عمران خان ایک نئی مہم جوئی کے راستے پر


پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے 2014 میں دھرنے اور پاناما کیس کے معاملہ میں مصروفیت کے سبب خیبر پختونخوا میں گورننس اور کراچی میں پارٹی کی تنظیم سازی کے لئے کام میں کوتاہی کا اعتراف کیا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی بتایا ہے کہ وہ ایک نئے احتجاج کی تیاری کر رہے ہیں۔ اس بار ان کا نشانہ پاکستان کا الیکشن کمیشن ہوگا۔ سوموار کو اپنی رہائش گاہ پر سپریم کورٹ پریس ایسوسی ایشن کے نمائندوں سے باتیں کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ 2013 کے انتخابات میں دھاندلی کے مقدمہ میں سپریم کورٹ کمیشن نے جن کوتاہیوں کی نشاندہی کی تھی، الیکشن کمیشن ان کی روشنی میں اصلاحات کرنے میں ناکام رہا ہے۔ ملک میں انتخابات کا انعقاد آئندہ برس کے آخر میں ہوگا لیکن عمران خان ان انتخابات میں شرکت کے لئے اپنی پارٹی کو تیار کرنے اور اپنے منشور کے ذریعے زیادہ لوگوں کو ساتھ ملانے کا تہیہ کرنے کی بجائے ایک بار پھر اپنی صلاحیتیں اور وسائل ایک بے مقصد احتجاجی مہم پر ضائع کرنے کا عزم ظاہر کر رہے ہیں۔ حالانکہ انہیں دیانتداری سے اپنے قریب ترین رفقا کے ساتھ 2014 کے دھرنے اور اس کے نتائج اور پاناما لیکس کے بعد شروع ہونے والے احتجاج اور اس سے حاصل ہونے والے فوائد و نقصانات کا اندازہ کرنے کی ضرورت تھی۔ اس طرح وہ ان غلطیوں کو دہرانے سے گریز کر سکتے تھے جو ماضی میں ان کے لئے مشکلات پیدا کرنے کا سبب بنتی رہی ہیں۔ جب تک کوئی سیاسی لیڈر یا جماعت اپنی غلطیوں سے سیکھنے کے عمل کا آغاز نہیں کرتی، اس وقت تک اصلاح کے امکانات معدوم رہتے ہیں۔ عمران خان اور ان کے پرجوش حامیوں کو بھی اس اہم پہلو پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔

عمران خان کا ایک مسئلہ یہ ہے کہ وہ تصویر کے تمام پہلو دیکھنے سے گریز کرتے ہیں اور جمہوری عمل کا حصہ بننے کے باوجود خود جمہوری مزاج کا اظہار کرنے میں ناکام ہیں۔ اپنے سابقہ رفقا کے ساتھ ان کے سلوک اور مشاورتی عمل میں اپنی بات پر اصرار کا رویہ ان کے لئے مشکلات پیدا کرنے کا سبب بنتا رہا ہے۔ لیکن انہوں نے کبھی یہ ضرورت محسوس نہیں کی کہ وہ اس بات پر غور کریں کہ ان کے دیرینہ رفیق اور سیاسی سفر میں ان کے ابتدائی ساتھی آخر کیوں آہستہ آہستہ اپنا راستہ ان سے علیحدہ کرتے رہے ہیں۔ اگرچہ 2013 کے انتخابات سے پہلے پارٹی کو نظریاتی بنیادوں پر چلاتے رہنے کی بجائے انہیں اہل اور صاف شہرت کے حامل، منتخب ہونے کے قابل لوگوں کو ساتھ ملانے کا فیصلہ اس لحاظ سے تو درست ثابت ہوا کہ پارٹی ایک نشست کی بجائے 33 نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی۔ لیکن اگر عمران خان ایک بڑے قائد کی طرح مصالحانہ رویہ کا مظاہرہ کر سکتے اور اپنی پارٹی کے مختلف الخیال گروہوں کے ساتھ مواصلات اور مشاورت کا نظام استوار کرسکتے تو وہ ان ساتھیوں کو بھی ہمراہ لے کر چل سکتے تھے جو شروع سے عمران خان کی بے داغ شہرت کی وجہ سے ان کے ساتھ کام کرتے رہے تھے۔

تاہم نئے اور بااثر ساتھیوں کی رفاقت کے بعد انہوں نے وفادار ساتھیوں کے گلے شکوے سننا اور انہیں رفع کرنا ضروری نہیں سمجھا۔ حالانکہ اس طرح وہ پارٹی کو زیادہ مضبوط اور اس کی قوت اور مقبولیت میں اضافہ کر سکتے تھے۔ غلطیوں کا ادراک اور ان کی اصلاح کسی بھی سیاسی لیڈر کو ترقی کی منازل طے کرنے میں مدد گار ہو سکتی ہے لیکن اس کے لئے یہ احساس موجود ہونا ضروری ہے کہ غلطی سرزد ہوئی ہے۔ عمران خان کبھی اپنی کمزوری کا اعتراف نہیں کرتے۔ کیوں کہ ان کا خیال ہے کہ کمزوری صرف ناکام لیڈروں کی علامت ہوتی ہے۔ حالانکہ کمزوری کا اعتراف اور اس سے سیکھنے کا عمل کسی بھی لیڈر کو نئی بلندیوں پر پہنچا سکتا ہے۔ ملک کے بیشتر لیڈر اس کوتاہی کا مظاہرہ کرتے ہیں لیکن خود پسندی کی صلاحیت عمران خان میں بدرجہ اتم اور دوسروں سے بڑھ کر موجود ہے۔ خود کو راست سمجھنے کے تکبرانہ رویہ کی وجہ سے ہی ملک کی سیاست بے توقیر اور سیاسی لیڈر پست تر ثابت ہوتے ہیں۔ عمران خان کو اس صورت حال سے سبق سیکھنے کی ضرورت تھی۔

اب بھی وہ اگر اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہیں تو اس کا کوئی نہ کوئی واضح عذر بھی تراش لیتے ہیں۔ یعنی وہ یہ باور کرنے کے لئے تیار ہی نہیں ہیں کہ وہ کبھی بھی کوئی غلط فیصلہ کر سکتے ہیں۔ اس طرز عمل کی وجہ سے وہ نہ صرف خود کو نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ ان لوگوں کے لئے بھی مایوسی کا سبب بن رہے ہیں جو ان کی قیادت میں ملک میں اصلاح کے عمل کو شروع ہوتا دیکھنے کے خواہشمند رہے ہیں اور جن کو امید تھی کہ عمران خان ملک کے فرسودہ اور مفادات پر مرکوز سیاسی ماحول میں تازہ ہوا کا جھونکا ثابت ہوں گے۔ کوئی واضح منشور سامنے نہ لانے اور ملک کو درپیش گوناگوں مسائل پر مباحث کا آغاز کرنے میں ناکامی کے باوجود عمران خان کو تبدیلی کی علامت سمجھا جانے لگا تھا۔ اس تائید و حمایت کو انہوں نے سیاسی مقاصد حاصل کرنے کا ذریعہ بنانے کی بجائے احتجاج اور انتشار کی سیاست پر صرف کرنا ضروری سمجھا ہے۔ اس سے ان کے بعض ساتھیوں اور حامیوں کو مایوسی بھی ہوئی ہے کیوں کہ اس احتجاججی سیاست سے کوئی مثبت نتائج سامنے نہیں آ سکے۔ بلکہ اس کے نتیجے میں قوم کے ہیرو کے مقام پر فائز عمران خان ضدی، چڑچڑا اور بدتمیز شخص کے طور پر سامنے آیا ہے۔ بہت سے لوگ ضرور مخالفین کے لئے توہین آمیز لب و لہجہ اختیار کرنے والے لیڈروں کی حمایت کرتے ہیں لیکن ملک میں اس رویہ سے مایوس ہونے والوں کی تعداد بھی کم نہیں ہوگی۔ اس لئے ملک کی مسلمہ سیاسی قوتوں کے سربراہ دونوں طرح کے مزاج کے حامل لوگوں کو ساتھ ملائے رکھنے کے لئے خود باوقار رویہ اختیار کرتے ہیں جبکہ اپنے ساتھیوں کو ہتک آمیز اور الزامات سے بھرپور گفتگو کے لئے کھلا چھوڑ دیتے ہیں۔ بدقسمتی سے عمران خان یہ سارے کام خود کرنا چاہتے ہیں۔ اس سے ان کا ایک بڑے لیڈر کا امیج بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔

اس کا مظاہرہ لاہور میں پاکستان سپر لیگ کا فائنل کروانے کے موقع پر بھی دیکھنے میں آیا۔ پنجاب حکومت نے اس ایونٹ کے لئے فول پروف سکیورٹی فراہم کرنے اور اور بہرصورت یہ فائنل لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں کروانے کا فیصلہ کیا۔ اس فیصلہ کا عوام کی طرف سے پرجوش خیرمقدم کیا گیا اور پی ایس ایل فائنل کے ٹکٹ ہاتھوں ہاتھ بک گئے۔ لیکن عمران خان نے اس فیصلہ کی شدید مخالفت کی اور اس اندیشے کا اظہار کیا کہ فائنل کے دوران کوئی سانحہ رونما ہونے کی صورت میں ملک میں کرکٹ کا مستقبل تاریک ہو جائے گا۔ عمران خان کی یہ تنقید اصولی موقف نہیں تھا۔ اسی لئے انہوں نے خصوصی دعوت کے باوجود اس میچ کو دیکھنے کے لئے لاہور آنے کی زحمت نہیں کی۔ بلکہ کل اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے اس میچ میں شرکت کرنے والے غیر ملکی کھلاڑیوں کے بارے میں مضحکہ خیز اور توہین آمیز الفاظ استعمال کئے۔ انہیں غور کرنے کی ضرورت تھی کہ یہ فیصلہ صرف نجم سیٹھی یا مسلم لیگ (ن) کی کامیابی نہیں تھی بلکہ عام طور سے اس اہم میچ کے انعقاد کو دہشت گردی کے سامنے کھڑے ہونے کے قومی عزم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

عمران خان کے سیاسی ساتھیوں شیخ رشید اور جماعت اسلامی کے سربراہ سراج الحق نے اسی لئے اس موقع پر شرکت کرنا ضروری سمجھا تھا۔ لیکن عمران خان اپنے موقف پر قائم ہیں اور انہوں نے بتایا ہے کہ انہوں نے یہ میچ ٹیلی ویژن پر بھی نہیں دیکھا۔ کوئی میچ دیکھنا یا نہ دیکھنا ان کا ذاتی معاملہ ہے لیکن ایک کامیاب ایونٹ کے بعد اس پر تسلسل سے تنقید سے صرف یہ پتہ چلتا ہے کہ عمران خان اپنی ضدی طبیعت کے اسیر بن چکے ہیں اور مخالفت برائے مخالفت کے رویہ سے جان چھڑانے کی اہلیت نہیں رکھتے۔ پی ایس ایل فائنل کا انعقاد اب قصہ پارینہ ہوا۔ عمران خان کو اسے بھلا کر آگے بڑھنا چاہئے تھا۔ لیکن لگتا ہے کہ وہ نجم سیٹھی سے اپنی چپقلش کو بھلا نہیں پاتے اور پنجاب حکومت کی کامیابی کی وجہ سے سخت ناراض اور مایوس ہیں۔ اور اس کا اظہار کرنے میں بھی قباحت نہیں سمجھتے۔ اسی سطحیت کی وجہ سے وہ اہم قومی معاملات پر گفتگو کرنے اور ان پر غور کرنے سے قاصر رہتے ہیں۔

دھرنا 2014 ہر لحاظ سے ایک ناکام تجربہ تھا۔ اس کے ذریعے ملک میں جمہوریت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی تھی۔ تحریک انصاف اور عمران خان دانستہ یا نادانستہ جمہوری حکومت کا تختہ الٹنے کی خواہش رکھنے والے عناصر کا آلہ کار بنے تھے۔ اس کے باوجود اس سیاسی بحران کے نتیجہ میں تحریک انصاف کو حکمران جماعت کے ساتھ مل کر انتخابی اصلاحات کے قابل اعتبار منصوبہ پر اتفاق رائے کا موقع ملا تھا۔ مسلم لیگ (ن) اس وقت مراعات دینے اور اپوزیشن کے متعدد مطالبات ماننے پر مجبور ہو چکی تھی۔ ملک کے نقائص سے پُر انتخابی نظام کی اصلاح کا سنہرا موقع تھا جو بوجوہ ضائع کر دیا گیا۔ اس کی بجائے تحریک انصاف نے تصادم اور سیاسی احتجاج کی پالیسی جاری رکھی۔ 2014 کے بعد بھی تحریک انصاف قومی اسمبلی میں اپنا پارلیمانی کردار ادا کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔ اسے مسلسل کسی ایسے واقعہ کی تلاش رہی جو ایک نئے احتجاج کا عذر بن سکے۔ گزشتہ برس پاناما لیکس میں شریف خاندان کی آف شور کمپنیوں کے ذکر نے بالآخر یہ موقع فراہم کر دیا۔ اور عمران خان نے ایک بار پھر نواز شریف سے استعفیٰ کا مطالبہ شروع کر دیا۔ تحقیقاتی کمیشن کے قیام پر اتفاق ہونے کے باوجود ٹی او آرز پر اختلاف رائے برقرار رہا۔ حکومت اس معاملہ میں تاخیری حربے آزماتی رہی لیکن تحریک انصاف بھی دیگر سیاسی پارٹیوں کے ساتھ مل کر کسی مفاہمتی فارمولے پر اتفاق رائے پیدا کرنے میں کامیاب نہیں ہوئی۔ اس الجھن میں تحریک انصاف نے پیپلز پارٹی کے قائدین کو بھی کرپٹ کہنا شروع کر دیا جس کی وجہ سے دونوں اہم اپوزیشن پارٹیوں کے راستے جدا ہو گئے۔ اس کے بعد عمران خان کی شروع کی گئی احتجاجی تحریک اسلام آباد میں زندگی معطل کرنے کی دھمکیوں تک جا پہنچی اور یکم نومبر کو سپریم کورٹ کی طرف سے اس معاملہ پر غور کرنے کے وعدہ کے بعد اس مشکل سیاسی اور انتظامی صورت حال کا خاتمہ ہوا۔

پوری قوم پاناما لیکس میں سپریم کورٹ کے فیصلہ کا انتظار کر رہی ہے۔ یہ فیصلہ آنے تک مستقبل کے سیاسی انتظام کے بارے میں کوئی بات کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ عمران خان اگرچہ امید کر رہے ہیں کہ سپریم کورٹ نواز شریف کو نااہل قرار دے کر ان کے لئے سیاسی میدان ہموار کر دے گی لیکن وہ بہرصورت عدالتی فیصلہ کو قبول کرنے کا اعلان کرتے ہیں۔ انہیں اندیشہ ہے کہ شاید یہ فیصلہ ان کی سیاسی توقعات کو پورا کرنے میں ناکام رہے۔ اس لئے وہ احتجاج کے لئے کوئی نہ کوئی راستہ کھلا رکھنا چاہتے ہیں۔ الیکشن کمیشن کی جانبداری کے خلاف تحریک چلا کر ایک تو احتجاجی سیاست کا سلسلہ جاری رکھا جا سکے گا دوسرے 2018 کے انتخابات میں حسب توقع کامیابی نہ ملنے کی صورت میں اپنی ناکامی کا اعتراف کرنے کی بجائے دھاندلی کا الزام لگانے کے لئے ابھی سے راستہ ہموار کر لیا جائے گا۔

یہ طرز عمل منفی سیاسی رویہ ہے۔ عمران خان اگر احتجاج اور الزام کی سیاست سے باہر نکل کر انتخابی معرکہ کے لئے زمینی حقائق کو سمجھنے اور ان کے مطابق انتخابی معرکہ میں اترنے کی تیاریوں کا آغاز کر سکیں تو وہ اپنی پارٹی اور ہمدردوں کے خوابوں کی تکمیل کے لئے زیادہ اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 621 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali