اس نے مجھ کو آدھا جانا….اور پھر….پورا توڑ دیا


اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ معاشرہ چاہے مہذب ہو، یا غیر مہذب، ترقی یافتہ ہو،پسماندہ یا تعلیم یافتہ ، شعور، ادب، انٹیلیکٹ، اور جتنے بھی پیمانے ہیں ناپ تول کے سب لگا لیں عورت مرد کے مقابلے میں کم عقل، کم ذہن، کم طاقت ہی تصور کی جاتی ہیں۔ اسلام نے وراثت میں آدھا حصہ دیا ہے، گواہی آدھی ہے اور ایک مرد ایک وقت میں چار بیویاں رکھ سکتا ہے جس کے مختلف جواز پیش کیے گئے ہیں۔ لونڈیاں رکھنا تو ختم ہوا لیکن آج بھی عورت کو لونڈی سے زیادہ کی حیثیت نہیں۔ مغرب اور خودساختہ آزاد خیال اور روشن خیال بھلے کچھ بھی کہہ لیں چاہے جتنے بھی قوانین بنائیں اور اس کو دستور کا حصہ بنا لیں لیکن عورت کی حیثیت ایک شوپیس جیسی ہی ہے۔ دنیا میں کسی بھی جگہ جائیں عورت کو ہمیشہ لوگوں کومتوجہ کرنے کے لیے ہی رکھا جاتا ہیں۔ کبھی کسی تقریب میں تفریح کے لیے مردوں کومختصر لباس پہنا کر ڈانس کروایا جاتا ہے کیا؟

تصور زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ ۔لیکن یہ رنگ صرف اس کے حسن اور جمال سے ہی نہیں اس کے ہونے کے احساس اور اس کی تخلیقی سوچ کی شراکت اوراس کو مان لینے سے ہے۔ کہنے کو تو خواتین کے بہت سے حقوق ہیں جن کو دنیا کے کم وبیش تمام ممالک مانتے ہیں لیکن اصل میں وہ معاشرہ یا ماحول بنانے میں ناکام رہے جو ایک عورت کے لیے بھی اتنا ہی سازگار ہو جتنا مرد کے لیے، جب تک فریادی خود ہی فریاد نہ کرے اور چیخ چیخ کو پوری دنیا کو نہ بتائے کسی کو فرق نہیں پڑتا۔ کتنی مختاراں مائی جیسی ہوں گی، کتنی قندیل بلوچ، کتنی ملالہ جو تاریک راہوں میں ماری گئیں ۔ ہم خوش فہم لوگ ہر وومن ڈے پر پیغامات دیتے ہیں اور نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہیں اور اگلے وومن ڈے تک کا انتظار کرتے ہیں۔

آج اسلام آباد میں خواتین کے عالمی دن کی مناسبت سے ایک تقریب میں شریک تھا تو ایک دوست نے کہا کہ بلوچستان میں خواتین کے حقوق کا کیا حال ہے۔ کوئی بھی موقع اور موضوع ہو ایک سوال ضرور آتا ہے کہ جی کوئٹہ میں حالات کیسے ہیں؟ یہاں اسلام آباد میں ہر ایک کا خیال یہ ہے کہ ہم کوئی اور مخلوق ہیں۔ جیسے ملتے ہی کہیں گے جی کوئٹہ میں تو حالات بہت خراب ہیں وجہ دریافت کرنے پر کہیں گے بم دھماکے ہوتے ہیں تو وہ تو لاہور میں بھی ہوتے ہیں۔ ٹارگٹ کلنگ تو کراچی میں سب سے زیادہ ہیں۔ خیر چھوڑیں اس بات کو خواتین کے حقوق کا بلوچستان میں کیا حال ہے اس سوال کے جواب میں، میں نے کہا صاحب دنیا میں جہاں خواتین کے حقوق کو سب سے زیادہ اجاگر کیا جاتاہے وہاں کی خاتون تو گویا مرد کے شانہ بشانہ وہ سارے حقوق انجوائے کرتی ہے جو قانونی دستاویزات یا پھر خواتین کے حقوق کے لیے بنائی گئی ہیں اور پاکستان میں جیسے سارے قوانین عملی ہیں اس لیے بلوچستان کی فکر لگی ہے۔

دنیا میں ایک اندازے کے مطابق کم و بیش کوئی 22 ممالک ایسے ہیں جن کی صدر یا پھر وزیراعظم خاتون ہیں جن میں سے 81 خواتین ایسی ہیں جو باقاعدہ طور پہ منتخب ہوئی ہیں۔ دنیا کے کل 196 ممالک میں سے صرف نو فیصد ممالک ایسے ہیں جو کہ اکیسویں صدی میں خاتون کو ملک کے اعلیٰ ترین عہدے پر منتخب کرنے کے قابل سمجھتے ہیں۔ اس حساب کو دیکھتے ہوئے تو یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ پوری انسانیت ابھی تک اس بات کے لیے تیارنہیں کہ عورت کو حق حکمرانی کا حصہ ان کے تناسب کے مطابق دیا جائے یا پھر آدھا حصہ ہی دیا جائے۔ دنیا میں جتنی بھی خواتین کے حقوق کے علمبردارممالک یا معاشرے ہیں وہاں بھی عورت کو شوپیس اور انٹرٹینمنٹ کے علاوہ بہت کم ہی وہ مقام دیا گیا ہے جو اس کا حق ہے۔ میں نے اس سے پوچھا کہ کیا تم دنیا میں اعلیٰ عدالت (سپریم کورٹ یا جو بھی نام ہو) کی کسی خاتون چیف جسٹس کا نام بتاسکتے ہو؟ ہندوستان کے علاوہ، کیا آپ کے علم میں ہے کہ کبھی امریکہ یا چائنا میں کسی خاتون کو صدارت کے عہدے پر منتخب کیا گیا ہو؟ (ہیلری سے پہلے تو کوئی دوسرے نمبر کی امیدوار بھی خاتون نہیں رہی)۔

پاکستان کی بات کرتے ہیں۔ جتنے بھی بڑے خواتین کے ساتھ ظلم اور زیادتی کے واقعات ہیں میں دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ ہمارے صوبے کے پشتون، بلوچ معاشرے میں کوتاہیوں اور کمزوریوں کے باوجود کوئی ایسی مثال نہیں ملتی جیسے مختاراں مائی، سبین محمود، قندیل بلوچ، اوراس کے علاوہ پورے بلوچستان میں کوئی بھی جسم فروشی کا اڈا نہیں۔ غیرت کے نام پہ قتل، سوارا، ونی کی مثالیں اب تو داستانوں میں ہی ملتی ہیں۔ ہمارے نواب ایاز خان جوگیزئی جو کہ پشتون قومی جرگے کے کنوینر بھی ہیں نے علی الاعلان کہا ہے کہ ’کوئی بھی جرگہ یا فیصلہ جس میں خواتین کے حقوق غصب کیے جائیں جیسے سوارا، ونی یا قتل کرنا،میں اسے فیصلوں کا کبھی حصہ نہیں بنوں گا اور ایسے واقعات کی حوصلہ شکنی کے لیے اپنا کردار اداکرتا رہوں گا۔‘’ نواب صاحب اس اقدام کے پشتون جرگہ پر بہت مثبت اثرات ہیں۔

میں بہت دعوے اور وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ آج بھی ہماری خواتین کو دنیا کی ساری خواتین کے نسبت بہت سی ایسی سہولیات یا پھر درجہ حاصل ہے جس کی مثال دنیا میں بہت کم ملتی ہے، گو کہ ہمارے ہاں حالات اتنے سازگار نہیں اور عورت ہی نہیں مرد کے لیے بھی زندگی اتنی آسان نہیں اس کے باوجود ہم خواتین کو بہت عزت دیتے ہیں۔ ہمارے کلچر میں آج بھی چادر اور چاردیواری کے تقدس کوکوئی پامال نہیں کرتا جس کی بنیادی وجہ خواتین کی عزت ہے۔ ہمارے ہاں دشمنی جتنی بھی شدید کیوں نہ ہو اگر عورت ساتھ ہو تو دشمن کبھی گولی نہیں چلائے گا بشرطیکہ دشمن بھی اسی معاشرے کا حصہ ہو۔ ہماری خاتون آج بھی اکیلی ایک گاﺅں سے دوسرے گاﺅں تک بے خوف سفر کر سکتی ہے۔ ہمارے ہاں آج بھی عورت کو گھر کی عزت سمجھا جاتا ہے اور زبردستی کسی قسم کی مشقت نہیں لی جاتی جس کی مثال باقی معاشروں میں عام طور پر ملتی ہیں۔
اگر ہم انسانیت کی نظر سے دیکھیں توعورت کو مرد کے مقابلے میں کم تردرجہ ہی دیاجاتا ہے۔ اقدار اور اصول چاہے مذہبی ہوں یا معاشرتی، عورت کو دوسرا درجہ یاکم ترحیثیت ہی ملتی ہے۔ عورت چاہے مشرق کی ہو یا مغرب کی مرد کے مقابلے میں ہمیشہ ہی نچلے درجے کی ہی تصور کی جاتی رہی ہے۔ ہمارے مشرقی لبرل اور روشن خیال اپنی مذہبی اور معاشرتی روایات کو برا بھلا کہتے نہیں تھکتے کہ ہم خواتین کو انسان نہیں سمجھتے اور انصاف نہیں دیتے وغیرہ وغیرہ۔ دنیا کا کوئی بھی معاشرہ ہو خودساختہ مہذب یا دنیا کی نظر میں باغی جہاں بھی دیکھو عورت کو مرد سے کم تر ہی سمجھا جاتا ہے۔ دنیا میں جہاں بھی جاﺅ عورت کو شوپیس اوردکھاوے کے طور پر ہی استعمال کیا جاتا ہے اور میرے دائیں بازو کے دوست یہ جواز پیش کرتے ہیں کہ ماں کے پاﺅں تلے جنت ہے۔ باپ کو تو یہ درجہ حاصل نہیں تو ان کے لیے عرض ہے کہ ماں تو نو مہینے کوکھ میں بھی رکھتی ہی اپنا دودھ بھی پلاتی ہے۔
میرے خیال میں عورت کو جائز مقام دینے کے لیے ابھی تک پوری دنیا میں بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ عورت کی برابری، عورت کے حقوق، عورت کی آزادی کے نعروں کے ساتھ آج کا دن بھی گزر گیا اور زبانی جمع خرچ کر کے ہم نے ایک دن تو عورت کے نام کر لیا لیکن باقی تین سو پینسٹھ دن ہم وہی کریں گے جو ہماری مردانگی کو گوارا ہوگا کیونکہ بقول پروفیسرعائشہ مسعود کے، مردانگی کا بھرم بھی تو رکھناہے اور اس بھرم میں ہم نے ہمیشہ ہی عورت کو آدھا سمجھا۔ طاقت کے نشے میں اور توقعات کی عینک لگا کر ہمیشہ اپنی انا، خواہش، اور ہوس کو ہی مقدم رکھا اور 15 فیصد کو پہلے کاٹ کے آدھا کیا اور پھر پورا ہی توڑ کر ذروں میں بانٹ دیا۔
پروفیسر عائشہ مسعود کی ایک چھوٹی سی نظم جومعاشرے میں عورت کی پوری عکاسی کرتی ہے۔

اس نے مجھ کو آدھا جانا
اور پھر
پورا توڑ دیا….


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔