نصابی کتب اور نیب کی مجوزہ شان دار تاریخ


usman ghaziسیاست دانوں کا شکار کرنا اسٹبلش منٹ کا محبوب مشغلہ رہا ہے، اس شوق کو مدنظر رکھتے ہوئے 1999ء میں محترم چیف ایگزیکٹو جنرل پرویز مشرف نے نیب نامی ایک عظیم ادارے کی داغ بیل ڈالی ۔

نیب نے سیاست دانوں کے شکار کے دلچسپ طریقے وضع کئے جیسے بھگا کر مارنا، اچانک دبوچ لینا وغیرہ وغیرہ ….

شکار کو بے دست وپا کرنے کے لئے ضروری ہے کہ اسے اس کے جھنڈ سے الگ کیا جائے، اس اہم کام کے لئے نیب نے سیاست دانوں کو بدنام کرنے کے لئے نئے خطوط پر کام کیا، عوام کو ان سے بدظن کیا، بہت سے تو ملک چھوڑ کر بھاگ گئے۔

نیب کی مہارت کا اندازہ آپ اس بات سے لگایئے کہ سیاست دانوں کو ریمانڈ پر برسوں لٹکائے رکھا، کوئی چارج شیٹ تک پیش نہ کی اور پھر بھی کسی کو راجہ رینٹل بنادیا تو کسی کو ایفڈرین خان…. نیب کی اس مہارت کی جتنی توصیف کی جائے، وہ کم ہے۔ دفتر کے دفتر سیاہ ہو جائیں اور نیب کا تو اپنا دفتر ایسی سیاہی کی دوات ہے جو کبھی سوکھتی ہی نہیں۔ ہر دم رواں…. اس دم یہاں…. اس دم وہاں …. جوئے نیلی بار ہے اپنا مکاں ….

جس طرح خرگوش کے شکار میں کتے بہت ضروری ہیں تو بالکل اسی طرح سیاست دانوں کے شکار کے لئے ایک بھونکنے والی مخلوق درکار ہوتی ہے۔ اسٹبلش منٹ نے کمال دانش مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی بھونکنے والی اس مخلوق کا نام بھی سیاست دان رکھ دیا تاکہ ہینگ لگے اور نہ پھٹکری اور رنگ بھی چوکھا آئے ۔

بھونکنے والی یہ مخلوق نیب کے ہر شکار پر اس طرح بھونکی کہ خود نیب بھی اپنے ان پالتوو¿ں کی وفاداری کو دیکھ کر شرماگئی۔

جس طرح کتوں کو راتب ملتا ہے، نیب اپنے ان پالتوو¿ں کی لوٹ مار پر خاموش رہ کر گویا ان کی وفاداری کی قیمت ادا کرتی ہے اور سیاست دان شکار ہوتے رہتے ہیں ۔

نواز شریف نامی شخص آج کل نیب کے درپے ہے۔ اگر خدانخواستہ نیب کو کچھ ہوگیا تو پاکستان پتھروں کے دور میں واپس چلاجائے گا۔
نیب رہے یا نہ رہے، نیب کی سیاست کش خدمات ہمیشہ سنہری حرفوں سے لکھی جائیں گی۔ شاعر نے کیا خوب کہا ہے
جب تک سورج چاند رہے
نیب کا روشن نام رہے گا


Comments

FB Login Required - comments