جب ہم نے ہدایت پائی اور صوفیا گمراہ ٹھہرے


ہمارا گھرانہ پیر پرست نہیں تھا۔ نذر نیاز کے کونڈے نہیں اترتے تھے مگر کھانے سے انکاری نہ تھے۔ تعویذ گنڈوں سے علاج نہیں کیا جاتا تھا۔ مرشد کی بیعت نہیں کی جاتی تھی۔ لاہور میں رہتے ہوئے بھی داتا صاحب کو سلام کرنے نہیں جاتے تھے۔ مگر صوفیا کو اللہ کے نیک بندے مانتے تھے اور یہ گمان رکھتے تھے کہ برصغیر میں اسلام صوفیا کی نرمی نے پھیلایا تھا تلوار کی سختی نے نہیں۔

لیکن پھر ہم نے اسلامی علم حاصل کرنا شروع کیا۔ پیروں فقیروں کی درگاہوں کے پریشان کن قصے سنے۔ لوگوں کو مزاروں کو سجدے کرتے دیکھا۔ نہایت غصہ آیا کہ اسلام ایسے سیدھے سادے دین کو کیسے ہندوؤں کے اثر میں ایسا کر دیا گیا ہے۔ قوالیوں اور دھمالوں سے بھلا کون قرب خدا پا سکتا ہے؟

بخدا صوفیت کفر دکھنے لگی۔ اپنے علم پر ناز ہوا کہ کم عمری میں ہی حق کو پا لیا ہے۔ ہم نے نوجوانی میں ہی خود کو ایک بڑا عالم پایا۔

چند برس بیت گئے۔ دیس دیس کی سیر کی۔ گورے بھی دیکھے جو ویسے عیار و مکار نہ تھے جیسے ہم نے نوائے وقت اور عنایت اللہ کی کتابوں میں پڑھ رکھا تھا اور وہ برادر عرب بھی دیکھے جن کو ہم پر مسلمان بھائی ہونے کی وجہ سے دل و جان نثار کرنا چاہیے تھا مگر دل انہوں نے ہندوستان کو دے رکھا تھا اور جان امریکیوں کو۔ ہمارے لئے ان کے پاس ’یلا یلا یا مساکین الباکستانیہ‘ کے الفاظ ہی تھے۔

پھر طالبان آ گئے اور پاکستان میں رائج صوفیانہ شرک کے خاتمے کے لئے عملی جنگ کرنے لگے۔ داتا دربار اور دوسری درگاہوں پر بم پھٹتے دیکھے۔ خود کو عقیدے میں زیادہ راسخ قرار دینے والوں کو جانیں لیتے پایا۔ جبکہ درگاہوں پر صوفیوں کے ماننے والوں کو محض دھمال ڈالتے ہی دیکھا۔

اسی بارے میں: ۔  مستونگ کے دھماکے نے مجھے بھی مار دیا ہے

اس وقت ہمارے دماغ کی گھنٹی بجی اور سمجھ آیا کہ صوفیا کی تعلیم کیا تھی اور کیوں ان سے متاثر ہو کر غیر مسلم اسلام قبول کیا کرتے تھے جبکہ علما کی محفلوں سے وہ دور رہتے تھے۔ اب ہمیں علم ہوا کہ ہمارا علم ناقص ہے۔ ہم عالم نہیں بلکہ ایک مبتدی طالب علم ہیں۔ جاہل خود کو کامل پاتا ہے۔ عالم تو یہ جانتا ہے کہ وہ کچھ نہیں جانتا ہے۔ وہ محض حق کی تلاش کا راہی ہے۔ اس کی موجودہ منزل غلط ہو سکتی ہے اور سچ اگلی کسی منزل پر ہو سکتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ دوسرا مسافر درست راستے پر چل رہا ہوا اور ہم غلط راستے پر ہوں اور وقت فیصلہ کرے کہ وہ ٹھیک تھا۔

انسانیت سے محبت ان صوفیا کے نزدیک خدا کو پانے کا راستہ تھی۔ کسی کا کوئی بھی عقیدہ ہو، کوئی دھرم ہو، کتنا ہی گنہگار کیوں نہ ہو، معاشرے میں کتنا ہی برا سمجھا جاتا ہو، ان صوفیا کو اس سے کوئی غرض نہ تھی۔

وہ تو انسانوں سے محبت کرتے تھے۔ وحدت الوجود کا فلسفہ علمی طور پر ان کے نزدیک شاید یہی تھا کہ ان رنگ رنگ کے انسانوں کی روحوں کی خدمت کریں گے تو ہی قرب خداوندی پا سکیں گے۔

آپ روحانیت سے ہٹ کر صوفیت کو سمجھنا چاہتے ہیں تو عبدالستار ایدھی کی تصویر اپنے ذہن میں لے آئیے کہ کیسے وہ بے لوث ہو کر ہر انسان کی خدمت کرتے تھے۔ بلاشبہ وہ فنا فی الذات والے صوفی تھے۔

اسی بارے میں: ۔  کاغذ کے کونے پر لکھا آخری لفظ

اب جب ہم ایک طرف اسلام کے نام پر دھماکے کرتے مجاہدین کو دیکھتے ہیں اور دوسری طرف انسانوں سے محبت کرتے صوفیا کو، تو چند مقدس الفاظ ہمارے ذہن میں گونج اٹھتے ہیں اور ہم سوچنے لگتے ہیں کہ اسلام کی درست تعبیر کس نے پائی۔

’ہم نے آپؐ کو تمام جہانوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے‘۔

انسان دوست صوفیا ٹھیک نکلے۔ گمراہ تو ہم خود تھے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 732 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar