ہم ویسے نہیں ہیں


وہ جی جان سے ایک موقف اختیار کرتے ہیں۔ اس موقف کے مخالفین کے خلاف ایک شدید مہم چلاتے ہیں اور اپنے فکری مخالفین کو غدار بتاتے ہیں۔ چند برس بعد وہ اپنے فکری مخالفین کا موقف اپنا لیتے ہیں اور شد و مد سے اس کا دفاع شروع کر دیتے ہیں اور اپنے فکری مخالفین کے سر پر اپنا قدیم موقف رکھ کر ان کو دوبارہ غدار بتاتے ہیں۔

ہم ویسے نہیں ہیں۔ ہم چند برس بعد نہیں بلکہ چند گھنٹوں میں یو ٹرن لیتے ہیں۔

الیکشن سے پہلے ان کے جلسوں کے پنڈال بھرے ہوئے تھے۔ ان کی جیت یقینی تھی۔ وہ کلین سویپ کرنے کے دعویدار تھے۔ جب ریزلٹ آیا تو کسی دوسرے نے کلین سویپ کر لیا۔ ان کو گنی چنی سیٹیں ملیں۔ ان کی مقبولیت ایک سراب نکلی۔ پھر الیکشن کے بعد انہوں نے نتائج تسلیم نہ کرتے ہوئے دھاندلی کا شور مچایا اور منتخب حکومت کے خلاف مہم چلا دی۔

ہم ویسے نہیں ہیں۔ ہمارے ساتھ تو واقعی دھاندلی ہوئی ہے۔

ووٹ کے میدان میں شکست کھا کر انہوں نے منتخب حکومتوں پر دھونس جما کر اپنی مرضی چلانی چاہی۔ انہوں نے اسلام آباد میں دھرنے دینے کی روایت ڈالی۔ ان کے دھرنے ناکام رہے۔ چند دن بعد وہ ناکام ہو کر اٹھ گئے۔

ہم ویسے نہیں ہیں۔ ہم چند ماہ بعد اٹھے تھے۔

انہوں نے طالبان کی حمایت کی۔ ان کے جنازوں میں شریک ہوئے۔ جنگ میں مرنے والے ان کے لڑاکوں کو شہید کہا اور پاکستانی فوجیوں کو شہید کہنے سے کترائے۔ طالبان سے مذاکرات کرنے پر زور دیا بلکہ خود طالبان کے نمائندے کی حیثیت سے حکومت سے مزاکرات کیے۔

اسی بارے میں: ۔  یونس خان : ایک لیجنڈ

ہم ویسے نہیں ہیں۔ ہم نے نمائندگی سے معذرت کر لی تھی۔ ہم نے تو صرف طالبان کا دفتر کھولنے کا کہا تھا کہ جب بھی دل گھبرائے تو ان سے مذاکرات کر لیا کریں۔

وہ رجعت پسند ہٹ دھرم ہیں۔ اپنی مرضی کے خلاف بات ہو تو قانون کا تیاپانچہ کر دیتے ہیں۔ اپنی غلط سے غلط بات کو درست اور اس کی مخالفت کرنے والے کو گمراہ قرار دیتے ہیں۔

ہم ویسے نہیں ہیں۔ بس ہماری ساری باتیں درست ہوتی ہیں اور ہمارے مخالف ہمیشہ کرپٹ ہوتے ہیں۔

لیکن سب سے بڑا فرق یہ ہے کہ وہ داڑھی رکھتے ہیں۔

ہم ویسے نہیں ہیں۔ ہم کلین شیو ہیں۔

یہ بس اتفاق ہے کہ ہم دونوں نے مل کر حکومت بنائی ہے۔ ہم دونوں ایک جیسے ہرگز بھی نہیں ہیں مگر ایک ہی جیسے ہیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 733 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar