خواتین کو اخلاقی تحفظ فراہم کیا جائے


8 مارچ 2017 کو پوری دنیا میں خواتین کا عالمی دن منایا گیا۔اس مو قع پر پوری دنیا میں کامیابیاں سمیٹنے والی خواتین کو بھی خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ پاکستان میں بھی خواتین کے عالمی دن کے حوالے سے خصوصی اہتمام کے ساتھ مختلف اخبارات ، رسائل، میگزین اور سوشل میڈیا پر بہت سی تحاریر اور پیغامات چھا پے گئے جن میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی خواتین کی خدمات کو سراہا گیا اور ان کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا گیا۔ صدر، وزیر اعظم اور دیگر حکومتی عہدے داران نے خصوصی پیغامات نشر کئے۔

لاہور کے کینال اور مال روڈ پر پنجاب حکومت کی جانب سے بڑے بڑے فلیکس آویزاں کئے گئے جن پر محترمہ فاطمہ جناح، بیگم رعنا لیاقت علی خان، محترمہ بے نظیر بھٹو، ملکہ ترنم نور جہاں،ارفع کریم، ملالہ یوسف زئی اور ملک کی دیگر نامور خواتین کی تصاویر بشمول ان کی خدمات کننداں کی گئیں، یہ فلیکس ابھی بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔حکومت پنجاب نے اس دن کو خاص اہمیت دیتے ہو ئے ایوان اقبال میں ایک خصوصی نمائش کا انعقاد کیا جس میں وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے خصوصی طور پر شرکت کی اور خواتین کی جانب سے سجائے گئے سٹالز کو سراہا۔ اس کے علاوہ پنجاب یونیورسٹی انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک سٹڈیز کے زیر اہتمام امن واک بھی کرا ئی گئی جس میں اساتذہ اور طلبا کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اس موقع پر مسلم لیگ (نواز) خواتین ونگ کی صدر شائستہ پر ویز ملک نے دعویٰ کیا کہ مسلم لیگ (نواز) واحد قومی جماعت ہے جس نے خواتین کو ہر شعبہ میں نمائندگی دی چاہے وہ اداروں کے بورڈ آف گورنر ہوں یا خواتین کی وراثت کا مسئلہ ہو۔

یقینا حکومت وقت نے اس خاص دن کو کافی اہمیت دی لیکن اس سے ٹھیک ایک دن بعد یعنی 9 مارچ کو حکومتی جماعت سے تعلق رکھنے والے ایم این اے میاں جاوید لطیف کی طرف سے قوم کی بیٹیوں کے بارے میں انتہائی نازیبا زبان استعمال کی گئی جسے یہاں پر ہو بہو نقل کرنا اخلاقی اقدار کے منافی ہو گا۔اس بیان نے نہ صرف اخلاقی اقدار کو پامال کیا ہے بلکہ حکومت کی طرف سے خواتین کے عالمی دن کے حوالے سے منعقد کئے جانے والے علامتی قسم کے سیمینارز کی پول بھی کھول دی ہے۔ بہنیں، مائیں اور بیٹیاں سب کی سانجھی ہوتی ہیں لیکن عزت دار خواتین پر بہتان تراشی کا یہ واقعہ نیا نہیں ہے، اس سے قبل وزیرپانی و بجلی خواجہ آصف نے بھی ایوانِ زیریں میں کھڑے ہو کر تحریکِ انصاف کی سیکرٹری اطلاعات شیریں مزاری کو ’ٹریکٹر ٹرالی‘ کہہ کر مخاطب کیا تھا۔ 2014ء کے دھرنے میں شرکت کرنے والی خواتین کے حوالے سے حکومتی جماعت کے نمائندے پرائم ٹائم تاک شوز میں بیٹھ کر لغویات بولتے رہے ہیں جن میں پنجاب کے وزیر قانون رانا ثناءاللہ سرفہرست ہیں۔

اسی طرح تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگ بھی سوشل میڈیا پر مخالف جماعتوں سے تعلق رکھنے والی خواتین کے بارے میں اخلاقیات سے گری داستانیں بیان کرتے دیکھے گئے ہیں۔ سیاسی اختلاف اپنی جگہ لیکن ہزاروں کی تعداد میں ووٹ لے کر منتخب ہونے والے عوامی نمائندوں کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ سر عام کسی کی ماں، بہن اور بیٹی کے بارے میں دشنام طرازی کرتے رہیں۔ اس شرم ناک واقعے سے ایک بات واضح ہو گئی ہے کہ ہمارے سیاست دانوں کو سیاسی تربیت کی بجائے اخلاقی تربیت کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ اس حوالے سے ہمارے میڈیا کا کردار بھی انتہائی غیر ذمہ دارانہ رہا ہے۔، ریٹنگ حاصل کرنے کی خاطر اس طرح کی لغویات کو پرائم ٹائم نشریات کا حصہ بنانا میڈیا کا و طیرہ بن گیا ہے۔

ہمارے معاشرے کا المیہ ہے کہ یہاں ہر طرح کی دشنام طرازی صرف خواتین کے ساتھ منسوب ہے۔ جھگڑا ، لڑائی، فساد مرد حضرات برپا کرتے ہیں لیکن گالیاں گھروں کی چار دیواری میں بے خبر بیٹھی خواتین کے حصے میں آتی ہیں۔ منہ کالا کر کے مرد آتے ہیں لیکن جرگہ/ پنچائیت کے معززین سزا تمام وقوعہ سے لاعلم عورت کو دیتے ہیں۔ محض سیمینار اور نمائشیں منعقد کرنے سے کوئی فرق نہیں پڑنے والا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اخلاقی معیارات کو اعلیٰ مقام تک پہنچانے کے لئے عملی اقدامات کئے جائیں تاکہ ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیا جا سکے جس میں معاشرے کی تمام خواتین کو اخلاقی تحفظ بھی حاصل ہو۔

آخر کب تک حوا کی بیٹیاں ایسے بازاری قسم کے جملوں اور بہتان تراشیوں کا سامنا کرتی رہیں گی؟


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔