ریلو کٹے کو اب جانے دیجیے


برادرم حمزہ علی عباسی کی بات سر آنکھوں پر کہ ہم سب نجی محفلوں میں عامیانہ زبان( slang )استعمال کرتے ہیں۔ جاوید میانداد صاحب بھی درست فرماتے ہیں کہ کرکٹ کلبوں کے ماحول میں پھٹیچر اور ریلو کٹا عام الفاظ ہیں۔ بربنائے بحث یہ بات بھی درست مان لیتے ہیں کہ عمران خان کی گفتگو آف دی ریکارڈ تھی جیسے پبلک نہیں کرنا چاہیے تھا۔ حالانکہ اس محفل میں شامل ایک قابل قدر صحافی اے وحید مراد گواہی لکھ چکے ہیں کہ ’ عمران خان کے سامنے بیس رپورٹر بیٹھے تھے۔ دس نے اپنے موبائل فون کے کیمرے کھولے ہوئے تھے۔ سوال و جواب ہورہے تھے۔ عمران خان یا ان کے اطراف بیٹھے ترجمانوں نے ایک بار بھی کسی کو نہیں روکا کہ یہ آف دی ریکارڈ گفتگو ہے ریکارڈنگ نہ کی جائے‘۔

خان صاحب نجی محفل میں اپنے سیاسی کارکنوں سے مخاطب نہیں تھے بلکہ ایک باقاعدہ رسمی محفل میں سپریم کورٹ سے رپورٹنگ کرنے والے صحافی بلائے تھے۔ صحافیوں کی اس رسمی محفل میں غیر رسمی گفتگو کی گئی۔ خان صاحب کو اب تو معلوم ہونا چاہیے تھا کہ نیوز انڈسٹری اب وہاں پہنچ گئی ہے جہاں اصل خبر سے زیادہ آف دی ریکارڈ خبر چلا کر ٹی آر پیز بڑھائی جاتی ہیں۔ خبر اب معلومات کے لئے کم رینکنگ کے لئے زیادہ شائع ہوتی یا دکھائی جاتی ہے۔ مشکل یہ ہے کہ خان صاحب سے دہن کاری کا ایسا شاہکار مظاہرہ پہلی بار سرزد نہیں ہوا۔ خان صاحب تواتر سے ایسی زبان استعمال کرتے رہے ہیں جسے کم سے کم درجے میں بھی اچھی زبان نہیں کہا جا سکتا۔ خان صاحب سٹیج پر کھڑے ہو کر سیاستدانوں سے لے کر حوالداروں اور سپاہیوں تک کو اوئے اوئے سے پکارتے رہے ہیں۔ کسی کو چوکیدار تو کسی کو ڈیزل کہتے رہے ہیں۔ کسی کے بارے میں یہ کہتے سنے گئے ہیں کہ اس کی فلاں چیز خطا ہو جائے گی اور کسی کی برسرعام نقل اتارتے ہیں اور اس میں مرد و زن کی تفریق رکھنے کے بھی روادار نہیں رہتے۔ ہماری صحافتی تاریخ میں جب خان صاحب کے بیڈروم کی باتیں باہر آنے لگیں تو خان صاحب کی دوستی کے دعویدار باخبر صحافیوں نے اس کا واحد راوی خان صاحب کو ہی قرار دیا تھا۔

عرض یہ ہے کہ پڑھے لکھے لوگوں کے زبان کی بڑی اہمیت ہوتی ہے۔ دنیا بھر میں ادارتی صفحات پر شائع ہونے والی زبان کو ادارت کے کڑے مراحل سے اسی لئے گزارا جاتا ہے تاکہ الفاظ کا سقم اور لہجے کی کاٹ کو کم کیا جا سکے۔ دنیا بھر کے سربراہان اور سیاستدان جب فی البدیہہ تقریر کی بجائے لکھی ہوئی تقریر پڑھتے ہیں تو اس کی خالص وجہ الفاظ کو درست اور موقع محل کی مناسبت سے استعمال کرنا ہوتا ہے۔ بڑے لوگوں کے الفاظ کی بہت اہمیت ہوتی ہے وگرنہ تو کراچی کی اس خاتون (جس نے کہا تھا گورمنٹ بک گئی ہے) نے جن گالیوں سے اپنا مدعا بیان کیا کہ ’سیاست دان کرپٹ ہیں‘ وہی کچھ ہمارے بہت معزز کالم نگار و تجزیہ کار بہتر الفاظ کے ساتھ اخباری کالم میں لکھتے ہیں۔ سیاسی مکالمے میں لفظ، دلیل اور موقع کی مناسبت بہت اہم ہیں۔ اگر خان صاحب کو ساٹھ سال کی عمر میں یہ نہیں معلوم ہواکہ الفاظ کیسے استعمال کرنے ہیں اور زبان کیسی بولنی تو پھر خان صاحب کو ابھی مہذب سیاسی زبان سیکھنی پڑے گی۔

جہاں تک یہ اعتراض ہے کہ پھٹیچر کا اتنا ایشو کیوں بنایا گیا تو اس کا سادہ سا جواب ہے۔ ہم ایک ایسے سماج میں رہتے ہیں جہاں ایک آدمی بغیر یونیورسٹی کی شکل دیکھے چار چار ڈگریاں حاصل کرتا ہے اور دوسرا آدمی آٹھ دس سال کی عرق ریزی اور محنت کے بعد اپنی ڈگری حاصل کرتا ہے۔ ایسے میں ایک سیاستدان کھڑے ہو کر جعلی ڈگری کے دفاع میں کہتا ہے کہ ڈگری ڈگری ہوتی ہے۔ یہ ڈگری ڈگری ہمارا دو سال تک قومی رجحان (Trend)بنا رہتا ہے، تو اس سماج میں رجحان سازی (Trending) کی روایت سمجھنا اتنا مشکل بھی نہیں ہے۔ اسی سماج میں ہم نے پڑھے لکھے لوگوں کی زبان اور قلم کے رنگ ڈھنگ سے مسٹر ٹین پرسنٹ، گنجے، ڈیزل، ایزی لوڈ، یہودی ایجنٹ اور اس قبیل کے دیگر قابل افسوس الفاظ کئی بار استعمال ہوتے دیکھے ہیں۔ بات قابل افسوس ہے مگر مقام حیرت ہے کہ پھٹیچر کے ایشو پر ان احباب کو افسوس ہے جو ابھی چند دن قبل ملک کے وزیراعظم کی ایک ایسی ویڈیو شئیر کر رہے تھے جس میں وہ اپنے جسم کا کوئی حصہ کھجا رہے ہیں۔ سیاسی مکالمے میں جب روایات اتنی پست ہو جائیں وہاں تنقید کے رجحانات ایسے ہی ہوتے ہیں۔

عرض مدعا یہ ہے کہ ان تمام وضاحتوں کے باوجود سادہ بات یہ ہے کہ خان صاحب کی بات نجی محفل کی ہو، صرف کوئٹہ کے غیر معروف کھلاڑیوں کے حوالے سے ہو، پھٹیچر اور ریلو کٹا کرکٹ کی اصطلاح میں عام الفاظ ہوں، اس سے بہرحال بہت سے لوگوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں۔ انسانی جذبات مجروح کرنے کے بعد بہتر رویہ یہ ہے کہ اپنی بات کی وضاحت کے بعد اپنے پورے قد سے کھڑے ہو کر جذبات مجروح کرنے پر معذرت کر لینی چاہیے۔ خان صاحب کے سیاسی کارکنوں اور ان سے محبت کرنے والوں کے لئے اس واقعہ میں ایک اہم سبق یہ ہے کہ جس طرح ان کو خان صاحب عزیز ہیں ویسے اس ملک کے بہت سارے باسیوں کو آصف علی زرداری، میاں محمد نواز شریف، مولانا فضل الرحمان، سراج الحق، اسفندیار ولی، محمود خان اچکزئی، فاروق ستار، مریم نواز اور بلاول بھٹو عزیز ہیں۔ جیسے ان کو خان صاحب تحقیر پسند نہیں ویسے ہی ان کے سیاسی مخالفین کو اپنے رہنماؤں کی تحقیر پسند نہیں۔ سمجھدار سیاسی کارکنوں سے توقع رکھنی چاہیے کہ کم سے کم درجے میں بھی وہ اگر اس بات پر اتفاق کر لیں کہ ہزار سیاسی مخالفت کے باوجود ایک دوسرے کے راہنماؤں کی تحقیر سے باز رہیں گے تو امید رکھنی چاہیے کہ اس ملک میں سیاسی مکالمے کی فضا بہتر ہو سکے گی۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

ظفر اللہ خان

ظفر اللہ خان، ید بیضا کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ زیادہ تر عمرانیات اور سیاست پر خامہ فرسائی کرتے ہیں۔ خیبر پختونخواہ، فاٹا، بلوچستان اور سرحد کے اس پار لکھا نوشتہ انہیں صاف دکھتا ہے۔ دھیمے سر میں مشکل سے مشکل راگ کا الاپ ان کی خوبی ہے!

zafarullah has 148 posts and counting.See all posts by zafarullah