ڈیورنڈ لائن کا قصہ کب تک چلے گا؟


جب جب پاکستان اور افغانستان کا دماغ گھومتا ہے تو ایک دوسرے پر لڑاکو بی ہمسائیوں کی طرح زبانی نشتر زنی شروع ہو جاتی ہے۔

کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ساری خرابی پاک افغان سرحدی لکیر نے پیدا کی ہے جو انگریزوں نے زبردستی افغان حکمرانوں سے کھچوائی اور جب تک اس سرحدی لکیر کے بارے میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہو جاتا دونوں طرف دماغ یوں ہی گھومتا رہے گا۔

آپ کسی بھی افغان سے بات کر لیں۔ وہ کیمونسٹ ہو کہ سرمایہ دار، طالبانی ہو کہ قبائلی جنگجو، شہری ہو کہ دیہی، ملا ہو کہ ملحد۔ ننانونے باتوں پر ایک دوسرے سے اختلاف ہوگا مگر اس پر سب کا اتفاق ہو گا کہ ڈیورنڈ لائن ایک ناجائز لکیر ہے ہم اسے نہیں مانتے۔ سب کو یقین ہے کہ 1893 میں افغان امیر عبدالرحمان اور برطانوی ہند کے سیکرٹری سر مارٹیمر ڈیورنڈ نے سرحدی حد بندی کے جس سمجھوتے پر دستخط کیے اس کی معیاد سو سال تھی (گویا وہ سمجھوتہ انیس سو ترانوے میں ختم ہوگیا )۔

کچھ لوگ تو یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ سمجھوتہ برطانوی ہند سے ہوا تھا لہٰذا 14 اگست 1947 کو ہی فوت ہوگیا۔ شاید اسی لیے انیس سو انچاس میں افغان لویا جرگہ نے ڈیورنڈ لائن کو ایک بوگس اور فرضی سرحد قرار دینے کی قرار داد منظور کر کے دونوں جانب کے پختون ایک ہیں کا نعرہ لگایا۔ کیا واقعی یہ سرحدی لکیر سو برس کے لیے کھچی تھی؟ کیا برطانیہ کے ہندوستان سے رخصت ہوتے ہی یہ معاہدہ ختم ہوگیا؟ کیوں نہ عینک اتار کے دیکھا جائے؟

دراصل 1893 میں جو ڈیورنڈ لائن کھچی تھی وہ 100 برس کے لیے نہیں تھی بلکہ امیر عبدالرحمان اور سر مارٹیمر ڈیورنڈ نے جس سمجھوتے پر دستخط کیے اس کی معیاد دستخط کنندہ بادشاہ کی زندگی تک تسلیم کی گئی تھی۔ اس سمجھوتے میں یہ بات بھی شامل تھی کہ افغانستان اپنی ضرورت کا اسلحہ ہندوستان کے راستے درآمد کر سکتا ہے اور برطانوی ہند افغان بادشاہ کو سالانہ اٹھارہ لاکھ روپے کی گرانٹ بھی دے گا۔

چنانچہ امیر عبدالرحمان کی وفات کے ساتھ جیسے ہی معاہدہ ختم ہوا برطانوی ہند نے نئے انتظامات وضع ہونے تک سالانہ گرانٹ اور راہداری کی سہولت بھی معطل کر دی۔ برٹش سیکرٹری فار انڈیا سر لوئی ڈین نئے امیر حبیب اللہ خان کی دعوت پر بات چیت کے لیے کابل پہنچے۔ 21 مارچ 1905 کو ڈین حبیب اللہ معاہدے پر دستخط ہوئے اور امداد و راہداری کی سہولت بحال ہو گئی۔ اس معاہدے کے مسودے میں امیر حبیب اللہ کی جانب سے عہد کیا گیا کہ ان کے والد نے برطانوی ہند کے ساتھ جو سمجھوتہ کیا تھا وہ بھی اس پر مکمل عمل درآمد کرتے رہیں گے اور کبھی رو گردانی نہیں کریں گے۔
تیسری اینگلو افغان جنگ کے بعد آٹھ اگست 1919 کو راولپنڈی میں افغان وزیرِ داخلہ علی احمد خان نے برطانوی ہند کے ساتھ جس امن سمجھوتے پر دستخط کیے اس کے نتیجے میں برطانیہ نے اگرچہ راہداری اور سالانہ امداد کی سہولت واپس لے لی مگر افغانستان کی آزادی و خود مختاری کو پہلی بار تسلیم کر لیا۔ اس معاہدے کی شق نمبر پانچ میں لکھا گیا ’افغان حکومت ہندوستان اور افغانستان کی وہی سرحد تسلیم کرتی ہے جو مرحوم امیر حبیب اللہ خان نے تسلیم کی تھی۔ ‘

یوں پہلی بار 1919 کے سمجھوتے کے تحت ڈیورنڈ لائن معاہدے کی معیاد بادشاہ کی زندگی تک برقرار رہنے کی پابندی سے آزاد ہو کر باضابطہ بین الاقوامی سرحد بن گئی۔

بائیس نومبر انیس سو اکیس کو کابل میں برطانوی ہند کے نمائندے سر ہنری ڈبس اور افغان حکومت کے نمائندے محمود ترزئی نے برطانیہ اور افغانسان کے مابین دوستانہ کاروباری تعلقات کے معاہدے پر دستخط کیے۔ اس معاہدے نے انیس سو انیس کے معاہدے کی جگہ لی۔ نئے معاہدے کے آرٹیکل دو میں جملہ ہے ’فریقین ہندوستان اور افغانستان کے درمیان وہی سرحد تسلیم کرتے ہیں جو انیس سو انیس کے معاہدے کی شق نمبر آٹھ میں تسلیم کی گئی تھی۔ ‘

1921 کے معاہدے میں یہ بھی کہا گیا کہ توثیق کے تین برس بعد کوئی بھی فریق معاہدے سے دستبردار ہو سکتا ہے۔ مگر نہ برطانوی ہند اور نہ ہی امیر امان اللہ خان کی حکومت نے اس سے دستبرداری اختیار کی۔ امیر امان اللہ خان کے جانشین شاہ نادر خان نے چھ جولائی انیس سو تیس کو برطانوی حکومت کے خط کے جواب میں جو سفارتی خط بھیجا اس کے دوسرے پیرے میں لکھا،
‘آپ کی تحریری یاد دہانی کے جواب میں ہم فخریہ اعلان کرتے ہیں کہ سابق معاہدات نہ صرف توثیق شدہ ہیں بلکہ انہیں مکمل نافذ تصور کیا جائے۔ ‘

رہی بات اس نکتے کی کہ سرحدی معاہدہ برطانوی ہند اور افغانستان کے مابین تھا لہذٰا برطانوی ہند کے ختم ہونے سے یہ معاہدہ بھی ختم ہو گیا۔ بہت سے افغان بین الاقوامی قانون کے تحت جانشین ریاست کا نظریہ بھی شاید تسلیم نہیں کرتے۔

انیسویں صدی میں افغانستان اور مملکتِ روس کے مابین جو سرحدی حد بندی ہوئی اسے افغانستان کی مرضی معلوم کیے بغیر برطانیہ اور روس نے آپس میں طے کر کے نافذ کر دیا۔ جبکہ افغانستان اور ایران کی سرحدی حد بندی کے عمل سے بھی افغانستان کو باہر رکھا گیا اور یہ حد بندی برطانیہ اور ایران کے مابین سمجھوتے کے ذریعے نافذ کر دی گئی۔ ڈیورنڈ لائن واحد سرحدی لکیر ہے جسے افغان بادشاہ کی مرضی سے طے کیا گیا اور یکے بعد دیگرے تین بادشاہوں نے 37 برس کے عرصے میں اس بابت پانچ معاہدوں کو تسلیم کیا۔

افغانستان نے آج تک سابق روسی ریاستوں سے ملنے والی اپنی شمالی سرحدی حد بندی اور ایران سے متصل مغربی سرحد کو چیلنج نہیں کیا مگر ڈیورنڈ لائن کو ہر بار چیلنج کیا۔ اگر پاکستان برطانوی ہند کی جانشین ریاست نہیں تو پھر افغانسان کی شمالی سرحد کے بارے میں کیا کہا جائے جو سوویت یونین کے خاتمے کے بعد سوویت یونین کی جانشین وسطی ایشیائی ریاستوں سے لگتی ہے۔
اگر واقعی افغانستان سمجھتا ہے کہ اس کے ساتھ تاریخی زیادتی ہوئی ہے تو کیا کوئی بھی افغان حکومت کبھی شمالاً، شرقاً اور غرباً سرحدی ناانصافیوں کو عالمی عدالتِ انصاف میں چیلنج کرنا پسند کرے گی؟ شاید یہی ایک قانونی راستہ ہے روز روز کی بک جھک سے نجات پانے کا اگر کوئی بھی افغان حکومت مطمئن ہونا چاہے تو۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔