طالبان، روس اور پاکستان کا افغانستان میں اتحاد اور بھارت کی پریشانی


نئی صف بندی امن کا پیش خیمہ ثابت ہوگی؟ یا افغانستان ایک بار پھر عالمی سرد جنگ کا اکھاڑہ بنے گا؟ تین ماہ سے تیز ترین سفارتی اور انٹیلی جنس سرگرمیوں کے سبب اہل خبر و نظر کے دل دماغ میں یہ سوال زلزلے بپا کیے ہوئے ہیں۔ ہمارےجملہ دانش گرد ملا ریالی، علامہ تومانی اور مسٹر ڈالری پکے ’’پیشہ ور‘‘ ہیں، بلا ’’معاوضہ‘‘ ایک لفظ بھی نہیں پڑھتے لہٰذا ان کی ابھی ان اٹھتی ہوئی قیامتوں پر توجہ نہیں۔ حالانکہ اس بار ریالیوں اور تومانیوں کے بے روزگار ہونے کا قوی خطرہ ہے۔

گوکہ ڈیلی ٹیلی گراف نے پاکستانی جرنیلوں کی جانب سے امریکی جرنیلوں کو دی گئی وارننگ کی بات کرکے توجہ دلانے کی کوشش کی ہے، مگر یہ کہانی کا صرف ایک حصہ ہے۔

آثار بتاتے ہیں کہ تجارتی اور سیاسی مفادات کی خاطر اک نئی سرد کشمکش شروع ہوا چاہتی ہے۔ مصدقہ اطلاعات ہیں کہ روس طالبان بیک چینل رابطے ایک عرصہ سے جاری تھے، ملا منصور کی موت سے ان میں تعطل آیا، کیونکہ وہ ذاتی حیثیت میں معاملات کو دیکھ رہے تھے، مگر ملا ہیبت اللہ کی جانب سے عباس ستنک زئی کو بات چیت کا اختیار دینے کے بعد ٹوٹے تار پھر سے جڑے اور پیغام رسانی کے طویل سلسلہ کے بعد پہلی باقاعدہ ملاقات گزشتہ نومبر کے تیسرے ہفتے اسلام آباد میں ہوئی جب روسی انٹیلی جنس چیف پاکستان کے دورہ پر تھے اور طالبان کا وفد پگ واش کانفرنس کے لئے سرینا اسلام آباد میں تھا۔ کہتے ہیں اس ملاقات میں مولوی عباس روسی چیف کو یہ یقین دلانے میں کامیاب رہے کہ ’طالبان افغانستان سے باہر کوئی دلچسپی نہیں رکھتے اور وہ داعش کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں‘۔

نومبر میں ہونے والی اس ملاقات میں تخار اور بدخشاں اور تاجکستان کی طرف داعش کی پیش قدمی بھی زیر بحث آئی۔ طے پایا کہ طالبان وفد اپنی قیادت سے ہدایات لے کر دسمبر کے دوسرے ہفتے ماسکو پہنچے گا۔ طالبان نے اس ملاقات کے تناظر اور اگلی ملاقات کی تیاری کے حوالہ سے ایک بیان بھی جاری کیا جس میں تاجکستان اور دیگر وسط ایشیائی ریاستوں کو یقین دہانی کروائی کہ’’ وہ طالبان سے کوئی خطرہ محسوس نہ کریں‘‘۔ ماسکو کے بجائے یہ ملاقات تاجکستان میں ہوئی جس پاکستان کی نمائندگی کی بھی غیر مصدقہ اطلاعات ہیں۔

بعد ازاں 27 دسمبر کو ماسکو میں روس، پاکستان اور چین کا اجلاس ہوا اور غیر متوقع طور پر تینوں ممالک نے دنیا سے مطالبہ کیا کہ ’’طالبان کو سیاسی حقیقت سمجھ کر قبول کریں، ان سے بات چیت کی جائے اور طالبان قیادت کے خلاف سفری پابندیاں ختم کی جائیں‘‘ اس اعلامیہ کو چین اور روس کی جانب سے طالبان سے تعلقات کا پہلا با ضابطہ اعلان بھی کہا جاتا ہے۔ طالبان نے اگلے ہی روز 28 دسمبر کواس کانفرنس کی حمایت میں بیان جاری کرنا ضروری سمجھا۔ کابل حکومت نے اپنی تشویش ظاہر کی تو کابل میں روسی سفیر نے منظر مزید واضح کردیا اور کہا کہ’’ داعش کے خلاف ہمارا اور طالبان کا موقف اور مفاد ایک ہے اس لئے ہم ان کی مدد کریں گے‘‘۔

اس اعلان پر دہلی اور کابل میں پریشانی کی لہر پیدا ہوئی اور بھارتی میڈیا نے سوال اٹھانا شروع کیا، جس پر اس سارے منظر نامہ کے تخلیق کار سمجھے جانے والے روس کے نمائندہ خصوصی برائے افغانستان زامر کابلوف کا مختصر بیان آیا کہ ’ہم نے دہلی کی واشنگٹن سے قربت پر کبھی سوال نہیں اٹھایا تو وہ کیوں بول رہے ہیں؟‘

بھارتی اخبار ٹائمز آف انڈیا کی ڈیپلومیٹک ایڈیٹر اندرانی نے نے اس صورتحال کو درست طور پرلکھا کہ ’’ داعش کے خلاف روس، چین اور پاکستان کے طالبان سے اتحاد پر امریکہ، بھارت اور اشرف غنی کو تشویش ہے اور یہ ایک نئی صف بندی ہے۔‘‘ دہلی میں کابل کے سفیر نے بھی مودی سے مطالبہ کیا کہ’’ وہ روس سے اس پر بات کریں‘‘۔ تازہ ترین اطلاع یہ ہے کہ ایران نے بھی لکیر کے اس جانب قدم بڑھا دیے ہیں۔ روحانی کا ایکو میں غیر معمولی استقبال اسی تناظرمیں تھا۔ کہا جاتا ہے کہ ہلمند میں 22 جنوری کو ایرانی وفد کی طالبان سے ملاقات اہم رہی، جس کی تصدیق ہلمند کے گورنر حیات اللہ حیات اور سیکیورٹی کے چیف رحمت اللہ نبیل نے بھی کی اور کہا کہ’’ ایران نے طالبان کو راکٹوں کا تحفہ دیا جو انہوں نے حکومتی ٹھکانوں پر استعمال کیے ہیں‘‘۔

اہل خبر بتاتے ہیں کہ کہ داعش ہی نہیں ای ٹی آئی ایم اور ازبک تنظیم بھی شام سے افغانستان واپس آگئی ہیں اوردہشت گر دوں کا یہ اتحاد ایک طرف روس، چین، ایران اور پاکستان کے لئے خطرے کی گھنٹی ہے اور اس کے سد باب میں چاروں ملک متفق ہیں کہ’’ طالبان ہی واحد موثر حل باقی بچا ہے‘‘ عباس ستنکزئی کے زیر قیادت طالبان وفد کا دورہ چین بھی اسی سلسلہ کی کڑی ہے۔ روس اور چین کی جانب سے اپنے ترقیاتی منصوبوں کے تحفظ کے لئے طالبان سے باقاعدہ معاہدے کرنا بھی کوئی معمولی اشارہ نہیں۔ دوسری جانب ایرانی صدر کا دورہ کویت اور سعودی شاہ کا چین جانا بھی کم اہم نہیں۔ مصدقہ اطلاعات ہیں کہ یمن اور شام میں اپنی اپنی معیشت کا بیڑا غرق کرنے کے بعد دونوں کو ٹھنڈ پڑ گئی ہے۔ روس، ترکی اور پاکستان ان دونوں کو قریب لانے کی کوشش میں ہیں فرقہ ریالیہ اور تومانیہ کے لئے اچھی خبر تو نہیں مگر یہ کوششیں کافی حد تک کامیاب بھی دکھائی دے رہی ہیں۔ لیکن کیا امریکہ اور اتحادی اسے برداشت کرلیں گے؟ یا اندرانی باغچی کےبقول اب افغانستان میں ایک طرف روس، چین، پاکستان اور طالبان ہیں تو دوسری جانب بھارت، امریکہ اور اشرف غنی کی حکومت۔

خدا کرے کہ نئی صف بندی میں مقابلہ اسلحہ اور ہتھیاروں کے بجائے تجارت اور ترقی کا ہو۔ مگر، ، ڈیلی ٹیلی گراف اور روسی میڈیا کو دیکھا جائے تو صورتحال یہ ہے کہ روسی میڈیا کے مطابق ’’کریملن اسٹیبلشمنٹ کو یقین ہے کہ ’امریکہ داعش کو افغانستان میں لاکر روس کے خلاف استعمال کرنا چاہتا ہے‘ امریکی حکام یہ سمجھتے ہیں کہ ’روس طالبان سے راہ و رسم بڑھا کر ایران اور پاکستان کی مدد سے افغان سر زمین پر اپنا دھڑا بنا رہا ہے تاکہ مستقبل میں یہاں کے معاملات میں دخیل ہوسکے‘۔ ‘‘


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔