پاکستان ایروناٹیکل کمپلیکس نے 1000 لڑاکا طیاروں کی اوورہالنگ کا سنگِ میل عبورکرلیا


پی اے سی کامرہ میں منعقدہ اس تقریب کے مہمان خصوصی وزیر برائے دفاعی پیداوار رانا تنویر حسین تھے جب کہ اس موقعے پر پی اے سی کامرہ کی ’ایئرکرافٹ ری بلڈ فیکٹری‘ کے ایم ڈی، ایئر کموڈور ساجد اعوان نے شرکا کو بریفنگ دی۔

ایئرچیف مارشل سہیل امان نے حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پی اے سی کامرہ ایک نئے اور جدید ادارے کے طورپرسامنے آیا ہے، پی اے سی نے دفاعی پیداوار کے شعبے میں کئی سنگ میل عبورکیے ہیں اور یکجہتی و اتحاد کی بدولت ہم آج یہ تاریخ ساز دن دیکھ رہے ہیں۔

سہیل امان نے مکمل تعاون اور حمایت پر حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پی اے سی میں تیارشدہ طیاروں سے ملکی خزانے کو بے پناہ فائدہ پہنچا۔ پی اے سی نے پاکستان کو دنیا میں ہوابازی اور طیارہ سازی میں خودانحصار بنادیا جب کہ اوورہالنگ کے علاوہ طیاروں کے ساتھ ہتھیاروں کی انٹیگریشن بھی ایک اہم کامیابی ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ پی اے سی کامرہ کا مستقبل ’پانچویں نسل‘ کے لڑاکا طیاروں کا ہے۔

واضح رہے کہ پی اے سی کامرہ نے 1971 میں طیاروں کی مرمت کے ایک چھوٹے سے کارخانے کی حیثیت سے ابتداء کی اور مسلسل ترقی کرتے ہوئے آج یہ چار بڑی فیکٹریوں یعنی میراج ری بلڈ فیکٹری، ایئرکرافٹ ری بلڈ فیکٹری، ایئرکرافٹ مینوفیکچرنگ فیکٹری اور ایویانکس پروڈکشن فیکٹری پر محیط ہوچکا ہے جب کہ ان میں سے ہر ایک فیکٹری اپنے آپ میں درجنوں شعبہ جات پر مشتمل ہے۔

ان فیکٹریوں میں دیگر ممالک سے خریدے گئے لڑاکا طیاروں کی اندرونِ ملک اوورہالنگ اور جدت طرازی کا کام کیا جاتا ہے جس سے قومی خزانے کو خطیر رقم کی بچت ہوتی ہے۔

پی اے سی کامرہ کی سب سے بڑی وجہ شہرت پاکستان اور چین کا مشترکہ ’جے ایف 17 تھنڈر‘ لڑاکا طیارہ ہے جسے تقریباً مکمل طور پر یہیں تیار کیا جارہا ہے۔ پی اے سی کامرہ میں اب تک 70 سے زیادہ جے ایف 17 تھنڈر لڑاکا طیارے بنائے جاچکے ہیں جبکہ انہیں جدید تر بنانے کےلیے تحقیقی و ترقیاتی کام بھی یہیں کیے جارہے ہیں۔

قراقرم 8 (کے 8) تربیتی جیٹ طیارے اور ہلکے تربیتی طیارے ’مشاق‘ بھی پی اے سی کامرہ ہی میں بنائے جارہے ہیں جو پاک فضائیہ کی ضروریات پوری کرنے کے علاوہ دیگر ممالک کو بھی فروخت کیے جارہے ہیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔