ہسپتالوں میں طبی عملے پر تیمارداروں کے تشدد کا بڑھتا ہوا رحجان: اسباب اور سدباب


(انٹر نیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس نے کچھ عرصہ قبل طبی شعبے میں تشدد کے رجحان پر ایک مقابلہ مضمون نویسی کروایا تھا جس میں ‘ہم سب’ اس کا شریک کار تھا۔ اس مقابلے میں شریک چند مضامین ‘ہم سب’ پر شائع کیے جا رہے ہیں۔ ریاض احمد سید صاحب کے اس مضمون نے مقابلے میں پہلی پوزیشن حاصل کی تھی۔ ریاض صاحب سابق ڈائریکٹر جنرل وزارت امور خارجہ ہیں اور اب روزنامہ جنگ کے کالم نگار ہیں)۔

تعارف

 ایک زمانہ تھا کہ ڈاکٹروں کی بہت قدر تھی، انہیں مسیحا اور فرشتہ کہا جاتا تھا۔ سفید کوٹ دیکھتے ہی مریضوں اور ان کے لواحقین کی نگاہیں احتراماً جُھک جاتیں اور وہ ان کے ہاتھ چومنے کو لپکتے تھے(1)۔ دیگر طبی عملہ کو بھی عزت و احترام دیا جاتا تھا ۔ رفتہ رفتہ یہ رشتہ کمزور پڑتا گیا، اور اب نوبت دھینگا مُشتی تک پہنچ چکی ہے۔ ایسا کیوں ہوا اور ہم اس درجہ پستی تک کیونکر پہنچے؟ قصوروار ہم سبھی ہیں، ڈاکٹر بھی، پیرا میڈیکل سٹاف بھی، مریض بھی، لواحقین بھی، سرکار بھی، کچھ نادیدہ ہاتھ بھی، اور شاید من حیث الجمیع معاشرہ بھی۔

بنیادی طور پر انسان جذباتی اور خودغرض واقع ہوا ہے۔ جب اُسے لگے کہ کوئی چیز اس کے مفاد کے منافی ہورہی ہے اور خواہ وہ اندیشہ تصوراتی ہی کیوں نہ ہو، تو وہ ہتھّے سے چھوٹ جاتا ہے اور وہ کچھ کر گزرتا ہے، جو اسے نہیں کرنا چاہئے تھا۔ ہمارے ہسپتالوں اور طبی مراکز میں اس قسم کے تشدد کا نشانہ بننے والوں میں بالعموم ڈاکٹر، نرسیں، پیرا میڈیکل سٹاف اور ایمبولینس ڈرائیور شامل ہوتے ہیں۔ جن کے لئے اس مقالہ میں ’’طبی عملہ‘‘ کی ترکیب استعمال کی گئی ہے۔

لطف کی بات یہ کہ طبی عملہ کے ساتھ اس نوع کے تشدد کے واقعات پوری دنیا میں ہورہے ہیں اور اس سلسلے میں ترقی یافتہ اور ترقی پذیر کی کوئی تمیز نہیں۔

جنوری 2015 میں امریکی شہر بوسٹن کے برگہم اینڈ وومن ہاسپیٹل کے ڈائریکٹر ڈیوڈ سن کو ایک شخص نے اس لئے قتل کردیا، کہ ڈاکٹر نے اس کی 79 سالہ ماں کی ہارٹ سرجری کی تھی اور وہ جانبر نہ ہوسکی تھی(2)۔ چین میں طبی عملہ پرتشدد کے واقعات کی تعداد 2006 میں ساڑھے پانچ ہزار تھی، جو 2015ء میں بڑھ کر 22 ہزار ہوگئی۔ صرف ایک برس (2014) کے دوران طبی عملہ کے سات افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ 17 فروری 2014ء کو ایک معروف ENT سپیشلسٹ کو محض اس لئے قتل کردیا گیا، کہ تیمارداروں کے خیال میں ان کے مریض کی مناسب دیکھ بھال نہیں ہو رہی تھی(3 )۔ کچھ ہی دنوں بعد 25 فروری 2014ء کو یی کنٹری ہاسپیٹل (4)میں مریضہ کے پڑھے لکھے سرکاری ملازم والدین نے ڈیوٹی نرس پر اس قدر تشدد کیا کہ بیچاری زندگی بھر کے لئے مفلوج ہوگئی۔ اس پر بھی عدم توجہ کا الزام لگا تھا(5)۔ دہلی کے لوک نائیک ہسپتال میں16 ستمبر 2013 کو دو مریضائیں آئیں۔ جو زیادہ سیریس تھی، لیڈی ڈاکٹر نے پہلے اُسے دیکھ لیا۔ جس پر دوسری کے لواحقین نے ڈاکٹر پر نہ صرف جسمانی تشدد کیا، بے حرمتی کی دھمکی بھی دی۔

 پاکستان میں بھی یہ مسئلہ شدّومد کے ساتھ موجود ہے، اور اس حوالے سے مختلف سٹڈیز ہیں۔ جن کی رینج 65 سے لے کر 77 فیصد تک ہے۔ یعنی اس قدر طبی عملہ مریضوں کے تیمارداروں اور رشتہ داروں کے ہاتھوں جسمانی ور زبانی تشدد کا شکار ہو چکا ۔ جسمانی تشدد کی نسبت توہین آمیز رویہ اور بدزبانی کے واقعات کہیں زیادہ ہورہے ہیں۔

 راقم نے ذاتی طور اسلام آباد پمز اور راولپنڈی کے بے نظیر بھٹو شہید ہسپتال اور ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال کے طبی عملہ کے ساتھ اس موضوع پر بات چیت کی ہے۔ پمز کے حالات قدرے بہتر ہیں۔ جب کہ باقی دونوں ہسپتالوں میں اکثر نے کہا کہ یہ تو روز کا معمول ہے اور تقریباً سبھی اس تجربہ سے گزر چکے ہیں۔ گو جسمانی تشدد کم ہے، مگر زبانی کی تو کوئی حد نہیں، ہر وقت چخ چخ لگی رہتی ہے۔ اگر کوئی خوش نصیب خود اس سے بچ گیا ہے، تو یہ منظر اس نے دیکھا ضرور ہے۔ ایک نوجوان ڈاکٹر نے بتایا کہ سال بھی پورا نہیں ہوا، مگر کھینچا تانی میں میری دو قمیضیں پھٹ چکی ہیں۔ کیونکہ میری ڈیوٹی ایمرجنسی میں ہوتی ہے، جہاں ہر کوئی گلے کو آتا ہے۔ 3 اکتوبر 2016ء کو بے نظیر بھٹو شہید ہسپتال میں ہونے والے واقعہ کا ذکر خاص طور پر ہوا، کہ مریض کو محض ایک تکنیکی اور پروسیجرل وجہ سے وینٹی لیٹر سے علیحدہ کیا گیا تھا۔ مگر لواحقین نے ہنگامہ کھڑا کردیا اور طبی عملہ کے ساتھ بدسلوکی ہی نہیں کی، املاک کو بھی نقصان پہنچایا ۔(6)

جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر کراچی کی جائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر سیمیں جمالی کے مطابق انہوں نے اپنی 25 برس کی ملازمت کے دوران ہر قسم کا تشدد دیکھا ہے۔ وارڈوں میں فائرنگ ہوتی رہی ہے، ایمرجنسی میں بارودی دھماکوں کے واقعات ہوئے ہیں، اور بعض اوقات تو لوگ خودکش جیکٹس پہن کر اور گرینیڈوں سے مسلح ہوکر بھی آجاتے ہیں۔(7)

اور یہ بھی حقیقت ہے کہ لواحقین کے غیر ذمہ دارانہ طرزِعمل کا سب سے زیادہ نقصان بھی ان کے مریض کو ہوتا ہے۔ ایسے مریضوں کے ساتھ طبی عملہ کا رویہ تبدیل ہو جانا اور توجہ کا لیول کم ہو جانا، عین فطری ہے۔ بلکہ کسی حد تک اس کا خمیازہ دوسرے مریضوں کو بھی بھگتنا پڑتا ہے۔ طبی عملہ سیریس مریضوں کو ہینڈل کرنے سے گھبراتا ہے، مبادا کوئی فساد کھڑا ہو جائے۔ اور یوں بہت سی قیمتی جانیں ضائع ہوجاتی ہیں۔(8)

اَسباب

طبی عملہ اور مریضوں کے تیمارداروں اور دیگر لواحقین کے مابین مناقشت اور بداعتمادی کی یہ خلیج کیسے پیدا ہوتی ہے اور کیونکر گہرائی و گیرائی پاتی ہے؟ ذیل میں انہیں وجوہ کو ڈسکس کیا گیا ہے۔

1۔ صدمۂ مرگ

لواحقین ہر صورت میں زندگی چاہتے ہیں۔ انہیں اس سے کوئی سروکار نہیں ہوتا کہ مریض کی حالت کیسی ہے، اور اس کے بچنے کے چانسز کتنے ہیں۔ اور جب یہ انہونی ہو جاتی ہے، تو شدت غم سے پاگل ہو جاتے ہیں۔ پہلا ردعمل یہ ہوتا ہے کہ طبی عملہ نے لاپرواہی کی ہے، اور جان بوجھ کر ان کے پیارے کو مار دیا ہے۔ ایسے میں وہ کسی کی نہیں سنتے اور اکثر اوقات پہلا شکار وہی اہلکار ہوتا ہے، جو خبر دیتا ہے۔ (9)

2 ۔ بیماری کی پیچیدگی، شدت سے لاعلمی

لواحقین بالعموم مرض کی پیچیدگی اور شدت سے آگاہ نہیں ہوتے، اور بعض معاملات کو تو بہت معمولی سمجھا جاتا ہے۔ خاص طور پر ڈیلیوری کیسز میں خوشی خوشی ہسپتال جاتے ہیں، کہ نئے مہمان کے ساتھ واپس آئیں گے۔ اس دوران اگر خاتون کے ساتھ کچھ مسئلہ ہو جائے اور دوران زچگی مرجائے، تو چکرا کر رہ جاتے ہیں، کہ انہوں نے تو ایک اچھی بھلی ’’صحت مند‘‘ خاتون عملہ کے حوالے کی تھی۔ پروسیجر کی نوعیت سے لاعملی کے سبب وہ اسے ایک معمولی کیس سمجھتے ہیں اور اس کی پیچیدگیوں سے ناآشنا ہونے کے سبب طبی عملہ کے گلے پڑ جاتے ہیں۔

3 ۔ اونچی توقعات

طبی عملہ پر تیمارداروں کے تشدد کے زیادہ تر واقعات سرکاری ہسپتالوں میں پیش آتے ہیں۔ جہاں آنے سے پہلے بیشتر مریض ٹونے ٹوٹکوں سے لے کر سیانوں، حکیموں اور عطائی ڈاکٹروں کی مہارت اور دوا دارو آزما چکے ہوتے ہیں۔ ظاہر ہے اس وقت تک بہت کچھ بگڑ چکا ہوتا ہے۔ پھر پریشان حال اعزہ و اقربا کی بٹالین کے ساتھ ہسپتال میں وارد ہوتے ہیں، اور توقع کرتے ہیں کہ آتے ہی سب پریشانیاں کافور ہو جائیں گی۔ جب ایسا نہیں ہوتا، اور تلخ قسم کے حقائق ایک ایک کرکے ان پر آشکار ہوتے ہیں، تو فرسٹریشن کا شکار ہوکر نا بدتمیزی کے مرتکب ہو جاتے ہیں۔ (10)

4 ۔ تشنہ سوالات

ہسپتال میں آنے والا مریض ڈاکٹر کے لئے عام مریض ہوتا ہے۔ جب کہ لواحقین میں سے کسی کا باپ ہوتا ہے، کسی کا بیٹا، کسی کا بھائی اور یوں دنیا کا اہم ترین شخص۔ جنہیں اس کی صحت کے حوالے سے تشویش کے ساتھ ساتھ تجسّس بھی ہوتا ہے، اور بہت سے سوالات لبوں پر مچل رہے ہوتے ہیں۔ مثلاً یہ کہ مرض کی نوعیت کیا ہے؟ کس سٹیج پر ہے، بہتری کے چانسز کیا ہیں؟ آپریشن ہوگا یا ادویات سے ٹھیک ہو جائے گا؟ ٹیسٹ کون کون سے ہوں گے؟ ہسپتال میں کب تک ٹھہرنا پڑے گا، اخراجات کیا ہوں گے؟ وغیرہ وغیرہ۔ مگر جب انہیں ان کا شافی و کافی جواب نہیں ملتا، تو بے صبرے ہو جاتے ہیں۔

5 ۔ تیمار داروں کی کثرت

مریض کی عیادت کے حوالے سے ہم لوگ بے حد جذباتی واقع ہوئے ہیں۔ دوچار تیماردار تو ہمہ وقت ڈیوٹی دیتے ہیں اور ملاقات کے اوقات میں پورا گاؤں اور محلہ اٹھ آتا ہے۔ جس سے وارڈ میں ہڑبونگ مچتا ہے، طبی عملے کے کام میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے اور تیمارداروں کے نرغے میں لیٹے مریض تک رسائی مشکل ہو جاتی ہے۔ ایسے میں عملہ کا معمولی سا تلخ رویہ بھی ملاقاتیوں پر گراں گزرتا ہے، اور وہ اسے توہین خیال کرتے ہوئے بدتمیزی پر اتر آتے ہیں۔

6 ۔ لواحقین کی اینگزائٹی

کسی حادثہ یا ایمرجنسی کے بعد مریض کو ہسپتال منتقل کرتے وقت لواحقین پینک کا شکار ہو جاتے ہیں۔ نروس اور دباؤ میں ہونے کی وجہ سے چاہتے ہیں کہ ایمبولینس اُڑ کر ہسپتال پہنچ جائے، اور زمینی حقائق کو فراموش کردیتے ہیں۔ ایسے میں عملہ کی معمولی سی کوتاہی یا من مانی کسی بڑے فساد کو جنم دے سکتی ہے۔ (12)

7 ۔ باری کا خیال نہ رکھنا

او پی ڈی میں آنے والے مریضوں کی ایک بڑی خواہش یہ ہوتی ہے کہ انہیں باری پر دیکھا جائے، جو پہلے آیا اسے پہلے، اور جو بعد میں آیا اسے بعد میں۔ جب کہ بعض اٹینڈنٹ اپنے جاننے والوں کو بیچ میں گھسیڑ دیتے ہیں۔ جس سے بدمزگی پیدا ہوتی ہے، اور جذباتی قسم کے مریض، تیماردار احتجاج پر اتر آتے ہیں۔ ایسے میں اٹینڈنٹ اگر ترش رویہ اختیار کرے، تو نوبت زبانی احتجاج سے بڑھ کر ہاتھا پائی تک پہنچ جاتی ہے۔

8 ۔ ایمرجنسی لوازمات کی عدم دستیابی

حادثہ کی صورت میں لواحقین بالعموم شاک میں ہوتے ہیں۔ وہ یہ سمجھ نہیں پاتے کہ ان کا پیارا، جو کچھ ہی دیر پہلے تک ہنستا کھیلتا اور صحت مند تھا، آناً فاناً اس کے ساتھ کیا ہوگیا۔ نفسیاتی طور پر وہ حادثہ کو تسلیم ہی نہیں کرتے اور مریض کو پہلے والی حالت میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ ایسے میں اگر ہسپتال میں ضروری ایمرجنسی ادویات اور آلات نہ ہوں، اور لواحقین کو یہ خدمات باہر سے قیمتاً حاصل کرنے کے لئے کہا جائے، تو وہ اسے ہسپتال کی نالائقی سمجھتے ہیں، کہ اس قسم کی باتوں سے وقت ضائع کیا جارہا ہے، جب کہ ایک ایک لمحہ قیمتی ہے۔ ایسے میں اگر موت واقع ہو جائے، تو اس کی وجہ ایمرجنسی لوازمات کی عدم دستیابی تصور کیا جاتا ہے، جس کا خمیازہ موقعہ پر موجود طبی عملہ کو بھگتنا پڑتا ہے۔

9 ۔ ماب سائیکی سے عدم واقفیت

طبی عملہ اپنے پیشے کے بارے میں ضرور جانتا ہے، مگر ہجوم کی نفسیات سے بے بہرہ ہوتا ہے۔ اور نہیں جانتا کہ آمادہِ تشدد ہجوم کے ساتھ کیسے نمٹا جاتا ہے۔ وہ ان کے تلخ جملوں اور نفرت انگیز نعروں سے بر افروختہ ہو جاتا ہے، اور معاملہ بگڑ جاتا ہے۔

10 ۔ وی آئی پی کلچر

بعض اوقات ہماری جڑوں میں بیٹھا ہوا وی آئی پی کلچر بھی طبی عملہ پر تشدد کا باعث بنتا ہے۔ وی آئی پی حضرات ہسپتال میں وارد ہوتے ہیں، تو توقع کرتے ہیں کہ ڈاکٹر سمیت سارا عملہ ان کے آگے پیچھے ہو۔ گھنٹوں سے قطاروں میں لگے عام مریض جب یہ ترجیحی سلوک دیکھتے ہیں، تو غصہ عام طور پر طبی عملہ پر نکالتے ہیں۔ کیونکہ عزت نفس وہ بھی رکھتے ہیں، اور جب انہیں یوں اپنی سبکی کا احساس ہوتا ہے، تو ردعمل فطری ہے۔

وی آئی پی کلچر کا ایک اور قسم کا مظاہرہ راقم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ۔ جب ایک رکن صوبائی اسمبلی کو اپنے عزیز کا سٹریچر دھکیلنا پڑا، تو وہ اپنی اس ’’ہتک‘‘ پر پھٹ پڑا تھا۔ اور عملہ کی یہ وضاحت قبول کرنے کے لئے ہرگز تیار نہ تھا کہ ہسپتال میں درجہ چہارم کے عملہ کی شدید قلت ہے۔

11۔ ادویات کی پرانی سٹاک لسٹ

او پی ڈی میں ڈاکٹر صاحبان کے سامنے پڑی سٹاک میں موجود ادویات کی فہرست کو بالعموم اَپ ڈیٹ نہیں کیا جاتا۔ اور وہ اسی پرانی لسٹ سے پرچی پر دوا لکھ کر مریض، تیماردار کو تھما دیتے ہیں۔ وہ اسے ونڈو سے نہیں ملتی اور متبادل لکھا کر لانے کے لئے کہا جاتا ہے، جو ہفت خواں طے کرنے سے کم نہیں ہوتا۔ اس سے بدمزگی پیدا ہوتی ہے۔

12 ۔استحقاق رکھنے والے (entitled) مریضوں کا مسئلہ

سرکاری ملازمین بالعموم سرکاری ہسپتالوں میں مفت علاج کی سہولت کا استحقاق رکھتے ہیں۔ اور توقع کرتے ہیں کہ بوقت ضرورت انہیں اور ان کی فیملی کو مایوس نہیں ہونا پڑے گا۔ ایسے میں اگر انہیں ایکسرے، الٹراساؤنڈ اور دیگر مشینیں خراب ملیں اور باہر سے ٹیسٹ کرانے کا کہا جائے، تو محدود وسائل رکھنے والے ملازمینِ سرکار برافروختہ ہو جاتے ہیں۔ پڑھے لکھے اور اپنے حقوق سے آگاہ ہونے کے ناطے طبی عملہ کے ساتھ بحث میں الجھ جاتے ہیں، اور بعض اوقات نوبت دھمکانے تک پہنچ جاتی ہیں۔

13۔ حالات کار سے ناواقفیت

ہسپتالوں میں عملہ کی کمی کے سبب جونیئر ڈاکٹروں کو رات دن کام کرنا پڑتا ہے، اور ان کے اوقاتِ کار متعین نہیں ہوتے۔ رات بھر ڈیوٹی دینے کے بعد اگلے دِن کا آف بھی نہیں ملتا۔ ایسے میں اگر رات کو آنکھ لگ جائے اور مریض کو ان کی ضرورت پڑ جائے، تو انہیں سوتا دیکھ کر لواحقین، تیماردار ہتھے سے اُکھڑ جاتے ہیں۔ اور پہلا الزام یہ آتا ہے ہے کہ انہیں تو اپنے آرام ہی سے فرصت نہیں، مریضوں کو وقت خاک دیں گے!

14۔ سوسائٹی کی اونچ نیچ

ڈاکٹر صاحبان بالعموم مڈل، اپر مڈل کلاس سے آتے ہیں۔ وسائل کم ہوں تو بھی والدین انہیں ہر قیمت پر کمفرٹیبل رکھنے کی کوشش کرتے ہیں، تاکہ یکسوئی سے تعلیم کی طرف توجہ دے سکیں ۔ ایسے میں ان کی اکثریت سماج میں افق تا افق پھیلی غربت و افلاس سے بے بہرہ ہوتی ہے۔ جذباتی طور وہ مریضوں کے ساتھ تعلق پیدا نہیں کر پاتے، اور یوں رویّے میں ناگواری در آتی ہے۔ اور وہ مریضوں کی جہالت، پسماندگی اور بے کسی پر ناک بھوں چڑھاتے ہیں۔ حساس قسم کے مریض، لواحقین جس کا برا مناتے ہیں اور تصادم کی صورت حال پیدا ہو جاتی ہے۔

15۔ میڈیا کا کردار

اس حوالے سے میڈیا کا کردار بھی حوصلہ افزا نہیں۔ ہسپتالوں میں ہونے والے معمولی واقعات کو بھی بڑھا چڑھا کر اور منفی انداز میں پیش کیا جاتا ہے۔ قصور کسی کا بھی ہو، میڈیا بہرصورت مریضوں، لواحقین کی سائیڈ لیتا ہے، اور انہیں مظلوم و معتوب ثابت کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتا ہے۔ جس سے لامحالہ عوام الناس کے جذبات مشتعل ہوتے ہیں، اور معاشرہ میں طبی عملہ کا منفی امیج بنتا ہے۔

16۔ انسانی غلطی

انسان غلطی کا پُتلا ہے۔ نہ چاہتے ہوئے بھی چُوک ہو جاتی ہے۔ جس کا تعلق کسی خاص پیشہ سے نہیں، کسی بھی شعبہ سے تعلق رکھنے والے سے بھول چوک ہوسکتی ہے۔ ایسی صورت میں طبی عملہ کو بھی بونس دیا جانا چاہئے، اور لواحقین کو آپے سے باہر نہیں ہونا چاہئے۔ مگر اتنا حوصلہ کہاں سے آئے؟

17 ۔ لاپرواہی

شعبہ طب میں لاپرواہی کو البتہ نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ لاپرواہی سے کئے گئے علاج سے اگر مریض کو نقصان پہنچتا ہے اور لواحقین احتجاج کرتے ہیں، تو عین فطرت ہے۔ بعض ماہرین نے تو طبی عملہ کی لاپرواہی کو مجرمانہ فعل قرار دیاہے۔ جسے انصاف کے کٹہرے میں بھی لے جایا جاسکتا ہے، اور ایسے بیسیوں کیس ریکارڈ پر ہیں۔

18۔ لوبھ ، لالچ

بعض نجی ہسپتال ایسے مریضوں کے علاج معالجہ کی حامی بھی بھر لیتے ہیں، جن کے لئے کوالیفائیڈ عملہ اور دیگر سہولیات میسر نہیں ہوتیں۔ پھر ٹامک ٹوئیاں مارتے ہیں، اور اِدھر اُدھر سے عملہ کی خدمات حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جس سے مریض کی مشکلات میں اضافہ ہوتا ہے۔ ہسپتالوں کا یہ رویّہ بھی بلاشبہ قابلِ ستائش نہیں۔ اور لواحقین اگر اس قسم کی مہم جوئی کے خلاف احتجاج کرتے ہیں، تو کچھ غلط نہیں ہوتا۔

19۔ شفٹنگ کی آزادی

بعض نجی ہسپتال مریض کو باندھ کر رکھنے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہوتے ہیں۔ صاحب حیثیت مریض کو تو بالخصوص اسامی سمجھا جاتا ہے، جو کہیں اور چلا گیا تو گھاٹا پڑ جائے گا۔ یہ بلاشبہ غیر پیشہ وارانہ رویہ ہے۔ لواحقین کو آزادی ہونا چاہئے کہ جب چاہیں مریض کو اپنی پسند کے کسی بھی ہسپتال میں شفٹ کرسکیں۔

20۔ جھوٹی آس

بعض نجی ہسپتالوں میں ایک اور قباحت بھی دیکھنے میں آتی ہے کہ مریضوں اور لواحقین کو جھوٹی آس دلاتے ہیں۔ بیماری کے حوالے سے حقائق نہیں بتاتے۔ اندھیرے میں رکھتے ہیں اور مسلسل امید دلاتے رہتے ہیں۔ جس سے لواحقین یقین کی حد تک پرامید ہو جاتے ہیں۔ اور جب نتیجہ الٹ نکلتا ہے، تو ان کا آرزدہ ہونا عین فطری ہے۔ ایسے میں بعید نہیں کہ الٹی سیدھی حرکت کر بیٹھیں۔

21۔ مریض کا ریکارڈ

بعض ہسپتال مریض کے ریکارڈ کے حوالے سے سیکریٹوsecretive  رویہ اپناتے ہیں۔ محض ڈسچارج سلپ پر ٹرخا دیا جاتا ہے، اور ریکارڈ حوالے نہیں کرتے۔ حالانکہ اس کی سب سے زیادہ ضرورت خود مریض کو ہوتی ہے۔ ریکارڈ نہ دیئے جانے یا اس میں غیر ضروری تاخیر بھی طبی عملہ اور لواحقین کے مابین چخ چخ کا سبب بن جاتی ہے۔

22 ۔ مفت علاج

حکومتی پروپیگنڈہ اور اشتہار بازی کے زیر اثر اکثر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ سرکاری ہسپتالوں میں ہرقسم کا علاج فری میں ہوتا ہے۔ ایسے میں جب انہیں چھوٹی موٹی ادائیگیاں کرنا پڑتی ہیں، تو وہ بحث میں الجھ جاتے ہیں کہ گویا انہیں لوٹا جارہا ہے۔

23۔ پیشگی ادائیگی

داخلہ کے لئے پیشگی ادائیگی کی شرط بھی بعض اوقات لواحقین کو جذباتی بنا دیتی ہے۔ ان کا پیارا ان کی آنکھوں کے سامنے تڑپ رہا ہوتا ہے، مگر اس کے علاج معالجہ کو ایک موٹی رقم کی پیشگی ادائیگی کے ساتھ باندھ دیا جاتا ہے۔ بعض اوقات جس کا انتظام ان کے بس سے باہر ہوتا ہے۔ ایسا منظر نامہ لامحالہ بدمزگی کو جنم دیتا ہے۔

24۔ پیسہ دو، میّت لو

نجی ہسپتالوں میں تو یہ منظر بھی دیکھنے میں آتا ہے کہ مریض اﷲ کو پیارا ہوگیا، لواحقین غم و اندوہ میں ڈوبے ہوئے ہیں، مگر انتظامیہ میّت دینے سے پہلے واجبات کی کلیئرنس کا مطالبہ کر رہی ہے۔ ایسے میں لواحقین کو ہسپتال والوں کا رویہ غیر انسانی لگتا ہے، کہ ہمارا بندہ چلا گیا اور انہیں پیسے کی سوجھی ہے۔ لواحقین کی یہ سوچ، خاص طور پر اس صورت میں کہ انہیں رقم جمع کرنے میں دشواری ہو، بدمزگی کا موجب بن جاتی ہے۔

ہمارے سٹار کرکٹر وسیم اکرم اس سے ملتی جلتی صورت حال سے گزرچکے ہیں۔ چند برس پیشتر جب وہ اپنی اہلیہ کو علاج کے لئے بیرون ملک لے جارہے تھے، تو لاہور کے ایک نجی ہسپتال نے واجبات کی ادائیگی تک مریضہ کو ڈسچارج کرنے سے انکار کردیا تھا۔ وسیم اکرم کی جیب میں رات کے پچھلے پہر صرف 29 ہزار روپے تھے، جبکہ بل زیادہ رقم کا تھا۔ (14)

25 ۔ اپائنٹمنٹ کا احترام

بڑے نام والے بڑے ڈاکٹروں کے پاس ملک بھر سے مریض آتے ہیں، اور باقاعدہ اپائنٹمنٹ لے کر آتے ہیں۔ کوئٹہ سے ایک ایسا ہی مریض مقررہ وقت پر اسلام آباد میں ڈاکٹر صاحب کے کلینک پہنچا، تو پتہ چلا کہ موصوف شہر سے باہر ہیں اور دو روز بعد آئیں گے۔ وہ دو دن مریض اور اس کے لواحقین پر کیسے گزرے، اس کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ ڈاکٹر اور اس کے سٹاف نے اتنی زحمت بھی گوارا نہ کی کہ فون پر اطلاع ہی دے دیتے۔ کمپسنیشن تو دور کی بات، ڈاکٹر نے معذرت تک نہ کی۔ بس اتنا فرمایا کہ کام تو کسی بھی وقت پڑ سکتا ہے۔ اور احتجاج کے بعد مریض اس قدر دل برداشتہ ہوا کہ دکھائے بغیر ہی کوئٹہ لوٹ گیا تھا۔

26 ۔ ٹائم مینیجمنٹ

یہ بھی عام مشاہدے کی بات ہے کہ اپائنٹمنٹ کے باوجود اکثر سپیشلسٹ ڈاکٹر مقررہ وقت کا لحاظ نہیں کرتے۔ مریض تین ہزار فیس بھی بھرتا ہے اور تین گھنٹے کا انتظار بھی کرتا ہے۔ حالانکہ بڑی آسانی سے اس قسم کی ٹائم مینیجمنٹ کی جاسکتی ہے، کہ مریض کو آدھ گھنٹہ سے زائد انتظار نہ کرنا پڑے۔ حد تو یہ کہ ایک ایسے ہی ڈاکٹر نے مریض کا معائنہ کرنے سے محض اس لئے انکار کردیا تھا، کہ اس نے یہ کہنے کی جسارت کی کہ ’’وقت اگر آپ کا قیمتی ہے تو فارغ ہم بھی نہیں۔ انتظار کرانے کی حد ہونا چاہئے۔‘‘ اس کے بعد کے منظر نامہ کا تصور آپ خود کرسکتے ہیں۔

27 ۔ غیر ضروری ٹیسٹ

غیر ضروری لیبارٹری ٹیسٹ بھی مسئلہ کی گھمبیرتا میں اضافہ کا سبب بنتے ہیں۔ مریض الزام دھرتے ہیں کہ یہ سب ذاتی مفاد کے لئے ہوتا ہے، کیونکہ بعض ڈاکٹر اور عملہ بذات خود اس کاروبار میں ملوث ہے۔ چنانچہ ایسے ایسے ٹیسٹ بھی لکھ دیئے جاتے ہیں، جن کا بیماری سے کچھ زیادہ تعلق نہیں ہوتا، یا پھر ان کے بغیر بھی کام چلایا جاسکتا ہے۔

28 ۔ سیاسی غنڈہ گردی

ماضی میں صوبہ سندھ کے شہری ہسپتال غنڈہ گردی کا بھی شکار ہوتے رہے۔ ایک سیاسی جماعت سے وابستہ چند اسلحہ بردار کراچی کے جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر کی ایمرجنسی میں ایک ڈیڈ باڈی لے کر آئے، اور ڈیوٹی ڈاکٹر کو حکم دیا کہ ’’مریض‘‘ کا علاج کرو۔ اور وہ انہیں یہ بتانے کی ہمت بھی نہ کرسکا کہ وہ تو پہلے ہی مرچکا ہے، اور بے جان جسم کو وینٹی لیٹر پر ڈال دیا تھا۔ (15)

29 ۔ مریضوں کا اژدھام

افسوسناک واقعات کی ایک بڑی وجہ ہسپتالوں میں مریضوں کا بے پناہ رش بھی ہے۔ ہر بڑے ہسپتال کی او پی ڈی جلسہ عام کا منظر پیش کرتی ہے۔ اتنے بڑے ہجوم کو اکاموڈیٹ کرنے کے لئے ڈاکٹروں کی تعداد انتہائی کم ہے۔ اور ان کے بدترحالاتِ کار اس پر مستزاد، ڈربہ نما کمرے، موسم کی شدت اور دم گھٹتے ماحول میں اندر باہر مریض ہی مریض۔ ایسے میں کسی بھی طرف کا بھڑک اٹھنا بعید از قیاس نہیں۔

30۔ ڈاکٹروں کے ملازمتی مسائل

ڈاکٹروں کا شمار سماج کے انتہائی پڑھے لکھے اور باصلاحیت طبقہ میں ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے سوسائٹی کی اس کریم کے ساتھ ہم انصاف نہیں کرپاتے۔ جن کی تنخواہیں کم ہیں اور ترقی کی راہیں مسدود۔ رہنے کی جگہ ہے نہ سواری، اور سروس سٹرکچر کا تو کوئی سوال ہی نہیں۔ ایسے میں ان میں بددلی کا در آنا عین فطری ہے۔ خاص طور پر جب وہ ڈراپ آؤٹس پر مشتمل بیورو کریسی کا جاہ و جلال دیکھتے ہیں، تو ان کی فرسٹریشن اور، بڑھ جاتی ہے۔

31 ۔ مہنگی اور غیر معیاری ادویات

مہنگی اور غیر معیاری ادویات مریضوں اور لواحقین کے لئے ایک بڑی سردردی ہے۔ جس کا ذمہ دار وہ اُن ڈاکٹروں کو ٹھہراتے ہیں، جو دوا ساز کمپنیوں کے خرچہ پر فیملی سمیت غیر ملکی دوروں پر جاتے ہیں اور نام نہاد کانفرنسوں میں شرکت کرتے ہیں۔ تحفے تحائف الگ سے نچھاور ہوتے ہیں۔ ایسے میں ادویات اگر مہنگی ملتی ہیں اور ناقص بھی ہیں، تو کوئی تعجب کی بات نہیں۔

اب ڈاکٹر سرالیگزنڈر فلیمنگ کہاں سے لائیں؟ جس نے دنیا کی اوّلین بیکٹیریا کش دوا پینسلین دریافت کی، تو دنیا بھر کی میڈیسن کمپنیاں حقوق کے لئے باؤلی ہوئی جارہی تھیں۔ اور بڑی سے بڑی رقم بطور رائلٹی دینے کو تیار تھیں۔ مگر اُس عظیم انسان نے اپنی عظیم دریافت انسانیت کے نام کردی اور اجازت نامہ میں لکھا:

یہ دریافت میری نہیں، خدا کی دین ہے، اُس کا عطیہ ہے۔ میں تو محض وسیلہ بن گیا۔ جب میں مالک ہی نہیں تو معاوضہ کیسا؟ لہٰذا خدا کی اس عطا کو خدا کی مخلوق کے مفاد میں اوپن کرتا ہوں۔ دنیا کی کوئی بھی میڈیسن کمپنی، پینسلین کو درج ذیل فارمولہ کے تحت تیار کرسکتی ہے۔ جو مالی مفاد آپ مجھے دینا چاہتے ہیں، وہ خلق خدا کو منتقل کردیں۔ (16)

32 ۔ ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن

کوئی زمانہ تھا کہ ہسپتالوں میں کام کا زیادہ بوجھ نوجوان ڈاکٹر اٹھایا کرتے تھے۔ جوان خون اور پُرجوش ہونے کے ناطے وہ تھکتے تھے اور نہ اکتاتے تھے۔ مگر اب ایسا نہیں ہے۔ نوجوان ڈاکٹروں نے ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن (وائی ڈی اے) کے نام سے ملک گیر تنظیم بنا رکھی ہے۔ ان سے مریضوں کو بھی گلہ ہے، سینئرز کو بھی اور سرکار کو بھی۔

اس مقالہ کی تیاری کے سلسلے میں راقم نے محکمہ صحت پنجاب کے ایک ذمہ دار سے بات کی، تو وہ تو گویا بھرے بیٹھے تھے۔ فرمایا:

’’انہیں کام سے کوئی دلچسپی نہیں۔ ہڑتال ان کا آزمودہ حربہ ہے۔ جس کے زور پر وہ من مانی کرتے ہیں۔ سرکار کو بھی انہوں نے بیک فٹ پر ڈال دیا ہے، جو ان کے خلاف تعدیبی کارروائی سے گھبراتی ہے‘‘۔

 نوجوان ڈاکٹروں کی اہلیت، ان کی درسگاہوں اور بھرتی کے نظام کے حوالے سے بھی سوال اٹھائے گئے۔

ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے طرز عمل کے بارے میں ایک بڑے قومی اخبار کے سینئر ایڈیٹر (میڈیکل افیئرز) نے لکھا:

’’ زیادہ دن نہیں گزرے لاہور کے میو ہسپتال کی سرجیکل وارڈ میں داخل ایک نادار مریض اور اس کے لواحقین کو صرف علاج کی بابت بات کرنے پر لاتوں، گھونسوں اور ٹھڈوں سے مار مار کر شدید زخمی کردیا۔ اور اب وہ مرضی کی انکوائری رپورٹ بھی مانگ رہے ہیں۔ حکومت کی بے بسی ملاحظہ ہو کہ مریض کو شیخ زید ہسپتال منتقل کرنا پڑا۔ چند برس پیشتر انہوں نے تمام سرکاری ہسپتالوں کی ایمرجنسی بند کردی تھی۔ جس سے دوسو کے قریب لوگ مر گئے تھے۔ ایسے میں مریضوں کے لواحقین اور رشتہ داروں نے احتجاج کیا تو کچھ غلط نہ تھا‘‘۔ (17)

 سَدِّباب

٭٭٭ اگلے روز ایک اجتماع سے خطاب کے دوران نادار مریضوں کے مسائل و مصائب کے ذکر پر وزیراعظم نواز شریف کی آنکھیں بھیگ گئی تھیں۔ پچاس نئے ہسپتال بنانے کے اعلان کے ساتھ ہی موصوف نے جذباتی انداز میں فرمایا تھا کہ جی چاہتا ہے شعبہ صحت پر ملک کا آدھا بجٹ خرچ کردوں۔ تو جناب روکا کس نے ہے؟ آگے بڑھیئے۔ پچاس تو کچھ بھی نہیں، اگر آپ واقعی وطن عزیز کے بے کس و بے بس مریضوں کو ریلیف دینا چاہتے ہیں، تو موجودہ ہسپتالوں اور طبی سہولتوں کو کم از کم دو گنا ضرور کردیں۔ اگر آپ یہ کر گزرے، تو یقین جانیئے، ہسپتالوں میں تشدد و بدنظمی کے واقعات اگر ختم نہیں، تو بڑی حد تک کم ضرور ہو جائیں گے۔ کیونکہ زیادہ تر کا تعلق مریضوں کے بے پناہ اژدھام اور طبی عملہ اور طبی سہولتوں کی قلت کے ساتھ ہے۔

٭٭٭ ہر بڑے ہسپتال میں شکایت سیل تشکیل دیا جائے۔ جس کا انچارج ایک مدبّر، انسان دوست، سینئر ڈاکٹر ہو، جو ہر شکایت کو توجہ سے سنے۔ لاپرواہی کی شکایت پر خصوصی دھیان دیا جائے۔ اور ذمہ دار طبی عملہ کے خلاف ایکشن میں تامل نہیں ہونا چاہئے۔

٭٭٭ ہسپتالوں کے معاملات کو اوپن اَپ کیا جائے۔ ضروری معلومات نمایاں جگہ پر جلی حروف میں آویزاں ہوں۔ جن میں ہسپتال کے قواعد و ضوابط، مختلف مدّوں میں اٹھنے والے اخراجات کی تفصیل، ڈاکٹروں سمیت طبی عملہ کا ڈیوٹی روسٹر اور ایمرجنسی میں پروفیسر صاحبان تک رسائی کا طریق کار شامل ہو۔

٭٭٭ ماب کنٹرول سے متعلق مسائل سے نمٹنے کے لئے ماب سائیکی کو سمجھنے والے افراد کا انتخاب ہسپتال کے عملے سے کیا جائے۔ غیر جذباتی، خوش اخلاق اور خوش گفتار قسم کے افراد کی مناسب تربیت سے تشلی بخش نتائج حاصل کئے جاسکتے ہیں۔ راقم نے ایسے ہی موقعہ پر ایک ڈاکٹر کو دیکھا، جو ان صفات کا حامل تھا اور جس نے آمادہِ فساد مجمع کو بے پناہ اعتماد کے ساتھ یقین دلایا کہ مریض کا آپریشن ان ڈاکٹروں نے کیا ہے، جو اپنے شعبہ میں اتھارٹی مانے جاتے ہیں۔ ہم نے اپنی سی کی، مگر زندگی اور موت اوپر والے کے ہاتھ میں ہے۔ تو کیا تم اُس سے لڑنا چاہتے ہو؟ اور متشدد مجمع لمحوں میں شانت ہوگیا تھا۔ بعض لوگ ماہر نفسیات کے تقرر کی بات بھی کرتے ہیں، مگر سبھی طبی مراکز شاید اس درجہ کی ایک نئی ویکنسی پیدا کرنے کی پوزیشن میں نہ ہوں۔

٭٭٭ تشدد کے زیادہ تر واقعات ایمرجنسی یا آئی سی یو میں ہوتے ہیں۔ ایسی تمام جگہوں پر سی سی ٹی وی کیمرے اس طور نصب کئے جائیں کہ متشدد عناصر کی واضح آڈیو، ویڈیو تیار ہوسکے، اور بعد میں شناخت کرنے میں سہولت رہے۔ اس بات کا بھی اہتمام کیا جائے، کہ ایمرجنسی میں پولیس، سکیورٹی اہلکار مناسب تعداد میں ہر وقت موجود ہوں۔ 14 اکتوبر 2016 کو راولپنڈی کے بے نظیر بھٹو شہید ہسپتال میں فائرنگ کے واقعہ کے بعد طے پایا کہ 15 پولیس والے ہمہ وقت ایمرجنسی میں ڈیوٹی دیں گے۔ (18)

٭٭٭ تشدد کے واقعات کے پیچھے محض مریض کے ورثاء ہی نہیں ہوتے۔ بعض اوقات ایسے غنڈہ عناصر بھی شامل ہو جاتے ہیں، جن کا مریض سے کوئی تعلق نہیں ہوتا، اور وہی سب سے زیادہ نقصان کا موجب بھی بنتے ہیں۔ ناپسندیدہ عناصر کی تعداد بھی زیادہ نہیں ہوتی، محض 5/6 نفر، مگر وہ ابتری بہت زیادہ پھیلاتے ہیں۔ انتظامیہ یقینی بنائے کہ غیر متعلقہ لوگ ہسپتال میں داخل اور مقیم نہ ہو پائیں۔ (19)

٭٭٭ ایمبولینس ڈرائیور اور ایمرجنسی عملہ تربیت یافتہ ہو، جو نہ صرف اچھی ڈرائیونگ جانتا ہو، شہر کی سڑکوں اور شارٹ راستوں سے بھی بخوبی واقف ہو۔ مریض کی ہینڈلنگ احتیاط اور اپنائیت کے ساتھ کر کے لواحقین کا دل جیتا جاسکتا ہے۔ (20)

٭٭٭ داخلہ کے وقت مریضوں اور ان کے لواحقین سے تحریری دستاویز لی جائے، کہ وہ کسی بھی صورت میں متشدد نہیں ہوں گے، اور ہسپتال کے عملہ اور املاک کو نقصان نہیں پہنچائیں گے۔ بصورت دیگر ہسپتال ان کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا حق رکھتا ہے، اور انہیں نقصانات کا ہرجانہ بھی بھرنا ہوگا۔ (21)

٭٭٭ ڈاکٹر صاحبان مریضوں کو باری پر دیکھیں اور کسی بھی صورت میں کسی کو بھی فوقیت دینے سے گریز کریں۔ اس سے ان کے وقار میں اضافہ ہوگا۔ دربان کے بھی کان کھینچیں اور باری سسٹم کو یقینی بنانے کے لئے ٹوکن کا اہتمام کیا جائے۔

 ٭٭٭ مریض کو اس کا ریکارڈ دینے میں دشواری نہیں ہونا چاہئے، اگر ہسپتال بھی نقل رکھنا چاہتا ہے، تو فوٹو کاپی کا اہتمام کیا جاسکتا ہے۔

٭٭٭ سٹاک میں موجود ادویات کی فہرست روزانہ کی بنیاد پر اَپ ڈیٹ کی جائے۔ تاکہ مریض کو مطلوبہ دوا مل سکے اور اسے ونڈو پر پہنچ کر مایوسی نہ ہو۔

٭٭٭ ہمارے ہاں طبی عملہ کے تحفظ کا قانون موجود نہیں۔ بھارت کی بعض ریاستوں نے میڈیکل پروٹیکشن ایکٹ پاس کیا ہے۔ پاکستان میں بھی اس قسم کی قانون سازی کے امکانات کا جائزہ لیا جاسکتا ہے۔ (22)

٭٭٭ ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کا مسئلہ حل کیا جانا بھی ضروری ہے۔ جس کے بغیر سرکاری ہسپتالوں کے معاملات الجھے رہیں گے۔ حکومتیں تنقید نہیں کیا کرتیں، مسئلوں کا حل نکالتی ہیں، کیونکہ قوت نافذہ ان کے پاس ہوتی ہے۔ ینگ ڈاکٹرز کی اہلیت اور ان کی تعلیمی اسناد جاری کرنے والے ملکی، غیرملکی اداروں پر طعن و تشنیع کی بجائے حکومت کو چاہئے کہ بھرتی میرٹ اور صرف میرٹ پر پبلک سروس کمیشنز کے ذریعے کرے۔ پاکستان کے پبلک سیکٹر میڈیکل کالجوں کے گریجویٹس کو نظر انداز کر کے سفارشی بھرتی کے نتائج تو ایسے ہی ہوں گے۔

Notes and References

’’سرکاری ہسپتالوں کو نو گو ایریا نہ بنائیں‘‘واصف ناگی کا آرٹیکل، مطبوعہ روزنامہ جنگ، 25 اکتوبر 2016     1۔

  1. Work place violence against health care workers in the United States, an article by JP Phillips, downloaded from the internet.
  2. BeiMan TeGang Hospital in Qiqihar city of Heilongjiang province
  3. Nanjing Stomatological Hospital
  4. Stop violence against medical workers in China, by Dr. Ren, as published in the Journal of Thoracic Disease and downloaded from the internet.
  5. Doctors questioned for declaring alive patient dead, daily Dawn, 8 October 2016.
  6. The News, Karachi, 14 November 2015.
  7. Prevention and intervention strategies to check increasing violence against Health care Facilities and Health care Professionals, an article by Shaukat Ali Jawaid, downloaded from the internet.
  8. Assaults on public hospital staff by patients and their relatives, an inquiry by Neha Madhiwalla, as appeared in Indian Journal of Medical Ethics, downloaded from the internet.
  9. Can we make our hospitals more patients friendly? an article by Yogesh S Kumar, as appeared in Indian Journal of Medical Ethics, downloaded from the internet.
  10. Violence against medical workers in China, an article by Dr. Ren, downloaded from the internet.
  11. Ibid
  12. Over 75% doctors have faced violence at work, an article by Sushme Dev, downloaded from the internet.

’’خیر ڈاکٹر اتنے برے بھی نہیں ہوتے‘‘، ریاض احمد سید کا کالم، مطبوعہ روزنامہ جنگ، 12 اکتوبر 2010  14.

  1. Dawn, Karachi, 19 April 2013.

’’سرالیگذنڈر فلیمنگ‘‘، ریاض احمد سید کا کالم، مطبوعہ روزنامہ جنگ، 15 فروری 2014    16.

’’سرکاری ہسپتالوں کو نوگوایریانہ بنائیں‘‘، واصف ناگی کا آرٹیکل، مطبوعہ روزنامہ جنگ، 25اکتوبر2016 17.

روزنامہ جنگ، راولپنڈی، 16 اکتوبر2016   18.

  1. A write-up in The News, Karachi, “Govt. pledges safety steps, as ICRC study shows violence on the rise”,14 November 2015
  2. Ibid
  3. How to prevent and manage violence by patient’s relatives, a legal view, an article by Dr. MC Gupta (dvocate), downloaded from the internet.
  4. Ibid

Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔