گلاس اور محبوب


اک بھری بزم میں سب لوگ گفتگو میں مگن تھے۔ کوئی اپنی بیوی کے قصے سنا کر نالاں تھا تو کوئی دفتر میں آنے والی نئی حسینہ کے  حُسن و جمال کے جلوؤں کا ذکر کر رہا تھا۔ کوئی کسی محبوب کے روٹھ جانے پر دُھت نشے میں اُداس کسی دیوار کے کونے سے لپٹا محبوب کے گلے کر رہا تھا تو کوئی کسی نئے معشوق سے نظریں دو چار کر رہا تھا۔ کہیں کوئی ادھیڑ عمر اپنے کھُلے گیسوؤں کے چاندنی بکھیرتے اثر میں کسی نوجوان کو پھانسنا چاہتی تو کہیں کوئی مکار رئیس اپنی مایا کے دام میں کسی دوشیزہ کو قید کرنا چاہتا۔

محفل اپنے عروج پر تھی۔ آنکھوں کی چمک، جسموں کی ہوس، عطروں کی مہک اور حسیناؤں سے بھری چاندنی رات کی چاندنی میں سب اپنے اپنے مقصد میں محو تھے۔ ساری محفل میں بس اکِ کانچ کا گلاس خاموش اپنی جگہ ایک میز پر جوں کا توں بیٹھا سب کو رشک کی نگاہوں سے دیکھ رہا تھا۔ یہ بے جان گلاس اتنا شفاف محسوس ہوتا تھا کہ اس کے سارے مادی جسم کے آر پار سب دیکھا جاسکتا تھا۔ جیسے  خواہشوں سے بے نیاز اس نے  اپنے اندر کبھی کوئی جزبات پروئے ہی نہیں۔  اِس کے اندر کے چشمے سے اس  نے نہ جانے کتنے پیاسوں کی پیاس بجھائی تھی۔

مگر ایسا نہیں تھا۔ آج بھی یہ گلاس ایک خواہش دل میں لیے  محبوب پر ٹکٹی باندھے بہت دیر سے میز پر منتظر نگاہوں سے حسرتِ جاناں لیے بیٹھا تھا۔ جانِ تمنا گلاس کی خواہشات سے  بے خبر ساری محفل کی رونقوں سے لطف اندوز ہوتی گلاس کے سامنے بیٹھی تھی۔ گلاس اپنی خواہشات کو پورا کرنے میں کمال فن رکھتا تھا۔ کبھی اس نے کسی حوا کی بیٹی کو یہ احساس نہ ہونے دیا کہ وہ  اس ماہ جبیں کی پیاس کے ساتھ ساتھ اپنی پیاس کیسے بجھاتا ہے۔ بس فریب ایسا کہ پیاس اپنی بجھاتا اور احسان بھی کر جاتا۔

کافی دیر کے بعد وہ موقع آیا جس کا گلاس کو انتظار تھا۔ محبوب نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا تو گلاس کی دھڑکنیں تیز ہوگئیں۔ ایسا لگتا جیسے اس کے آر پار نظر آنے والے جسم پر برق سی گر گئی ہو۔ بجلی کی لہر اس کے سارے وجود کو جنجھوڑ رہی تھیں۔  دھڑکنیں اتنی تیز کہ دل چیر کر باہر آجائیں۔

محبوب نے آہستہ سے اپنی مخروطی انگلیوں سے گلاس کے سارے وجود کو اپنی آغوش میں لیا ۔ گلاس کے اندر ایسی کپکپاہٹ اس لمحے کو شروع ہوئی کہ اس کے اندر سمویا سارا پانی اس کے جسم کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک ٹکرانے لگا۔ محبوب کا ہاتھ جو لبوں کی طرف بلند ہوا تو یوں لگا کہ گلاس کو کوئی اپنے ساتھ خلا میں اڑا کر تاروں کی سیر کو لے جارہا ہے۔ آخر کار محبوب نے اپنی نازک انگلیوں میں جکڑے گلاس کو اپنے لبوں سے لگایا۔ گلاس کے ہوش خطا ہو گئے۔ گلاس نے آہستہ آہستہ اپنے اندر جمع کیا ہوا اپنا کُل سرمایہ محبوب کے لبوں سے چھو کر اس کی صراحی جیسی گردن کے راستے اُس کے جسم کے ہر حصے میں انڈیل دیا  اور اپنی آخری بوند تک وہ محبوب کی انگلیوں اور لبوں کو چھوتا رہا۔ آخر کار گلاس خالی ہوگیا  اُس نے اپنی جمع کی ہوئی آخری بوند بھی  محبوب کو دے دی۔ محبوب نے آہستہ آہستہ دوبارہ گلاس کو میز کے سپرد کر دیا۔

گلاس اپنے اندر کا سارا بوجھ خالی کرچکا تھا۔ وہ کسی پرندے کے پر کی طرح خود کو ہلکا اور ہوا میں اُڑتا محسوس کر رہا تھا۔ چند لمحوں کے بعد گلاس کو ہوش آیا تو سامنے نہ محبوب تھا  نہ اُس کے جسم میں کوئی طاقت۔ وہ چپ چاپ آہستہ سے محبوب کی ملاقات کا تصور لئے گہری نیند سو گیا۔


Comments

FB Login Required - comments