حب الوطنی درست مگر سر ویوین رچرڈز کیو ں روتا ہے؟


پچھلے دنوں برادرم عابد میر اسلام آباد تشریف لائے تھے۔ دھیمے سروں میں گفتگو کرنے والے عابد میر سے محترم روش ندیم صاحب کی رفاقت میں بہت خوبصورت نشست رہی۔ نشست کیا تھی بس محبتوں کا بہتا دریا تھا بلکہ برادرم عابد میر کے بقول ہم تینوں نے ادیبوں، اداروں اورریاستی استحصالیوں کی خوب غیبت کر کے ثواب کمایا۔ کھانے کی اس نشست سے پہلے لوک ورثہ میں اسلام آباد کچھ احباب کے ساتھ نشست تھی جو عابد میر سے بلوچستان کے مسائل جاننا چاہتے تھے اور ان کا حل تجویز کرنا چاہتے تھے۔ اس نشست کے میرمحفل چونکہ عابد میر تھے اس لئے اگر کبھی وہ یہ روداد لکھیں گے تو بہت پر لطف رہے گی۔ ہم سینہ چاکان چمن اگر حرف آرائی کریں گے تو حب الوطنی کو چوٹ لگنے کے قومی امکانات ہیں۔ ایک بات البتہ نام لئے بغیر لکھنی پڑ رہی ہے کہ اس نشست کا تذکرہ دراصل اسی بات کی خاطر کیا۔ احباب نے بار بار برادرم عابد میر کو مخاطب کرتے ہوئے ایک اصطلاح ’’ ناراض بلوچ‘‘ کا تسلسل سے استعمال کیا۔ دو چار گردانوں کے بعد مرنجاں مرنج عابد میر نے اپنے مخصوص دھیمے سر میں کہا، ’بھائی ہم ناراض بلوچ نہیں ہیں۔ ہم بیزار بلوچ ہیں‘۔

پچھلے دنوں سوشل میڈیا پر ’ پشتون پروفائلنگ‘ پر جو احتجاج کی کیفیت تھی، اس پر ہم نے بھی کچھ گزارشات کی تھیں۔ احباب نے برا منایا۔ کچھ فتوے لگے۔ غداری کی بو سونگھ لی گئی۔ ہندوستانی خفیہ ایجنسی ’را‘ سے لے کر مرحوم ’خاد‘ تک ذکر ہوا جس میں ہماری ستائش کی گئی تھی۔ کچھ احباب گھر، گریبان تک پہنچ گئے۔ وہ ذکر اب بے معنی ہے کیونکہ بقول عابد میر ہم ناراض نہیں بیزار ہیں اب۔ ہمیں اپنی حب الوطنی ثابت کرنے کے لئے کسی اکیس گریڈ یا چار گریڈ کے کالم نگار کے سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں ہے۔ کالم کا موضوع اپنی ذات کی تشہیر یا وضاحت دینے کا نہیں ہوتا۔ ہم سر جھکا کر خاموشی سے اپنی بات لکھتے رہیں گے۔ بات جاری رہے گی۔ پڑھنے والے کی سمجھ پر لکھنے والے اعتماد ہوتا ہے۔ نتیجہ خود بخود نکلے گا۔

اس پورے پس منظر میں البتہ کچھ باتیں ذات پات سے جڑ گئیں یا جوڑی گئیں۔ اس لئے کچھ اصولی باتی دہرا لیتے ہی۔ دیکھیے، پیدائش مرضی کا معاملہ نہیں ہوتا۔ کوئی پٹھان پیدا ہو کر پنجابی یا سندھی زبان پر مہارت حاصل کر سکتا مگر اپنی شناخت بدل نہیں سکتا۔ شناخت پیدائش کا اتفاق ہے۔ اس لئے کسی شخص کو شناخت کی بنیاد پر خود سے کم تر یا خود کو کسی پر برتر سمجھنا جہالت اور اقدار کی بدترین پسماندگی ہے۔ انسانیت کے درمیان مساوات کا مقصد یہی ہے کہ پیدائش کے امتیاز کو منفی کیا جائے۔ قوم، قبیلے، ذات پات کا ذکر کرتے ہوئے یہ خیال رکھنا چاہیے کہ اچھائی اور برائی کے پیمانے مجموعی نہیں ہوتے اور نہ ہی ہو سکتے ہیں۔ امریکی جنگوں کی بنیاد پر امریکی قوم کو قاتل نہیں کہا جا سکتا۔ ہٹلر کے مظالم کی بنیاد پر جرمن قوم کو کٹہرے میں کھڑا نہیں کیا جا سکتا۔ نیلسن منڈیلا کی جدوجہد کی بنیاد پر جنوبی افریقی قوم کو برتر تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔ دہشت گردوں کے مسلمان ہونے پر مسلمانوں پر دہشت گرد کا لیبل چسپاں نہیں کیا جا سکتا۔ اس لئے مکالمے میں کسی قوم قبیلے کا ذکر مجموعی تناطر میں نہیں کیا جاتا۔

یہ جان لینا چاہیے کہ تمام انسان صلاحیت، مرتبے اور حقوق میں برابر ہیں۔ جرم یا تشدد کی کوئی لسانی یا قبیلوی شناخت نہیں ہوتی۔ قوم قبیلہ مجموعی طور پر کند ذہن، کم عقل یا تشدد پسند نہیں ہوتا۔ گورا، کالا، لمبا یا موٹا انسانی شناخت کی علامت نہیں ہوتے۔ نسل پرستی ایک بدترین تصور ہے جو انسانوں میں امتیاز برتنے کا اصول بن چکا ہے۔ اس ملک کے پڑھے لکھے باشعور انسان سے انسان توقع کی جاتی ہے کہ وہ کم سے کم درجے میں بھی خود کو اعلی اور دوسرے کو ادنیٰ نہ سمجھتا ہو۔ جان لینا چاہیے کہ پاکستان ایک وفاق ہے اور صوبے اس کی اکائیاں۔ بڑے صوبے کو اگر آبادی کی بنیاد اقتدار حاصل ہو جاتا ہے اور اقتدار برقرار رکھنے کے لئے اگر اہل سیاست وفاق کی اکائیوں کو برابر حقوق دینے کی بجائے بڑے صوبے میں ہی انتخابی حلقوں پر توجہ مرکوز رکھے تو یہ سیاسی جبر ہے۔ یہ سیاسی موضوع ہے۔ اس سیاسی موضوع پر ہم لڑتے رہیں گے۔ احتجاج کرتے رہیں گے۔ اس پر اگر چھوٹے صوبے گلہ شکوہ کریں تو یہ ان کا بنیادی حق ہے۔ اس سیاسی بحث کو ذات پات اور قوم قبیلے کی نظر سے دیکھنا نسل پرستی ہے۔

معاشروں میں یک رنگی پیدا نہیں ہو سکتی۔ اجتماعی زندگی گزارنے کا بنیادی اصول دوسرے انسان کی پہچان اور اس کے برابر کے حقوق پر منحصر ہوتا ہے۔ انسان کے احترام اور مساوات میں درجہ بندی نہیں ہو سکتی۔ ہم انسان کو انسان سمجھنے کے قائل ہیں۔ ہم ظلم و جبر پر خاموش نہیں رہیں گے۔ ظلم اگر کوئٹہ میں ہزارہ برادری پر ہو گا تو ہم ہزارہ ہیں۔ ظلم اگر بلوچ بھائیوں کے ساتھ ہو گا تو ہم بلوچ ہیں۔ ظلم اگر آئی ڈی پیز کے ساتھ ہو گا ہم آئی ڈی پیز ہیں۔ ظلم اگر بلوچستان میں موجود سیٹلرز ( سیٹلرز کوئٹہ کی ایک مخصوص اصطلاح ہے جس میں پنجابی، اردو، سرائیکی، سندھی اور ہندکو بولنے شامل ہیں) کے ساتھ ہو گا تو ہم سیٹلرز ہیں۔ ظلم اگر پشتونوں کے ساتھ ہو گا تو ہم پشتون ہیں۔ ظلم کسی بھی لسانی اکائی کے خلاف ہو، کسی بھی جنسی اکائی کے خلاف ہو، کسی بھی مذہبی اکائی کے خلاف ہو، ہم مظلوم کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔ ہم آواز اٹھاتے رہیں گے۔ ظلم کے خلاف کس موقع پر آواز نہیں اٹھانی یہ نہ ہم نے سیکھا ہے اور نہ ہم سیکھنا چاہیں گے۔

فہم و ادراک کے مگر اپنے اپنے پیمانے ہیں۔ کچھ لوگ خود کو اعلی سمجھتے ہیں۔ خود کو دوسروں سے زیادہ محب وطن سمجھتے ہیں۔ دوسروں کے عقیدے کے بارے میں سوال اٹھاتے ہیں۔ ان کی حب الوطنی کے بارے میں سوال اٹھاتے ہیں۔ ان کو یاد دلانا چاہیے کہ لکیریں کبھی دائمی نہیں ہوتیں۔ اس مٹی پر بسنے والے انسان اپنی مٹی سے پیار کرتے ہیں۔ جب ہندوستان نہیں ہوا کرتا تھا تو دریا کے کنارے آباد انسان سندھ سے محبت کرتے تھے۔ ہمارے پرکھوں نے ہندوستان کی مٹی کے لئے اپنا خون بہایا تھا۔ ہمارے اجداد جس زمین پر آباد ہیں یہ کبھی افغانستان ہوا کرتا تھا۔ ہمارے اجداد نے افغانستان کی مٹی کے لئے اپنا خون مٹی کو پلایا تھا۔ آج یہ سرزمین پاکستان کہلاتی ہے۔ ہمیں اپنے دیس سے محبت کا قرینہ کسی ادارے یا کالم نگار سے نہیں سیکھنا۔ ہم مٹی سے محبت کرنا جانتے ہیں۔ جو لوگ فخر کرنا چاہتے ہیں ان کو فخر مبارک۔ ہم فخر نہیں کرتے، کالک نہیں ملتے، ہم مان رکھتے ہیں۔ ہمیں وطن کی ماؤں سے محبت ہے۔ ماں کی شناخت کا حوالہ زبان نہیں ہے۔ ماں کی شناخت کا حوالہ عقیدہ نہیں ہے۔ ماں کی شناخت کا حوالہ ممتا ہے۔ ہم یہ احتجاج کرتے رہیں گے کہ ہماری ماؤں نے بچے اس لئے نہیں جنے تھے کہ چند خود سر ان کے سر کی قیمت پر اپنا کاروبار چلا سکیں۔

آئیے ایک تصویر دیکھتے ہیں۔ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے کوچ سر ویوین رچرڈز کی آنکھوں سے آنسو رواں ہیں۔ وہ گلیڈی ایٹرز کا یونیفارم پہنے کھڑے ہیں۔ بظاہر میچ پر ان کی نظر ہے۔ سر ویون رچرڈز کو نہ کسی پاکستانی ماں نے جنم دیا اور نہ ان کا تعلق اس مٹی سے ہے۔ اگر صرف پیشہ ورانہ تعلق کی بنیاد پر سر ویون رچرڈز کی آنکھوں سے آنسو بہہ سکتے ہیں تو جن لوگوں نے اسی مٹی میں جنم لیا ان کی محبت وطن سے کیسی ہو گی؟ غداروں کی گنتی چھوڑ دیجیے۔ جبر پر آواز اٹھانے والے غدار نہیں ہوتے۔ اس ملک کے کسی باسی کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ کسی پر غداری کا فتوی لگائے۔ اس امید کے ساتھ کہ بات ہوتی رہے گی۔ با ت جاری رہے گی۔ آیئے سر ویوین رچرڈز کی محبت کو سلام پیش کرتے ہیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

ظفر اللہ خان

ظفر اللہ خان، ید بیضا کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ زیادہ تر عمرانیات اور سیاست پر خامہ فرسائی کرتے ہیں۔ خیبر پختونخواہ، فاٹا، بلوچستان اور سرحد کے اس پار لکھا نوشتہ انہیں صاف دکھتا ہے۔ دھیمے سر میں مشکل سے مشکل راگ کا الاپ ان کی خوبی ہے!

zafarullah has 148 posts and counting.See all posts by zafarullah