کویت نے پاکستانیوں کے لئے ویزے بحال کردیئے


وزیراعظم نواز شریف نے امیر کویت شیخ صباح احمد الجابر الصباح سے ملاقات اور وفود کی سطح پر مذاکرات میں شرکت کی۔ کویت کے سفیرعبدالرحمٰن  کے مطابق ملاقات کے دوران پاکستانیوں پر6 سال سے عائد ویزا پابندیاں اٹھانے پر اتفاق کیا گیا۔ وزیراعظم نوازشریف نے کہا کہ دفاع، توانائی، زراعت، تعمیرات، پولٹری، لائیواسٹاک اور فشریز کے شعبوں میں دونوں ملکوں میں تعاون کے وسیع ترمواقع موجود ہیں اور اس حوالے سے تعاون کے لئے دونوں ممالک کے درمیان اجلاس ہونے چاہئیں۔ ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے باہمی دلچسپی کے امور اور دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے معاملات پر تبادلہ خیال کیا۔ وزیراعظم نوازشریف نے کہا کہ پاکستان کویت کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو بڑی اہمیت دیتااورمختلف شعبوں میں تعلقات کو مزید فروغ دیناچاہتا ہے۔

وزیر اعظم نے امیرکویت کو وزیراعظم کویت، اسپیکر کویتی پارلیمنٹ اور کویتی سرمایہ کاروں سے ہونے والی ملاقاتوں سے بھی آگاہ کیا۔ نواز شریف نے امیرکویت کا پاکستانی وفد کے شاندار استقبال اور میزبانی پر شکریہ ادا کیا۔ وزیراعظم نے کویتی سرمایہ کاروں پر زور دیا کہ وہ پاکستان میں موجود سرمایہ کاری کے کثیرمواقع سے فائدہ اٹھائیں۔ قبل ازیں وزیراعظم نوازشریف نے کویت کے وزیراعظم شیخ جابرالمبارک الحامد الصباح سے ملاقات اوروفود کی سطح پر مذاکرات میں شرکت کی۔ وزیراعظم کے دورہ کویت کے بارے میں اسلام آباد سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق اس موقع پرنوازشریف نے کہا کہ ایک لاکھ 14 ہزار سے زائد پاکستانی کویت میں مقیم ہیں جو دونوں ممالک کے درمیان مضبوط تعلقات کا ثبوت ہے، اس سے پاکستان کی جانب سے کویت کے ساتھ تعلقات کودی جانے والی اہمیت کا بھی اندازہ ہوتا ہے، دونوں ملک طویل عرصے سے اقتصادی اور تجارتی شراکت دار رہے ہیں اور پاکستان کویت کے ساتھ تمام شعبوں میں اپنے تعلقات کو مزید بڑھانے کا خواہشمند ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ مشترکہ وزارتی کمیشن معیشت کے مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کا جائزہ لینے اور اس تعاون کو آگے بڑھانے کیلیے نئے اہداف مقررکرنے کا بہترین پلیٹ فارم مہیا کرتا ہے،دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی حجم میں اضافہ ضروری ہے،خلیج تعاون کونسل اور پاکستان کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے پر مذاکرات ہونے چاہئیں، نجی شعبے کے باہمی روابط کی حوصلہ افزائی سے تجارت کوبڑھانے کے ساتھ ساتھ تجارتی توازن قائم کرنے میں بھی مدد ملے گی،وزیراعظم نے خلیج تعاون کونسل۔ پاکستان آزادانہ تجارتی معاہدہ سے متعلق مذاکرات کی کویت کی معاونت سے جلد بحالی کی اہمیت اور ویزا پابندیاں اٹھانے کی ضرورت پر بھی زوردیا جس سے کاروباری برادری کیلیے آزادانہ نقل و حرکت کی راہ میں حائل بڑی رکاوٹ دور ہوجائے گی۔ انھوں نے کہا کہ آزادانہ سرمایہ کاری پالیسی اور منافع کی اعلیٰ شرح کے ساتھ پاکستان سرمایہ کاری دوست اورغیر ملکی سرمایہ کاروں کیلیے پرکشش ملک بن گیا ہے، اس وقت ایک ہزار سے زائد صف اول کی ملٹی نیشنل کمپنیاں پاکستانی معیشت کے مختلف شعبوں میں کامیابی کے ساتھ کام کر رہی ہیں،ہم پاکستان کے انفرا اسٹرکچر اور توانائی کے بڑے منصوبوں میں کویت سے مزید سرمایہ کاری کا خیرمقدم کریں گے۔

دوطرفہ مذاکرات میں وفاقی وزیر پٹرولیم شاہد خاقان عباسی، وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے خارجہ امورطارق فاطمی اورسرمایہ کاری بورڈ کے چیئرمین مفتاع اسماعیل بھی موجود تھے۔ کویت کی جانب سے وزیراعظم، کویتی وزیردفاع، وزیرخزانہ،وزیر توانائی اور دیگر اعلیٰ حکام بھی مذاکرات میں شریک ہوئے۔

کویتی اسپیکرنے وزیراعظم اور ان کے وفد کا نیشنل پارلیمنٹ کویت آمد پرپرتپاک استقبال کیا اورانھیں کویتی پارلیمنٹ کی ساخت اور کام کے بارے میں بریفنگ دی۔ اس موقع پروزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ کویت کے ساتھ تعلقات کو مزید وسعت دینے کیلیے تیار ہیں۔ پارلیمنٹرینز کے دوروں سے تعلقات میں مزید بہتری لائی جاسکتی ہے، پاکستان اور کویت کے پارلیمانی تعلقات کو مضبوط تعاون سے بدلا جاسکتا ہے۔انھوں نے دونوں ممالک کے چیمبرز کے درمیان پارلیمانی تعلقات کو تعاون کے اگلے مرحلہ تک بڑھانے کی تجویز پیش کی۔ وطن واپسی پر طیارے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ آئندہ انتخابات وقت پر ہونگے، انتخابی اصلاحات پر کام تیز کرنے کی ضرورت ہے، انھوں نے وزیر خزانہ اسحٰق ڈار کو انتخابی اصلاحات پرکام تیز کرنے کی ہدایت کی۔ بعد ازاں وزیراعظم کویت کے2 روزہ سرکاری دورہ کے بعد وطن واپس پہنچ گئے ۔کویت انٹرنیشنل ایئرپورٹ پرانھیں کویتی وزیراعظم کے مشیرشیخ سلیم الجابر اور دیگر اعلیٰ حکام نے الوداع کیا۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔