لاوڈ سپیکر، بناسپتی گھی اور اورنج ٹرین


 ammar masoodیہی ہوتا ہے۔ یہی ہوتا ہے۔ اس ملک میں یہی ہوتا ہے۔ ہر نئی چیز سے نفرت۔ ہر جدت کے خلاف اعلان جنگ۔ ہر ابتداء کے خلاف جلسے جلوس۔ ہر آغاز کی مخالفت۔ روایت سے ہٹ کر ہونے والی ہرچیز خوفزدہ کرتی ہے۔ توہمات میں مبتلا کرتی ہے۔ شک ہماری سرشت میں جاگ جاتا ہے۔ خدشے اور وسوسے ہمیں گھیرنے لگتے ہیں۔ خوف دامن گیر ہو جاتے ہیں۔ در ون خانہ سازشیں دلوں میں گھر کرنے لگتی ہیں۔ لطف کی بات یہ ہے کہ ہماری یہ کیفیت مسلسل نہیں رہتی۔ ہم جلد ہی نئی صورت حال کے عادی ہو جاتے ہیں اور جس چیز کے خلاف آج ہم علم بغاوت بلند کر رہے ہوتے ہیں وہ کل کو ضرورت بن جاتی ہے۔ زندگی کا جزو کہلاتی ہے۔ اسے ہی قبولیت عام حاصل ہوتی ہے۔ اور پھر وہی چیز جب ہمیں میسر نہیں ہوتی ہم  اس کی یاد میں آہیں بھرتے ہیں۔ اسی کے حصول کی دعا مانگتے ہیں۔ اسی سہولت کی خاطر احتجاج کرتے ہیں۔ یہی ہوتا ہے۔ یہی ہوتا ہے۔ اس ملک میں یہی ہوتا ہے۔

آپ میں سے کم ہی لوگوں کو یاد ہو گا جب لاوڈ سپیکر اس خطے کے لوگوں کو میسر ہوا تو اسے حرام قرا ر دے دیا گیا۔ علماء نے  اس کے خلاف فتوے دئے۔ مسجدوں میں اس کو شیطانی آلہ قرار دیا گیا۔ یہ تو معلوم نہیں کہ  اس کے خلاف جلوس نکلے تھے کہ نہیں مگر ایک عوامی نفرت کا اظہار ضرور کیا گیا تھا۔ چونکہ یہ چیز نئی تھی اس لئے اس سے خوف بھی پیدا ہوا، طاغوتی قوتوں کی سازشوں کا گمان بھی گزرا، اور اس جدت نے توہمات کو بھی جنم دیا۔ اب یہ عالم ہے کہ مساجد میں لاوڈ سپیکر کے مقابلے ہوتے ہیں۔ ایسے علاقے بھی ہیں اس ملک میں جہاں ایک ہی چوک میں چار فرقوں کی مساجد ہیں اور لاوڈ سپیکرز کی اونچی سے اونچی آواز سے اپنے مسلک کی سچائی کو ثابت کیا جاتا ہے۔ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ گذشتہ دنوں مساجد میں لاوڈ سپیکرز پر پابندی لگانے کا سوچا جا رہا تھا تو ایک طوفان برپا ہو گیا۔ غرض جو چیز ابتداءمیں خوف کا سبب تھی وہ ضرورت بن گئی۔ اسی کے حق میں نعرے لگنے لگے۔

بناسپتی گھی کے ساتھ بھی اس ملک میں یہی معاملہ ہوا۔ صدیوں سے دیسی گھی استعمال کرنے والے اس نئی آفت پر پریشان ہو گئے۔ انسانی صحت پر ہونے والے اس کے نئے نئے مضمرات سامنے آنے لگے۔ لوگ خوفزدہ ہو گئے۔ یقین مانیے ہم نے اسے بھی امریکی سازش قرار دیا تھا۔ اس وقت بھی شکوک ہمارے ذہنوں کو گرفت میں لئے ہوئے تھے۔ وسوسوں سے ذہن بھرے ہوئے تھے۔ خوف ہمارے دلوں کو گھیرے ہوئے تھا۔ پھر وہ وقت بھی آیا کہ بناسپتی گھی ہر گھر کی ضرورت بن گیا۔ دیسی گھی سے لوگوں کو بو آنے لگی۔ گھروں میں بناسپتی گھی کے بغیر پکوان کا تصور تک نہیں رہا۔ اب اس کی کمیابی اور قیمت کے اتار چڑھاو پرجلسے، جلوس ہوتے ہیں۔ اپوزیشن اسی کی قیمت کا الزام حکومت کو دیتی ہے۔ اسی پر اختلاف ہوتے ہیں اور یہی بجٹ میں وجہ عناد ہوتی ہے۔

پکی پکائی تازہ روٹی سکیم بھی آپ کو یاد ہو گی۔ جب حکومت نے اس  اس کیم کا علان کیا تو عجب طرح کے شر انگیز وسوسے پنپنے لگے۔ بات پرانی ہے لیکن ایک بات جو پکی پکائی روٹی کے ساتھ زباں زد عام ہوئی کہ اس روٹی کے آٹے میں کچھ ایسے اجزاءشامل ہیں جو مردوں کو نامرد بنا دیتے ہیں اور دراصل یہ بین الاقوامی خاندانی منصوبہ بندی کی ایک سازشی مہم کے تحت اس ملک میں متعارف کروائی جا رہی ہے۔ پکی پکائی  روٹی تو بھٹو کے اسلامی سوشلزم کے ساتھ ہی ختم ہو گئی مگر کہنے کی بات یہ ہے کی تاریخی طور پر ہر نئی چیز ہم کو خوفزدہ کرتی ہے۔ وسوسوں میں ڈالتی ہے۔ جدت ہمیں شکوک میں ڈالتی ہے۔

پولیو کے قطروں کی مہم کے ساتھ تو آپ سب جانتے ہیں یہی ہوا ہے۔ ہر بچے کے لئے یہ قطرے پینا ضروری ہیں۔ یہ ہماری اگلی نسل کے مستقبل کا سوال ہے۔ لیکن یہ بات ہمارے لئے نئی تھی کہ حکومت کے محکمہ صحت کے اہلکار گھر گھر پہنچیں گے۔ بچوں کو تلاش کر کے ان کو یہ صحت افزاءقطرے پلوائیں گے۔ اس مہم کے بارے میں جو ہرزہ سرائی کی گئی ہے وہ بھی کسی لطیفے سے کم نہیں۔ دہشت گردوں کی نشاندہی سے لے کر امریکی سازش تک سب کچھ پولیو کے قطروں کے نام ہو گیا۔ بد قسمتی سے پولیو کی مہم ابھی تک عوام میں وہ پذیرائی نہیں پا سکی جو لاوڈ سپیکر اور بناسپتی گھی کا مقدر ہوئی۔ لیکن وہ وقت دور نہیں جب لوگوں اپنے بچوں کو اس شدید معذوری کے خطرے سے بچانے کے لئے خود ہسپتال والوں سے درخواست کیا کریں گے کہ خدارا ہماری نئی نسل کے مستقبل کو بچائیں۔

ہاں ایک اور بات یاد کریں جب اس ملک میں پہلی دفعہ موٹر وے بنی تو لاہور سے اسلام آباد کے اس روٹ پر بننے والی اس سڑک نے لوگوں کے ذہنوں میں کیا وہم بھر دیئے تھے۔ ایک زمانہ تھا جو اس میگا پراجیکٹ کے خلاف تھا۔ ملکی معیشت اس بار بھی خطرے میں آگئی تھی۔ اقتصادی بحران کی وجہ بھی یہ قرار دی گئی۔ ہر شخص اس بات پر مصر تھا کہ سہ رویہ سڑک کی ضرورت ہی کیا ہے۔ جی ٹی روڈ ہماری ضروریات کے لئے بہت کافی ہے۔ آج یہ وقت ہے کہ ہمارے پاس بیرون ملک سے آنے والوں کو دکھانے کے لئے ایک ہی سڑک ہے۔ اس پر چلنے والی گاڑیوں کی تعداد لاکھوں میں ہے۔ ایک دن کے لئے یہ بند ہوجائے تو پنجاب کا سارا نظام آمدو رفت درہم برہم ہو جائے۔ اب موٹر وے کا دائرہ سارے ملک میں پھیل رہا ہے۔ ہر شخص اپنے علاقے میں موٹر وے کا خواب دیکھ دہا ہے۔ میڑو کے ساتھ بھی ہم نے یہ سلوک روا رکھا۔ اب ہر علاقے اور ہر صوبے میں میٹرو کا بخار چڑھا ہوا ہے۔ ایک دن کے لئے میٹرو بند ہو جائے تو لاکھوں مسافر سڑکوں پر رہ جائیں۔ احتجاج شروع ہو جائے ہنگامے ہو جائیں۔

اب تازہ معاملہ اورنج ٹرین کا درپیش ہے۔ اورنج ٹرین دنیا کے تمام ترقی یافتہ ممالک میں دہائیوں پہلے بن چکی ہے۔ ہمارے لئے یہ تجربہ نیا ہے اور ہم اپنی روایت پر قائم رہتے ہوئے پوری شدت سے اس کے مخالف ہوئے ہیں۔ اس کی مخالفت میں جو جو پہلو سامنے آ رہے ہیں وہ دنیا کے کسی سائنسدان نے سوچے بھی نہ ہوں گے۔ یہ بات درست ہے کہ لاہور کا تاریخی ورثہ سلامت رہنا چاہیے اورحکومت کو بہتر منصوبہ بندی سے پہلے ہی لاہور کے تاریخی مقامات کا تحفظ خود کرنا چاہیے تھا۔ اب جو عدالت نے سٹے آردڑ دے دیا ہے تویہ حکومت کے پاس اورنج ٹرین کے نقشے میں ہونے والی غلطیوں کو درست کرنے کا بہترین موقع ہے۔ اس منصوبے کی مخالفت کرتے ہوئے ہمیں یہ یاد رکھنا ہے کہ اورنج ٹرین پاکستان کے خلاف طاغوتی قوتوں کی سازش نہیں۔ یہ عوامی فلاح کا منصوبہ ہے جس نے کل کو اس عوام کے ہی کام آنا ہے۔ اس میں لاکھوں مسافروں نے سفر کرنا ہے۔ اور جلد ہی ہم نے اس سہولت کا عادی ہو جانا ہے۔ اور پھر اس میں ٹکٹ نہ ملنے پر انہی مخالفوں نے شور مچانا ہے۔ احتجاج کرنا ہے۔ جلوس نکالنے ہیں….


Comments

FB Login Required - comments

عمار مسعود

عمار مسعود ۔ میڈیا کنسلٹنٹ ۔الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا کے ہر شعبے سےتعلق ۔ پہلے افسانہ لکھا اور پھر کالم کی طرف ا گئے۔ مزاح ایسا سرشت میں ہے کہ اپنی تحریر کو خود ہی سنجیدگی سے نہیں لیتے۔ مختلف ٹی وی چینلز پر میزبانی بھی کر چکے ہیں۔ کبھی کبھار ملنے پر دلچسپ آدمی ہیں۔

ammar has 43 posts and counting.See all posts by ammar