بے جا بولنا نقصان دہ ہوتا ہے


محترم عمران خان کا حالیہ بیان جس میں انہوں نے بین الاقوامی غیر ملکی کرکٹرز کو پھٹیچر قرار دیا ہے۔ عمران خان صاحب کی طرف سے غیر متوقع تھا۔عوام کا حصہ ہونے کی بنا پر ہم بھی شش و پنج میں مبتلا تھے اور سوچ رہے تھے کہ یہ بیان دے کر عمران خان صاحب نے میڈیا اور سیاسی مخالفین کو اپنی بھد اڑانے کا بھرپور موقع فراہم کیا ہے بلکہ کرکٹ کی زبان میں فری ہٹ لگانے کا موقع دیا ہے۔ الحمد للہ، تواتر کے ساتھ فری ہٹیں لگ رہیں ہیں اور یقینا محترم عمران خان صاحب جو کہ کرکٹ کے سابق کہنہ مشق کھلاڑی ہیں، ان ہٹوں سے لطف اندوز ہو رہے ہوںگے۔

ہم اس بیان کو لے کر سوچ رہے تھے کہ عمران خان صاحب کا اگلا قدم یا بیان کیا ہوگا تو کئی سال قبل کا ایک واقعہ ذہن میں آگیا۔ حسن اتفاق یہ کہ جس بزرگ کے حوالے سے واقعہ یاد آیا ان کا تعلق بھی میانوالی سے ہی ہے۔ واقعہ بیان کرنے کا مقصد ہرگز دونوں شخصیات میں تقابل کرنا نہیں ہے کیونکہ ایک دینی و روحانی شخصیت ہے تو دوسرا سیاسی۔

حضرت خواجہ خان محمد رحمتہ اللہ علیہ سابق امیر ختم نبوت اور سجادہ نشیں (خانقاہ سراجیہ) کندیاں، ضلع میانوالی کا تعلق سلسلہ نقشبندیہ مجددیہ سے تھا۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ کی دینی و علمی اور روحانی خدمات کسی سے پوشیدہ نہیں! آپ میانوالی کی مشہور دینی و روحانی شخصیت تھے۔ حضرت خواجہ خان محمد صاحب کئی سال قبل، حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہید جو بذات خود بہت بڑی علمی و روحانی شخصیت اور نائب امیر ختم نبوت تھے،سے ملاقات کے لیے مسجد الفلاح (فیڈرل بی ایریا، کراچی) تشریف لائے۔ بعد نماز عقیدت مند دونوں بزرگوں کے گرد جمع ہوگئے۔ کسی عقیدت مند نے کہا کہ حضرت کچھ فرمائیں، آپ رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا۔ ’جو ہماری خاموشی سے فائدہ نہیں اٹھاسکتا وہ ہمارے کلام سے کیا فائدہ اٹھائے گا؟ مجمع کو سانپ سونگھ گیا۔ چند منٹ دونوں بزرگ حضرات تشریف فرما رہے اور خاموشی کے ساتھ محفل برخاست ہوگئی۔ اس محفل میں شرکت کی سعادت ہمیں بھی حاصل ہوئی تھی۔ اس دن یہ بات پلے سے باندھ لی کہ خاموشی بھی اظہار کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہے اور ضرورت کے وقت بولنا سود مند، بلا ضرورت بولنا نقصان دہ اور بعض دفعہ بھد اڑوانے کے مترادف ہوتا ہے۔

2013 ءکے عام انتخابات سے قبل محترم عمران خان کو عوام اور میڈیا میں جو مقبولیت اور پذیرائی حاصل تھی، اس میں بتدریج کمی آرہی ہے۔ مقبولیت میں کمی کی وجہ خود محترم عمران خان کے متنازعہ، متضاد بیان و موقف اور غیر مصدقہ انکشافا ت ہیں۔ بقول منٹو ’ا نسان بھی عجب مجموعہ اضداد ہے۔‘ پر بحث کے کئی پہلو نکلتے ہیں لیکن محترم عمران خان کے متنازعہ و متضاد بیانات کی روشنی میں، منٹو کا یہ قول عمران خان صاحب پر سولہ آنے فٹ بیٹھتا ہے یا صادق آتا ہے۔ 35 پنکچر کی بات ہو یا انتخابات میں منظّم دھاندلی کا انکشاف، حکومت کے خلاف کرپشن یا وزیر اعظم کے خلاف منی لانڈرنگ کے الزامات ہوں۔ محترم عمران خان اور ان کے وکلا ،کسی بھی جوڈیشنل کمیشن یا عدالت میں اپنا موقف درست انداز میں پیش یا ثابت نہیں کرسکے ہیں۔ یہی عوامل جہاں ان کی مقبولیت میں کمی کا باعث بن رہے ہیں وہیں ان کی جھنجھلاہٹ میں اضافے کا باعث بھی بن رہے ہیں۔

گزشتہ دنوں پی ایس ایل فائنل کے حوالے سے جو بیان انہوں نے دیا تھا اگر اس بیان کے الفاظ کے چناؤ میں وہ محتاط رہتے تو بیان کی اتنی مخالفت نہ کی جاتی۔ چلیں بیان دے دیا لیکن اس پر ڈٹ جانا اور دفاع و وضاحت میں بھی غیر مناسب زبان استعمال کرنا، اپنی بھد اڑانے کے مترادف ثابت ہوا۔ فائنل تو خیر سے ہو گیا۔ اب خاموشی اختیار کرلینی چاہئے تھی لیکن غیر ملکی کھلاڑیوں کو پھٹیچر قرار دینا، پچھلے بیان سے بھی زیادہ مہلک ثابت ہوا۔ داد دینی پڑتی ہے محترم عمران خان کے رفقا اور حامیوں کو کہ اب بھی ان کے دفاع میں لگے ہوئے ہیں۔

عمران خان صاحب کا بلا ضرورت اور بے جا بولنا ان کے لیے شدید نقصان دہ ثابت ہورہا ہے۔ ان کو شاید اس کا فی الوقت ا دراک نہیں لیکن اگلا سال عام انتخابات کا ہے۔ امید ہے کہ انتخابات کے نتائج سے حقیقت ان پر عیاں ہوجائے گی کہ انتخابات سے قبل میری سیاسی حکمت عملی اور متنازع و متضاد بیانات سے میری سیاسی ساکھ اور قامت کو کیا نقصان پہنچا ہے۔ دوسری طرف وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف نے عمران خان کے اس طرح کے بیانات کے جواب میں خاموشی اختیار کرکے، اپنی سیاسی ساکھ اور قدو قامت کو مزید بلند کر لیا ہے۔ موجوہ سیاسی فضا کو دیکھ کر عمران خان صاحب کو کم از کم یہ ادراک تو ہوجانا چاہیے کہ ’خاموشی فائدہ مند اور بلا ضرورت اور بے جا بولنا نقصان دہ ہوتا ہے۔‘ عام انتخابات میں ابھی ایک سال سے زیادہ کا عرصہ باقی ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔