داعش الباکستان: خطرے کی گھنٹیاں


 ایک طرف لاہور میں پی ایس ایل کا فائنل میچ دیکھنے کیلئے جوش و خروش کا مظاہرہ دیکھنے میں آیا، اس ایونٹ کی حفاظت کیلئے حکومت کی طرف سے غیر معمولی اقدامات کئے گئے، لاہور میں یہ میچ کروانے کے فیصلہ پر خاصی بحث کا سلسلہ بھی چلا، تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے یہ میچ دیکھنے سے گریز کرتے ہوئے دعا کی کہ یہ ایونٹ کسی سانحہ کے بغیر ہو جائے۔ ملک کی سکیورٹی کی صورتحال میں یہ اندیشہ اپنی جگہ پر اہم تھا اور اس کے ساتھ ہی یہ سوال بھی وقت کا تقاضہ تھا کہ کیا پنجاب حکومت اور فوج اس میچ کے بعد بھی اہل لاہور کو ایسی ہی ’’فول پروف‘‘ سکیورٹی فراہم کریں گے جیسے انتظامات قذافی اسٹیڈیم میں میچ کروانے اس کی حفاظت کےلئے کئے گئے۔ اس سوال کا کوئی جواب سامنے نہیں آئے گا کیونکہ حکومتوں کے پاس کرنے کے بہت سے کام ہوتے ہیں۔ البتہ اگر کوئی سرکاری نمائندہ یہ یقین دہانی کروانے کا حوصلہ کرے کہ لاہور کو اب پوری طرح محفوظ رکھا جائے گا تو نہ صرف صوبہ کے مختلف علاقوں سے بلکہ ملک بھر سے یہ صدا ضرور سنی جائے گی کہ پھر انہوں نے کیا قصور کیا ہے۔ دہشت گردوں اور بدامنی سے حفاظت تو ملک کے ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔ لاہور میں فائنل کے حوالے سے یہ بحث اہمیت اختیار کر رہی ہے کہ حکومت ملک کو مستقل بنیادوں پر تخریب کار عناصر سے محفوظ بنانے میں کیوں ناکام ہو رہی ہے۔ اس استفسار کا جواب آسان نہیں ہے۔ اس ہنگام اور مباحث کے بیچ ملتان سے خبر آئی ہے کہ سکیورٹی ایجنسی کے اعلیٰ افسر، ایک سابق اعلیٰ سرکاری افسر کے صاحبزادے اور سابق چیف جسٹس تصدق جیلانی کے قریبی عزیز عمر مبین جیلانی کی تشدد زدہ لاش ملی ہے۔

اس سے بھی تشویشناک بات یہ ہے کہ عمر مبین جیلانی کی لاش اس نارنجی رنگ کے لباس میں لپٹی تھی جو گوانتاناموبے میں امریکہ قیدیوں کو پہنایا جاتا ہے اور جس پر احتجاج کےلئے شام و عراق سے ابھرنے والی دہشت گرد تنظیم داعش یا دولت اسلامیہ اپنے قیدیوں کو ہلاک کرنے سے پہلے اسی رنگ کا لباس پہننے پر مجبور کرتی ہے۔ ملتان سے ملنے والی لاش کے نارنجی لباس پر سیاہ روشنائی سے جلی حروف میں تحریر ہے: ’’داعش الباکستان۔ تاریخ اغوا 16 جون 2014‘‘۔ یہ لاش اور اس پر تحریر یہ الفاظ دہشت گردی سے نبرد آزما ملک کے عوام اور حکمرانوں کےلئے بہت بڑا چیلنج ہے۔ لاہور میں منعقد ہونے والے فائنل کو دیکھنے کےلئے جوش و خروش کا مظاہرہ کرنے والے شہریوں نے ایک نوجوان کے الفاظ میں ’’دہشت گردی کے خلاف مزاحمت‘‘ کا اظہار کیا ہے۔ لیکن ملک کے حکمرانوں نے ایک ایونٹ کی حفاظت کو عزت کا مسئلہ ضرور بنایا ہے لیکن وہ اس سوال کا جواب دینے سے قاصر نظر آتے ہیں کہ کیا ہر جگہ اور ہر موقع کو محفوظ بنایا جا سکے گا۔ ملتان سے ملنے والی ایک نمایاں شخصیت کی لاش حکومت کے ارادوں اور اقدامات کی ناکامی کا پول کھول رہی ہے۔ 2014 میں دولت اسلامیہ کی طرف سے اسلامی خلافت قائم کرنے کے اعلان کے بعد فوری طور پر تحریک طالبان پاکستان کے متعدد ناراض گروہوں نے خلیفہ ابوبکر البغدادی کی بیعت کا اعلان کیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی ملک بھر کی دیواروں پر داعش اور ابوبکر البغدادی کی حمایت میں وال چاکنگ کی گئی تھی۔ اس وقت سے وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کی قیادت میں حکومت پاکستان میں داعش کی عدم موجودگی کا اعلان کرتی رہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی وقفے وقفے سے یہ خبریں سامنے آتی رہی ہیں کہ حکام نے مختلف علاقوں سے داعش سے تعلق کے شعبہ میں لوگوں کو گرفتار کیا ہے۔ اس کے بعد ایسی ہی گرفتاریوں کے نئے اعلان تک خاموشی چھا جاتی ہے۔ اور کسی نہ کسی وزیر یا حکومت کے نمائندے کا یہ اعلان سکوت کو توڑتا ہے کہ ’’پاکستان میں داعش کا وجود نہیں ہے‘‘۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ حکومت کا یہ دعویٰ شروع دن سے ہی بے بنیاد اور حقائق کے برعکس رہا ہے۔ البتہ وزیر با تدبیر اور ان کے نمائندے اس سچائی کو نہ مان کر یہ تسلیم کروانے کی کوشش کرتے ہیں کہ ملک میں امن و امان کی صورتحال بہت بہتر ہے اور نہ صرف یہ کہ کسی نئے دہشت گرد گروہ کو پاؤں جمانے کی اجازت نہیں دی جائے گی بلکہ پرانے گروہوں کی کمر بھی توڑ دی گئی ہے۔ یہی دہشت گردی جب ٹوٹی کمر کے باوجود حملہ آور ہوتے ہیں اور انسانوں کو ہلاک کرتے ہیں تو حکومت بدمزہ ہونے کی بجائے پھر سے پرانے اعلانات نئے جوش و خروش سے دہرانے کا آغاز کرتی ہے۔ گریز کی یہ کیفیت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ناکامی کی سب سے بڑی وجہ بن رہی ہے۔ اس طرح حکومت اپنی غلطیوں اور کمزوریوں کا جائزہ لینے اور درپیش خطرہ سے نمٹنے کےلئے حکمت عملی تبدیل کرنے کی بجائے اپنی کامیابی اور دہشت گردوں کی شکست کے اعلانات کا اعلان کافی سمجھا جاتا ہے۔ اگر اعلانات اور دعوؤں سے دہشت گردی کو ختم کیا جا سکتا تو ملک کے سیاستدان پاکستان تو کیا دنیا بھر سے ان خطرناک گروہوں کو نیست و ناباد کر چکے ہوتے۔

مسئلہ یہ ہے کہ دہشت گردی ایک تہہ دار اور مشکل معاملہ ہے اور اس کو ختم کرنے کےلئے حکومت کو بیک وقت کئی پہلوؤں سے حکمت عملی تیار کرنے اور اس پر عملدرآمد کرنے پر آمادہ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایک طرف قوم کو اس بات کےلئے تیار کرنا ضروری ہوتا ہے کہ وہ دہشت گردوں کے اقدامات کو غلط اور انسان دشمن سمجھتے ہوئے مسترد کریں اور اس پروپیگنڈے کا نشانہ نہ بنیں کہ کوئی دہشت گرد گروہ ناانصافی کے خلاف برسر پیکار ہے یا کسی ظلم کا بدلہ لے رہا ہے یا اسلام نافذ کرنے کے عظیم مقصد کےلئے کام کر رہا ہے۔ درحقیقت یہ کام دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمہ کےلئے بنیادی اور کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ پاکستان کی حکومت اسی مقصد میں سب سے زیادہ ناکام ہو رہی ہے۔ اس کی ایک وجہ متعدد سیاسی مجبوریاں بھی ہیں لیکن اصل وجہ یہ ہے کہ حکمران طبقے کو عام آدمی کی صورتحال اور معاشرے میں قوت پکڑنے والے رجحانات کا اندازہ نہیں ہے۔ وہ حکومت کرنے اور سیاسی جھمیلوں میں اس قدر مصروف رہتے ہیں کہ معاشرہ کی علتوں اور ان کی تباہ کاریوں کو سمجھنے اور ان کا حل تلاش کرنے کےلئے نہ وقت نکال پاتے ہیں اور نہ ہی کوئی حکمت عملی تیار کرنے کی صلاحیت ظاہر کر سکے ہیں۔ قومی ایکشن پلان میں اس حوالے سے رہنما اصول متعین کئے گئے تھے لیکن اس منصوبے پر عملدرآمد کا دعویٰ کرتے ہوئے حکومت کے نمائندوں کو احساس ہی نہیں ہوتا کہ وہ بوجوہ ملک میں انتہا پسندی کےلئے قبولیت کے رویہ کو سمجھنے اور اس کا تدارک کرنے میں ناکام ہو رہے ہیں۔

اس صورت میں لے دے کے فوجی طاقت کا استعمال مسئلہ سے نمٹنے کا واحد حل قرار پاتا ہے۔ دہشت گرد حملوں کے بعد نئے سرے سے فوجی قوت کو بروئے کار لانے کا اعلان ہوتا ہے۔ چند لوگوں کو مار دیا جاتا ہے اور بعض کو گرفتار کر لیا جاتا ہے لیکن اس پہلو پر غور نہیں کیا جاتا کہ منفی رجحانات کو فوجی طاقت سے نہیں سیاسی اور سماجی بصیرت سے ختم کیا جا سکتا ہے۔ فوج کی طرف سے بھی حکومت کو متعدد مواقع پر یہ بات جتانے کی کوشش کی گئی ہے۔ لیکن اس حوالے سے قومی اصلاح اور بیانیہ کی تجدید کے کام کا آغاز نہیں ہو پاتا۔ اس ناکامی کی وجوہات پر مختلف طبقے مختلف انداز سے بحث کرتے رہتے ہیں لیکن جب تک ان مباحث کے نتیجے میں سامنے آنے والے نکات قومی پالیسی کا حصہ نہیں بنتے، یہ صورتحال تبدیل ہونے کا امکان نہیں ہے۔ پالیسی کی تبدیلی کےلئے ضروری ہے کہ حکومت غلطیوں کا ادراک و اعتراف کرے اور پرانے ہتھکنڈوں اور طریقوں کو ترک کرنے کی کوشش کی جائے۔

دہشت گردی سے نمٹنے کےلئے فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کا سیاسی فیصلہ یہ واضح کرتا ہے کہ نہ صرف حکومت بلکہ اپوزیشن کی سیاسی پارٹیاں بھی اس حوالے سے عملی اقدامات کرنے سے قاصر ہیں۔ وہ تنقید تو ضروری کرتی ہیں لیکن کوئی متبادل پالیسی سامنے لانے کی صلاحیت کا مظاہرہ کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے 23 ویں آئینی ترمیم (جس کے تحت فوجی عدالتوں میں 2 سال کی توسیع کی جائے گی) پر اتفاق رائے میں شمولیت سے گریز کیا تھا اور کل اپنے طور پر آل پارٹیز کانفرنس میں اس معاملہ پر غور کیا۔ تاہم پیپلز پارٹی کے قائد آصف علی زرداری حکمران مسلم لیگ (ن) کو تنہا کرنے کے مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ پاکستان تحریک انصاف اور متحدہ قومی موومنٹ پہلے ہی آئینی ترمیم کی حمایت کا فیصلہ کر چکی ہیں اور انہوں نے زرداری کے بلائے ہوئے اجلاس میں شرکت سے بھی گریز کیا۔ جن پارٹیوں نے شرکت کی، ان میں سے اکثر آئینی ترمیم اور فوجی عدالتوں میں توسیع کے سوال پر حکومتی موقف کی حمایت کرتی ہیں۔ اس لئے اس کانفرنس میں پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین نے اصولی طور پر فوجی عدالتوں کی ضرورت کو تسلیم کرتے ہوئے ان کی حمایت میں توسیع کی حمایت تو کی ہے لیکن اس مقصد کےلئے علیحدہ تجویز اسمبلی میں پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ تاکہ فوجی عدالتوں کے طریقہ کار کو انسانی حقوق کے حوالے سے بہتر بنایا جا سکے۔ عملی طور پر یہ فیصلہ فوجی عدالتوں کے سوال پر سیاسی شکست قبول کرنے کے مترادف ہے۔ اس طرح یہ واضح ہو گیا ہے کہ دہشت گردی کے چیلنج سے نمٹنے کے لئے ملک کی کسی بھی سیاسی پارٹی کے پاس کوئی ٹھوس لائحہ عمل نہیں ہے اور نہ ہی اس حوالے سے سیاسی اتفاق رائے پیدا کرنے کی فضا موجود ہے۔ یہی کمزوری دراصل ملک کی انتہا پسند قوتوں کی اصل طاقت ہے۔

اس دوران یہ بات واضح ہو رہی ہے کہ دولت اسلامیہ جسے عربی زبان میں داعش کہا جاتا ہے، افغانستان میں مستحکم ہو رہی ہے اور اب اس کا دائرہ پاکستان کے شہری علاقوں تک پھیل چکا ہے۔ پاکستان میں گزشتہ دنوں دہشت گرد حملوں میں ملوث جماعت الاحرار، تحریک طالبان پاکستان سے علیحدگی اختیار کرکے داعش کے زیادہ قریب ہو رہی ہے۔ یہ خبریں بھی آ چکی ہیں کہ داعش کے نوجوان بھیس بدل کر اور معمولی تجارتی سرگرمیوں کے ذریعے خیبر پختونخوا کے شہری علاقوں میں اپنے پاؤں جما رہے ہیں۔ وہ تحریک طالبان پاکستان کے ہمدردوں کو اپنی صفوں میں شامل کرتے ہیں اور پاکستانی حکام کی نگاہوں سے بچنے کےلئے افغان طالبان کے بھیس میں ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوتے ہیں۔ داعش کو عراق اور شام میں اتحادی فوجوں کی طرف سے زبردست دباؤ کا سامنا ہے۔ خیال ہے کہ جلد ہی ان کے زیر تسلط علاقوں کو واگزار کروا لیا جائے گا۔ ایسی صورت میں یہ گروہ شام اور عراق کے علاوہ کسی دوسرے ملک میں اپنے پاؤں جمانے کی کوشش کرے گا۔ یمن اور لیبیا کے علاوہ اب افغانستان اور پاکستان ان کی اگلی منزل کے طورپر سامنے آ رہے ہیں۔ یہ صورتحال پاکستانی حکام کےلئے شدید تشویش کا سبب ہونی چاہئے۔

ملتان میں ایک اعلیٰ افسر کی ملنے والی لاش پر داعش کا لباس اور اس پر لکھا ہوا اس گروہ کا نام یہ ظاہر کرتا ہے کہ اسے ملک بھر میں ہمدردوں اور سہولت کاروں کا تعاون حاصل ہے۔ اس لئے اس واقعہ کو آسانی سے نظر انداز کرنا ملکی سلامتی کے نقطہ نظر سے اندوہناک غلطی ہوگی۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 624 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali