پروینہ آہنگر: کشمیری عورتوں کی ہمت کا نشان


پروینہ آہنگر اُن بدقسمت ماؤں کی لمبی قطار میں شامل ہے، جس کے بیٹے جاوید احمد کو حراستی گمشدگی کا شکار بنایا گیا ہے۔ جاوید احمد کو نیشنل سیکورٹی گارڈز (این ایس جی) نے سرینگر کے بٹہ مالو علاقے سے 18، اگست 1990 کے دن اٹھا لیا تھا۔ اور وادی میں جگہ جگہ قایم انٹروگیشن کے کسی ایک سینر پر لایا گیا تھا۔ جاوید تب سکول جانے والا کمسن طالب علم تھا، اور سیکورٹی عملے نے اِس کمسن پر ملی ٹینٹ تنظیم کے ساتھ وابستہ ہونے کا شک کرکے اکھڑ پن کا مظاہرہ کیا تھا۔ کوئی مصدقہ الزام لگائے بغیر ہی جاوید کو پوچھ تاچھ کے لئے بند رکھا گیا۔ میں نے پروینہ کے ساتھ جولائی 2006 میں اس کے گھر پر ملاقات کی۔ اُس نے پورے صبر اور آداب کے ساتھ میرے ساتھ کئی گھنٹوں تک بات چیت کی اور اُن بدقسمت کشمیریوں کی رُوئیداد سنائی، جو اقتدار کی دہلیز تک پہنچنے میں ناکام رہتے ہیں اور نتیجتاً بندوق کے بے رحم سائے میں گمنام زندگی گزار کر بالآخر قبرستان کی راہ لیتے ہیں۔

پروینہ سیدھی سادھی لیکن پُر عزم خاتون ہے۔ اُس نے ایک ماں کی درد بھری داستان کو دوسروں کے کانوں تک لے جانے کے لئے پردے اور روایتی پابندیوں کو خیرباد کہہ دیا۔ پردے اور سماجی و روایتی پابندیوں کی حصار میں خاموشی سے دم تُوڑنے کے بجائے پروینہ نے اے پی ڈی پی نام سے گمشدہ بچوں کے والدین کی تنظیم کی بنیاد ڈالدی۔ اِس تنظیم میں ایسی تمام خواتین کو شامل کیا گیا، جن کے بچوں کو زیر حراست گمشدگی یا حراستی قتل کا شکار بنا دیا گیا۔ وادی کے سیاست دانوں نے غم سے نڈھال اِن ماؤں کی سسکیوں کو ہواؤں میں اچھال کر اپنا تجارتی سامان بنا دیا۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے 1999 میں تخمینہ لگایا کہ 1990 سے آٹھ سو سے زائد بچوں کو حراستی گمشدگی کا شکار بنادیا گیا تھا۔ ایک مقامی انگریزی روزنامہ کشمیر ٹایمز کے مطابق 2002 تک یہ تعداد ساڑھے تین ہزار ہوگئی تھی۔ اور اس سلسلے میں مختلف عنوان سے بہت ساری اطلاعات کو منظر عام پر لایا گیا۔ اے پی ڈی پی کے اراکین غیر سیاسی اور غیر جانبدار شہریوں کے حقوق اور وقار کو تحفظ فراہم کرنے کے غرض سے اپنے منشور کو متحرک کرنے میں مصروف ہیں۔ یہ ادارہ غیر سیاسی ہے اور کسی بھی مقامی یا ملکی سیاسی تنظیم سے مالی معاونت حاصل نہیں کرتا ہے۔ اے پی ڈی پی کو برسر اقتدار یا اپوزیشن سیاسی جماعتوں کی سرپرستی میں نہیں لیا گیا ہے۔ پروینہ وادی میں غیر قانونی طور جسمانی اذیتوں، قیدتنہائی، ہلاکتوں اور دیگر مظالم کے شکار لوگوں کے رشتہ داروں کو متحد کرنے میں کامیاب ہوئی۔ سیاسی، ثقافتی اور سماجی جماعتوں کے لئے غیر اہم، پروینہ کو اب فلپائن، تھائی لینڈ، انڈونیشا جیسے ممالک میں حقوق انسانی پامالی سے متعلق منعقدہ کانفرنسوں میں شرکت کرنے کا موقعہ ملا اور نئی دہلی کے سیاسی پنڈتوں کی ناک کے نیچے بھی پُر امن مظاہروں کو ترتیب دیا۔ وہ جدوجہد کے عروج پر پہنچتے ہوئے اپنے اصولوں پر ڈٹی رہی اور اپنے نقصان کے لئے مالی معاوضہ کی پیشکش کو بھی مسترد کردیا۔

اسی بارے میں: ۔  ناچتی ایڑیوں کی مقدس دُھول!

پروینہ اور دیگر مائیں سیاست اور فوجی مظالم کے شکار اپنے گمشدہ بچوں پر بیتی داستانوں کو جاننا چاہتی ہیں۔ اِن بدقسمت نونہالوں پر ڈھائی گئی سختیوں کی نوعیت اور جرم بے گنائی کی کیفیت کو سمجھنا چاہتی ہیں۔ یہ مائیں اِس درد کے سمندر میں ماہی بے آب کی مانند تڑپ رہی ہیں۔ اُنکی المناک داستانوں کو انصاف کی دہلیز پر بھی سمجھا نہیں جاسکتا ہے۔ گمشدہ افراد کے بہت سارے کنبے فاقہ کشی کا شکار ہیں۔ سینکڑوں خواتین کو بیوہ مان کر پھر سے شادی کرنے کا حق دار قرار نہیں دیا جا رہا ہے۔ اِس کا انکشاف پروینہ نے 2006 میں اپنی رہایش گاہ پر گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ پروینہ جیسی بے آسرا خواتین کی کرپٹ ماحول میں حصول انصاف کے لئے بے پناہ جدوجہد خود اعتمادی کا مظاہرہ ہے۔ اور موجودہ سیاسی حالات میں خواتین کی مداخلت کا عندیہ دیتا ہے۔
شیروں پکرنگ ماہر علم نسلیات نے شمالی ائیرلینڈ کی خواتین کے معاملات کا مطالعہ کرنے کے دوران دریافت کیا ہے کہ سیاسی تجزیہ نگار اور سماجی علوم کے ماہرین نے سرکاری مظالم اور زیادتیوں کی شکار خواتین کے تجربات کو تاریخی اہمیت نہیں دی ہے(پکرنگ: 490:2001) لیکن حصول انصاف کے لئے پروینہ جیسی نظر انداز ہوئی خواتین کے عزم صمیم نے کشمیری عورتوں کو قومی تاریخ میں ایک مقام بخشا ہے اور سیاست کے موجودہ دُور میں تمام تر رکاوٹوں کے باوجود بھی حقایق کی نشاندہی کی ہے۔ حال ہی اے پی ڈی پی سے وابستہ ذریعہ نے کشمیر میں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان خط انتظام کے قریب اوڑی علاقے میں مذہبی رسومات کا خیال کئے بغیر قبروں میں ڈالے گئے ایک ہزار گمنام نوجوانوں کی لاشوں کا پتہ چلایا۔ وسائل کی محرومی اور سامنے پہاڑ نما مشکلات کا خیال کئے بغیر اے پی ڈی پی نے بین الاقوامی سطح پر غیر جانبدارانہ تحقیقات کرانے کے لئے منظم بنیاد فراہم کی ہے۔ (گریٹر کشمیر : 31،مارچ 2008 )۔ اِس طرح کی تحقیقات ہوجانے کے نتیجے میں انڈین نیم فوجی دستوں سے لا محدود اختیارات واپس لینے اور انہیں جوابدہ بنانے کے لئے سازگار ماحول قائم کرنے میں مدد مل سکے گی۔ اور سول آبادی کو قانونی چارہ جوئی پر مایل ہوجانے کا راستہ فراہم ہوسکے گا۔ اے پی ڈی پی ممبران نے عہد کیا ہے کہ وہ اپنی آواز کو بلند کر کے حکومت کو ان سنی کرنے سے روک لے گی۔ وہ تجربہ کار ہیں اور اُن کی منظم جدوجہد سے حکومت کی ظالمانہ کارکردگی پر کئی سوالیہ نشان لگ سکتے ہیں۔

اسی بارے میں: ۔  دوسروں کے غم کا احساس (ایمپتھی) کیوں ضروری ہے؟

____________

یہ مضمون نائلہ علی خان کی کتاب Islam, Women, and Violence in Kashmir: Between India, and Pakistan سے لیا گیا ہے۔ کشمیر میں جاری جد و جہد میں خواتین کے تذکرے کے سلسلے میں یہ پہلا مضمون ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

ڈاکٹر نائلہ علی خان

ڈاکٹر نائلہ خان کشمیر کے پہلے مسلمان وزیر اعظم شیخ محمد عبداللہ کی نواسی ہیں۔ ڈاکٹر نائلہ اوکلاہوما یونیورسٹی میں‌ انگلش لٹریچر کی پروفیسر ہیں۔

dr-nyla-khan has 22 posts and counting.See all posts by dr-nyla-khan