تو کیا شہر میں ایسے دوسرے پرہجوم مقامات موجود نہیں ہیں جنہیں دہشت گرد کسی بھی وقت نشانہ بنا سکیں؟ محض دہشت گردی کے امکان کی وجہ سے شہریوں کو خوف میں مبتلا رکھنا دہشت گردوں کے ہاتھوں میں کھیلنے کے مترادف ہے۔ وہ یہی تو چاہتے ہیں کہ ہم اپنے عام معمولات کو ترک کر دیں اور خوشیوں کی بجائے ڈر ہمارے گھروں میں راج کرے۔

آئیے اس میچ پر خوشیاں منائیں۔ اس دلیرانہ فیصلے پر حکومت کی تعریف کریں۔ اور پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کے لوٹنے کی دعا کریں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 635 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar