کارل مارکس کا انقلاب اورعورتوں کا عالمی دن


عورت کے وجود، اہمیت، اس کی فعالیت اور ترقی کے معراج تک کے سفر میں ساتھ اگر نہ ہوتا تو مرد نہ ہوتا، دنیا نہ ہوتی اور کچھ بھی نہ ہوتا۔ عورت اور مرد کسی مفکر کی رو سے تو ایک ہی جسم کے دو حصے ہیں جو قدرت کے قوانین اور اس میں تبدیلیاں ہونے کے بعد شاید ایک دوسرے سے کسی ایک موڑ پہ جدا ہوکر دو جسموں میں بٹے ہوں گے اور جو تا قیامت ایک دوسرے کے ملاپ اور ایک دوسرے کے قریب آنے کےلئے ترستے ضرور ہوں گے اور اسی جد وجہد ہی کی وجہ سے ہم آج ہم تاریخ کے اس موڑ پہ کھڑے ہیں۔

اینگلز کے خاندان، ذاتی ملکیت کے ارتقا کی روسے جو مناظر قلمبند کر رہا ہے کہ ایک ایسا دور تھا جب عورت سردار یا حاکم ہوتی تھی اور مرد غلامانہ سی زندگی گذار رہے تھے۔ لوگ گروہ میں رہتے تھے اور زندگی کی معمولات تقسیم ہوا کرتے تھے مردوں سے شکار کا کام لیا جاتا تھا اور جب خوراک اور اشیائے ضرورت کی قلت ہوتی تو جنگ بھی لڑے جاتے تھے کیونکہ ان اشیا کے بغیر زندگی مشکل ہوجاتی تھی۔ اور یہ تھے وہ حالات جب ذاتی ملکیت نام کی کوئی چیز نہیں تھی، لوگ مشترکہ یا پھر اشتراکی زندگی گذارتے تھے۔ جب سے ترقی ہوئی، اور ذاتی ملکیت نے جگہ پیدا کرلی، تو ساتھ ہی عورت بھی اسی اثنا کمزور ہوکر اس کے بجائے کہ وہ ایک برابر مقام پاتی ذاتی ملکیت میں شمار ہوتی گئی۔

خیر بعد میں صرف عورت ہی نہیں مرد بھی غلام بنتے گئے اور دور غلامی آگیا یعنی ہم کہیں گے آقا اور غلام والا رشتہ بنا۔ آقاؤں کی تاریخ اگر پڑھی جاتی ہے تو شاذ ونادر ہی کوئی عورت آقا ہوگی، مگر اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ مرد سب کے سب آقا تھے بلکہ بڑی تعداد میں وہ بھی غلام بنتے گئے اور اپنے آقاؤں کی ذاتی ملکیت کو بڑھانے اور ان کی مفادات کی جنگ لڑنے اور اپنی زنجیریں مضبوط کرنے لگے تھے۔ عورت کی غلامی زیادہ تر ان کو آقاؤں کی خوشنودی کےلئے استعمال اور ایک قسم کی بظاہر آسان کام ان کے ہاتھ آیا جب کہ مرد غلاموں نے سختیوں کا سامنا کرتے ہوئے آقا کی جنگیں لڑنا، ان کی مال مویشی پالنا اور دیگر غلاموں کو سزائیں دینا اور بس اتنا کھانے کو ملتا کہ تندرست رہ کر مضبوط غلام بن جائے۔ شاہد اسی اثنا میں عورت کی جسامت کمزور ہوتی چلی گئی اور مرد اپنے کام کے اعتبار سے مضبوط اعضا کا مالک بنا۔

پر جب غلامی کی جگہ فیوڈل سسٹم نے لی تو جاگیردار آقا ہوا مزارع ایک اور قسم کا غلام بنا؛ ضرور اس کی زندگی تو تھوڑی پرسکون سی تھی مگر رشتہ وہی تھا۔ اور اس طرح بڑے بڑے جاگیریں بنانا اور لوگوں کو ان میں مصروف کراکے ان کے ذریعے اپنی ایگریکلچر سے زیادہ کمائی لینا اور اس مفت کی کمائی سے مزے اڑانا اس نئے دور کے آقاؤں یعنی فیوڈلز نے اپنی اس نظام کو ترقی دے کر اشیائے صرف کی آپس میں ایکسچینج کرنے کےلئے ایک دوسرے سے رابطے میں رہے۔ مثال کے طور پر اگر ایک فیوڈل کی زمین سے جوار کا فصل نکلتا تو دوسرا جو کہ گندم کاشت کرتا اپنی جوار کی ضرورت کی خاطر اپنے گندم کا ایک مخصوص حصہ جوار کے ایک مخصوص حصے سے تبدیل کرتا تھا۔ اس طرح ایک فیوڈل دوسرے کی ضرورت پورا کرنے کےلئے ایک رشتے میں رہے۔ پر مزارع کا ایک ہی رشتہ تھا کہ وہ کام اور زیادہ کام کرتے رہیں اور ان کے اپنے ارد گرد کے مزارعوں اور کاریگروں سے ایک ہی رشتہ تھا کہ دونوں کاریگر تھے۔ ان مزارعوں میں مرد بھی ہوتے تھے اور عورتیں بھی۔ پھر یہ نظام ترقی کرتا رہا اور اب اینجن کی دریافت، روڈوں اور بحری راستوں کے ذریعے جو خام مواد پیدا ہوتا تھا، یا ایگریکلچر سے جو کچھ حاصل ہوتا تھا تو وہ اور بھی ترقی کرتا رہا یہاں تک کہ فیوڈل نظام خود اپنی ہی موت مرنے کے نزدیک ہوکر اس کی جگہ کارخانے دار اور مزدور نے لے لی۔

جب مغرب نے اشیائے پیداوار کےلئے مختلف طریقے اور اوزار پیدا کیے اور ان کی بدولت اب تو ذاتی ملکیت بڑھانے کا کام ایک اور بڑی تیز رفتار سے آگے جانے لگا۔ اور مزدوروں کی لشکر بنی جس میں پھر عورت بھی مزدور ہوتی تھی اور مرد بھی، اوراپنی جسامت اور ساخت کے مناسبت سے کام کرنے کے مراحل میں بخوبی اپنے فرائض سرانجام دینے لگے۔ یہاں بتاتا چلوں ہر وقت کے آقا و غلام کے رشتے کو قائم رکھنے کے لئے ریاست اور قوانین بنتے گئے۔ کیونکہ آقا، فیوڈل اور کارخانہ دار اپنی ذاتی ملکیت کو اس طریقے سے اپنے ذاتی ملکیت کو اور بڑھانے کی ہوس کو پورا کرتے دیکھتے اور ساتھ ہی اپنے غلاموں، مزارعوں اور مزدوروں کی خوب استحصال کرتے رہے۔

ہر معاشرے نے اپنے ہی بطن سے معاشرے کی مسائل اور ان کے حل کےلئے ایسے ذہنوں کو جنم دی ہے جو اس معاشرے کی تاریخی، سیاسی اور سماجی رشتوں اور اس میں منتق کی روشنی کی بنا پر ان مسائل کو حل کرنے کےلئے ہر دور میں عظیم ذہنوں کو جنم دی ہے۔ تاریخ کے اعتبار اور سیاسی فلسفے کے استاد کارل مارکس وہ روشن ستارہ ہے جس نے ذاتی ملکیت کو معاشی، تاریخی اور سیاسی نگاہ سے جانچا اور معاشرے کو دو طبقوں میں تقسیم اور ان کی تضاد کو قریب سے دیکر ان کو حل کرنے کےلئے کیمونسٹ پارٹی کی مینوفیسٹو لکھی۔ جس میں پرولتاریہ اور بورژوا طبقے کے داخلی تضادات کا تاریخی، سیاسی اور سماجی روشنی میں ایک ایسی حل تلاش کرلیا جو نہ کہ عملی شکل میں روس، چین، وینزویلا، کیوبا، شمالی کوریا، ویتنام سمیت پوری دنیا میں ظلم و جبر کی بنیاد پر بنی ہوئی ریاستوں کو اکھاڑ پینک کر عوام اور مزدور طبقے کی حکومتوں کی بنیاد ڈال کر معاشروں کی اصلاح اور ان کو اپنی محنت کا پورا پھل دینے کا آج بھی ایک عظیم فلسفہ مانا جاتا ہے۔

مگر یہاں کیا ہوا کہ بورژوا امپریلیسٹوں نے جب دیکھا کہ انسانوں کی بھلائی اور ان کی ترقی کےلئے قومی، سماجی، عوامی انقلاب برپا ہونے کو ہے اور کارخانہ داروں کی کارپوریٹس اور ملٹی نیشنل کمپنیاں شاہد اب ان کی ذاتی ملکیت ہونے کی بجائے عوامی ملکیت بن جائیں گے تو اس سارے نظام کو بچانے کی خاطر انہوں نے اپنے لئے ایسے آلہ کار ڈھونڈ لیے جو من گھڑت اور دروغ گوئی کی بنا پر جدید دور کے غلاموں کی آنکھوں پر پٹیاں باندھنے لگے۔ تو پروپیگنڈے کے سر عام استعمال کرکے لوگوں کو تقسیم کرنے اور اپنی قومی اور طبقاتی جد وجہد سے ان کو کسی اور تاریک راستے میں لینے کے درپے ہیں۔

اس سارے کشمکش میں ان مالیاتی اداروں امپریالیسٹ قوتوں کی یونینز کا ایک اہم سازش یہ ہے کہ خواتین کو ایک مخصوص طبقے کا غلط اور بے بنیاد ٹائٹل دے کر ان کو مردوں کی دشمنی پر اکسانے اور ان کی اپنی متحد طبقاتی جد وجہد کرنے کی بجائے ان کو تقسیم کرو اور حاکم بنو والے فارمولے کے درپے ہیں۔ اس کی واضح مثال پاکستان میں نام نہاد خواتین جد وجہد کو ہوا دے کر خواتین اور ان کے دبے ہوئے طبقے یعنی محکوم ہونے کے سوال سے ان کو خواب غفلت میں سلانے کی ناکام کوششیں ہیں۔ قومی اور طبقاتی جد وجہد کی بنیاد پر اگر پاکستان میں اقوام کو ان کے وسائل پر حق حاکمیت اور حق ملکیت مل جائے، سماجی انصاف، برابری، جمہوریت کا دور دورہ ہوجائیگا تو ان میں نہ کہ مرد اپنی دربدری اور پسماندگی سے نکل کرے خوشحال زندگی گزارنے کے تگ و دو کرینگے بلکہ خواتین جو کہ انہیں اقوام ہی کے حصہ ہیں بھی اپنی حالت کو بدلنے میں کامیابی سے ہمکنار ہوجائینگے۔ لہذا اس دن ایک دو پروگرام کراکے، میک اپ کی کلر، فٹ یا انفٹ کپڑے پھیننے، بالوں کو نہیں ڈانپا جائے، میری جسم میری ملکیت کی کوکھلی نارے شاہد کبھی بھی عورت کو مرد کے برابر لانے اور انہیں اپنی مقام دینے کےلئے نتیجہ خیز کبھی بھی ثابت نہیں ہونگے اور آج کے دن کی مناسبت سے جتنے بھی پروگرامز پی سی، میریٹ، سیرینا ہوٹلوں میں منعقد ہونے جارہے ہیں صرف ذہنی عیاشی، نشستند، خوردند اور برخواستند کے سوا کچھ نہیں۔ ورنہ امریکہ جو کہ امپریالزم کی سرغنہ ملک اور عالمی طاقت کا دعویدار ہے ان کے کیبنٹ، کانگرس اور حکمرانی کرنے والے اشرافیہ میں عورتوں کی تناسب سے بخوبی اندازہ کیا جاسکتا ہے۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں