حسد کی آگ


حسد اور ناکامی کی آگ میں عمران خان کا اخلاقی وجود جس طرح خاکستر ہوا ہے، اس میں عبرت کا سامان ہے، ان کے لیے جن کے اندر کی آنکھ کھلی ہے۔
کرکٹ کی دنیا میں ویون رچرڈزکی کیا حیثیت ہے؟ وہی جو عمران خان کی ہے، شاید اس سے بھی زیادہ۔ بلے اور گیند پر انہوں نے انمٹ نقوش چھوڑے ہیں۔ جب تک یہ باقی ہیں رچرڈز کا نام باقی ہے۔ سیمی کون ہیں؟ دو بار ان کی قیادت میں ویسٹ ایڈیز نے ٹی ٹونٹی ٹورنامنٹ جیتا ہے۔ وہ ‘ٹی 20‘ کے ماہر مانے جاتے ہیں۔ بات مگر اس سے کہیں آگے کی ہے۔ یہ رچرڈز ہوں یا سیمی، انہوں نے صرف کرکٹ نہیں پاکستان کا ساتھ دیا ہے۔ سیمی کا کہنا ہے کہ ان کی والدہ اور بیوی نے کہا کہ ایک اچھے مقصد کے لیے جاتے ہو تو ضرور جاؤ۔ سیموئلز کا کہنا تھا کہ اگر وہ پاکستان آ کر کچھ چہروں پہ مسکراہٹ لا سکتے ہیں تو وہ ضرور آئیں گے۔ ایک عامی بھی جانتا ہے کہ پی ایس ایل کا معرکہ محض کھیل کی دنیا کا کوئی واقعہ نہیں تھا۔ یہ قومی عزم و استقلال کی ایک علامت بن گیا تھا۔ یہ واقعہ اپنے ما بعدالطبیعاتی اثرات بھی رکھتا ہے۔
پی ایس ایل سرمایہ دارانہ معیشت کا ایک مظہر ہے۔ یہ پیسہ کمانے کا ایک عمل ہے؛ تاہم جب کوئی خیال امرِ واقعہ بنتا ہے تو لازم نہیں کہ اس کے تمام نتائج صاحبِ خیال کی خواہش کے مطابق نکلیں۔ عالمگیریت نے سرمایہ دارانہ معیشت سے جنم لیا‘ مگر اس نے خیالات کے پھیلاؤ کو ایک عالمگیر عمل میں بدل دیا۔ اب ہمارے پاس بھی پورا موقع ہے کہ اپنی بات دنیا کے سامنے رکھیں۔ یہی پی ایس ایل کا معاملہ ہے۔ اس کا فائنل ایک ایسے وقت پر طے تھا جب پاکستانی قوم کو ایک ایسے ہی موقع کی تلاش تھی۔ خوف کے بادل چھٹیں اور امید کا سورج نکلے۔ یہ اس کا ما بعدالطبیعاتی پہلو تھا۔ ہم بہت کم نظر ہوتے اگر اسے گنوا دیتے۔ اﷲ کا شکر ہے کہ ایسا نہیں ہوا۔ اﷲ نے ہمیں سرخرو کیا۔ دہشت گردی کے وہ اثرات ختم ہوئے جو حالیہ واقعات نے مرتب کیے تھے۔
پی ایس ایل کا فائنل لاہور میں ہونا چاہیے یا نہیں، اس باب میں دو آراء ہو سکتی تھیں۔ عمران خان کی رائے غلط تھی مگر غلطی سب سے ہو سکتی ہے۔ ہم ان سے اختلاف کر سکتے تھے، لیکن اس سے زیادہ نہیں۔ کاش عمران خان وہیں رک جاتے۔ انہوں نے غلطی پر اصرار کیا۔ برادرم ہارون الرشید اکثر یہ قولِ زریں دھراتے ہیں‘ ”انسان غلطی سے نہیں غلطی پر اصرار سے ہلاک ہوتا ہے‘‘۔ عمران نے اصرار کیا اور پھر اس کا اظہار جس بد ذوقی کے ساتھ کیا، اس نے اس کے مداحوں کو بھی مذمت کرنے پر مجبور کیا۔
اﷲ نے ہمیں حادثات سے محفوظ رکھا۔ زمین پر اس کا کریڈٹ ریاست اور حکومت کو جاتا ہے، بالخصوص حکومت پنجاب کو۔ نجم سیٹھی صاحب بھی داد کے مستحق ہیں۔ ہر کوئی اس حسنِ انتظام کی تحسین کر رہا ہے۔ منفی جذبات مگر بعض لوگوں کو اپنی گرفت میں لے چکے۔ کوئی پنجاب کے عوام کو داد دے رہا ہے مگر ساتھ ہی پنجاب حکومت اور شریف خاندان کی مذمت کے فرض کو نہیں بھولا۔ کسی کو وزیر اعظم کے اس بیان پر اعتراض ہے کہ ”ہم نے چار سال میں امن لوٹا دیا‘‘۔ اعتراض یہ ہے کہ ”ہم‘‘ کو کریڈٹ لینے کا کوئی حق نہیں۔ یہ کریڈٹ تو فوج کا ہے۔ گویا ملک کا وزیر اعظم جب ”ہم‘‘ کہتا ہے تو فوج اس میں شامل نہیں ہوتی۔ آج کوئی فوج کو کریڈٹ دے کر نواز شریف کو مستثنیٰ رکھتا ہے۔ کوئی پنجاب کے عوام کو داد دیتا ہے مگر حکومت پنجاب کو اس سے الگ کر دیتا ہے۔ فوج اور سیاسی قیادت کو مسلسل الگ ثابت کرنا کون سی حب الوطنی ہے؟ حسد اور گروہی عصبیت کی مگر یہ انتہا نہیں۔ انتہا وہ ہے جس کا مظاہرہ عمران خان نے کیا۔
عمران خان کے الفاظ کا ہدف وہ کھلاڑی بنے جنہوں نے پاکستان آ کر ہمارے وقار میں اضافہ اور پاکستان کے ساتھ اظہارِ یک جہتی کیا۔ ان کو نواز شریف سے نہیں‘ پاکستان سے دلچسپی تھی۔ ہم بطور قوم ان کے شکر گزار ہیں۔ عمران خان کا معاملہ مگر یہ ہے کہ وہ آدمی جس کے کسی فعل سے نواز شریف یا حکومت کو فائدہ ہو، وہ قابل مذمت ہے۔ یہ کوئی عالم دین ہو، صحافی ہو یا غیر ملکی کھلاڑی۔ رچرڈز ہو یا سیمی۔ ان کا قصور اس کے سوا کیا ہے کہ انہوں نے پاکستانی قوم اور بالواسطہ طور پر حکومت کو سرخرو کیا۔
گزشتہ دو تین سال میں عمران خان کا اخلاقی وجود جس طرح ریزہ ریزہ ہوا ہے، یہ ایک قومی المیہ ہے۔ وہ تدریجاً ایک مثالیت پسند سے روایتی سیاست دان میں ڈھل گئے ہیں۔ مجھے اب اس مقدمے پہ حیرت ہوتی ہے کہ وہ ذاتی زندگی میں بڑے دیانت دار آدمی ہیں۔ دیانت کا یہ تصور ہماری تہذیب کے لیے قطعاً اجنبی ہے۔ سیاست میں جھوٹ کو رواج دینا، سیاسی مفادات کے لیے الزام کو حقیقت بنانا، غیر سیاسی قوتوں سے ساز باز کرنا، جو پارٹی میں شامل ہو جائے اس کی مبینہ کرپشن کے خلاف زبان بند رکھنا۔ کیا ان سب باتوں کا ‘ذاتی دیانت‘ سے کوئی تعلق نہیں؟ کیا ایک آدمی یہ سب کچھ کرنے کے باوجود، ذاتی طور پر ‘دیانت دار‘ شمار ہو سکتا؟ ایک بڑے دیوبندی خاندان کے چشم و چراغ اور دین کے سکالر جناب عمار خان ناصر نے ایک بار ازراہ تفنن بدعت کی تعریف کرتے ہوئے لکھا کہ ”ہر وہ نیا کام جو بریلوی کریں، بدعت ہے‘‘۔ عمران خان نے کرپشن کی بھی ایک نئی تعریف دریافت کی ہے۔ ”ہر وہ غلط کام جو شریف خاندان کرے، وہ کرپشن ہے‘‘۔ نواز شریف مولانا فضل الرحمٰن کو ساتھ ملائیں تو کرپشن، عمران خان مولانا سمیع الحق کے مدرسے کو تین کروڑ دے کر ساتھ ملائیں تو عین خدمتِ دین۔
قومی سطح پر سیاسی ارتقا کے لیے لازم تھا کہ سیاست شریف خاندان سے آگے بڑھے۔ اس کے لیے متبادل اور بہتر قیادت کا ابھرنا ضروری تھا۔ عمران خان نے امید کا چراغ روشن کیا تھا۔ افسوس کہ حسد اور ناکامی نے انہیں ذہنی مریض بنا دیا۔ اخلاقی رذائل میں حسد وہ بیماری ہے جس کا نشانہ دوسرا نہیں، حاسد خود بنتا ہے۔ محترم ہارون الرشید کو ایک بار پھر یاد کرتا ہوں۔ اکثر دھراتے ہیں کہ کوئی آدمی اس وقت تک زمین سے نہیں اٹھتا جب تک اس کا باطن آشکار نہ ہو جائے۔
ارادہ یہی تھا کہ عمران خان پر قلم نہیں اٹھاؤں گا، مگر ہمارے لیے خدا کی پہچان کی شاید یہی صورت ہے کہ ارادے بنیں اور پھر ٹوٹیں۔ سلام ہو سیدنا علیؓ پر۔

اسی بارے میں: ۔  دولت کی آلودہ دھند

(بشکریہ روزنامہ دنیا)


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔