انسانوں کے سات قاتل کون ہیں؟


ایک مشہور امریکی ماہرِ نفسیات ایرک فرامERIC FROMM  نے اپنی کتاب ANATOMY OF HUMAN DESTRUCTIVENESS میں لکھا ہے کہ جانور صرف اس وقت قتل کرتے ہیں جب وہ بھوکے ہوتے ہیں۔ جب شیر بھوکا نہیں ہوتا تو وہ بھی پرامن ہوتا ہے۔ انسان کرہِ ارض پر بسنے والا واحد جانور ہے جو بھوک کے علاوہ اور بھی بہت سی وجوہات کی بنا پر قتل کرتا ہے۔ انسان جانوروں کو ہی نہیں دوسرے انسانوں کو بھی قتل کرتے ہیں اور پھر اپنے قتل کو صحیح ثابت کرنے کے لیے دلائل اور تاویلیں بھی پیش کرتے ہیں۔ کیا انسانوں کو دوسرے انسانوں کو انفرادی یا اجتماعی طور پر قتل کرنے کا حق ہے؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس پر غور اور تدبر کرنا انسانی ارتقا اور کرہِ ارض پر پر امن معاشرہ قائم کرنے کے لیے بہت اہم ہے۔

جب ہم انسانی تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں احساس ہوتا ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ انسانوں کی وحشت اور بربریت میں کمی ہونے کی بجائے اضافہ ہوا ہے۔ ایک وہ زمانہ تھا جب کسی جنگ میں چند سو لوگ قتل ہوتے تھے لیکن پچھلی چند صدیوں کی جنگوں میں لاکھوں انسان قتل کر دیے گئے۔ ایٹمی اور دیگر مہلک ہتھیاروں کی وجہ سے بیسویں صدی میں پہلی دفعہ انسان اجتماعی قتل یا اجتماعی خود کشی کے مرتکب ہو سکتے ہیں اور پوری انسانیت کو نیست و نابود کر سکتے ہیں۔

جب ہم انسانی قاتلوں کا نفسیاتی، سماجی، مذہبی اور سیاسی تجزیہ کرتے ہیں تو ہم انہیں سات گروہوں میں تقسیم کر سکتے ہیں

1۔ ذاتی بدلہ

انسانی قاتلوں کی پہلی قسم ان قاتلوں کی ہے جو اپنے غصے پر قابو نہیں پا سکتے۔ اگر کوئی ان پر ظلم یا زیادتی کرتا ہے تو وہ قانون کی مدد لینے کی بجائے قانون خود اپنے ہاتھ میں لے لیتے ہیں اور اپنے دشمن کو قتل کر دیتے ہیں۔ دنیا میں ہر روز نجانے کتنے لوگ اپنے رشتہ داروں کے قاتل بن جاتے ہیں۔ وہی لوگ جو ایک زمانے میں ایک دوسرے سے محبت کرتے تھے حالات بدلنے کے بعد ایک دوسرے کے دشمن بن جاتے ہیں۔ جب محبت نفرت میں بدل جاتی ہے تو لوگ اپنے عزیزوں کو بھی قتل کر دیتے ہیں۔ ساری دنیا میں ایسے قاتلوں میں مردوں کی تعداد اور مقتولوں میں عورتوں اور بچوں کی تعداد زیادہ ہے۔

2۔ عادی قاتل

پہلی قسم کے قاتل ان لوگوں کو قتل کرتے ہیں جنہیں وہ ذاتی طور پر جانتے ہیں لیکن دوسری قسم کے قاتل اجنبی مردوں،عورتوں اور بچوں کو قتل کرتے ہیں اور پھر قتل کرتے ہی چلے جاتے ہیں۔ میں ایک ایسے ہی قاتل کا انٹرویو لینے کینیڈا سے پاکستان گیا تھا۔ میں نے پھانسی گھاٹ میں جاوید اقبال مغل کا تین گھنٹے کا انٹرویو لیا تھا اور پھر جاوید اقبال مغل کے رشتہ داروں سے ملا تھا۔ میں نے ایک کتاب ’اپنا قاتل، بھی لکھی تھی جسے لاہور کے مشعل پبلشرز نے چھاپا تھا۔ وہ کتاب لکھنے کے دوران جب میں نے اس موضوع پر تحقیق کی تھی تو مجھتے یہ جان کر حیرانی ہوئی تھی کہ ساری دنیا کے ممالک میں سب سے زیادہ عادی قاتل امریکہ میں پائے جاتے ہیں۔

جب ہم عادی قاتلوں کا نفسیاتی تجزیہ کرتے ہیں تو ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ ان میں سے اکثر بچپن میں ظلم و تششد کا نشانہ بنے تھے۔ بچپن میں وہ مظلوم تھے اور جوان ہو کر وہ ظالم بن گئے اور پھر قتل کرنے لگے۔ عادی قاتل ایک خاص رنگ، نسل، زبان یا مذہب کے لوگوں کا چنائو کرتے ہیں اور پھر انہین قتل کرتے چلے جاتے ہیں۔ ایسے قاتلوں کی اکثریت نفسیاتی مسائل کا شکار ہوتی ہے ایسے قاتل نفسیات کی اصطلاح میں SOCIOPATHS AND PSYCHOPATHS کہلاتے ہیں۔

3۔ قاتل گروہ

دنیا کے مختلف ممالک میں جب لوگ دیہاتوں سے شہروں میں ہجرت کرتے ہیں تو ان میں بہت سے شہروں میں کھو جاتے ہیں۔ بعض لوگ اتنا اھساسِ تنہائی اور احساسِ بیگانگی کا شکار ہوتے ہیں کہ مختلف گروہوں کا حصہ بن جاتے ہیں۔ بعض نوجوان تھوڑے وقت میں زیادہ پیسے کمانے کے لیے غیر قانونی منشیات کے کاروبار میں ملوث ہو جاتے ہیں اور گینگزGANGS  کا حصہ بن جاتے ہیں۔ بعض دفعہ ان گینگز کی ایک دوسرے سے دشمنی شروع ہو جاتی ہے اور وہ ایک دوسرے کو قتل کرنے لگتے ہیں۔ بدقسمتی سے بعض دفعہ پولیس بھی ان گینگز میں شامل ہو جاتی ہے یا درپردہ ان کی مدد کرنے لگتی ہے۔ اس طرح شہریوں میں قانون کی بالادستی ختم ہو جاتی ہے اور معصوم شہریوں کو حکومت اور پولیس کی طرف سے وہ حفاظت نہیں ملتی جو ان کا قانونی حق ہوتا ہے۔

4۔ ذہنی مریض

قاتلوں کی چوتھی قسم ان لوگوں کی ہے جوSCHIZOPHRENIA, BIPOLAR DISORDER, PARANOIS PSYCHOSIS جیسی ذہنی امراض کا شکار ہوتے ہیں۔ ذہنی مرض کی وجہ سے انہیں یقین آ جاتا ہے کہ لوگ ان کے دشمن ہو گئے ہیں اور انہیں قتل کرنا چاہتے ہیں۔ اس سے پہلے کہ دشمن انہیں قتل کرے وہ دشمن کو قتل کر دیتے ہیں۔ ایسے مریضوں کو جیل بھیجنے کی بجائے ذہنی امراض کے ہسپتال جانے کی ضرورت ہے تا کہ ان کا علاج کیا جا سکے اور وہ صحتمند ہو کر ایک پرامن زندگی گزار سکیں۔

5۔ سیاسی قتل

جوں جوں دنیا میں ریاستیں NATION STATESقائم ہونی شروع ہوئیں ان ریاستون نے اپنے دفاع کے لیے فوج بنانی شروع کر دی اور اپنے شہریوں کو قائل کیا کہ وہ فوجی بن کر ریاست کی حفاظت کریں اور اگر ان پر کوئی حملہ کرے تو وہ دشمنوں کو قتل کریں۔ ایسی ریاستوں نے یہ قانون بھی بنایا کہ اگر کوئی شہری ریاست کے خلاف آواز اٹھائے تو اسے غدار قرار دیا جائے اور اسے قتل کر دیا جائے۔ ایسے قتل قانونی طور پر جائز سمجھے جاتے ہیں۔

6۔ مذہب کے نام پر قتل

اگرچہ مذاہبِ عالم کے پیروکاروں کی اکثریت پرامن زندگی گزارتی ہے لیکن مختلف مذاہب کے پیروکاروں میں ایک اقلیت ایسی بھی ہوتی ہے جو شدت پسند اور دہشت پسند ہوتی ہے۔ وہ دوسرے مذاہب اور دوسرے مسالک کے لوگوں کو کافر سمجھتی ہے اور ان کے قتل کا مذہبی جواز تلاش کرتی ہے۔ ایسے قتل دنیا کے ہر کونے میں پائے جاتے ہیں۔ بدقسمتی سے ہر مذہب میں ایسے رہنما پیدا ہو جاتے ہیں جو مذہب کے نام پر قتل کو نہ صرف جائز قرار دیتے ہیں بلکہ قاتلون کو جنت اور حوروں کی نوید بھی سناتے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک مہربان خدا کے نام پر ظالمانہ قتل کیسے روا ہو سکتا ہے؟

7۔ بین الاقوامی قتل

پچھلی چند صدیوں میں دنیا کی طاقتور قومیں اپنی فوجیں کمزور ممالک میں بھیجنے لگی ہیں۔ یہ فوجیں فوجیوں کو ہی نہیں معصوم شہریوں کو بھی قتل کر دیتی ہیں۔ ان قوموں کے سردار بظاہر امن، آشتی، انسانی مساوات اور جمہوریت کا نام لیتے ہیں لیکن درپردہ کمزور ممالک کے وسائل پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔

یہ ایک افسوسناک حقیقت ہے کہ مختلف مذاہب اور قوموں کے انسانوں نے صدیوں کے ارتقا کے بعد بھی ایک دوسرے کے ساتھ پرامن طریقے سے رہنا نہیں سیکھا۔ میری نگاہ میں ساری دنیا کے انسان اس وقت تک کرہِ ارض پر ایک پرامن معاشرہ نہیں قائم کر سکتے جب تک انہیں یہ احساس نہ ہو کہ وہ سب دھرتی ماں کے بچے ہیں۔ ان کے دشمن ان کے دور کے رشتہ دار ہیں۔ تمام امن پسند مذہبی ، روحانی اور سیکولر روایات ہمیں یہ درس سکھاتی ہین کہ ایک انسان کا قتل ساری انسانیت کا قتل ہے۔

500 قبل مسیح کے ایک انسان دوست فلاسفر کنفیوشس CONFICIUS نے انسانیت کو ایک سبق پڑھایا تھا جو اب گولڈن رول GOLDEN RULE کے نام سے جانا جاتا ہے۔ کنفیوشس نے کہا تھا کہ ہم انسانوں کو دوسرے انسانوں سے ویسا ہی سلوک کرنا چاہیے جیسا کہ ہم چاہتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ کریں۔ یہ اصول ایک پرامن معاشرہ قائم کرنے کی بنیاد بن سکتا ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔