بنت حوا کا عالمی دن


بہت خاموشی سے گزرتے پل آ ج لمحے بھر کو ٹھہر سے گئے ، جب کسی خیر خواہ نے بڑی خدا ترسی سے اپنے طور ایک چٹکلہ چھوڑا کہ ” آج بنت حوا کا عالمی دن ہے، جس کی عمر کھوکھلے نعروں سے گونجتے چند ثانیوں سے زیادہ نہ ہوگی ۔سوخاطر جمع رکھیے کہ سماج کی اس مقدس ہستی کو عزت و غیرت کے نام پر جو مقام و مرتبہ پہلے نہیں دیاگیا تھا وہ مستقبل میں بھی نہ ملنے کا قوی امکان موجود ہے۔“سمجھ میں نہ آیا کہ اس طربیہ پُرسے پر کیونکر مسکرایا جائے۔شاید یہی کڑوا سچ جان کر ثروت زہرا نے کہا تھا ’ بنت حوا ہوں میں یہ میرا جرم ہے۔‘

بنت حوا کے نام پہ اس عالمی دن کی افادیت پہ ہونے والی بلند و بانگ تقاریراور بڑے بڑے نمائشی وعدوں پہ حیران و پریشاں نظر آتی یہ مخلوق بظاہر دوطبقوں میں منقسم ہے۔ ایک وہ جوغربت کی چکی میں پستے ہوئے اس دن کے نام سے بھی سے قطعاََ لا علم ہے اور بتائے جانے پر جن کا اظہار حیرت و استہزا سے بڑھ کر کچھ بھی نہیں ہوتا ۔ دوسرا طبقہ وہ ہے جو ٹیلی ویژن یا سوشل میڈیا کی مرہون منت اپنے گردوپیش سے باخبر رہتا ہے لیکن اس طبقے کے لیے بھی اس دن کی اہمیت محض ایک دن اپنی صنف کو سراہے جانے کے سوا کچھ بھی نہیں۔ یہ وہی طبقہ ہے جوحقوق و فرائض کی نصیحتوں کے انبار تلے اپنی خواہشوں کے اہرام بنائے آج بھی یہ سوچنے پر مجبور ہے کہ وہ اس خاص دن پر اپنے ہونے کا جشن منائے ‘ اپنے ’کیوں ہونے‘ کی دلیل پیش کرے یا پھر ان محترم ومکرم ہستیوں کو خراجِ تحسین پیش کرے جو ایک طرف بنت حوا کا آزردہ چہرہ دکھا کر سماج سے ہمدردیاں بٹورتے ہیں تودوسری طرف اِس ہستی کو عزت دینے کے بھی روادار نہیں ۔

بڑی عجیب سی بات ہے کہ خواتین کے حقوق کا نام نہاد نعرہ بلند کرنے والے بھی اسے محض ایک عورت کی ہی نظر سے دیکھنے پرنہ جانے کیوں بضد نظر آتے ہیں وہ اس کے وجود کی ابتدائی شناخت کو بطور ایک انسان کے تسلیم کیوں نہیں کر پاتے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں کئی شکوے بارِ گوش ہونے سے قبل ہی فیمنزم کے مباحث کی زد میں آکر روند دیئے جاتے ہیں۔جہاں اس کے بنیادی انسانی حقوق کو مغربی سماج کی طرز پرچاہی جانے والی مادر پدر آزادی سے تشبیہ دے کرغصب کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔اس کی خواب ناک بصارتوں کو غیرت کی نوک پہ دھرا جاتا ہے۔ اس کی صلاحیتوں کو دہلیز کے آگے عزتوں کی کرچیاں لگا کر مقید کر دیاجاتا ہے۔ انہی عزتوں کے نام پر وہ جانے کیسے کیسے تشدداور غیر انسانی سلوک کے خارزاروں سے گزرتی ہے۔ وہ حق ملکیت مانگے تو یہی عزتیں پامال ہونے لگتی ہیں، اور اگر جتن کرے تو جائیداد سے نصف حصے کی بھیک عمر بھر کے احسان اور خاندانی لا تعلقی کے ساتھ بخشی جاتی ہے۔ سماجی احترام اسے قدم قدم پہ جنسی ہراسانی کی صورت دان کیا جاتا ہے۔ وہ گواہی دے تو اس کی گواہی بھی نصف ٹھہرتی ہے۔ سو اپنے نصف وجود کے ساتھ یہ مخلوق اپنے مکمل انسان ہونے کا دعویٰ بھلا کیونکر کر سکتی ہے۔کہ انسان ہونا تو حق آدمیت کی دلیل ٹھہری۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔