ہماری ٹیم کوئٹہ کے خلاف دھاندلی ہوئی ہے


اب جبکہ سب کے علم میں یہ بات آ چکی ہے کہ ہم کوئٹہ گلیڈی ایٹر کی حمایت کر رہے تھے، تو کرکٹ سے محبت کرنے والے افراد اس کی ہار کی وجوہات پر ہمارے تبصرے کی فرمائش کر رہے ہیں۔ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز سے بہتر ٹیم کوئی دوسری نہیں تھی۔ اسی وجہ سے ہم اپنے شہر لاہور کے قلندروں کی بجائے کوئٹہ کے گلیڈی ایٹروں کی حمایت پچھلے سال سے کرتے آ رہے ہیں۔ فائنل ہارنے کی وجوہات کا تجزیہ کرتے کرتے ہم پر کئی حیرت انگیز انکشافات ہوئے ہیں۔

سب سے پہلے تو ہمیں یہ پتہ چلا ہے کہ کرکٹ میں پیسے کا فیکٹر سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ کل آپ نے دیکھا ہو گا کہ ڈیرن سیمی نے کیسے دو اووروں میں ہی میچ کا پانسا پلٹ دیا۔ بڑے بڑے بیٹسمین سکور کرنے میں ناکام دکھائی دے رہے تھے۔  مگر ساتویں نمبر پر بیٹنگ کرنے والا ڈیرن سیمی چھکوں کی برسات کر کے 254 کے سٹرائیک ریٹ سے 28 سکور بنا لے اور ناٹ آؤٹ رہے؟ ہمیں معتبر ذرائع نے بتایا ہے کہ یہ پیسے کی چمک ہے۔ ڈیرن سیمی کو پشاور زلمی کے کرتا دھرتاؤں نے کثیر رقم دے کر یہ میچ کھلایا تھا۔ بلکہ یہ میچ کیا، ڈیرن سیمی کو بہت بڑی رقم دے کر پی ایس ایل میں شمولیت کے لئے راضی کیا گیا تھا۔ ڈیرن سیمی کی اس ٹورنامنٹ میں شرکت ہی ایک بہت بڑے گھپلے کی نشاندہی کرتی ہے۔ بھلا چھے فٹ سات انچ کے کھلاڑی کو اس ٹورنامنٹ میں کھلانے کی کیا وجہ ہو سکتی ہے؟ صرف یہ کہ جب یہ باؤل کرے تو اس کا ہاتھ سائٹ سکرین سے اوپر نکل جائے اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے بیٹسمین کو بال دکھائی ہی نہ دے۔ میچ کی انتظامیہ میں شامل ایک شخص نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر یہ بھی بتایا ہے کہ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی باری پر وہ گیند استعمال نہیں کی گئی ہے جس سے پشاور زلمی کو کھلایا گیا تھا۔

باخبر حلقوں میں تو یہ بات بھی سننے میں آ رہی ہے کہ امارات کے کسی مقام پر ان کھلاڑیوں کی پی ایس ایل کے میچوں کے سلسلے میں باقاعدہ نیلامی ہوئی تھی جس میں بڑے بڑے نام بک گئے تھے۔ ہمارے مخبر نے یہ بھی بتایا ہے کہ کرکٹ بورڈ میں بھی پیسہ چل رہا ہے۔ کرکٹ بورڈ کے تمام اہلکاروں کو ہر مہینے کی پہلی تاریخ کو ایک بڑی رقم ان کے گریڈ کے مطابق یوں دی جاتی ہے کہ کسی دوسرے کو خبر نہیں ہوتی ہے۔ تشہیری کمپنیاں اور ٹی وی چینل وغیرہ کے بارے میں بھی پتہ چلا ہے کہ وہ اس ٹورنامنٹ کے سلسلے میں بے شمار پیسے کرکٹ بورڈ کو دے چکے ہیں۔

کل کے فائنل میچ میں تو معاملہ اس حد تک بگڑا کہ تماشائیوں سے بھی میدان میں داخلے کے لئے جگا ٹیکس وصول کیا گیا۔ کرکٹ بورڈ کے چند درجن چہیتے اور محض ایک ہزار طالبات اور پانچ سو معذور افراد اس جگا ٹیکس سے بچ کر بغیر پیسہ لگائے اندر جانے میں کامیاب ہوئے۔ باقی سب سے پیسے لئے گئے اور جواب میں ایک پرچی ان کو پکڑا دی گئی جس پر لکھا ہوا تھا ’ٹکٹ‘۔

ہمیں یہ بھِی پتہ چلا ہے کہ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے کپتان یہ مطالبہ کرنے والے ہیں کہ سکوروں کی دوبارہ گنتی کرائی جائے کیونکہ ان کو کسی نے بتایا ہے کہ سکوروں کی گنتی میں دھاندلی ہوئی ہے۔ یہ بھِی علم ہوا ہے کہ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو مشروبات فراہم کرنے والی گاڑی کے ٹائر بھی پنکچر نکلے جس کی وجہ سے وہ اس وقت مشروبات نہیں پہنچا سکی جس وقت کوئٹہ کے کھلاڑی پیاس سے نڈھال ہوئے جا رہے تھے۔ ہمارے مخبر نے بتایا ہے کہ وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ اس گاڑی کے قریب ہی نجم سیٹھی کھڑے دانتوں میں خلال کر رہے تھے اور ان کے ہاتھوں میں ٹوتھ پکس کی پوری ڈبیہ تھی۔

یہ بھِی پتہ چلا ہے کہ لائٹوں میں بھِی گڑبڑ کی گئی ہے۔ آپ کو یقین نہیں آئے گا مگر ایک تماشائی نے بتایا ہے کہ کوئٹہ کی بیٹنگ کے وقت ہر ٹاور پر کم از کم ایک فیوز بلب اس نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ وہ تو یہ کھلی دھاندلی دیکھ کر اس حد تک چکرا گیا کہ سارا وقت میچ کی بجائے بتیاں ہی دیکھتا رہا۔ درجنوں بلبوں میں سے ایک بلب کی نشاندہی کرنا واقعی اس تماشائی کی بصیرت کا شاہد ہے۔

کرکٹ میں اتنی زیادہ دھاندلی دیکھ کر ہی اساطیری کرکٹر سر ویوین رچرڈ آبدیدہ ہو گئے۔ ان کی اس تصویر کو آپ خود ملاحظہ کر سکتے ہیں کہ وہ کرکٹ کی اس زبوں حالی کو دیکھ کر کیسے آٹھ آٹھ آنسو رو رہے ہیں اور افسوس کر رہے ہیں کہ ان کی اتنی محنت سے سدھائی ہوئی ٹیم کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو ڈیرن سیمی اور دوسرے کھلاڑی کس طرح حریف ٹیم سے پیسے لے لے کر مار رہے ہیں۔

جب یہ سب کچھ ہو گا تو پھر کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کیسے فائنل جیت سکتے ہیں؟ ہر محب وطن پاکستانی کو یہ مطالبہ کرنا چاہیے کہ کرکٹ سے پیسے کا خاتمہ کیا جائے تاکہ ہمارے من چاہے ریزلٹ آئیں۔

اب انصاف تو یہی ہے کہ اس دھاندلی کی تحقیقات کے لئے عدالتی کمیشن بنا کر یہ میچ دوبارہ کرایا جائے اور اس وقت تک یہ عمل دہرایا جاتا رہے جب تک حق کی فتح نہیں ہو جاتی ہے، یعنی ہماری ٹیم کوئٹہ گلیڈی ایٹر نہیں جیت جاتی ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 694 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar