خواتین کا عالمی دن – بی بولڈ فار چینج


اس سال خواتین کے عالمی دن کا تھیم ہے “بی بولڈ فار دا چینج” یعنی تبدیلی کے لئے جرات پیدا کرو۔ تو میں یہ سوچ رہی تھی کہ کیا یہ نعرہ پاکستانی خواتین کے لیے بھی ہے؟ یہاں تو یہ صورت حال ہے کہ ہماری نصف سے زیادہ خواتین کو تو اس دن کا علم ہی نہیں ہو گا تو کیسی تبدیلی؟ اور اگر کچھ بہادر خواتین اپنے حقوق لے لیے آواز اٹھانے کی غلطی کرتی بھی ہیں تو ان پر فتوے آتے ہیں یا پھر ان کو قتل کر دیا جاتا ہے۔ اس بدر شاہی نظام کی زنجیروں نے ہر درجے کی خواتین کو جکڑ رکھا ہے۔ آپ خواتین کے حقوق کے لیے جتنے مرضی نعرے بلند کر لو مگر حاصل کچھ نہیں ہوتا۔ ہاں البتہ ہر سال تشدد کے واقعات میں اضافہ ضرور ہو رہا ہے۔ اور اس مسلسل اضافے کی وجہ سے ورلڈ اکانومک فورم کی گلوبل جینڈر گیپ رپورٹ میں جن ممالک کو خواتین کے لیے بدترین جگہ قرار دیا گیا ہے ان میں پاکستان کو 135 ممالک میں سے 134 نمبر پر لا کھڑا کیا ہے۔ یونائیٹڈ نیشینز ڈویلمینٹ پروگرام کے صنفی عدم مساوات انڈیکس 2012 میں شامل 128 ممالک میں پاکستان 123 نمبر پر ہے۔

چلیے ایک نظر کچھ اور اعدادوشمار پر ڈالتے ہیں۔

عورت فاؤنڈیشن کی ایک رپورٹ کے مطابق ہر روز اوسطًا 8 خواتین کو ریپ کیا جاتا ہے اور اس تعداد کا نصف کم عمر بچیاں ہیں۔ اور کچھ ریپ تو پنچائیت اور جرگوں کے فیصلوں پر عمل درآمد کے لیے کیے جاتے ہیں اور یہ فیصلے عمومًا خاندانی وقار کے تخفظ میں ہوتے ہیں۔ یہ کونسا وقار ہے جو کسی کی کو بے عزت کر کے حاصل ہوتا ہے۔ عورت فاؤنڈیشن کی رپورٹ 2010 کے مطابق خواتین پر تشدد کی شرح میں 7.8 فیصد اضافہ ہوا۔ جبکہ عورت فاؤنڈیشن کی رپورٹ 2015 کے مطابق اس اضافے کی شرح میں گزشتہ 5 سالوں میں 49 فیصد اضافہ ہوا۔

اسی بارے میں: ۔  پنجاب یونیورسٹی میں جمعیت گردی کے حالیہ واقعات

کمیشن برائے انسانی حقوق کے 2011 کے اعداوشمار کے مطابق اس سال 2903 خواتین کو ریپ کیا گیا جن میں 2581 کا تعلق پنجاب سے تھا۔ اغوا، ریپ اور قتل اس سال کے ٹاپ تھری جرائم رہے۔ اسی سال میں 1790 خواتین کو مختلف وجوہات کی بنا پر قتل بھی کیا گیا جن میں سے 791 قتل غیرت کے نام پر کئے گئے۔ ایک اور حالیہ رپورٹ کے مطابق 15 ستمبر 2015 تک 8648 کیسز رپورٹ ہوئے جن میں سے 90 تیزاب پھینکنے کے، 72 جلانے کے، 481 گھریلو تشدد کے، 860 غیرت کے نام پر قتل کے، 268 جنسی تشدد کے اور 535 تشدد کے۔

یاد رہے بہت سے کیسز تو رپورٹ ہی نہیں ہوتے۔ ان کے تو کوئی اعداد و شمار ہی نہیں ہیں۔ بھیڑ بکریوں کو بھی ایسے ذبح نہیں کیا جاتا ہوگا جس طرح اس ملک میں خواتین کو کیا جاتا ہے۔

پاکستان ایک اسلامی ملک ہے لیکن خواتین کے لیے اسلامی قوانین کارفرما نہیں ہیں۔ بلکہ ان کے لیے تو پدرانہ نظام نے خصوصی احکامات جاری کر رکھے ہیں۔ اسلام میں تو برتری کی بنیاد تقوٰی پر ہے نہ کہ صنف پر لیکن اس نظام میں صرف مرد کو حاکمیت حاصل ہے۔ عورت ایک ادنٰی سی مخلوق ہے جس کو مرد کی خدمت کرنے کی لیے اور اس کے احکامات پر عمل درآمد کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔ اس کی نہ تو اپنی کوئی زندگی ہے، نہ کوئی پہچان، نہ کوئی خواہشات اور نہ ہی کوئی جذبات۔ مذہب کے تناظر میں دیکھا جائے تو قرآن کریم میں کئی جگہوں پر اللہ تعالیٰ نے مرد و عورت کو اے بنی نوع انسان، البشر، الناس جیسے الفاظ سے مخاطب کیا ہے۔ اسلام نے خواتین کو تمام بنیادی حقوق دیے ہیں جب کہ اس پدرانہ نظام نے یہ سارے حقوق سلب کر لیے ہیں۔

اسی بارے میں: ۔  خواتین کے تحفظ کے بل پر چند گزارشات

میرا ایک سوال ہے اس سسٹم سے، ان ٹھیکداروں سے کہ کیا تم لوگ عورت کو انسان نہیں سمجھتے؟ ان کے ساتھ غیر انسانی سلوک کرتے وقت آپ مردوں کو کوئی سنت نبویﷺ یاد نہیں آتی؟ یا سب کچھ اپنے مفادات کے لیے ہوتا ہے؟ اور خواتین سے بس اتنی سی درخواست ہے کہ بی بولڈ فار دا چینج۔ کیونکہ تمہارا لحاظ اور خاموشی ان درندوں کو مظالم کا مزید موقع فراہم کرتے ہیں۔ تو کچھ تو ہمت کرنی پڑے گی۔ کسی موسیٰ کا انتطار مت کرنا۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔