پھٹیچر کی بحث


پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی طرف سے پاکستان سپر لیگ کے لاہور میں ہونے والے فائنل میچ میں شرکت کرنے والے غیر ملکی کھاڑیوں کے بارے میں پھٹیچر اور ریلو کٹا کے الفاظ استعمال کرنے کے بعد سوشل میڈیا کے علاوہ مین اسٹریم میڈیا میں بھی ان الفاظ ، ان کی ’معنویت‘ اور عمران خان کی طرف سے ان کے استعمال کے حوالے سے مباحث کا آغاز ہو چکا ہے۔ اس بحث میں سوشل میڈیا پر تفریح طبع کے لئے گفتگو کرنے والے نوجوانوں کے علاوہ تجربہ کار تجزیہ کاروں اور قومی سیاست دانوں نے بھی خیال آرائی کرنا ضروری سمجھا ہے۔ ایک ممتاز اینکر پرسن اور مبصر کو اپنے پروگرام میں یہ گلہ تھا کہ عمران خان نے تو یہ لفظ ایک مرتبہ کہا لیکن الیکٹرانک میڈیا اسے چوبیس گھنٹے میں پچاس ہزار بار استعمال کرچکا ہے۔ ان حضرت نے بھی اپنے تبصرے میں چھ سات مرتبہ اس لفظ کا استعمال کیا تھا،اس لئے اب یہ تعداد پچاس ہزار چھ تک تو پہنچ چکی ہے۔

اس طرز عمل سے یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں ہے کہ عمران خان کی مخالفت کی جائے یا حمایت، میڈیا کے لئے تحریک انصاف کے چیئرمین ’قابل فروخت‘ نام کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ اسی لئے ان سے متعلق کوئی بھی خبر ہو یا عمران خان نے کوئی بھی بات کسی بھی انداز میں کہی ہو ، اسے بار بار دہرایا بھی جاتا ہے اور اس پر تبصروں کا انبار بھی لگایا جاتا ہے۔ ایسے مواقع پر گفتگو، تبصرے یا تجزیئے کرتے ہوئے کیوں کہ عمران خان یا اس بیان کی افادیت اور اہمیت پر بحث مطلوب نہیں ہوتی بلکہ مارکیٹ کے زیر و بم پر نظر رکھنے والے میڈیا منیجرز کے لئے یہ بات زیادہ اہم ہوتی ہے کہ عمران کا خان کا ذکر کرکے یا ان کی باتوں کو دہرا کر اور اس طرح بال کی کھال اتار کر وہ زیادہ ناظرین کی توجہ حاصل کرسکتے ہیں۔ ایسے بیانات کی قابل فروخت مصالحہ کی حیثیت کے باعث ، یہ جانچ کرنے کی بھی ضرورت محسوس نہیں کی جاتی کہ زیر بحث موضوع کتنا اہم ہے اور اس کی وجہ سے قومی معاملات پر کیا اثر مرتب ہو سکتا ہے۔ نہ ہی یہ جاننے کی ضرورت محسوس کی جاتی ہے کہ وہ لفظ کس تناظر میں کیسے استعمال ہؤا اور ان خیالات کا اظہار کیوں کیا گیا تھا۔

اسی بارے میں: ۔  آصف زرداری ۔۔۔ مفاہمت کا بادشاہ

عمران خان کی طرف سے پی ایس ایل کی مخالفت سے لے کر اس کے کامیاب انعقاد کے بعد تک کئے جانے والے تبصرے افسوسناک اور غیر ضروری تھے ۔ لیکن اگر اس ملک کے نامور سیاست دان اور تبصرہ نگار عمران خان کی ان فضول باتوں کو غیر ضروری اہمیت نہ دیتے تو ان بیانات کی کوئی اہمیت بھی نہ ہوتی۔ اس لئے ایک مقبول کھیل کے حوالے سے عمران خان کے دانستہ جارحانہ رویہ اور سخت الفاظ کے استعمال کو اگر اس تناظر میں دیکھا جائے کہ انہوں نے اس طرح پی ایس ایل کے حوالے سے دیوانہ وار رپورٹیں اور خبریں نشر کرنے والی میڈیا نشریات میں اپنے لئے جگہ بنا لی اور اینکر پرسنز کے علاوہ سیاست دان بھی ان کے بیان کی مذمت کرنے اور اپنے خیالات کا اظہار کرنے سے باز نہیں رہ سکے ۔۔۔ تو یہ سمجھنا مشکل نہیں ہے کہ عمران خان کے میڈیا منیجرز نے ایک کامیاب حکمت عملی اختیار کی تھی۔بصورت دیگر شاید ان دنوں میں عمران خان کا ذکر بھی کسی خبر یا پروگرام میں نہ کیا جاتا۔ اس لحاظ سے عمران خان نے بظاہر متنازعہ اور اشتعال انگیز بیانات دے کر میڈیا کو خوب استعمال کیا اور ریٹنگ کا محتاج ہمارا ’معصوم ‘ میڈیا دراصل عمران خان کے ہاتھوں میں کھیلتا رہا۔ اور یہ سلسلہ اب تک جاری ہے۔

یہی صورت پھٹیچر اور ریلو کٹا کے الفاظ کے بارے میں بھی سامنے آئی ہے۔ عمران خان نے یہ گفتگو دراصل مستقبل کے بارے میں اپنی سیاسی حکمت عملی بیان کرنے کے لئے کی تھی۔ اس بات چیت میں ضمنی طور پر پی ایس ایل اور اس میں شریک انٹر نیشنل کھلاڑیوں کا ذکر بھی ہؤا۔ عمران خان نے ہلکے پھلکے انداز میں اس معاملہ پر بات کرتے ہوئے ان کھلاڑیوں کو پھٹیچر کہا۔ اس بات کو اصل تناظر میں دیکھتے ہوئے نظر انداز بھی کیا جا سکتا تھا لیکن اس طرح ہمارے ہر دلعزیز میڈیا ور مقبول سیاستدانوں کا توجہ حاصل کرنے کا مقصد پورا نہیں ہو سکتا تھا۔ اس کے ساتھ ہی عمران خان کو میڈیا میں وہ توجہ اور جگہ بھی ملک گئی جو وہ حاصل کرنا چاہتے تھے۔

اسی بارے میں: ۔  آفریدی لالا آج تو جیت جا

ان مباحث کا واحد افسوسناک پہلو یہ کہ اس طرح اہم قومی اور سماجی معاملات نظر انداز ہوتے ہیں۔ لیکن اس کی نہ سیاستدانوں کو پرواہ ہے اور نہ ہی میڈیا کو اس کا افسوس ہوتا ہے۔ معاملہ اگر مقبولیت اور ریٹنگ تک محدود ہو تو یہی مزاج قومی رویہ بن جاتا ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 688 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali