عورت روبوٹ نہیں ہے


اگر میں کہوں کہ زمانہ جاہلیت سے لے کر آج تک عورت نامی مخلوق روئے زمین کی سب سے زیادہ مظلوم و محکوم مخلوق رہی ہے تو اس میں غلط کیا ہے۔۔۔؟ اور پتہ نہیں آپ کیوں مجھ سے اتفاق نہیں کرتے؟ جنگ ہوں یا ‘امن’ عورت کے لئے حالات ہمیشہ ناموافق ہی رہتے ہیں۔ تاریخ بتاتی ہے کہ ‘زمانہ جاہلیت ‘ میں بچیوں کی پیدائش کو اس قدر معیوب سمجھا جاتا تھا کہ انہیں پیدا ہوتے ہی زمین میں گاڑ دیا جاتا تھا۔ لیکن ہم زیادہ دور کیوں جائیں گزشتہ صدی میں لڑی جانے والی دو عالمی جنگوں کی مثال ہی لے لیجیے۔ لاکھوں خواتین بہیمانہ طریقے سے ان جنگوں کا ایندھن بن گئیں۔ ‘فاتح’ اقوام کے ‘یونیفارم کریمنلز’ نے مفتوحہ علاقوں کی بے بس خواتین کو جنسی درندگی کا نشانہ بنایا۔ لا تعداد خواتین کو عصمت دری کے بعد قتل کر دیا گیا یا پھر جسم فروشی کے مکروہ دھندے میں جھونک دیا گیا۔ ایک اندازے کے مطابق دوسری عالمی جنگ کے اختتامی مراحل میں جب سرخ فوج ‘فاتح’ کی حیثیت سے برلن میں داخل ہوئی تو صرف برلن میں ایک لاکھ جرمن خواتین عصمت دری کا شکار ہوئیں۔ روسی سائنسدان سخاروف کی ایک دوست نے بعد میں لکھا کہ یہ ‘Rapists’ کی فوج تھی جس نے آٹھ سال کی عمر سے لے کر اسی سال تک کی عمر رسیدہ خواتین کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا”۔ افسوس کہ اکیسویں صدی کی دہلیز پار کر لینے کے بعد بھی نام نہاد مہذب دنیا میں عورت اتنی ہی غیر محفوظ اور بے اختیار ہے جتنی کہ پتھر کے دور میں۔ شاید تھوڑی بہت تبدیلی بھی رونما ہوئی ہو لیکن۔۔۔ لیکن وہ تو زمانہ جاہلیت تھا اور یہ علم، سائنس و ٹیکنالوجی کا ترقی یافتہ دور آج کے دور میں تو عورت کو تھوڑی راحت نصیب ہو جانی چاہئیے تھی لیکن کشمیر سے لیکر شام تک نظر دوڑائیں تو حقائق بڑے تلخ ہیں۔

“بہار عرب” کی لپیٹ میں آنے والے ممالک ہوں’ جنگ زدہ عراق ہو یا افغانستان ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں کی تعداد میں خواتین کی زندگیاں جہنم رسید ہو چکی ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے اعداد و شمار کے مطابق 2011 سے لے کر اب تک صرف ایک ملک شام میں ہزاروں خواتین شامی افواج اور باغیوں کے ہاتھوں ظلم کا شکار ہو چکی ہیں۔

جنگیں تو ہمیشہ سے جرائم کی پرورش کے لئے سازگار ماحول فراہم کرتی آئی ہیں لیکن ہم نے امن کے زمانے میں بھی عورت کے لئے سکھ کی چھایا نہیں دیکھی۔ عورت کی مظلومیت کا یہ پہلو ہمیشہ سے بڑا بھیانک ہے کہ اس نے سماج کی مسلط شدہ روایات، رواجات اور بیانیے کو من و عن قبول کر کے جابرانہ اور گھٹن زدہ ماحول کو تقویت بخشی۔ بیشتر خواتین آج بھی معاشرے کے جبر کو قسمت کا لکھا جان کر قبول کر لیتی ہیں۔ جو خواتین سرکنے کی کوشش کرتی ہیں یا اپنے حقوق کے لئے آواز بلند کرتی ہیں انہیں “مردانہ اجارہ داری ” والے معاشروں میں انتہائی اذیت ناک تجربات و حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ تاہم یہ بات خوش آئند ہے کہ خواتین کو انتہائی ناموافق حالات کے باوجود جب بھی جہاں بھی مواقع میسر آئے نہ صرف اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا بلکہ صدیوں سے قائم اس تاثر کو بھی جھٹلا دیا کہ عورت کا کام محض بچے جننا اور مرد کی غلامی ہے۔ بیسویں صدی یورپ اور امریکہ کے لئے صنعتی انقلاب کی پرواز کی صدی تھی۔ اقتصادی ماہرین اس بات پر زور دینے لگے کہ صنعتی نمو اور افرادی قوت کی دستیابی کے لئے خواتین کو بھی مردوں کے شانہ بشانہ کام کرنا ہو گا۔ تاہم کام کی شرائط، سازگار ماحول، مناسب اجرت اور دیگر مساہل کو ہمیشہ سے نظرانداز کیا جاتا رہا۔ صنعتی ترقی کے ساتھ ہی خواتین کے لئے ضروریات زندگی کے لئے مرد پر انحصار کم ہونے کے امکانات پیدا ہوئے۔ آزادی نسواں کے حق میں چلنے والی تحریکوں کی ایک بڑی مانگ یہ تھی کہ عورت کو بھی مرد کے برابر “سٹیٹس” دیا جانا چاہئیے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی عورت کی آزادی کی ایسی ایسی تاویلیں بیان کی جانے لگیں جو معاشرے میں عورت کے باوقار مقام کے برعکس تھیں۔ خواتین کو یہ باور کرایا جانے لگا کہ عورت کے لئے آگے بڑھنے کے مواقع حسن نسواں کے تابع ہیں۔ اور حسنِ نسواں کی “کمرشلائزیشن” میں تیزی آ گئی۔ نیشنل اور ملٹی نیشنل کمپنیوں نے بھاری معاوضے کے حوض نیم برہنہ ماڈلز کی خدمات حاصل کر لیں۔ حتی کہ نئے ماڈل کی کار سے لے کر شیونگ بلیڈ تک کہ ٹی وی اشتہار میں خواتین ماڈلز اپنے حسن کے جلوے بکھیرنے لگیں۔

اسی بارے میں: ۔  ڈاکٹر عبد السلام اور پانی سے چلنے والی کار ....

ڈراموں اور فلموں میں عورت کو رومانوی کردار میں اس طرح پیش کیا جانے لگا جیسے عورت رومانس کے علاوہ کوئی اور ایڈونچر کر ہی نہیں سکتی۔ انٹرنیٹ کا دور آیا تو رہی سہی کسر بھی نکل گئی جہاں منفی اور اخلاق باختہ مواد کا دھندا عروج پر ہے۔ مکروہ دھندا کرنے والے لوگ اس کو اظہار رائے کی آذادی کا نام دیتے ہیں۔ لیکن یہ پیسہ کمانے کا ایک مکروہ دھندا ہے اور “انٹرنیٹ پورنوگرافی” کو فروغ دینے والی ویب سائٹس اس سے ٹھیک ٹھاک پیسہ کما رہی ہیں ۔ اقتصادی طور پر ترقی یافتہ سمجھے جانے والے ممالک میں ہونے والی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ان ممالک میں ڈپریشن کے مریضوں کی تعداد ان ممالک سے زیادہ ہے جو اقتصادی طور پر خود کفیل نہیں ہیں۔ کیوں؟ اس لئے کہ سائنس اور ٹیکنالوجی میں اندھا دھند ترقی کرنے والے ان ممالک میں اخلاقی زوال پذیری کی طرف کوئی توجہ نہ دی گئی اور اخلاقیات کے بغیر تو کوئی معاشرہ ایسے ہی ہے جیسے روح کے بغیر جسم۔

اب ایک پہلو اور ملاحظہ فرمائیں نام نہاد لبرل بریگیڈ نے تو عورت کی آزادی کی تشریح اور تصور کو جنس اور حسن سے منسوب کر دیا ہے جسے میں مسترد کرتی ہوں۔ لیکن ایک نام نہاد مذہبی اور غیرت بریگیڈ نے ہمیشہ اس تصور کو اجاگر کیا کہ عورت سات پردوں میں ڈھانپ کر رکھنے والی شے ہے۔ ان میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو بچیوں کی تعلیم کے بھی خلاف ہیں لیکن ان کی دوغلی اور بیمار ذہنیت کا عالم یہ ہے کہ یہ زچگی اور دوسرے معاملات میں اپنے گھر کی خواتین کے لئے فیمیل ڈاکٹرز کی خدمات لینا پسند کرتے ہیں۔ اس بات کا جواب دینے کے لئے بھی یہ لوگ تیار نہیں کہ جن گھرانوں میں مرد سربراہ موجود نہیں ہے اور گھر کے انتظامات کا سارا بوجھ خواتین کے سر ہے۔۔۔ اگر خواتین باہنر اور بااعتماد نہیں ہوں گی تو وہ یہ بار کیسے اٹھائیں گی؟ یہ سچائی مان لینے میں کیا حرج ہے کہ خواتین کا باوقار، با شعور، باہنر اور با اختیار ہونا وقت کی اہم ضرورت بھی ہے۔

اسی بارے میں: ۔  ریپ اور ریپسٹ

اب ایک پہلو اور ملاحظہ فرمائیں۔۔۔ اس کا تعلق جمہوریت میں خواتین کی شراکت داری سے ہے۔ اس پہلو پر غور کیا جائے تو پسماندہ اور فرسودہ ممالک کی خواتین اور جمہوریتوں کی حالت قابل رحم ہے جہاں ایسی خواتین کی تعداد نہ آٹے میں نمک برابر ہے جو اپنی مرضی اور فہم کے مطابق حق رائے دہی استعمال کرتی ہیں۔ ملکی معاملات میں ان کی یا تو اپنی کوئی رائے ہی نہیں یا پھر اپنے ‘بڑوں’ کی رائے کے تابع ہے۔ فیصلہ سازی کے ایوانوں میں انکی نمائندگی نہ ہونے کے برابر ہے۔ حالانکہ یہ کل آبادی کا نصف ہیں اور پاکستانی معاشرہ اس کی جیتی جاگتی مثال ہے۔

بہرحال یہ ضروری ہے کہ عورت کو سب سے پہلے انسان تسلیم کر لیا جائے اور انسان تو جذباتوں سے بنا ہے۔۔۔ عورت روبوٹ نہیں ہے۔۔۔۔ جذبات اور احساسات سے معمور انسانی مخلوق ہے۔ اگر اب بھی عورت کا جائز مقام تسلیم نہ کیا گیا تو میں ایسے معاشروں کا مستقبل تاریک دیکھتی ہوں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔