میں نے اس کے پَر نہیں کاٹے


قبائلی اور پدرانہ سماجوں میں ایک باپ کی پہچان بیٹوں سے ہوتی ہے لیکن میں ان چند باپوں میں سے ہوں،جس کی پہچان اس کی بیٹی ہے اور مجھے اس پر فخر ہے۔ جب ملالہ نے 2007ء میں اپنی تعلیمی مہم کا آغاز کیا اور اپنے حقوق کے لئے آواز بلند کی تو2011 ء میں اسے نہ صرف سراہا گیابلکہ اسے نیشنل یوتھ پیس پرائز سے بھی نوازا گیا۔ جس نے اسے شہرت کی بلندیوں تک پہنچایا اور یوں وہ اپنے ملک کی کم عمر شہرت یافتہ لڑکی بن گئی۔ اس سے پہلے ، وہ میری بیٹی تھی، لیکن اب میں اس کا والد ہوں۔

اگر ہم عالمی تاریخ پر ایک نظر ڈالیں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ خواتین کی کہانی ناانصافی، عدم مساوات، تشدد اور استحصال کی کہانی ہے۔ کتنے افسوس کا مقام ہے کہ پدرانہ معاشروں میں جب لڑکی جنم لیتی ہے تو اس پر نہ ماں کی طرف سے خوشی کا اظہارکیا جاتا ہے اور نہ ہی باپ اسے خوش قسمتی کی علامت سمجھتا ہے۔ اڑوس پڑوس سے بھی جب لوگ آتے ہیں تو ماں سے اظہارِ افسوس کرتے ہیں اور باپ کو کوئی مبارکباد نہیں دیتا۔ ماں بھی بہت گھبراہٹ محسوس کرتی ہے کہ اس نے بیٹی کو جنم دیا ہے۔ ایک ماں جب پہلی بیٹی کو جنم دیتی ہے تو وہ اداس ہوتی ہے۔ جب دوسری بیٹی کو جنم دیتی ہے تو اس کو صدمہ ہوتا ہے اور بیٹے کی امید میں جب وہ تیسری بیٹی کو جنم دیتی ہے تو وہ خود کو ایک مجرم کی طرح قصوروار سمجھتی ہے۔ نا صرف ماں اذیت جھیلتی ہے بلکہ نو مولود بیٹی بھی شفقت و محبت سے محروم رہتی ہے اور جب وہ بڑی ہو جاتی ہے تو اسے قدم قدم پر اذیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پانچ سال کی عمر میں جب اسے اسکول جانا چاہیے ، وہ گھر میں ہی رہتی ہے اور اس کے بھائیوں کو اسکول میں داخل کروا دیا جاتا ہے۔ بارہ برس کی عمر تک پھر بھی وہ کسی نہ کسی طرح ایک اچھی زندگی گزار لیتی ہے۔ وہ تفریح کرسکتی ہے ۔ وہ اپنی سہیلیوں کے ساتھ کھیل کود سکتی ہے۔ وہ گلیوں میں آزادی سے گھوم پھر سکتی ہے ، ایک آزاد تتلی کی طرح لیکن جب وہ سن بلوغت یعنی تیرہ برس کی عمر میں داخل ہو جاتی ہے تو کسی مرد کی حفاظت کے بغیر اس کا گھر سے باہر نکلنا ممنوع ہو جاتا ہے۔ اسے گھر کی چار دیواری میں محصور کر دیا جاتا ہے۔ اب وہ ایک آزاد پنچھی کی طرح نہیں رہتی ۔ وہ اپنے بھائیوں اور پورے خاندان کے لیے نام نہاد غیرت بن جاتی ہے۔ اگر وہ مردانہ معاشرے کی قائم کردہ حدود سے تجاوز کرتی ہے تو اس کو جان سے بھی مارا جا سکتا ہے۔ حیرت کی بات تو یہ ہے کہ نام نہاد غیرت کی روایت محض لڑکی کی اپنی زندگی پر ہی اثر انداز نہیں ہوتی بلکہ اس سے خاندان کے تمام مردوں کی زندگیاں بھی متاثر ہوتی ہیں۔

میں سات بہنوں کے ایک اکلوتے بھائی کے خاندان کے متعلق جانتا ہوں۔ وہ غربت کی وجہ سے ایک خلیجی ملک میں روزگار کے لیے چلا گیا تھا تاکہ وہ اپنے والدین اور سات بہنوں کی کفالت کرسکے۔ کیوں کہ اسے یہ بات غیرت کی منافی معلوم ہوتی تھی کہ اس کی سات بہنیں پڑھیں، کوئی ہنر سیکھیں اور گھر کی چار دیواری سے باہر نکل کر زندگی گزارنے کے لیے باعزت طریقے سے کچھ کماسکیں۔ تو اس طرح یہ بھائی نام نہاد عزت کی قربان گاہ پر اپنی اور اپنی بہنوں کی زندگی کی خوشیاں قربان کردیتا ہے۔

پدرانہ معاشروں میں ایک روایت یہ بھی ہے، جسے فرمان برداری کا نام دیا جاتا ہے۔ ایک نیک لڑکی کے لئے ضروری ہے کہ وہ خاموش طبع، فرماں بردار اور اطاعت گزار ہو۔ یہ نیک چلنی کا ایک معیار ہے جس کے تحت ایک اچھی لڑکی کو خاموش رہنا چاہئے، اس کو اپنے خیالات کا اظہار نہیں کرنا چاہئے اور اسے اپنے ماں، باپ اور بڑوں کے فیصلوں کو من وعن قبول کرنا ہوچاہئے، خواہ وہ اسے ناپسند ہی کیوں نہ ہوں۔ اگر اس کی شادی ایک ایسے مرد سے ہو جاتی ہے جسے وہ ناپسند کرتی ہے یا کسی بوڑھے آدمی سے اس کی شادی کرائی جاتی ہے تو اسے قبول کرنا پڑتا ہے کیوں کہ وہ نہیں چاہتی کہ اس پر نافرمانی کی مہر لگ جائے۔اگر شادی کم عمری کی ہو تو بھی اسے قبول کرنے کے سوا اور کوئی چارہ نہیں رہتا ورنہ وہ نافرمان کہلائے گی اور بیشتر مواقع پہ اس کا انجام کیا ہوتا ہے، یہی کہ ایسی بے جوڑ شادیاں یا تو ناکامی سے دوچار ہوتی ہیں اور یا لڑکی کو ساری عمر دُکھوں کی بھٹی میں جلنا پڑتا ہے۔ المیہ تو یہ ہے کہ ماں ہی اپنی بیٹی کو فرماں برداری اور بیٹوں کو غیرت کا سبق سکھاتی ہے اور اس طرح ظلم کا یہ سلسلہ جاری و ساری رہتا ہے۔

اگر ہماری سوچ کا انداز بدل جائے تو لاکھوں عورتوں کی یہ المناک تقدیر بدلی جا سکتی ہے ۔اگر قبائلی اور پدرانہ معاشرے میں مرد اور خواتین چند غیر انسانی رسوم کے خلاف صدائے احتجاج بلند کریں اور اپنے گھر اور معاشرے میں ان متعصب قوانین کو ختم کریں جو بنیادی انسانی حقوق کے خلاف ہیں اور جو خصوصی طور پر خواتین کے حقوق کی پامالی پر مشتمل ہیں تو اس سے ہمارے جیسے ترقی پزیر ممالک میں ایک مہذب اور متمدن معاشرہ تشکیل پاسکتا ہے۔

اگرچہ مجھے نومولود بچے زیادہ پسند نہیں لیکن جب میری بیٹی ملالہ پیدا ہوئی اور پہلی بار جب میں نے جا کر اس کی آنکھوں میں جھانکاتو یقین جانئے مجھے فخر کا احساس ہوا۔ اس کے پیدا ہونے سے بہت پہلے میں نے اس کے نام کے بارے میں سوچنا شروع کر دیا تھا۔ میں نے تاریخ کی کتابوں میں ایک افغان حریت پسند خاتون ملالئی کا نام پڑھا تھا جو میوند کی رہنی والی تھی۔ میں اس حریت پسند افغان خاتون کے اس کارنامے کا بہت گرویدہ تھا جو اس نے میدانِ جنگ میں ایک پشتو ٹپہ کے ذریعے اپنے مردوں کو غیرت دلاتے ہوئے انہیں دشمن کے خلاف ڈٹ جانے کا حوصلہ دیا تھا، اس لیے میں نے اپنی بیٹی کا نام اس کے نام پر ملالہ رکھ دیا۔ ملالہ کی پیدائش کے چند روز بعد میرا ایک کزن ہمارے گھر آیا اور یہ محض اتفاق تھا کہ وہ یوسف زئی خاندان کا ہمارا شجرہ نسب بھی ساتھ لایا تھا۔ جب میں نے شجرہ نسب دیکھا تو اس میں ہمارے تین سو سالہ پرانے اجداد کی تاریخ درج تھی لیکن جب میں نے دیکھا کہ اس میں صرف مردوں کا اندراج ہے تومیں نے اپنا قلم اٹھایا اور اپنے نام سے لکیر کھینچی اور اس کے نیچے لکھا ’’ملالہ‘‘۔

ملالہ کی عمر جب ساڑھے چار برس کی ہوگئی تو میں نے اسے اسکول میں داخل کر ا دیا۔ آپ سوچتے ہوں گے کہ میں اسکول میں ایک بچی کے داخلے کا ذکر خصوصی طور پر کیوں کر رہا ہوں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ غریب ممالک کے پدرانہ قبائلی معاشرے میں ایک لڑکی کا اسکول میں داخل کرانا ایک غیرمعمولی بات ہوتی ہے۔ اسے اسکول میں داخل کرانے کا مطلب اس کے اپنے نام کی شناخت اور پہچان ہے۔ اس کا مطلب ہیکہ وہ خوابوں کی دنیا میں داخل ہو گئی ہے، اپنے ارادوں کی دنیا میں،جہاں وہ اپنے مستقبل کے لیے اپنی صلاحیتوں کو کھوج سکے اور اپنی زندگی کا اختیار خود اس کے ہاتھوں میں آجائے۔ اگرچہ پاکستان کے بڑے شہروں اور دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں یہ کوئی اچھنبے کی بات نہیں ہے لیکن وطن عزیز میں اب بھی ایسے دور افتادہ اور پدرانہ غیرت کے مارے ہوئے علاقے موجود ہیں جہاں بچیوں کو اسکول میں داخل کرانا نام نہاد غیرت کے خلاف سمجھا جاتا ہے۔

میری پانچ بہنیں ہیں، ان میں سے کوئی بھی اسکول نہیں جاسکی تھی اور آپ حیران رہ جائیں گے جب ایک بار میں کینیڈا کے لئے ویزا فارم بھر رہا تھا اور اس میں خاندان کے بارے میں معلومات دے رہا تھا تو مجھے اپنی بہنوں کے فیملی نام سمجھ میں نہیں آ رہے تھے۔ اس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ میں نے اپنی بہنوں کے نام کبھی بھی کسی تحریری دستاویز میں نہیں دیکھے تھے ۔ اس لیے میں اپنی بیٹی کے نام اور اس کی ذاتی شناخت کے حوالے سے بہت حساس تھا۔ جو تعلیم اور شعور میرے والد میری بہنوں یعنی اپنی بیٹیوں کو نہ دے سکے تھے،میں نے عزم کیا کہ مجھے اس روایت کو ضرور بدلنا ہے اور اپنی بیٹی کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنا ہے۔ میں اپنی بیٹی کی ذہانت اور دانائی کو سراہتا تھا۔ جب میرے دوست میرے پاس آتے تو وہ بھی ہمارے ساتھ بیٹھ جاتی تھی۔ میں اس کی حوصلہ افزائی کرتا تھا کہ وہ میرے ساتھ مختلف ملاقاتوں میں جائے اور میں زندگی کی تمام اعلیٰ اقدار اس کی شخصیت میں نقش کرنے کی کوشش کرتا اور ایسا میں صرف ملالہ کے ساتھ ہی نہیں کرتا بلکہ میں نے اپنے اسکول کے لڑکوں اور لڑکیوں دونوں کے ذہنوں میں مہذب زندگی کی اقدار سمونے کی کوشش کی۔ میں نے تعلیم کو اظہارِ آزادی کے لئے استعمال کیا۔ میں نے اپنی بچی اور اپنی شاگرد بچیوں کو سکھایا کہ وہ فرماں برداری کے اس سبق کو فراموش کردیں جو کسی بیٹی اور بیٹے سے اس کی فطری آزادی چھینے، اسے اپنی جائز خواہشات اور آدرشوں سے منع کرے۔ میں نے اپنے شاگرد لڑکوں کو سکھایاکہ نام نہاد غیرت کے سبق کو فراموش کردیں۔

یہ وہ دور تھا جب میں اپنے کئی ہم خیال دوستوں کے ساتھ خواتین کے حقوق کی جدوجہد میں مصرفِ عمل تھا۔ ہم سوچتے تھے کہ خواتین کو معاشرے میں ان کا اصل مقام کیسے دلایا جائے۔ انھیں پدرانہ معاشرے میں اپنی قابلیت اور صلاحیت کے مواقع کیسے بہم پہنچائے جائیں لیکن اس دور میں ہمیں ایک نہایت ہی ناگفتہ بِہ صورتِ حال کا سامنا کرنا پڑا جس میں ایک عام شخص کے بنیادی انسانی حقوق سلب کئے گئے اور جس میں خواتین کو تعلیم سے محروم رکھنے کی کوششیں کی گئیں۔ یہ آغاز تھا سوات میں طالبانائزیشن کا۔ جس کا مطلب خواتین کاسیاسی، اقتصادی ا ور معاشرتی امور میں مکمل انکار تھا۔ سیکڑوں اسکول تباہ کردئیے گئے، لڑکیوں کے اسکول جانے پر پابندی عائد کردی گئی، عورتوں کو زبردستی برقع پہنایا گیا اور ان کا بازار جانا بند کردیا گیا۔ موسیقاروں کو خاموش کرادیا گیا، لڑکیوں کو کوڑے لگائے جانے لگے اور گلوکار موت کے گھاٹ اتار دیے گئے۔ لاکھوں افراد تکلیف میں تھے لیکن ان میں سے چند نے آواز بلند کی اور یہ بہت خطرناک بات تھی جب آپ ایسے لوگوں میں گھرے ہوئے ہوں جو کوڑے مارتے ہیں اور موت کے گھاٹ اتار دیتے ہیں اور اس میں آپ اپنے حقوق کی بات کرتے ہیں۔ یہ واقعی ایک خوفناک ترین معاملہ تھا۔ دس برس کی عمر میں ملالہ نے تعلیم کے حق کے لیے آواز بلند کی۔ اس نے بی بی سی بلاگ کے لئے ڈائری لکھی۔اس نے رضاکارانہ طور پرنیویارک ٹائمز کی لڑکیوں کی تعلیم کے حوالے سے دستاویزی فلم میں کام کیا اور جہاں تک اور جس فورم پر وہ اپنا پیغام پہنچا سکتی تھی، اس نے پہنچایا۔اس کی آواز طاقت ور ترین آواز تھی جو ساری دنیا میں پھیل گئی۔ یہی وجہ تھی کہ طالبان اس کی آواز کو برداشت نہ کر سکے اور 9 اکتوبر 2012 ء میں اس کو بہت قریب سے گولی کا نشانہ بنایا گیا۔ میرے اور میرے خاندان کے لئے وہ دن قیامت کا تھا۔

جب ملالہ ہسپتال میں بہت تکلیف میں تھی اور اس کے سر میں شدید درد ہو رہا تھا،جس کی وجہ اس کے چہرے کی نسوں کا کٹ جانا تھا تو اس وقت میں اپنی بیوی کی پریشانی محسوس کرسکتا تھا ۔میں اس کے چہرے کے تاثرات سمجھ سکتا تھا لیکن میری بیٹی نے کبھی شکایت نہیں کی۔ وہ اکثر ہمیں بتاتی ہے: ’’میں اس پرسکوت مسکراہٹ اور سن چہرے کے ساتھ ٹھیک ہوں۔ فکر نہ کریں، میں ٹھیک ہو جاؤں گی۔‘‘ وہ ہمارے لئے تسلی کا سبب تھی، وہ ہمیں حوصلہ دیتی تھی۔

ہم نے اپنی زندگی کے مشکل ترین حالات میں اپنی بہادر بیٹی ملالہ سے ثابت قدمی کا درس لیا اور مجھے اس کالم میں اپنے خیالات اور جذبات آپ سے شیئر کرکے بہت خوشی محسوس ہو رہی ہے۔ ملالہ اگرچہ عالمی سطح پر خواتین اور بچوں کے حقوق کے حوالے سے ایک علامت بن چکی ہے لیکن وہ اب بھی ایک عام لڑکی ہے۔ اس کے احساسات ایک عام بچی کے سے ہیں۔ جب اس کے اسکول کا کام ادھورا رہ جاتا ہے تو وہ رونے لگتی ہے۔ بھائیوں کے ساتھ اس کا جھگڑا اب بھی ہوتا ہے، اب بھی کم سنی کی معصومیت اس کے چہرے پر طاری رہتی ہے۔ اور یہ سب کچھ میرے لیے تشفی اور مسرت کا باعث ہے۔ لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں میرے اندازِ تربیت میں آخر کیا خاص بات ہے جس نے ملالہ کو اتنا اعتماد دیا، اسے جراَت مند ، صاف گو اور بے باک بنایا؟ تو میں ان کو بتاتا ہوں، یہ مت پوچھیں کہ میں نے کیا کیا بلکہ یہ پوچھئے کہ میں نے کیا نہیں کیا…… میں نے اس کے پر نہیں کاٹے اور بس۔

****    ****

(نوٹ: قارئین سے معذرت چاہتا ہوں کہ کالم میں مَیں کا استعمال تواتر کے ساتھ ہوا ہے لیکن یہ میری کینیڈا میں ہونے والی Ted Talk کی تقریر کا ترجمہ و تلخیص ہے جس میں تعاون کے لیے میں اپنے دوست فضل ربی راہی صاحب کا شکرگزار ہوں۔ یہ تلخیص و ترجمہ خواتین کے عالمی دن کی مناسبت سے آپ کی نذر ہے۔)


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضرور نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

ضیاالدین یوسف زئی

ضیا الدین سف زئی ماہرِتعلیم، سوشل ورکر اور دانش ور ہیں۔ اعلیٰ پائے کے مقرر ہیں۔ ان کی تحریر میں سادگی اور سلاست ہے یہی وجہ ہے کہ گہری بات نہایت عام فہم انداز میں لکھتے ہیں۔ان کا تعلق وادئ سوات سے ہے۔ نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی کے والد ہیں۔ اس وقت کونسلیٹ آف پاکستان برمنگھم (برطانیہ) میں ایجوکیشن اتاشی کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ضیا الدین یوسف زئی اقوام متحدہ سے مشیر برائے گلوبل ایجوکیشن کی حیثیت سے بھی وابستہ ہیں۔

ziauddin-yousafzai has 10 posts and counting.See all posts by ziauddin-yousafzai