ایک عظیم کرکٹر سے ناانصافی کی حکایت اور نجم سیٹھی کا شکریہ


لاہور میں پاکستان سپر لیگ کا فائنل نہایت کامیابی سے کھیلا گیا۔ سیکورٹی کے انتظامات موثر ثابت ہوئے۔ ایسے امتحانوں میں سرخروئی اہل لاہور کی روایت ہے۔ مرحوم راجہ غضنفر علی خان بھارت میں ہمارے ہائی کمشنر تھے تو بھارت کی کرکٹ ٹیم لاہور میچ کھیلنے آئی۔ تقسیم کے زخم ابھی تازہ تھے لیکن لاہور والے دکھ اور نفرت کو ایک طرف رکھ کے زندگی اور محبت کا جشن منانا جانتے ہیں۔ ایک روز کے لئے واہگہ اٹاری سرحد کھول دی گئی۔ رنگ برنگی پگڑیاں باندھے امرتسر والے سائیکلوں پر بیٹھ کر لاہور آئے۔ انارکلی میں دکان داروں نے مہمانوں سے پیسے لینے سے انکار کر دیا۔ بھارتی پارلیمنٹ پر دہشت گرد حملے کے بعد سرحدی تنائو کے دنوں میں واجپائی صاحب نے بھارتی کرکٹ ٹیم لاہور بھیجی۔ بھارت کے نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر برجیش مشرا نے فیروزپور روڈ پر کھڑے ہو کر واجپائی صاحب کو فون پر بتایا کہ لاہور والوں نے بھارتی کھلاڑیوں کو اتنا پیار دیا ہے کہ معلوم ہوتا ہے یہ میچ لاہور میں نہیں، موہالی میں ہو رہا ہے۔ ناصر کاظمی نے کہا تھا۔ شہرلاہور تری رونقیں دائم آباد۔ تیری گلیوں کی ہوا کھینچ کے لائی مجھ کو۔ اس دفعہ تو لاہور کی گلیوں میں پشاور اور کوئٹہ اتر آئے۔ قومی یکجہتی کا اس سے اچھا پیغام ممکن نہیں تھا۔ حالیہ دنوں میں کچھ مہربانوں نے چاہا تھا کہ دہشت گردی کو قومیتی تفرقے کا رنگ دیا جائے۔ پی ایس ایل کا فائنل لاہور میں کھیلا گیا اور لاہور کی ٹیم مقابلے سے باہر تھی۔ لاہور والوں نے پشاور اور کوئٹہ کو ایسا پیار دیا جو لاہور کے قلندروں ہی کا حصہ ہے۔ یہ مرحلہ بخیر و خوبی تمام ہو گیا ہے تو اس کامیابی کا کریڈٹ لینے والوں کی فہرست طویل ہو گی۔ ماننا چاہیے کہ اگر کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آجاتا تو سارا الزام نجم سیٹھی کے کندھوں پر رکھا جاتا۔ نجم سیٹھی قومی معاملات پر ایک خاص موقف رکھتے ہیں چنانچہ کچھ مہربانوں کے دل میں کانٹے کی طرح کھٹکتے ہیں۔ دہشت گردی کی حالیہ لہر کے تناظر میں لاہور میں پی ایس ایل کا فائنل منعقد کرنا ایک مشکل فیصلہ تھا۔ نجم سیٹھی نے اس فیصلے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ اس سے دہشت گردوں کو عوام کے حوصلے اور ریاست کی اہلیت کے بارے میں دو ٹوک پیغام پہنچا ہے۔ نجم سیٹھی کا شکریہ ہم پر واجب ہے۔

خیال آتا ہے کہ اگر نجم سیٹھی پرانے زمانے میں ہوتے تو ہماری کرکٹ کی تاریخ ہی کچھ اور ہوتی۔ ہمارے ہاں ایسا ایسا باصلاحیت کرکٹر گوشہ گمنامی میں گم ہو گیا جسے میرٹ پر موقع دیا جاتا تو بریڈمین اور گیری سوبرز کے ریکارڈ زمین بوس ہو جاتے۔ آج ایسے ہی ایک عظیم کرکٹر کا ذکر کرنا مقصود ہے جو دنیائے کرکٹ کا ایک روشن ستارہ بننے کی بجائے ایک معمولی قلم گھسیٹ کالم نویس بن کر رہ گیا۔ پاپی پیٹ کی خاطر میڈیا کا نمائندہ بن گیا۔ ہرچند کہ ایسے راز بیان کرنا ہمارا شیوہ نہیں لیکن اہل نظر میں بات پھیل چکی ہے چنانچہ اب یہ تاریخی حقیقت بیان کر دینی چاہیے کہ درویش ایک نابغہ روزگار لیگ اسپنر تھا۔ اس کی مخروطی انگلیوں کے اشارے پر گیند لیگ اسٹمپ سے رقص کرتی ہوئی آف اسٹمپ کے باہر سے نکل جاتی تھی۔ ایک آدھ گیند کچھ ایسے کڈھب زاویے سے وکٹوں میں آتی تھی کہ بلے باز بے بسی کی تصویر بن جاتا۔ بیٹنگ کی مبادیات کیا ہیں۔ درست فٹ ورک، ٹائمنگ اور گیند کو صحیح سمت میں کھیلنا۔ درویش نے بیٹنگ کے ان تین اصولوں میں ایسا تخلیقی توازن پیدا کیا تھا کہ ہری گھاس پر لال گیند ایک دم دار لکیر بناتی ہوئی بائونڈری کے پار پہنچ جاتی تھی۔ نیز یہ کہ درویش کو کرکٹ کے تمام ضروری ریکارڈ زبانی یاد تھے۔ جن کی باز آفرینی سے وہ اچھے اچھے کرکٹرز کو مبہوت کر دیتا تھا۔ ان کرکٹرز میں یار عزیز آفتاب بٹ بھی شامل تھے۔ آفتاب بٹ کو شاید آپ نہیں جانتے۔ بانو آپا کے ناول راجہ گدھ کے مرکزی کردار آفتاب کو ہمارے دوست آفتاب بٹ کا دھندلا سا خاکہ سمجھئے۔ حسن، ذہانت اور اخلاق کا مجسمہ۔

پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ انگریزی کا ایف سی کالج کی ٹیم سے کرکٹ میچ قرار پایا۔ اس زمانے میں ایف سی کالج کی شہرت دنگے فساد میں ایسی تھی کہ لوگ ایف سی کالج کے سامنے سے گزرنے کی بجائے شادمان تھانے والی گلی سے گزرتے تھے۔ پنجاب یونیورسٹی میں پڑھنے والے بیشتر لڑکے انگریزی ادب کے شاہکار تو ہجے وغیرہ کر کے پڑھ لیتے تھے لیکن انہوں نے کرکٹ کا میدان بھی دور سے نہیں دیکھا تھا۔ درویش نے ان میچوں کی تفصیلات پر اپنی شاندار کرکٹ کی کہانیاں گھڑ رکھی تھیں جو کبھی نہیں کھیلے گئے۔ آفتاب بٹ سے دوستی کا فائدہ اٹھا کر انہیں بتا دیا گیا کہ درویش کے نام پر غور کرنے کی ضرورت نہیں، باقی دس کھلاڑیوں کی فکر کی جائے۔ میچ سے ایک روز قبل نیٹ پریکٹس میں درویش بوجوہ حصہ نہیں لے سکا کیونکہ وہ گھوڑا اسپتال کے پاس ایک دوست سے سفید پتلون اور شرٹ مانگنے گیا تھا۔ ایف سی کالج کے گرائونڈ میں میچ شروع ہوا۔ چند اوورز کے بعد آفتاب بٹ نے بڑے اعتماد سے گیند درویش کی طرف اچھالی۔ یہ پہلا موقع تھا کہ لکڑی سے بنی تین وکٹوں کے پاس سے گزر کر ایک ٹھوس گیند بائیس گز دور پھینکنا تھی۔ سیاہ پتلون پہنے ایک خضر صورت امپائر بھی درمیان میں حائل تھا۔ خدا لگتی کہیے کہ نوبال کے نشان کا خیال رکھا جائے یا کتابی معلومات کی بنا پر ایک بہترین گیند پھینک کر بیٹسمین کے چھکے چھڑائے جائیں۔ ناگزیر طور پر جو گیند پھینکی گئی، وہ نوبال تھی۔ امپائر کی آواز سنتے ہی کچھ ایسی گھبراہٹ پیدا ہوئی کہ نوبال، ڈیڈ بال بھی ہو گئی۔ کرکٹ کی تاریخ کی یہ نادر گیند ایک عجیب و غریب زاویے پر فضا میں بلند ہوئی، آدھی پچ پر ادھ موئی ہو کر گری اور پھر پھسلتی ہوئی بیٹنگ کریز تک پہنچی تو بیٹسمین نے اسے توجہ کے قابل نہیں سمجھا۔ کپتان آفتاب بٹ پہلی سلپ سے چل کر بائولنگ کریز تک آئے اور نہایت خوش اخلاقی سے مشورہ دیا کہ آپ بائولنگ کا ارادہ ترک کر دیں۔ بیٹنگ میں اپنے جوہر دکھائیے گا۔ نیز یہ کہ خاکسار کو گرائونڈ میں وہاں کھڑا کر دیا گیا جہاں گیند پہنچنے کا امکان نہ ہونے کے برابر تھا۔ ہماری ٹیم کو کل 114رنز بنانا تھے۔ 74 رنز پر چوتھی وکٹ گر گئی۔ آفتاب بٹ نے اشارہ کیا کہ حضور پیڈ باندھ لیجئے۔ ادھار مانگی گئی پتلون پر بھاری بھر کم پیڈ باندھنا ایسا ہی تھا جیسے دیہاتی دولہا کے لئے ٹائی کی ناٹ باندھنا۔ درویش گراؤنڈ میں داخل ہوا تو بائیں ٹانگ کا پیڈ مقروض کے ضمیر کی طرح دائیں بائیں جھول رہا تھا۔ جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا… درویش کی ہیئت کذائی دیکھ کر ایف سی کالج والوں نے معنی خیز اشارے کیے۔ حریف کپتان نے اونچی آواز میں بائولر کو حکم دیا کہ اسے آئوٹ نہیں کرنا۔ صرف 40رنز باقی تھے۔ چھ وکٹیں محفوظ تھیں لیکن مشکل یہ تھی کہ کینہ پرور بائولر وکٹوں میں گیند کرنے پر آمادہ نہیں تھے اور درویش خوفناک رفتار سے آتی ہوئی گیند تک بلا لے جانے سے قاصر تھا۔ اوور پہ اوور گزرتا جا رہا تھا۔ بال نوچنے کا محاورہ سن رکھا تھا اس روز آفتاب بٹ کو بال نوچتے ہوئے دیکھا۔ میرے ضبط حال سے روٹھ کر میرے غم گسار چلے گئے۔ 33رنز کے اضافے پر باقی چھ وکٹیں گر گئیں۔ اسکور کارڈ پر درویش کے نام کے آگے زیرو ناٹ آئوٹ لکھا تھا۔ افسوس کہ نامساعد حالات کے باعث ایک عظیم کرکٹر کا کیریئر گمنامی کے غبار میں گم ہو گیا۔ جس شفقت، تدبر اور بہادری سے نجم سیٹھی پاکستان کرکٹ کی خدمت کر رہے ہیں، یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ ان کا سایہ عاطفت میسر آتا تو درویش کرکٹ کا ایک درخشاں ستارہ بن کر جگمگاتا۔ اب تو یہی کیا جا سکتا ہے کہ پی ایس ایل کے کامیاب انعقاد پر نجم سیٹھی کا شکریہ ادا کیا جائے اور اہل پاکستان کو دہشت گردی پر فتح مندی کی مبارکباد پیش کی جائے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔