پاکستانی میڈیا کی ’غلط ترجیحات‘: فوج اور سیاستدانوں کو مبارک ہو


دنیا بھر کے ترقی یافتہ ممالک میں بچوں کی تعلیم کو اہم ترین ملکی مسئلہ تصور کیا جاتا ہے اور ملکی میڈیا بھی اس موضوع کو ہر لحاظ سے مناسب توجہ دیتا ہے۔

آج وفاقی وزارت تعلیم نے ایک رپورٹ جاری کی ہے، جس کے مطابق پاکستان کے پانچ سے سولہ برس کے تقریباﹰ پینتالیس فیصد ( 22.6 ملین) پاکستانی بچے اسکولوں میں نہیں جاتے۔

اسکول نہ جانے والوں میں بارہ ملین سے زائد لڑکیاں اور دس ملین سے زائد لڑکے شامل ہیں۔ سب سے بری حالت بلوچستان کی ہے، جہاں کے ستر فیصد بچے اسکولوں میں نہیں جاتے۔ اسی طرح پاکستان کے قبائلی علاقوں میں اسکول نہ جانے والے بچوں کی شرح اٹھاون فیصد بنتی ہے۔

ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ عوام کا ’نام نہاد نمائندہ‘ میڈیا کم از کم ایک، ایک رپورٹ ہی اس ایشو پر نشر کر دیتا۔ بچے اسکول کیوں نہیں جا رہے، اس کی وجوہات سامنے لاتا، تعلیم اور بہتر مستقبل کے جیسے موضوعات کو اجاگر کیا جاتا، حکومتی پالیسیوں کا کڑی نظر سے جائزہ لیا جاتا، شعبہ تعلیم کے ماہرین کو بلایا جاتا، تعلیم کے لیے مختص بجٹ پر بحث ہوتی لیکن کسی ایک چینل نے بھی اس حوالے سے خبر یا رپورٹ نشر کرنا گوارہ نہیں کیا۔

کوئی بھی ٹی وی چینل دیکھ لیں تو آپ کو مراد سعید کی لڑائی ملے گی، وزیراعظم کا خطاب ملے گا۔ او بھائی کیا مراد سعید لڑائی پاکستان کا مسئلہ ہے؟ اس سے عوام کو کیا فائدہ پہنچے گا؟ جناب کبھی تو سوچ لیا کرو کہ کسی رپورٹ سے عوام کا کچھ فائدہ بھی ہو رہا ہے یا نہیں، کسی کے علم میں اضافہ بھی ہو رہا ہے یا نہیں؟ عوامی شعور میں کچھ بہتری آئے گی یا نہیں ، یا عوام کا مسئلہ اقتدار کے ایوانوں میں پہنچ رہا ہے یا نہیں؟ پاکستان کا میڈیا حقیقی معنوں میں ’ایلیٹ کا نمائندہ‘ بن چکا ہے۔ جو اصل عوامی مسائل ہیں، ان کی طرف کسی کا دھیان ہی نہیں جا رہا۔

پاکستانی میڈیا سارا دن ’فوج اور سیاستدانوں‘ کے گرد گھوم رہا ہے۔ میڈیا کی 90 فیصد کوریج صرف ملک کے ان دو طبقوں کو مل رہی ہے۔ پاکستان میں ’میڈیا خریدنے‘ کا رجحان خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے، صاحب جی کو چھینک بھی آئے تو میڈیا والوں کو کال آ جاتی ہے کہ خبر چلاؤ، چھینک آ چکی ہے۔

فوج کا امیج بہتر بنانے کا جنون اور مختلف سیاسی پارٹیوں کی آپس کی جنگ بڑھ کر ’میڈیا پر قبضے کی جنگ‘ تک پہنچ چکی ہے۔ ہر کوئی اپنے ذاتی مفاد کو ’ملک کا وسیع تر مفاد‘ سمجھ رہا ہے۔ مبارک ہو سیاستدانوں کو، مبارک ہو فوج کو اور افسوس صد افسوس میڈیا کی ترجیحات پر۔

اور ساڑھے بائیس ملین بچوں کو تو ویسے بھی نہیں معلوم کہ ان کا حق مارا جا رہا ہے۔ میڈیا سے گزارش صرف اتنی ہے کہ آپ سب کو خوش رکھیے آپ کا حق ہے لیکن ان بدنصیبوں کا بھی تو کوئی حق ہونا چاہیے، جو آپ کی ریٹنگ برقرار رکھے ہوئے ہیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔