گستاخانہ مواد کے خلاف تادیبی اقدامات


اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے سوشل میڈیا پر پیغمبر اسلام اور مسلمانوں کے دیگر اکابرین کے خلاف توہین آمیز مواد کی اشاعت پر سخت رد عمل ظاہر کرتے ہوئے اس سلسلہ میں مقدمہ کی سماعت روزانہ کی بنیاد پر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو فوری طور پر اس مواد کی ترسیل روکنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ اگر ایسے مواد تک رسائی نہ روکی گئی تو وہ سوشل میڈیا پر پابندی لگانے کا حکم بھی دے سکتے ہیں۔ جسٹس شوکت صدیقی اس بارے میں بات کرتے ہوئے آبدیدہ بھی ہوگئے اور انہوں نے کہا کہ اس ملک میں کسی صورت اہانت رسول ؐبرداشت نہیں کی جاسکتی۔ قابل احترام جج کی اس بات سے پاکستان کا کوئی باشندہ یا کوئی مسلمان اختلاف نہیں کرسکتا لیکن ٹیکنالوجی کے اس دور میں کسی مواد کی ترسیل صرف پابندیوں سے روکنا ممکن نہیں ہے۔ اس مقصد کے لئے معاشرتی اصلاح اور تعلیم عام کرنے کی ضرورت ہے۔

حضرت محمد ﷺ سے مسلمانوں کی محبت اور عقیدت کو ثابت کرنے کے لئے کسی عدالتی حکم یا کسی جج کے جذباتی تبصروں کی ضرورت نہیں ہے۔ ہر مسلمان تہہ دل سے رسول پاکﷺ کا احترام کرتا ہے اور ان کی پاک ذات سے محبت کو جزو ایمان سمجھتا ہے۔ تاہم یہ بات بھی درست ہے کہ بعض عناصر کچھ عرصہ سے سوشل میڈیا پر جعلی ناموں اور مختلف ہتھکنڈوں سے ایسا مواد شائع کرتے ہیں جو مسلمانوں کی دل آزاری کا سبب بنتا ہے۔ سوشل میڈیا ٹیکنالوجی کا ایسا گورکھ دھندا ہے کہ کوئی بھی حکومت اس طریقے سے مواصلت پر پوری طرح کنٹرول کرنے کے قابل نہیں ہے۔ پیغمبر اسلام یا دیگر اکابرین کے بارے میں ہرزہ سرائی کا سلسلہ یوں تو کوئی نیا نہیں ہے لیکن جدید ٹیکنالوجی کی وجہ سے اس کی ترسیل آسان ہوگئی ہے۔

ہمارے دور میں ان توہین آمیز تبصروں اور خیالات کی ترسیل میں اضافہ کی اہم ترین وجہ بعض گروہوں کی طرف سے اسلام کے نام پر دہشت گردی اور خوں ریزی کا پیغام عام کرنے کا رویہ بھی ہے۔ مسلمان رہنما بوجوہ ایسے عناصر کے خلاف مزاج تیار کرنے اور مسلمانوں کی طرف سے یہ واضح کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے کہ مٹھی بھر مفسد عناصر دنیا کے ڈیڑھ ارب مسلمانوں کی نمائندگی نہیں کرتے۔ اس سلسلہ میں مسلمانوں کی سستی کی وجہ سے اسلام دشمن عناصر کو مسلمانوں اور ان کی مقدس ہستیوں کے خلاف پروپیگنڈا کرنے کا موقع مل رہا ہے۔ مسلمان ملکوں میں ایسے مواد کی ترسیل روکنے کے ساتھ اس بات کی بھی ضرورت ہے کہ مسلمان سامنے آنے والے مسائل پر اپنا دو ٹوک مؤقف اور رسول پاک ﷺ کو بطور رحمت العالمین پیش کرنے کے لئے کوششوں کو تیز کریں۔

یہ معاملہ عدالت میں لے جانے والے لوگ یقینی طور پر اسلام اور مسلمانوں کا درد رکھتے ہیں۔ اسی طرح اس مقدمہ کی سماعت کرنے والے معزز جج بھی حب رسول ؐ کی وجہ سے ہی اس علت کو ختم کرنے کے لئے حکومت پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کررہے ہیں۔ لیکن اس حوالے سے تمام پہلوؤں کا جائزہ لئے بغیر اور صرف پابندی لگانے کی بات کرنے یا حکم دینے سے یہ سلسلہ بند نہیں ہو گا۔ تاہم اس طرح بدخواہ عناصر ہرزہ سرائی کے متبادل راستے تلاش کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ اس لئے بہتر ہوگا کہ ان عوارض کا خاتمہ کرنے کی بھی کوشش کی جائے جن کی وجہ سے بعض نابکار رسول پاکؐ کی ذات اقدس پر کیچڑ اچھالنے کی جسارت کرتے ہیں۔ اس حوالے سے اگر جسٹس شوکت صدیقی خود اپنے کردار پر غور کریں تو انہیں اس مقدمہ کی سماعت کرنے کی بجائے اسے کسی دوسرے جج کو منتقل کردینا چاہیے۔

اس طرح ان کا عشق رسولؐ تو واضح ہو تا ہے لیکن یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ وہ ملک کے قانون کو اپنے عقیدے کی کسوٹی پر پرکھنے کے عادی ہیں۔ اس طرح اعتراض کرنے والوں کو ان کے تبصروں اور فیصلوں پر حرف زنی کا موقع مل سکتا ہے۔ یہ خبریں بھی سامنے آئی ہیں کہ جوڈیشل کمیشن اس وقت جسٹس شوکت صدیقی کے خلاف بدعنوانی کے الزامات کی سماعت کررہا ہے۔ اس لئے کہا جا رہا ہے کہ معزز جج اپنے طرز عمل سے عوامی مقبولیت حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں تاکہ وہ جوڈیشل کمیشن کے فیصلہ پر اثر انداز ہو سکیں اور اپنے خلاف فیصلہ آنے کی صورت میں یہ عذر تراش سکیں کہ ان کے خلاف کارروائی دراصل ان کے عشق رسولؐ کی وجہ سے ہوئی ہے جو کہ سراسر غلط مؤقف ہوگا۔ اگر اس خبر میں کسی بھی قسم کی صداقت ہے تو جسٹس شوکت صدیقی کو رسول پاک ﷺ کی حرمت کے نام پر اس مقدمہ سے خود کو علیحدہ کرلینا چاہیے اور یقین رکھنا چاہیے کہ تمام مسلمان جج حرمت رسول ؐ کے لئے اتنے ہی جذباتی ہوں گے جس کا اظہار وہ خود مقدمہ کی سماعت کے دوران کررہے ہیں۔ البتہ ماضی میں ان کا رویہ اور جوڈیشل کمیشن میں ان کے خلاف کارروائی کے حوالے سے خبریں تقدس رسولؐ سے زیادہ مفادات کے تحفظ کا معاملہ بن جائے گا۔ جسٹس شوکت صدیقی پر لازم ہے کہ اس بارے میں اپنی پوزیشن واضح کریں۔

اس مقدمہ اور رسولؐ اسلام کی توقیر و احترام کے حوالے سے یہ بات بھی اہم ہے کہ جب مسلمان ہوتے ہوئے بھی رسول اللہ ؐ کے فرمان اورسنت کے خلاف زندگی بسر کی جاتی ہے۔ معاشرے میں جھوٹ اور بدکاری کا چلن عام ہوتا ہے اور فرد اپنی اصلاح کی بجائے دوسروں پر الزام تراشی کرکے آگے بڑھنا چاہتا ہے تو اس رویہ کے ساتھ کیا ہر مسلمان بالواسطہ ہی سہی رسول پاکﷺ کی توہین کا مرتکب نہیں ہوتا۔ اگر اس پہلو پر غور کرتے ہوئے ہم سب اپنی اصلاح کا بیڑا اٹھا سکیں تو دشمنان اسلام کی سازشیں اور توہین آمیز باتیں کرنے والوں کے ارادوں کو ناکام بنایا جا سکتا ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 495 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali