مدرسی منطق پر مفید تنقیدی تناظر کے امکانات


میں ایک بار پھر جمشید بھائی کا مشکور ہوں کہ انہوں نے اپنے مضمون ’’جہانِ علم میں ارسطو کی منطق کی حیثیت‘‘ میں بحث کو مزید آگے بڑھایا۔ چونکہ میرے پچھلے مضمون میں پیش کی گئی گزارشات کچھ تنقیدی جہتوں کی جانب مبہم مگر دقیق اشاروں پر مشتمل تھیں جن کا کینوس جمشید بھائی کے نفسِ مضمون تک محدود نہیں تھا، لہٰذا فقیر کی پریشان خیالی کے باعث شاید بحث بہت سی مختلف متعلقہ و غیرمتعلقہ جہتوں میں پھیل گئی۔ کوشش ہے کہ اس تحریر میں اب تک ہونے والی بحث کو سمیٹ کر آگے بڑھنے کے لئے سوالوں کا ایک خاکہ پیش کر دیا جائے۔

اس سلسلے میں پہلا اور بنیادی نکتہ یہ ہے یہاں شاید منطق کی تعریف اور اطلاقی دائرہ ٔ کار کے ضمن میں ایک خلطِ مبحث واقع ہو رہا ہے۔ اول تو یہ کہ عرفِ عام میں ادب، فلسفہ، سائنس، سماجیات، معاشیات اور مذہبیات وغیرہ کی تجزیاتی تہوں میں کارفرما غیر رسمی استدلالی رویوں کو بھی ’’منطق‘‘ ہی کہا جاتا ہے۔ یہ منطق کی ایک قدیم عام فہم تعریف ہے جس کی بنیادیں لسانیات اور زبان و بیان کے ساتھ جڑی ہیں۔ دوم، منطق کی دوسری رسمی تعریف خالص اور باضابطہ علمِ منطق کی ہے اور یہاں منطق سے مراد ایک عمومی (اور تجریدی) نظامِ استدلال ہے جس کا اطلاق کسی بھی اقلیمِ علم پر کلی یا جزوی طور پر اس طرح کیا جا سکے کہ تہوں میں کارفرما استدلالی رویوں پر ’’صحت و سقم‘‘(valid / invalid)، ’’ ضبط و ضعف ‘‘ (strong / weak) یا ’’لزوم و امکان ‘‘(necessary / contingent) کا ’’حتمی‘‘ حکم لگانا ممکن ہو۔ (نوٹ: یہاں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ یہ تینوں (اور کچھ مزید)منطقی مناہج کی جڑیں کسی نہ کسی حد تک کلاسیکی اور قرونِ وسطی کے ادوار سے جڑی ہیں اور یہ تلاش تاریخِ منطق میں تحقیق کا موضوع ہے۔ ) مثال کے طور پر اگر ایک استخراجی قیاس پیش کیا جائے کہ

(الف)۔ تمام انسان خدا کی تخلیق ہیں۔
(با)۔ زید انسان ہے۔
(جیم)۔ ( لہٰذا) زید خدا کی تخلیق ہے۔

تو یہاں منطق کی دوسری تعریف کے ضمن میں صرف اتنا دیکھا جائے گا کہ کیا یہ استخراجی قیاس اصولِ منطق کی رُو سے صحیح ہے یا کوئی منطقی ابہام یا سقم رکھتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں کیا (جیم) یعنی قیاسی ’’نتیجہ‘‘ (الف) او ر (با) کے ’’مفروضوں‘‘سے اخذ ہوتا ہے یا نہیں۔ ظاہر ہے قضیۂ الف یعنی اس ’’دعوے‘‘ یا ’’مفروضے‘‘ کو کہ تمام انسان خدا کی تخلیق ہیں افسانوی، بے بنیاد یا من گھڑت کہا جا سکتا ہے لیکن اگر اس کو ’’غیرمنطقی‘‘ کہا جائے گا تو ماننا پڑے گا کہ غالباًکہنے والے کے ذہن میں منطق کی مذکورہ بالا تعریفِ اول شاید تعریفِ دوم سے گڈ مڈ ہو گئی ہے۔ یہ قابلِ فہم ہے کیوں کہ تمام انسان استدلال تو کرتے ہی ہیں لیکن تمام انسانوں کا اہلِ منطق ہونا تو محال ہے۔ دوسری طرف اہلِ منطق منطقی تحلیل و تجزیے پر مائل ہوتے ہوئے قضیۂ الف کی تہیں کھولنے(یعنی اس میں مضمر بدیہی قضایا) یا متبادل قیاسات پیش کرنے پر مائل ہو ں گے مثلاً (الف) ہر موجود شے مادی ہے؛ (با)انسان موجود ہے؛ (جیم) لہٰذا انسان مادی ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔

یہ بنیادی نکتہ منطق پر ہونے والی کسی بھی بحث کے تناظر کے گرد ایک دائرہ کھینچتا ہے کیوں کہ دونوں تعریفات کو ایک ہی ساتھ لاگو کرنے سے اسی قسم کے مسائل پیدا ہونے کا اندیشہ ہے جو راقم کی رائے میں ’’اصولِ خارج الاوسط ‘‘ کے عمومی اور غیرر سمی اطلاق اورپھر اس اصول کو ارسطا طالیسی منطق کی ایک نمائندہ مثال کے طو ر پر پیش کرنے سے واقع ہو رہے ہیں۔ اس کی سادہ وجہ یہی ہے کہ نمائندہ مثالوں کے ذریعے کسی بھی منطقی نظام یا اس درجے وسیع کینوس (ارسطا طالیسی تجزیاتی روایت) کی ایک تحدید ہی مقصود ہوتی ہے تاکہ متعلقہ مباحث سے ناآشناقاری کے ذہن میں نمائندہ مثال پر نگاہ مرکوز کرنے سے مکمل کینوس کا ایک خاکہ سا بن جائے۔ یہ کام اگر برٹرینڈ رسل کی طرح پوری تاریخ کا ایک احاطہ کرتے ہوئے کیا جائے تو یقینا اس سے اختلاف یا اتفاق سے قطع نظر اس کی ادبی و تدریسی افادیت پر کوئی دو رائے نہیں ہو سکتیں لیکن ہم نے دیکھا ہے وقت گذرنے کے ساتھ اس قسم کی آراء کو فلسفیانہ مکاتبِ فکر اپنے مکتب کے حق اور دوسرے مکتب کے رد میں ایسے فلسفیانہ دعووں کے طور پر استعمال کرتے ہیں جو خود تشریح و تعبیر طلب ہوتے ہیں۔

اس مقام پر کھڑے کھڑے اگر دوسرا بنیادی نکتہ پیش کرنے کی اجازت دیجئے تو راقم کی عاجزانہ رائے میں جہانِ علم میں ارسطو کی منطق کا مقام متعین کرنا تو اہل ِعلم (اور برٹرینڈ رسل جیسے اہلِ منطق و ریاضی)ہی کا حصہ ہے لیکن جہاں تک ہم جیسے طالبعلموں کا سوال ہے، مقام متعین کرنے کا یہ مسئلہ کئی دلچسپ پیچیدگیاں سامنے لاتا ہے۔ ذرا سہل فکری سے کام لیا جائے تو یہ سوال شاید اس لئے کچھ دقیق بحث کا متقاضی نہیں کیوں کہ ’’ ارسطا طالیسی منطق ‘‘ (جو کچھ بھی وہ ہے اور وہ راقم کی رائے میں وہ بہت پھیلا ہواایک عمومی تجزیاتی ڈھانچہ ہے جس کی دریافت تاحال جاری ہے) کا عصرِ حاضر کے جہانِ علم میں بعینہِ وہی مقام ہے جو مکالماتِ افلاطون کا ہے، اور اگر ذرا تنزل کی جانب دوسرے درجےتک اترئیے اور کینوس کو محدود کیجئے تو پھر زینو کے تناقضات یا فیثاغورث کی ریاضیاتی مابعدالطبیعات کا۔ ظاہر ہے کہ یہ سب کچھ ایک قدیم فلسفیانہ روایت کا حصہ ہے اور عصرِ حاضر میں جب تک تاریخ ِ فلسفہ کا مضمون تحقیق و تعبیرکے لئے بامعنی رہے گا اس وقت تک یہ قدیم روایتیں کسی نہ کسی صورت میں زندہ رہیں گی۔ ہم چونکہ (جمشید بھائی کی طرح )دانشِ جدید کے ساتھ ساتھ دانشِ قدیم کے معترف ہیں اور جدید و قدیم کو ایک تسلسل میں پرونے کی خواہش مند ہیں لہٰذا یہ ماننا ہے کہ ان قدیم روایتوں کی حیاتِ جاوید کی وجہ ان کا عصرِ حاضر کے مسائل پر سادہ اطلاق نہیں بلکہ ناگزیر روایتی تسلسل میں آنے والی ایک سیڑھی کی طرح ہے۔

چونکہ بر ٹرینڈ رسل کا حوالہ دیا گیا اس لئے بحث کو ایک اور مزید سمت میں بڑھانے سے بچاتے ہوئے اتنا مزید کہنا لازم ہے کہ رسل کا تنقیدی تناظر حتمی طور پر دو جہتی ہے۔ اس کی پہلی جہت ’’تاریخِ فلسفۂ مغرب ‘‘ جیسے عوامی سروے ہیں تو دوسری جہت ’’مسائل فلسفہ‘‘، ’’سریت و منطق‘‘ یا ’’مبادیات ریاضی‘‘ جیسے رسمی متون ہیں۔ وہ چونکہ ایک متبادل فلسفۂ منطق کے خالق ہیں اس لئے ان کا مقصد صرف دانشِ قدیم کا عصرِ حاضر میں فلسفیانہ مقام متعین کرنا نہیں بلکہ اپنے متبادل فلسفیانہ مناہج یعنی ’’منطقی جوہریت‘‘، ’’منطقی اثباتیت‘‘ یا ’’منطقی تجربیت‘‘ وغیرہ کی تلوار لہراتے ہوئے دانشِ قدیم کے ’’بتوں‘‘ کو گرانا بھی ہے۔ پہلے پیراگراف میں پیش کی گئی منطق کی دوسری تعریف کوپیشِ نظر رکھئے تو یہ ایک بالکل جائز خواہش ہے اگر (جمشید بھائی کے) متبادل’’اصولِ داخل الاوسط‘‘ کا اطلاق خود رسل کی آراء پر بھی کیا جائے۔ مثال کے طور پر یہ رائے ہی لے لیجیے جو ’’تاریخِ فلسفۂ مغرب ‘‘ میں افلاطون کے فلسفۂ علم و ادراک کے بارے میں پیش کی گئی ہے:
’’ افلاطون نے ہستی کے باب میں جو بھی کہا ہے وہ بُری گرائمر بلکہ یوں کہیے کہ بُری نحو ہے۔ یہ نکتہ نہ صرف افلاطون کی حد تک اہم ہے بلکہ کئی دوسرے معاملات مثلاً ہستیٔ خداوندی کے لئے وجودی استدلال کی ذیل میں بھی اہمیت کا حامل ہے۔ ‘‘

یہ رائے محض رسل کا کوئی فلسفیانہ فتوی نہیں بلکہ اس کے پیچھے نظریۂ علم، نظریۂ منطق اور مابعدالطبیعات سے متعلق کئی بدیہی مفروضے شامل ہیں جن کا ذکر وہ یہاں تو سرسری طور پر ہی کرتے ہیں لیکن دوسری جگہوں پر تفصیلات باآسانی مل جاتی ہیں۔ یہاں صرف اتنی گزارش ہے کہ رسل کی رائے کو حتمیت سے کسی بھی قدیم تجزیاتی نظام کے لئے فیصلہ کن طور پر پیش کرنے کے لئے لازم ہے کہ رسل کے بدیہی مفروضوں سے نہ صرف اتفاق یا اختلاف ظاہر کیا جائے بلکہ انہیں عیاں بھی کر دیا جائے۔ مثال کے طور پر رسل کی دوسری تصنیفی جہت پر نظر ڈالی جائے تو وہ خود بھی اپنی کتاب ’’اصولِ ریاضی ‘‘ میں اصولِ خارج الاوسط پر وجدانی مکتبِ فکر میں ایل ای جے برور کے تنقید پر کلام کرتے ہیں اور’’ مبادیاتِ ریاضی ‘‘ کی ابتدا ہی میں اس کی ریاضیاتی تشکیل بھی پیش کرتے ہیں۔ رسل کی ’’اصولِ ریاضی‘‘ سے ایک مثال پیشِ خدمت ہے:

’’وجدانی نظریہ جسے پہلے پہل برور اور بعد میں ویل نے پیش کیا ایک مزید سنجیدہ معاملہ ہے۔ اس نظریے کے ساتھ ایک فلسفہ بھی منسلک ہے لیکن ہم اپنی بحث کی حد تک اسے نظر انداز کر سکتے ہیں کیوں کہ ہمارے پیشِ نظر صرف ا س کے منطق اور ریاضی پر اثر ات ہیں۔ یہاں سب سے اہم نکتہ کسی فیصلہ کن ضابطے کی غیر موجودگی میں کسی قضیے کو صحیح یا غلط گرداننے سے انکار ہے۔ بروور کسی ایسے ضابطے کی غیرموجودگی میں اصولِ خارج الاوسط کو رد کر دیتا ہے۔ اس کا یہ رد، مثال کے طور پر، اس اثبات کو تباہ کر دیتا ہے کہ حقیقی اعداد کی تعداد ناطق اعداد سے زیادہ ہے یا ایک حقیقی اعداد کے سلسلے میں ہر ہندسی نمو کی ایک حد ہے۔ نتیجتاً (ریاضیاتی) تجزیے کا ایک بڑا حصہ جو صدیوں سے مستحکم بنیادوں پر استوار تصور کیا جاتا ہے مبہم ٹھہرتا ہے۔ ‘‘
اب ظاہر ہے کہ اس سے یہ ثابت تو نہیں ہوتا کہ وہ ’’متروک ‘‘ ارسطا طالیسی منطق کی وکالت کر رہے ہیں لیکن کم از کم یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ اصولِ خارج الاوسط کے ردو قبول کی ممکنہ حدود اور ان سے وابستہ اندیشے کیا ہیں۔ ظاہر ہے کہ ان کا اندیشہ عام فہم لفظوں میں یہ ہے کہ بروور کی وجدانی منطق (intuitionist logic)کے ہاتھوں اصولِ خارج الاوسط نہیں بلکہ اس پر اٹھائی گئی پوری دو قیمتی منطق (bivalent logic) اور پھر اس پر کھڑی کی گئی بولیائی معنویات(Boolean semantics) کی عمارت اور پھر اس کے اطلاق کے لئے ایجاد کردہ کیلکولس (Propositional Calculus & Boolean Algebra) کا سازوسامان زمین بوس ہو جائے گا۔ مزید سہل تناظر قائم کیجئے تو وجدانی منطق مشینی اطلاق کے امکانات کا دائرہ نہایت سکیڑ دیتی ہے۔ لیکن بات صرف یہی نہیں۔ رسل کے مابعدالطبیعاتی اندیشے اس کے علاوہ ہیں۔ لہٰذا ہماری رائے میں یہ سوال کسی حتمی رائے کا متقاضی نہیں کہ کس قسم کے اصولِ منطق یا دانشِ قدیم کی تجزیاتی روایات کس حد تک متروک ہیں(کیوں کہ یہ مسلسل دریافت کا معاملہ ہے) کیوں کہ اہم ترین سوال یہ ہے کہ ریاضیاتی فلسفے(اور سائنس) کے تناظر میں منطق کے اٹل ردوقبول کی یہ جہت کس قسم کی مشکلات سامنے لاتی ہے؟

اسی بارے میں: ۔  میاں شریف بنام نوازشریف

ہمارے نزدیک مسئلہ یہ ہے کہ چونکہ عصرِ حاضر میں مابعدالطبیعات اور طبیعات میں ایک ناگزیر فاصلہ قائم ہو چکا ہے اور خود ارسطا طالیسی دانشِ قدیم ہی کے نتیجے میں اقالیمِ علم اپنے اپنے دائروں میں قید ہو چکی ہیں لہٰذا پیچھے کی جانب سفر کرتے ہوئے خاکوں کا پیچیدہ ہونا لازم ہے۔ اس سلسلے میں پچھلی تحریر میں بس اتنی گزارش پر ہی اکتفا کیا تھا کہ ارسطا طالیسی فکری روایت کی شرح (جو کم ازکم چوتھی سے نویں صدی تک پھیلی ہے) کے ماہرین کے نزدیک نہ صرف اصولِ خارج الاوسط بلکہ فکر کہ یہ تینوں کلاسیکی قوانین اب تک تحقیق کا موضوع ہیں کیوں کہ ماضی کی سرنگ کے آخر میں پہنچ کر طبیعات و مابعدالطبیعات میں فاصلہ نہایت کم ہے اور اقالیمِ علم ایک نکتے پر مرکوز ہوتی محسوس ہوتی ہیں۔ اسی لئے آج ہمارے ( غالب تجربی و حقیقت پسند)زمانے میں اسے نہایت تجریدی فکر کہا جاتا ہے۔ پھرفکر کے یہ نام نہاد’’متنازع‘‘ اصول بھی اس زمانے میں لسانیات، منطق، نظریۂ علم و ادب اور مبہم تجزیاتی ضابطوں کے ساتھ ہی ہم تک پہنچے ہیں۔ اصولِ خارج الاوسط کی بحث میں ارسطو کے ’’مقولات‘‘ سے ایک دلچسپ اقتباس پیشِ خدمت ہے:

’’یہ بیان کہ’سقراط بیمار ہے‘ اس سے الٹ ہے کہ ’سقراط بھلا چنگا ہے‘۔ لیکن ہم یہاں بھی یہ دعوی نہیں کر سکتے ایک بیان ہمیشہ درست ہونا چاہیے اور دوسرا ہمیشہ غلط۔ کیوں کہ اگر سقراط واقعی موجود ہے تو ایک بات درست ہے اور دوسری غلط۔ لیکن اگر سقراط ہے ہی نہیں تو پھر تو دونوں ہی باتیں غلط ہیں۔ ‘‘

اب آپ ہی بتائیے کیسے ممکن ہے کہ کوئی منطق شناس قاری یہاں قضیہ مطلقہ (absolute proposition) اور قضیہ ممکنہ (contingent proposition) میں ایک کشمکش محسوس نہ کر سکے؟ لہٰذا حتمی رائے سے گریز کرتے ہوئے زیادہ بہتر یہ معلوم ہوتا ہے کہ کسی اگلے مضمون میں قارئین کے سامنے دانشِ قدیم کی تجزیاتی روایت سے لے کر عصرِ حاضر تک پہنچتے علمِ منطق کے ارتقاء کا ایک مختصر ترین جائزہ پیش کر دیا جائے تاکہ واضح ہو سکے کےفکر کے کلاسیکی اصول کیا ہیں اورعصرِ حاضر میں اس دائرے میں کیا تحقیقی سوالات قائمکیے جا چکے ہیں۔

جہاں تک کلاسیکی منطق کے عمومی طور پر’’متروک ‘‘ہونے کا سوال ہے تو یہ بنیادی دعویٰ تو اس حقیقت ہی کی روشنی میں اگر مکمل طور پر غلط نہیں تو کم از کم مبہم ضرور ٹھہرتا ہے کہ کلاسیکی منطق کا ریاضیاتی احیاء پہلے پہل گوتلوب فریگے اور بعد میں وائٹ ہیڈ اور برٹرینڈ رسل کی ’’مبادیاتِ ریاضی‘‘ کے ذریعے ہی ممکن ہوا۔ میں شاید اب تک جمشید بھائی کی بات سمجھنے سے قاصر ہوں لیکن یہ تو سامنے کی بات ہے کہ بیسویں صدی کی یہ ’’حقیقت پسندانہ‘‘ ریاضیاتی تحریکیں تو کلاسیکی منطق کو ایک جڑ کے طور پر استعمال کرتی ہیں یا کم از کم اس کے شانوں پر کھڑے ہو کر ہی دور دیکھنے میں کامیاب ہوتی ہیں۔ بہت ہی مختصر پیرائے میں بات کی جائے تو فریگے کلاسیکی ریاضی (جس کی بنیادوں میں کلاسیکی منطق بھی تھی) کو ایک رسمی نظام کے طور پر اس طرح تشکیل دینے میں کامیاب رہاتھا کہ ایک منطقی انقلاب برپا ہو جائے۔ بنیادی نظریہ یہ تھا کہ کوئی بھی بیان (یا بنیادی منطقی قضیہ) ایک ایٹم کی طرح ہے اور یہ ایٹم مل جل کر ایک ایسا منطقی نظام تشکیل دیتے ہیں جو فعلیتِ حقیقی (truth۔ functional)ہے۔ یعنی اس نظام کو ایک ایسا دو سوراخوں والا ڈبہ سمجھ لیجیے جس کی ایک طرف سے داخل ہونے والے اور دوسری جانب سے برآمد ہونے والے قضایا پر منطقی حکم لگانا ضروری ہے۔

یعنی کم ازکم اس سیاق و سباق میں آپ وسط میں کھڑے ہو ایک غیر معین (indeterminate) پوزیشن لینے پر اصرار نہیں کر سکتے۔ درمیان میں یا کسی بھی جہت (modal logic) میں کسی بھی پوزیشن کی لازماً تحدیدِ فعلیتِ حقیقی (truth۔ functional reduction) کی جائے گی اور اگر ایسا نہ ہو سکے تو اس منطقی نظام کے لئے یہ بے معنی تصور کی جائے گی۔ جب رسل اور وائٹ ہیڈ (اور دوسروں)کے ہاتھوں اس منطقی نظام کے لئے ایک’’ میکانی‘‘ کیلکولیس ایجاد ہوا اور اس کی اٹل ریاضیاتی تشکیل سامنے آئی تو ہی سائنسی انقلاب ممکن ہو سکا۔ اس کلاسیکی منطق کے دو اہم پڑاؤ دیکھنے ہوں تو بیسویں صدی کی تیسری دہائی میں سوئچنگ سرکٹ (switching circuit) اور ٹیورنگ مشین (Turing machine) کی مثالیں ہی کافی ہیں۔ کلاسیکی منطق کی اس حیرت انگیز فتح کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ اس لئے ممکن ہوا کیوں کہ یہ اپنے کاندھوں پر مابعدالطبیعات کو بھی اٹھائے پھرتی ہے۔

اب یہ سب کچھ ارسطا طالیسی منطق کے’’متروک‘‘ ہونے یا اس تجزیاتی منہج کی تفہیم، تنقید، وسعت پذیری اور اطلاقی میدان میں ردوقبول کے باعث ممکن ہوا کسی بھی مخصوص سیاق و سباق اور تناظر پر منحصر سوال ہے۔ ہماری رائے میں ارسطا طالیسی منطق کے زیادہ تر نقاد دراصل دو ہزار سالہ اس وقفے پر حیران ہیں جو بیچ میں در آیا لیکن خالص منطق کی تاریخ میں یہ سوال کچھ زیاد ہ دلچسپی کا حامل نہیں۔ ہاں پوری تاریخِ فکر میں چونکہ منطق اور اس کے ساتھ منسلک ریاضی و فلسفہ الگ الگ عوامل ہیں لہٰذا وہاں اس سوال پر مزید غور وفکر تاحال جاری ہے۔

یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ ہم تاریخِ فکر میں سفر کے دوران لازمی طور پر کچھ تعبیری مشکلات سے دوچار ہیں جن میں سب سے اہم اسلوب اور بدیہی مفروضوں کی ہے۔ آج ہمارا عملیت پسند اور تجربیت پسند ذہن ایک لحظہ ٹھہر کر بدیہی مابعدالطبیعی مفروضوں پر سوچ بچار کو ایک مشغلے کے طور پر اپنانے سے معذور ہے۔ قدیم یونانی ادوار اور ان سے جنم لیتی قرونِ وسطی کی مدرسی عقلیت پسند روایت مابعدالطبیعاتی اور طبیعاتی مفروضوں میں اس حد تک فاصلہ نہیں رکھتی، تجربہ نہ ہونے کے برابر اور مشاہدہ نہایت سادہ ہے کیوں کہ ریاضیاتی تشکیل و استدلال کی روایت، اس سے وضع ہوتا اور اسی سے پرکھا جانے والا تجرباتی فریم ورک ابھی عمومیت کی پہلی سیڑھی پر بھی نہیں پہنچا۔ مثلاً ارسطو کا یہ مفروضہ کہ خدا ایک کامل ہستی ہے لازمی طور پر ایک بدیہی مفروضہ ہے۔ دائرے کا ایک کامل ترین شکل ہونا فیثاغورث کی ہندسی مابعدالطبیعات کا ایک اور لازمی بدیہی مفروضہ ہے۔ لہٰذا قیاس قطعاً ’’غیرمنطقی ‘‘ نہیں۔ بلکہ کہنے دیجئے کے دونوں مفروضے کچھ’’ اگر مگر‘‘ کے ساتھ آج بھی محکم تصورکیے جا سکتے ہیں۔ لیکن ہم ان مفروضوں سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کرتے کیوں کہ تجربہ و مشاہدہ آڑے آتا ہے۔

اب اسی کے ساتھ ہمارا دورِ حاضر کا بدیہی مفروضہ ملاحظہ کیجئے کہ کائنات میں بنیادی طور پر ایک ربط(order) پایا جاتا ہے اور اس ربط کو کسی ’’واحد‘‘ نظریہ بندی میں قید کرنا ممکن ہے۔ ہم نے اٹھارہویں اور انیسویں صدی میں کیمیائی نظریات کو طبیعاتی نظریات کی تہہ میں موجود بدیہی مفروضوں پر قیاس کیا اور بیسویں صدی میں حیاتیاتی نظریات کو کیمیائی نظریات پر۔ اکیسویں صدی میں ہم اب کوانٹم طبیعات کو اسی کونیاتی ربط کے مفروضے میں قید کرنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ واقعہ یہ ہے کہ کئی پڑاؤ سے گذرنے کے بعد اب ہر پڑاؤ کے ’’بے بنیاد‘‘ بدیہی مفروضے گم شدہ ہیں اور ان کی تلاش فلسفۂ سائنس اور تاریخِ سائنس کا تحقیقی موضوع قرار پائی ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ تلاش ایک غیر خطی روایتی تسلسل (nonlinear continuum) کے تناظر میں دیکھی جائے یا کسی خطی بڑھوتری (linear progression) کے طور پر؟ راقم کا ذہنی و نفسیاتی جھکاؤ پہلی طرف ہے اور گمان ہے کہ جمشید بھائی بھی کہیں قریب ہی ہیں۔

اسی بارے میں: ۔  دہشت گردوں سے صرف پولیس ہی نمٹ سکتی ہے

یہاں یہ مفروضہ بھی ایک منطقی فریم ورک میں بحث کا متقاضی ہے کہ کیا کسی منہجِ منطق کی تشکیل میں ایک خاص قسم کی اطلاقی جکڑ بندی پر اس طرح اصرار کیا جا سکتا ہے کہ فلاں اصول کا اطلاق کیونکر اور کس اقلیمِ علم میں ممکن ہے یا نہیں؟ ہماری رائے میں منطقی مناہج میں ارتقاء بہرحال منطق کی ایک تعریف اور حدود و قیود کو بدیہی مفروضوں کے طور پر مانتے ہوئے ہی ممکن ہوتا ہے۔ اس تناظر میں بھی یہ دعوی کے فلاں منطق متروک ہے اور فلاں رائج کچھ خاص بامعنی نہیں کیوں کہ علم ِمنطق ایک تجریدی اقلیمِ علم کے طور پر اپنا اطلاقی دائرہ بڑھاتا ہی ہے سکیڑتا نہیں۔ دوسرے لفظو ں میں یہ اطلاقی میدان میں ترجیح و انتخاب اور مسائل کو حل کر کے دکھانے کا معاملہ ہے۔ اگر مذہبیات یا سماجیات کے کچھ مسائل میں ثنائی منطق کے اطلاق سے مسائل واقع ہوں گے تو ہم یہی کہیں گے کہ فلاں منطقی اصول زیرِ نظر مسئلے کے خدوخال مرتب کرنے میں ناکام ہیں اور ان کے متبادلات کو آزمانا چاہیے۔ پچھلے مضمون کی طرح اس حد تک تو جمشید بھائی سے اتفاق کا اعادہ لازم ہے۔

اگر جمشید بھائی تاریخ میں حق و باطل کے خونریزمعرکوں اورتعصب آمیز رویوں کی تہوں میں کچھ منطقی رویوں کی تلاش پر مائل ہیں تو ہمارے اسلوب میں اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ تاریخ میں سماجی رویوں اور عصرِ حاضر میں تاریخ کے تفہیمی رویوں کو ایک مخصوص منطقی منہج پر ماڈل کر رہے ہیں۔ ظاہر ہے کہ اس طرح کے دوسرے مزید پیچیدہ ماڈل بھی ممکن ہیں اور ہر ایک کو پرکھنے کے منطقی ضابطے بھی دستیاب ہیں۔ اس پر یقیناً کوئی اعتراض ممکن نہیں گو اختلاف کیا جا سکتا ہے کہ مزید عوامل کی واضح موجودگی میں صرف انسانی استدلال کو ہی موردِ الزم کیوں ٹھہرایا جائے؟ بہرحال یہ کسی حد تک ایک الگ بحث ہے کہ ابہام کو ماڈل(vagueness modeling) کرنے کے لئے انسانی ذہن(intelligent agent) فطری طور پر کس حد لیس ہے؟

لیکن ان کا یہ دعوی کہ چونکہ مدرسی نصاب میں ارسطا طالیسی منطق پڑھائی جا رہی ہے لہٰذا انتہا پسندی پیدا ہو رہی ہے، ایک ایسا قیاس ہے جس کی تہوں میں موجود بدیہی مفروضے خود منطقی اصولوں پر پرکھے جانے کےتقاضی ہیں۔ ہمارے سامنے پہلا سوال یہ ہے کہ کیا یہ واقعی کوئی ’’مغربی‘‘ ارسطالیسی روایت ہے یا فارابی، ابن سینا، ، غزالی اور ان کے سینکڑوں شارحین(ابن رشد کو مستثنیٰ مانیے) کے ذریعے قلبِ ماہیت سے گذری ایک مدرسی منطق(School Logic) ہے جس کے مسائل اس حد تک منطقی نہیں جس حد تک وہ مابعدالطبیعاتی بدیہی مفروضوں او ران کی منطقی تشکیلات کے باہم گنجلک ہونے سے عبارت ہیں؟

پھر منطق استخراجی ہو یا اسقرائی بہرحال پیشکیے جانے والے اور جانچے جانے والے قیاس دونوں قسم کے استدلال پر مجبور ہوں گے۔ یوں بہرحال یہ سوال سامنے آ کھڑا ہو گا کہ مذہبیات میں بدیہی مفروضے کہاں سے حاصلکیے جائیں اور منطقی منہج کی حد ود میں ترجیح و انتخاب کے ساتھ یہ کس حد تک ممکن ہے؟ ڈاکٹر نیاز احمد کی رپورٹ نظر سے نہیں گذری لیکن وہ یقیناً واقف ہی ہوں گے کہ عصرِ حاضر کی رسمی منطق میں استخراجی اور استقرائی منطق میں بنیادی فرق کیا ہے۔ قارئین کے لئے مختصراً عرض ہے کہ چونکہ منطقی صحت و سقم (logical validity) کا سوال مقاصدِ منطق میں ایک بنیادی حیثیت رکھتا ہے اس لئے قیاسِ استخراجی بالتعریف منطقی طور پر صحیح (logically valid)ہوتا ہے اور قیاسِ استقرائی سقیم (logically invalid) تسلیم کیا جاتا ہے۔ یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ قیاس استقرائی کے لئے صحت و سقم کی جگہ ضبط و ضعف (Strong or Weak)کا پیراڈائم زیادہ معقول ہے۔ لیکن جو بھی ہوہمارے لئے تو یہ سوال اسی جگہ رہتا ہے کہ اگر یہ امکانی و احتمالی قضایا کا بنیادی عقلیاتی فریم ورک اسی ’’متروکہ‘‘ مدرسی منطق سے نہیں لیا جائے گا تو کہاں سے لیا جائے گا؟ کیا احتمالی بنیادوں پر کسی ریاضیاتی خاکہ بندی (probabilistic modeling) کے نتیجے میں فقہی احکام اخذکیے جائیں گے؟ کیا مذہبی متون کےمطالعے اور تعبیر و تشریح کا عمل لزوم و امکان اور ضبط و ضعف کے اصولوں کو لازم کرتے ہوئے’’حتمی ‘‘ اور ’’فیصلہ کن‘‘ آراء سے پرہیز کرے گا؟ کیا ہم یہ مفروضہ باندھ رہے ہیں کی خدا لازمی طور پر سیاہ و سفید میں نہیں بلکہ’’ گرے ایریاز‘‘ میں کلام کرتا ہے؟ شاید مذہبیات میں یہ مفروضہ اس سطحیت کے ساتھ قابلِ اطلاق نہیں کیوں کہ کم ازکم منطق کی کسی بھی کمزور سے کمزور تعریف میں یہ استقرائی منطق کا اٹل اطلاقی منہج نہیں۔ جی ہاں، امکانات کا دائرہ وسیع ہے لیکن استخراجی و استقرائی استدلالی رویے بہرصورت ساتھ ساتھ ہی چلیں گے جیسا باقی تمام اقالیمِ علم بشمول سائنس میں جاری ہے۔

یہ جاننا بھی اہم ہے کہ کیا یہ بس فرض کر لیا جائے گا کہ مذہبیات میں قانونی معاملات کی ذیل میں اٹھائے گئے سوالات اب صحت و سقم سے ماورا ایک احتمالی میدان میں مدرسے سے فارغ التحصیل عالمِ دین کی صوابدید پر چھوڑ دیے جائیں گے کیوں کہ سیاہ کو سیاہ کہنا اور سفید کو سفید کہنا کلاسیکی منطق کا متروکہ اصول قرار پایا ہے؟ الہامی متون کو تو چھوڑئیے کیا یہ دعوی( یعنی ایک اوربدیہی مفروضہ) بھی ممکن ہے کہ سائنسی حقائق، انسان دوستی، دریافت کے زریں اصول اور سماجیاتی فریم ورک میں حاصلکیے گئے نتائج اصولی طور پر کسی قسم کی ’’حتمیت‘‘ سے دور ہیں؟ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان مفروضوں میں ابہام کو دور کرنے کے لئے منطقی بنیادوں پر کچھ کیس اسٹڈیز کے بغیر کسی نتیجے تک پہنچا مشکل ہے۔

فی الحال بحث کو سمیٹتے ہوئے گزارش ہے کہ راقم کی رائے میں یہاں ناگزیر طور پراسلامی دنیا میں مذہبیات کے مکمل تعلیمی ڈھانچے کی ایک سطحی منطقی تحدید واقع ہو رہی ہے جس میں کلاسیکی منطق کی ایک مبہم تعریف فرض کرنے کے ساتھ اس کے مذہبیات پر اطلاق اور نصاب میں اس کی جگہ کے بارے میں بھی شاید کئی مبہم اور نامکمل مفروضے باندھے جا رہے ہیں۔ یہ بالکل اسی طرح ہے جیسے ہمارے ہاں خود کئی روایتی کلامی حلقوں میں ابن تیمیہ کی یونانی منطق پر تنقید کو کمزور تصور کر لیا جاتاہے اور اس کے برعکس غزالی کے استدلال کو ترجیح دی جاتی ہے۔ یہ سب سوالات جو مذہبی نصاب اور تاریخ ِ منطق کے عربی مکتب سے جڑے ہیں ایک مکمل مضمون کا تقاضا کرتے ہیں۔ ہمارا گمان ہے کہ برادرِ گرامی جمشید اقبال دراصل ایک سماجی ربط کی منطق (logic of social engagement) کی بات کر رہے ہیں جو باہمی تفہیم، مکالمے اور ایک صحائفی استدلال (scriptural reasoning) کی روایت کو خوبصورت ربط میں آگے بڑھائے۔ لیکن یہ سوال علمِ منطق کے خالص رسمی فریم ورک میں اٹھانے کے لئے شاید پہلے ایک تنقیدی تناظر کی بحالی اور اس پر متفق ہونے کی ضرور ت ہے جس کے بعد ہی عقلیات کے نصاب کا جائزہ اور اس میں انتہا پسندی کی ممکنہ منطقی جڑوں تک رسائی ممکن ہو سکتی ہے۔ فی الحال تو ہمارے ہاں نصاب اور تدریس میں’’ مذہبیات ‘‘اور’’ عقلیات ‘‘ کی نفسیاتی تفریق تک مکمل طور پر ختم نہیں ہو سکی۔

یہ موضوع اٹھانے پر جمشید بھائی کا ایک بار پھر شکریہ ادا کرتے ہوئے اتنا عرض کرنا چاہوں گا کہ اب تک ہونے والی بحث میں دو سوالات نہایت اہم ہیں۔ اول، تجریدی اور تجربی تناظر میں کلاسیکی اور جدید منطق کا خاکہ کیا ہے او ر مختلف مناہج پر ہونے والی تنقید کے نتیجے میں پیشکیے جانے والے متبادلات کے اپنی بدیہی مفروضات کیا ہیں؟ دوم، کلاسیکی یونانی منطق سے لے کر قرونِ وسطیٰ تک ایک طرف لاطینی و مغربی منطق اور دوسری جانب عربی و فارسی منطق کا خاکہ اور مکاتب ِ فکر کیا ہیں؟ ان دو سوالات کے بعد ہی اس تیسرے سوال کا مکمل تجزیاتی خاکہ ممکن ہے کہ رائج مذہبی مدرسی نصاب اور غیر مذہبی قومی نصاب میں منطق کی کیا جگہ ہونی چاہیے؟ تیسرے سوال کے دوسرے جزو کی اہمیت برادرم جمشید اقبال کے اس اشار ے سے مزید بڑھ جاتی ہے کہ علمائے دین کے ساتھ عقلیت پسند محققین او رسائنسدان بھی مختلف منطقی و تاریخی مغالطوں کا شکار ہیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عاصم بخشی

عاصم بخشی ایک قدامت پسند دیسی لبرل ہیں۔ پیشے کے لحاظ سے انجینئرنگ کی تدریس سے وابستہ ہیں۔ فلسفہ، ترجمہ اور کچھ بظاہر ناممکن پلوں کی تعمیر ان کے سنجیدہ مشاغل ہیں۔ تنہائی میں اپنی منظوم ابہام گوئی پر واہ واہ کرتے نہیں تھکتے۔

aasembakhshi has 66 posts and counting.See all posts by aasembakhshi