مہمند ایجنسی حملے میں فوج کی جوابی کارروائی میں 15 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر


پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق رات گئے افغانستان سے دہشت گردوں نے مہمند ایجنسی میں 3 پاکستانی چیک پوسٹوں پر حملے کئے جنہیں پاک فوج کے جوانوں نے موثر نگرانی کے عمل کے باعث ناکام بنا دیا۔ دہشت گردوں کے ساتھ مقابلے میں پاک فوج کے 5 جوان شہید ہوئے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردوں کے حملے میں شہید ہونے والوں میں نائیک ثناء اللہ، نائیک صفدر، سپاہی الطاف، سپاہی نیک محمد اور سپاہی انور شامل ہیں۔

مہمند ایجنسی میں دہشت گردوں کے حملے میں شہید ہونے والے پاک فوج کے 5 جوانوں کی نمازجنازہ پشاور گیریژن میں ادا کردی گئی۔ ترجمان پاک فوج کے مطابق نماز جنازہ میں گورنر خیبرپختونخوا اقبال ظفر جھگڑا، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک اور کور کمانڈر پشاور لیفٹننٹ جنرل ہدایت الرحمان سمیت عسکری حکام شریک ہوئے جب کہ شہدا کے جست خاکی کو تدفین کے لیے آبائی علاقوں میں روانہ کردیا گیا جہاں انہیں فوجی اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کیا گیا۔

دوسری جانب آئی ایس پی آر کے مطابق گزشتہ رات افغانستان سے دہشت گردوں نے مہمند ایجنسی میں 3 پاکستانی چیک پوسٹوں پر حملے کیے جس پر پاک فوج کی جانب سے بھرپور جوابی کارروائی کی گئی اور اس کے نتیجے میں 15 دہشت گرد ہلاک ہوگئے جب کہ 15 دہشت گردوں کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔

آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ پاک فوج کی جانب سے کی گئی کارروائی میں 6 اہم دہشت گردوں کی ہلاکت کی مصدقہ اطلاعات ہیں، ہلاک ہونے والے دہشت گردوں میں کچے باجوڑی، زارمحمد عرف مدنی، حذیفہ، سنگارے، لخکڑی اور سنگین نامی دہشت گرد شامل ہیں۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ پاک فوج کسی دہشت گرد کو معاف نہیں کرے گی۔

علاوہ ازیں آرمی چیف جنرل قمر جاوید نے دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج کی موثر جوابی کارروائی کو سراہا اور وطن کی خاطر جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے جوانوں کو خراج عقیدت پیش کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گرد پاکستان اور افغانستان دونوں ممالک کے مشترکہ دشمن ہیں اور سرحد پر افغانستان کی جانب سے موثر سیکیورٹی کی ضرورت ہے تاکہ دہشت گردوں کی آزادانہ آمدورفت کو روکا جا سکے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔